(اداریہ) ایک نیا بالفور اعلامیہ ! - رضا ء الحق

10 /

اداریہ

رضاء الحق

ایک نیا بالفور اعلامیہ !

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اِس کا اظہار ہم متعدد اداریوں میں تسلسل سے کرتے آئے ہیں۔ پاکستان نے ٹرمپ بلکہ صحیح تر الفاظ میں صہیونیوں کے نام نہاد ’’غزہ امن بورڈ ‘‘ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہےبلکہ معاہدہ پر دستخط بھی کر دیئے ہیں۔ مملکت خداداد کی تاریخ میں شاید یہ سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہو۔
غزہ کو تباہ و برباد کرنے والوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں سمیت میڈیا کی اطلاعات کے مطابق 70 ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید کرنے والوں، ارضِ مقدس اور مسجد اقصیٰ پر ناجائز قبضہ کرنے اور اس کی بے حرمتی کرنے والوں اور گریٹر اسرائیل کے توسیعی منصوبہ پر عمل پیرا صہیونیوں سے کندھے سے کندھا ملانا کسی بھی مسلم ملک کے لیے ناقابل تلافی جرم سے کم نہیں۔ کیا نام نہاد غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نام پر ایک ایسا ادارہ قائم کرنا جس کی سربراہی ٹرمپ جیسا ظالم کرے، جو خود یہودیوں کا ازلی غلام ہے، کسی سانحے سے کم ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب 60 ممالک کو ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ اور اس کے زیرِ اہتمام ’’ امن‘‘ کے قیام اور ’’ظلم‘‘کے خاتمے کے ذمہ دار ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی دعوت دی تھی، تووہ ایک نو وارد ’’نیو ورلڈ آرڈر ‘‘ کا اعلان تھا۔ اقوامِ متحدہ اور اس جیسے دیگر تمام سیاسی و معاشی ادارے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد صہیونی مقاصد کے حصول اور کمیونسٹ و مسلم دنیا کے تار پول بکھیرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے، اپنی طبعی عمر اور مقاصد پورے کر چکے ہیں۔ اُن کی جگہ اب نئے ادارے مستقبل کے صہیونی مقاصد کے حصول اور یہود کے مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیے جائیں گے۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ غزہ میں قتل عام کرنے اور اُسے تباہ و برباد کرنے کے اصل مجرم ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کوتو ’’کلین چٹ‘‘دے دی گئی ہے، البتہ وہ ممالک جو تین سال سے زائد بورڈ آف پیس کے رکن رہنا چاہیں گے، اُنہیں ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا ہوں گے۔ کیا یہ وہی تاوان نہیں جسے، بقول جیرڈ کشنر، استعمال میں لا کر غزہ کی پٹی کو دبئی سے بڑھ کر قیمتی ’’واٹر فرنٹ پراپرٹی‘‘ بنایا جائے گا۔ کچھ اِسی نوعیت کی بات ٹرمپ اور کشنر’’غزہ ریویرا‘‘ Gaza Riviera منصوبہ میں بھی پیش کر چکے ہیں۔ پھر یہ کہ اِسی رقم کو اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر بمباری کے لیے بھی استعمال کرے گا۔
غزہ امن بورڈکے لیے پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کا ذِمّہ دار ذیلی ادارہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ ہوگا۔ اس کی ساخت اور ڈائریکٹرز کا بھی سن لیجئے۔اِس ذیلی ادارے کا چیئرمین بھی ٹرمپ ہی ہوگا اور دیگر ڈائریکٹرز میں ٹرمپ کا بدنام زمانہ یہودی داماد جیرڈ کشنر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کا دیرینہ یار اور ارب پتی پراپرٹی ٹائیکون وٹکوف اور اُس کا 30 سالہ وہ بیٹا جو پاکستان میں کرپٹو کرنسی متعارف کروا کر اُس کی ملکیت کے خواب دیکھ رہا ہے، ورلڈ بینک کا سکھ صدر اجے بانکا جو پکا امریکہ نواز ہے، جنگی جرائم کا ایک اور بے تاج بادشاہ برطانیہ کا سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، GFH کے نام سے غزہ میں’’امدادی کارروائیوں ‘‘کی آڑ میں ہزاروں بے گناہوں کو شہید کرنے والا لائٹ سٹون اور دیگر لاتعداد صہیونی و صہیونی نواز اس بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔ کچھ نام مسلمانوں کے بھی ہیں، مثلاً ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل حسن رشاد۔ پاکستان نے البتہ بورڈ آف پیس میںاپنے نمائندہ کا تاحال اعلان نہیں کیا۔
حیرت انگیز طور پر بورڈ آف پیس کی دستاویز میں درج ہے: ’’ چیئرمین کو بورڈ آف پیس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے، ضروری یا موزوں سمجھتے ہوئے، ذیلی ادارے قائم کرنے، ان میں ترمیم کرنے یا انہیں ختم کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہو گا۔‘‘ ’’وہ ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین کا انتخاب کریں گے جو ’عالمی سطح کے رہنما‘ ہوں گے اور ’’دو سالہ مدت کے لیے خدمات سرانجام دیں گے، تاہم چیئرمین انہیں برطرف بھی کر سکیں گے۔‘‘چیئرمین بورڈ آف پیس کی جانب سےقراردادیں یا دیگر ہدایات بھی جاری کر سکیں گے۔ چیئرمین کو صرف ’’رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کی صورت‘‘ میں ہی تبدیل کیا جاسکے گا۔ گویا ویٹو کا اختیار اب صرف اور صرف ٹرمپ (صہیونوں اور صہیونی نوازوں) کو حاصل ہو گا!
جمعرات 22 جنوری 2026ء کو سارے عالم نے دیکھا کہ دنیا کے کم و بیش 60 بے حس ممالک کے نمائندگان نے فرعون نما رعونت کے حامل اداکار کی موجودگی میں بورڈ کے چارٹر پر ہنستے مسکراتے دستخط کیے۔ اِس تقریب میں پاکستان کی جانب سے دو شخصیات نے حصّہ لیا، جن میں ایک کاغذکی حد تک اور دوسری حقیقت میں طاقتور شخصیت ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ جنگی مجرموں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی Who's Who فہرست میں پاکستان کی حکومت اور مقتدر حلقے بھی اپنا نام لکھوا بیٹھے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہی ابراہم اکارڈز کی نئی ہیئت ہے!
بورڈ کے چارٹر میں درج ہے کہ’’ امن ‘‘کے قیام اور’’ظلم ‘‘کے خاتمے کے لیے حماس اور اس جیسی دیگر تناظیم کو غیر مسلح کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے قائم کی گئی’’ نئی نیٹو‘‘ یعنی غزہ استحکام فورس کردار ادا کرے گی۔ چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کچھ یوں گویا ہوا: ’’ میں(یعنی ٹرمپ) حماس، حزب اللہ اور دیگر فلسطینی مسلح تناظیم کو ختم کر کے چھوڑوں گا۔‘‘ ہر دور کا فرعون نما شیطان ایسے ہی دعوے کرتا ہے۔ بہرحال، ہمارے نزدیک ارضِ مقدس میں غاصب صہیونیوں اور اُن کے معاونین کے خلاف مسلح جدوجہد کبھی ختم نہ ہو گی، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لا کر دجال کو قتل نہ کر دیں۔ آخر الزماں سے متعلق اِس تجزیے کی علمی(epistemological)بنیاد اور دلیل احادیث مبارکہ میں دی گئی خبریں ہیں۔
موضوع طویل ہے جس پر سیر حاصل گفتگو اللہ نے چاہا تو آئندہ کسی اداریے میں ہوگی۔سرِ دست غزہ امن بورڈ اور بورڈ آف پیس پر کیے گئے اِن دو تبصروں پر اختتام کرتے ہیں۔
’’جب شیطان نہ ملا تو بلیئر کو بلا لیا گیا!‘‘ (برطانوی صحافی ایش سارکار، 21 نومبر 2025، Channel 4)
’’غزہ امن بورڈ‘‘ اور’’بورڈ آف پیس‘‘ کا قیام ایک نیا بالفور اعلامیہ ہے‘‘ (حماس کے سینیئر رہنما، ڈاکٹر بسام نعیم، 11 اکتوبر 2025 ، Sky News)