واقعۂ اسراء و معراج میں ہمارے لیے سبق
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی، لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے16 جنوری 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اسراء ومعراج کا واقعہ اسلامی تاریخ اورسیرت ِرسول ﷺ کا بہت اہم واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق یہ واقعہ 27 رجب کو پیش آیا ہے ، کچھ اور روایات میںتاریخ کے حوالے سے اختلاف بھی ہے تاہم عموماً 27 رجب کو ہی ہمارے ہاں اِس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے ۔ اس واقعہ میں ہمارے لیے جو اسباق ہیں ان پر آج کلام کرنا مقصود ہے ۔ اس واقعہ کی صورت میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے عجائبات کا تذکرہ ہمارے سامنے آتا ہےاور دوسری طرف امام الانبیاءﷺ کی شانِ اقدس اور آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور التفات کا ذکربھی ہمارے سامنے آتاہے ۔ موجودہ اُمت کو اُمت مسلمہ قرار دئیے جانے اور دنیا کی امامت کاسابقہ اُمت سے لے کر موجودہ اُمت کے حوالے کیے جانے کے احوال بھی اس واقعہ کے ذریعے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ نماز کا تحفہ اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کا تحفہ معراج کی شب عطاہوا ۔ کبائر میں مبتلا لوگوں کی معافی کی خوش خبری بھی اسی رات ملی بشرطیکہ وہ شرک کا ارتکاب نہ کریں ۔ اسی طرح اس واقعہ میں حق کی راہ پر چلنے والوں کے لیے بھی سبق ہے کہ اس راہ میں جو صبر کرتاہے اور محنت اور مشقت جھیلتا ہے اُس کو رب کتنا نوازتا ہے ۔ پھر یہ کہ ایمان کس چیز کا نام ہے یہ بھی اس واقعہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے طرزِعمل سے واضح ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بہت سے مشاہدات کروائے، جہنم کے عذابوں کی کیفیات دکھائی گئیں اور جنت کے نظارے بھی کرائے گئے۔ ان میں بھی یقیناً ہمارے لیے کوئی سبق ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا اوراسی سورت کی آیت60 میں اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک آزمائش بھی قرار دیا۔ پہلی آیت میں فرمایا :
{سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(1)} ’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی راتوں رات اپنے بندے (ﷺ) کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (دُور کی مسجد) تک۔ جس کے ماحول کو ہم نے با برکت بنایا‘تا کہ ہم دکھائیں اُس (بندے محمدﷺ) کو اپنی نشانیاں۔یقیناً وہی ہے سب کچھ سننے والا‘دیکھنے والاہے۔‘‘
سفرِ معراج کا جو زمینی حصہ ہےاس کو اسراء کہا جاتا ہے ۔ یعنی معراج کا وہ حصّہ ہے جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ شریف سے بیت المقدس تک کا سفر کیا ۔ اس کے بعد آسمانی سفر کا تذکر ہ سورۃ النجم کی ابتدائی آیات میں ہے :
{عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی(14) عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی (15) اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی(16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی (17) لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی (18)}(النجم)’’سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔جنت الماویٰ بھی اس کے پاس ہی ہے۔جبکہ چھائے ہوئے تھا سدرہ پر جو چھائے ہوئے تھا۔(اُس وقت محمدﷺ کی ) آنکھ نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی۔انہوںنے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔‘‘
اس کے بعدکی تفصیلات ہمیں احادیث میں ملتی ہیں کہ کس طرح آپ ﷺ کو تمام آسمانوں کی سیر کروائی گئی اور وہاں کن کن انبیاء کرام ؑ سے ملاقات ہوئی اور ان سے گفتگو بھی ہوئی ۔ پھر جنت اور جہنم کے مشاہدات بھی کروائے گئے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کی ملاقات بھی ہوئی ۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، دروازے کی کنڈی اُسی طرح ہل رہی تھی اور آپ ﷺ کا بستر مبارک اسی طرح گرم تھا جیسا کہ آپ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے ۔ اب یہ ہمارے عقیدے کا معاملہ ہے۔جن لوگوں کا ایمان کمزور ہوگا تو وہ سوال کریں گے کہ یہ سب کیسے ہو سکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی لیے سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے پہلی لفظ سُبْحٰنَاستعمال کیا ہے۔ ہم بھی اکثر سبحان اللہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور اس کا ترجمہ کرتے ہیں: اللہ پاک ہے ، یعنی ہر عیب سے پاک ہے ، ہر حاجت، کمی ، کمزوری ، ضرورت اورضعف و زول سے پاک ہے ۔ یعنی انسان کے لیے سفر معراج کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے ، ناممکن ہو سکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ۔ انسان کی عقل محدود ہے ، انسان کی ریسرچ کی بھی ایک حدہےمگر اللہ تعالیٰ کا علم اور اُس کی قدرت لا محدود ہے ۔ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌاور بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌہے ۔
آج سائنس نے ترقی کرلی ، روشنی کی رفتار کو بھی ناپ لیا گیا ۔ اس سے آگے کے مراحل بھی ہم طے کر رہے ہیں۔آج کا ذہن سائنٹیفک ریسرچ کو قبول کرنے کو تیار ہوتا ہے مگر صدیق اکبرکو واقعہ معراج پر ایمان لانے کے لیے کسی سائنٹیفک توجیہہ کی ضرورت نہیں پڑی ۔ صدیق اکبر کے لیے اتنی بات کافی تھی کہ اگر پیغمبر ﷺ نے یہ فرمایا تو برحق ہے ۔
اللہ تعالیٰ زمان و مکان کا پابند نہیں ہے ۔ وضو کا پانی واپسی پر بہہ رہا تھا ، دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی اور بستر گرم تھا ، صرف اتنے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو پوری کائنات کی سیر کرادی ، انبیاء کرام سے ملاقات بھی ہوئی ، کلام اور گفتگو بھی ہوئی ، نماز باجماعت بھی ادا کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے نماز کے بارے میں گزارشات بھی ہوئیں ۔ ایک لحاظ سے پوری کائنات کا وقت آپ ﷺ کے لیے روک دیا گیا ۔ یہ اللہ کی قدرتِ کاملہ کا اظہار ہے ۔
سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں لفظ برکت بھی آیا ۔ جس کے معنی ہیں کسی شے میں غیر محسوس طریقے سے اللہ کی نصرت اور تائید کا شامل ہونا اور اس شے میں اضافہ ہونا ۔ ہم احادیث میں سنتے ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اُس کی عمراور اُس کے رزق میں اضافہ یعنی برکت ہو اُسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ بعض لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک اوسط عمر انہوں نے گزاری ہوتی ہے مگر اتنا کام اللہ تعالیٰ اُن سے لے لیتا ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ماضی قریب کےکئی بزرگوں کا دینی اور علمی کام اتنا زیادہ ہے کہ ہم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ برکت کی انتہا محمد رسول اللہﷺ کی ذات اقدس ہے اور اس برکت کی بھی انتہا معراج کا واقعہ ہے کہ پوری کائنات کی سیر اللہ تعالیٰ نے کرواد دی حالانکہ اس کے لیے کئی ہزار سال کی عمر چاہیے ۔ اس میں ہمارے لیے رہنمائی یہ ہے کہ برکت کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوسکتاہے کیونکہ برکت صرف وہی عطا کرسکتاہے۔ جیسا کہ فرمایا :
{تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ز} (الملک:1) ’’بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے‘‘
یعنی برکت کا براہ راست تعلق اللہ کی ذات سے ہے اور جس کا جتنا تعلق اللہ کی ذات سے گہرا اور مضبوط ہوگا اُس کے معاملات اور اُس کی زندگی میں اتنی ہی برکت آتی چلی جائے گی۔ اِس پوری کائنات میں سب سے مضبوط ترین تعلق اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہﷺ کا تھا ۔ لہٰذا معراج کے ذریعے آپ ﷺ پر برکت کی انتہا ہوگئی۔ سفرِمعراج کے دوران آپ ﷺ کو بیت المقدس لے جایا گیا جہاں آپ ﷺنے تمام انبیاء ؑ کی امامت کروائی ۔ اسی لیے حضورﷺ کو امام الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔یہ ختمِ نبوت کی طرف بھی ایک اشارہ تھا اور اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ اب سے بیت المقدس کا انتظام بھی آپ ﷺ کی اُمّت کے پاس ہوگا ۔ دینی دلائل کی بنیاد پر یہ مسئلہ طے شدہ ہےکہ فلسطین پر اصل حق مسلمانوں کا ہے، اس پر صہیونی قبضہ ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہے ۔
معراج کا واقعہ طائف کے واقعہ کے بعد ہوا ، اس پر سب مورخین کا اتفاق ہے ۔ طائف میں آپ ﷺ کو جس قدر تکلیف پہنچائی گئی اور جس قدر اذیت سے آپ ﷺ گزرے، اُس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اِس حوالے سے علامہ مناظر احسن گیلانی ؒ نے اپنی کتاب’’ النبی الخاتم‘‘ میں بڑی خوبصورت بات لکھی ہے کہ جب زمین والوں نے آپ ﷺ کو مٹانے کی پوری کوشش کی ، آپ ﷺ کو کمزور کرنے اور آپ ﷺ کی جدوجہد کو ناکام بنانے میں انتہا کر دی تو آپﷺ کے لیے آسمان سے عروج کی انتہا بخشدینے کا فیصلہ آگیا۔وہ لکھتے ہیں کہ معراج سے قبل اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو گویا ڈھیل دے رکھی تھی کہ جس قدر چاہو پیغمبر ﷺ کے صبر اور استقامت کا امتحان لے لو ، جس قدر چاہو پرکھ کر دیکھ لو پیغمبر ﷺ کی استقامت میں کمی نہیں دیکھو گے لیکن ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے گویا فیصلہ کر لیا کہ آپﷺ کو عروج کی وہ انتہا عطا کی جائے گی جس تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکے گا ۔ قرآن میں اسی شان کو بیان کیا گیا :
{وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ(4)}(الانشراح)’’اور ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیاہے۔‘‘
واقعۂ معراج کے ذریعے گویا عروج محمد ی ﷺ کے اظہار کا اعلان ہورہا ہے ۔ اس کے بعد ہجرتِ مدینہ کا مرحلہ شروع ہوتا ہےا ور پھر وہاں دین کے غلبے کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس سارے واقعہ میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد میں صبر اور مشقت کے مراحل سے گزرنا پڑے گا ۔ سورۃ البقرہ میں اللہ فرماتاہے :’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے‘اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔‘‘ (البقرہ:155)
آگے فرمایا :
{وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ(155)}’’اور (اے نبیﷺ!) بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوںکو۔‘‘
مکی دور میں صبر کی انتہا تھی ، اس دور کی سورتوں میں صبر کا بیان ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللہِ} (النحل:127) ’’اور (اے نبیﷺ!) آپؐ صبر کیجئے اور آپؐ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے۔‘‘
{وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ}(المزمل:10) ’’اور جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘
{فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(5)}(المعارج) ’’تو آپؐ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔‘‘
{وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا}(الطور:48) ’’(اور اے نبیﷺ) آپؐ اپنے ربّ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔بے شک آپؐ ہماری نگاہوں میں ہیں۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺنے خود فرمایا جتنا مجھے اللہ کی راہ میں ستایا گیا اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیالیکن اللہ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ! آپ ؐ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ پھر فرماتاہے :
{فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(5)}(الانشراح) ’’تو یقیناً مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ آسانی کا معاملہ ، اللہ کی نصرت ، راحت اور مدد کا معاملہ بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا ۔ اس کے لیے صبر آزما مشقتوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے ۔ صبر اور استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام کر رکھنا پڑتاہے ۔ اس میں اُمت کے لیے بھی سبق ہے کہ گھر بیٹھے بٹھائے اللہ کا دین ہرگز غالب نہیں ہوگا ۔ اس کے لیے محنت اور مشقت کرنی پڑے گی اور صبرآزمامراحل سے گزرنا پڑے گا ۔ اللہ کی راہ میں اپنی جان ، مال ، وقت اور صلاحیتوں کو کھپانا پڑے گا ۔ اسی لیے فرمایا :{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
معراج کے واقعہ کے بعد جب آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ خبر سنائی تو کفار نے مذاق اُڑانا شروع کر دیا ، مشرکین مکہ کے ہاتھ گویاآپ ﷺ کی کردار کشی اور(معاذاللہ) آپ ؐ پر الزام تراشی کا ایک اور موقع لگ گیا ،انہوں نے پہلے تو لوگوں کو خوب گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے معمولی وقت میں کوئی آسمانوں کی سیر کرکے واپس آجائے، پھر اسی کوشش میں وہ حضرت ابو بکر صدیق کے پاس گئے اور کہا کہ یہ کیسی بات ہے ؟ آپ نےفوراً جواب دیا کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ کہا ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ گویا واقعہ معراج کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں صدیقیت کا مقام بھی سمجھا دیا کہ بغیر شک کیے ایمان لے آؤ ۔صدیق اکبر نے کہا میں ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ کے مقرب فرشتے آپ ﷺ کے پاس بار بار آتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آسمانوں پر بلا لے تو اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ۔ بعض لوگ عقل کی بنیاد پر معجزات کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس پر مولانا مودودی ؒ نے بہت خوبصورت جملہ لکھا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک اللہ کی قدرت محدود اوراُس کی ذات مجبور ہے تو پھر اللہ کو ماننے کا تکلف ہی نہ کرو لیکن اگر تم اُس اللہ کو مانتے ہو جوکہ علیٰ کل شیء قدیر ہےتو پھر شک کیوں کرتے ہو ؟
انسان کا امتحان ایمان بالغیب سے شروع ہوتا ہے۔ قرآن کے شروع میں ہی بتادیا گیا کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جو متقی ہوں گے اور متقی کی پہلی شرط یہ بتائی کہ : {الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ} (البقرہ:3) ’’ جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر۔‘‘
معراج کی شب اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نماز کا خوبصورت تحفہ بھی عطا کیا ۔ پہلے 50 نمازیں عطا کی گئیں ، حضرت موسیٰdنے آپ ﷺ سے گزارش کی کہ یہ بہت زیادہ ہیں کم کروائیے ۔ پھر کرتے کرتے صرف 5 نمازیں منظور ہوئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس شب موجودہ اُمت مسلمہ پر مزید یہ انعام کیا کہ روزانہ کی نمازیں تو 5 ہوں گی لیکن ان کا اجر 50 نمازوں کے برابر عطا ہوگا ۔ آج ہم اگر 5 نمازیں بھی وقت پر ادا نہیں کر رہے تو یہ ہماری بدبختی اور نااہلی ہے ۔ حالانکہ انسان غور کرے ، دین کے باقی تمام احکام اللہ نے زمین پر آپ ﷺ کو عطا کیے لیکن نماز آسمانوں پر عطا کی گئی ۔ نماز کی کس قدر اہمیت ہے ، اس کا ہمیں اندازہ ہونا چاہیے تاکہ ہم اس کی ناقدری نہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں تو نماز کی اس قدر اہمیت تھی کہ منافقین کو بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی پڑتی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر نہیں پڑھیں گے تو منافق کہلائیں گے ۔ منافق کو بھی معلوم تھا کہ 5 نمازیں ادا کروں گا تو مسلمان مانا جاؤں گا ۔ لیکن آج ہماری عظیم اکثریت مطمئن بیٹھی ہے کہ پانچوں نمازیں ضائع کر کے بھی ہم مومن ہیں۔ کوئی بادشاہ اپنے دربار میں بلا کر کسی کو تحفہ دے اور وہ اُسے اُٹھا کر پھینک دے تو کس قدر ناقدری تصور ہوگی اور بادشاہ کس قدر غضب ناک ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ جو پوری کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے ، اپنے دربار میں امام الانبیاء ﷺ کو بلا کر نماز کا عظیم تحفہ عطا کیا مگر آج ہم نماز کی کس قدر ناقدری کر رہے ہیں ۔
معراج کی شب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دوسرا تحفہ عنایت کیا وہ سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات ہیں ۔پورا قرآن زمین پر نازل ہوا لیکن یہ دو آیات آسمانون پر عطا کی گئیں ۔ ان کی کس قدر فضیلت اور اہمیت ہوگی ۔ آپ ﷺ رات کے معمولات میں ان دو آیات کی تلاوت بھی فرماتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے ۔ ان آیات میں ایمانیات کا بیان بھی ہے، بندگی کے تقاضوں کا ذکر بھی ہےاور اللہ سے کیسے مانگا جائے اس کاذکر بھی ہے ۔ فرمایا :
{رَبَّـنَا لَا تُؤَاخِذْنَــآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَاج رَبَّـنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَـیْـنَـآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَـبْلِنَاج رَبَّـنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج وَاعْفُ عَنَّاوقفۃ وَاغْفِرْ لَـنَا وقفۃ وَارْحَمْنَــآ وقفۃ اَنْتَ مَوْلٰــىنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ(286)} ’’اے ہمارے ربّ! ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہو جائے۔اور اے ربّ ہمارے! ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے تھے۔اور اے ربّ ہمارے! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو۔اورہم سے درگزر فرماتا رہ!اور ہمیں بخشتا رہ!اور ہم پر رحم فرما۔تو ہمارا مولا ہے۔پس ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں۔‘‘ (286)
اب چونکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بلا کر خود عطا فرمائی ہے لہٰذا اس کی خاص اہمیت ہے ۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ ان کے دعاؤں کے جوا ب میں اللہ فرماتاہے :(قد فعلت)۔ یعنی جو مانگ رہے ہو میں عطا کر چکا ۔ سبق یہ ہے کہ ان دعاؤں کو ہمیں اپنے معمولات میں شامل کرنا چاہیے ۔
سفرِ معراج کے دوران آپ ﷺ کو جہنم کے کچھ مشاہدات کرائے گئے ۔ مثال کے طور پر غیبت کرنے والے لمبے لمبے ناخنوں کے ساتھ اپنے چہروں کو نوچ رہے تھے۔ سود خوروں کا انجام دکھایا گیا کہ ان کے بڑے بڑے پیٹوں میں سانپ دوڑ رہےتھے ۔ یتیم کا مال ہڑپ کرنے والوں کے ہونٹ لٹکے ہوئے تھے اور جہنم کے انگارے ان کے منہ میں جارہے تھے اور فضلہ کی جگہ سے نکل رہے تھے ۔ اسی طرح جن لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ہے ان کی زبانوں کو بڑی بڑی قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا۔ یہ مستقل عذاب ہیں ۔ آج منبر و محراب سے بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں لیکن عملاً کیا ہو رہا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں عذابِ جہنم سے بچائے ۔ اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زبان کی وجہ سے معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلاتے ہیں ۔ اسی طرح بے نمازیوں کے سروں کو بڑے بڑے پتھروں سے کچلا جارہا تھا۔ کچھ لوگ صاف ستھرا گوشت چھوڑ کر گلاسڑا ہوا گوشت کھارہے تھے ، یہ وہ لوگ تھے جو نکاح کے پاکیزہ رشتہ کی بجائے دنیا کی زندگی میں زنا اور حرام کاری میں ملوث رہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ کو جنت کے نظارے بھی کروائے گئے ۔ جیسا کہ ایک بڑی پیاری خوشبو آرہی تھی ۔ جبرائیل ؑ نے فرمایا کہ فرعون کی بیٹی کی خادمہ اسلام لے آئی تھی ، ایک دن یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کر رہی تھی اچانک اُن کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی اس نےبسم اللہ پڑھ کر اُٹھایا ۔ بیٹی نے فرعون کو بتایا۔ تو فرعون غضبناک ہوا کہ میرے بجائے کسی اور معبود کا نام کیوں لیا ۔ اُس نے اُس خادمہ کو اس کے بچوں سمیت زندہ جلایا۔ یہ خوشبو ان کی ہڈیوں سے آرہی ہے ۔ پھر آپ ﷺ کو سیدنا بلال کے قدموں کی چاپ جنت میں سنائی دی ۔ بلال نے فرمایا : میں ہر وضو کے بعد دو رکعت نفل نماز ادا کرتا ہوں ۔اللہ ہمیں بھی توفیق دے ۔ معراج کے یہ واقعات سبق دے رہے ہیں کہ اللہ کی عدالت میں رنگ ، نسل ، جاہ و حشمت کی کوئی اہمیت نہیں ۔ صرف تقویٰ کی اہمیت ہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے سیدنا عمر کا موتیوں کا محل جنت میں دیکھا ۔ فرمایا : عمر ! میں نے تیری غیرت کا لحاظ رکھا، میں تیرے محل میں داخل نہ ہوا ۔ یہاں سے صحابہ کرامj کا مقام معلوم ہوتاہے ۔ پھر آپ ﷺ کو نہرِ کوثر دکھائی گئی ۔ فرمایا :اس نہر کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا اور دودھ سے زیادہ سفید ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جنت کا سب سے بڑا تحفہ یہ ہوگا کہ اللہ اپنا دیدار مومنین کو کروائے گا ۔ کیا آج یہ تمنا ہمارے دلوں میں ہےکہ اللہ سے ہماری ملاقات ہو جائے ؟ کیا ہمارا یہ ویژن ہے کہ اللہ تعالیٰ روز قیامت ہم سے مخاطب ہو کر فرمائے :
’’اے نفسِمطمئنّہ!اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اِس حال میں کہ تم اس سے راضی‘ وہ تم سے راضی ۔توداخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔اور داخل ہو جائو میری جنّت میں!‘‘(الفجر27تا30)
اگر آج ہمارا یہ ویژن نہیں ہے ، زندگی گزارنے کا یہ مقصد نہیں ہے تو پھر ہماری زندگی بے کار ہے ۔ لیکن اگر کسی کے دل میں یہ تمنا ہے تو پھر اُسے زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کے تابع گزارنا ہوگی ۔ جیسا کہ فرمایا:
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (162)}(الانعام)’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
اگر زندگی کا یہ مقصد نہیں ہے تو پھر ہماری زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہے کیونکہ جانور بھی بے مقصد زندگی گزار کر ختم ہو جاتے ہیں ، انسان شعور اور فطرت سے آگاہی رکھنے کے باوجود بھی اس انجام کو پہنچے تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بے مقصد زندگی سے بچائے اور اپنے دیدار کا شوق عطافرمائے ۔ آمین !