اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے کو بائی پاس کرکے’’ بورڈ آف پیس‘‘ بنانے
کا مقصد صرف گریٹر اسرائیل کے ہیونی منصوبے کو تقویت پہنچانا ہے ۔ اقوام
متحدہ ختم ہوگا تو کشمیر کے متعلق قراردادیں بھی ختم ہو جائیں گی :رضاء الحق
بورڈآف پیس کا اصل مقصد فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور انہیں وہاں
سے نکال باہر کرنا ہے اور اس کی بہت بڑی قیمت اُمّت ِمسلمہ کو چکانی پڑے
گی : ڈاکٹر محمد عارف صدیقی
’’غزہ امن بورڈ: حقائق اور خدشات‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال:غزہ امن بورڈ‘‘ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاحیات سربراہی میں بننے والا یہ بورڈ آف پیس کیا غزہ کو امن اور خوشحالی دلا سکے گا؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کے مصداق اغراض و مقاصد ہمیشہ کچھ اورہوتے ہیں ، دکھائے کچھ اور جاتے ہیں ۔ پاکستان میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں ، ان کے منشور آپ پڑھ لیں ، اُ س کے مطابق ان سے اچھی جماعت دنیا میں کوئی نہیں لیکن عملی طور پر جو کیا جاتاہے وہ کچھ اور ہوتاہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ رئیل اسٹیٹ کا بہت بڑا ڈیلر ہے اور وہ غزہ کو رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے تناظر میں ہی دیکھ رہا ہے ۔ وہ غزہ کو ٹورازم، کھیلوں کے میدان، سٹیڈیمز ، کسینو اور نائٹ کلبز کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ آپ سوچئے کہ ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ کی اُمت مسلمہ کو کس قدر بڑی قیمت چکانی پڑے گی ۔ امریکی سلطنت خود چوری شدہ زمینوں پر بنائی گئی۔ امریکہ اب تک 225 جنگوں میں ملوث رہا ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی امن اور انصاف قائم نہیں کیا ۔ ٹرمپ نے راتوں رات ایک طرف غزہ امن بورڈ قائم کرلیا اور دوسری طرف اُس کا بورڈ آف گورنرزبھی قائم کرلیا۔ ایک کا کام ہے کہ وہ زمینی معاملات اور سول سروسز کی نگرانی کرے گا اور دوسرا مقامی حکام کے ساتھ رابطہ رکھے گا ۔ راتوں رات اس کو خواب بھی آگیا کہ کس کس کو ان بورڈز میں شامل کرنا ہے ۔ اس بورڈ میںجو لوگ شامل ہیں ان میں ایک ٹرمپ کا ماتحت اور انتہائی قریبی شخص سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو ہے جو کہتا ہے کہ اگر حماس اسرائیل کو دھمکی دینے کی صلاحیت برقرار رکھے تو کوئی دیر پا امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی دیگر ممالک کو غزہ میں سرمایہ لگانے پر قائل کیا جاسکتا ہے ۔ یعنی اس کے نزدیک حماس کا وجود اسرائیل کے لیے خطرہ ہے ۔ بورڈ میں شامل دوسرا شخص ٹرمپ کا خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف ہے جوحماس کو دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس نے آخری یرغمالی کی واپسی سمیت تمام شرائط پوری نہ کیں تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ تیسرا شخص ٹرمپ کا داماد اور صدارتی مشیر جیراڈ کشنر ہے جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ اسرائیل کا کتنا ہمدرد ہے ۔ چوتھا شخص ٹونی بلیئر ہے جو اس صدی کا شاید سب سے بڑا جنگی مجرم ہے ۔اس کے علاوہ وہ انسٹیٹیوٹ فار گلوبل چینج کو بھی لیڈ کرتا ہے اورکہا جارہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی نسل کُشی میں شدید حد تک ملوث ہے۔ پانچواں شخص یہودی ارب پتی مارک روون ہے جو اپالوگلوبل مینجمنٹ کا CEO ہے اور نیویارک میں جیوش فیڈریشن آف نارتھ امریکہ کے بورڈ کی سربراہی بھی کرتا ہے۔چھٹا شخص ورلڈ بینک کا صدر اجے بنگا ہے جو اسرائیل کا حمایتی اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ساتواں شخص امریکی قومی سلامتی کا نائب مشیر رابرٹ گیبریال ہے۔ اب اندازہ کر لیں کہ یہ لوگ غزہ میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے کیا کریں گے ؟ اسی طرح ایگزیکٹو بورڈ میں بھی انہی میں سے کچھ لوگ شامل ہیں جیسا کہ ٹرمٹ کا داماد کشنر ہے ، اس کے علاوہ سٹیو وٹکوف ، ٹونی بلیئر ، یہودی ارب پتی روون بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ نئے لوگ بھی شامل ہیں جیسا کہ بلغاریہ کا سابق وزیر خارجہ نکولائی ملٹی نوف ، قبرص کا تاجر یا کر گابے اور اقوام متحدہ کامندو ب سگریڈ کاگ۔ کچھ مسلمان بھی اس میں شامل ہیں جیسا کہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، قطری اہلکار علی الصوادی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد وغیرہ ۔ میں حیران ہوں کہ یہ سب یہاں کیا کر رہے ہیں ۔ ہم نے پچھلے پروگرام میں کہا تھا کہ 2026ء میںجو بڑے بڑے خطرات ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُمّت ِمسلمہ کے کئی حکمرانوں کی بولی لگے گی ۔ آپ دیکھئے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو کھل کر اسرائیل کی مخالفت کر سکے یا مسلمانوں کے حق میں بول سکے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے اصل مقاصد کیا ہیں ۔ٹرمپ وہاں جو سیاحتی ، تجارتی اور تفریحی مراکز بنانا چاہتاہے ، اس کی سب سے بڑی قیمت مسلمانوں کو چکانی پڑے گی کہ ان کی زمینوں پر کفار کا قبضہ ہو جائے گا اور فلسطینیوں کو باہر نکال دیا جائےگا ۔
رضاء الحق: اقوام متحدہ سمیت جتنے بھی بین الاقوامی ادارے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کام کر رہے تھے ، ان کے مقاصد پورے ہو چکے ہیں اور اب ان کا وقت بھی پورا ہو چکا ہے ۔ لہٰذا ان کی جگہ اب نئے ادارے بنیں گے۔غزہ امن بورڈ اور بورڈ آف پیس دونوں کی قیادت ٹرمپ نے خود سنبھالی ہوئی ہے ۔60 ممالک کو اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے ، میرے خیال ہے کہ چین اور روس بھی انکار نہیں کریں گے کیونکہ اقوام متحدہ جیسے اداروں کے خاتمے کے بعد انہیں ایسے اداروں میں شامل رہنا ہوگا جہاں وہ امریکہ کو چیلنج کر سکیں ۔ مسلم ممالک میں سے UAE اور آذر بائیجان شامل ہو چکے ہیں ، اسرائیل بظاہر مخالفت کر رہا ہے لیکن اصل میں یہ منصوبہ اُسی کا ہے اور وہ بھی شامل ہوگااور وہی اس ادارے کو چلائے گا ۔ اس کے علاوہ کوسووہ ، بیلا روس ، ہنگری ، مراکش ، کینیڈا اور امریکہ سمیت کل 10 ممالک اب تک اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔شاید پاکستان بھی جلد اس میں شامل ہو جائے گا ۔ دراصل یہ غزہ امن معاہدے کا فیز ٹو ہے ۔ جس کاایک مقصد غزہ کو دوسرا دوبئی بنانا اور اس کے تقدس کو ختم کرناہے۔ اسی بہانے وہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرلیں گے اور ان کو وہاں سے نکال دیں گے ۔ صومالی لینڈ کا تذکرہ بھی آج کل چل رہا ہے کہ جہاں اہل غزہ کو بھیجا جا سکتاہے ۔ حماس کے وجود کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے ، تمام سکیورٹی ادارے اس بورڈ کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ تمام تر معاشی اور انتظامی معاملات بورڈ کے پاس ہوں گے ۔اہل غزہ جنہوں نے اپنی سرزمین کے لیے اس قدر قربانیاں دی ہیں ، وہ ابھی تک غزہ کے ملبے پر کھڑے ہو کر اذانیں بھی دے رہے ہیں ۔اب رمضان آئے گا تو نماز تراویح بھی انہی کھنڈرات میں ادا کریں گے ۔ پچھلے دنوں خان یونس میں 777 حفاظ قرآن بچوں کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔ فلسطینیوں میں اب بھی جذبہ اور عزم موجود ہے ، وہ کسی صورت اپنی سرزمین پر صہیونیوں اور صہیونیت نوازوں کا قبضہ برداشت نہیں کریں گے ۔ کفار کے منصوبے چلتے رہیں گے لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ ہی کامیاب ہوگا ۔ ان شاء اللہ
سوال:بورڈآف پیس میں پاکستان اور بھارت کو بھی دعوت دی گئی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت تو اسرائیل کا فطری اتحادی ہے ۔وہ لازماً شامل ہوگا ۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:پاکستان کی خارجہ پالیسی جس طرح سے آگے بڑھ رہی کہ اس نے تمام تر مخالفت کے باوجود جوہری مقاصد بھی حاصل کر لیے ، میزائل ٹیکنالوجی میں بھی ترقی کرلی ، دفاعی معاہدے بھی کرلیے ، چین اور روس کے ساتھ بھی تجارتی معاہدات کرلیے ۔ امریکہ ، یورپ اور کینیڈا کے ساتھ بھی تعلقات اُستوار رکھے ہوئے ہے ، تو اس تناظر میں امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان درست فیصلہ کرے گا ۔ میری رائے میں پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے ، بصورت دیگر پاکستان کشمیر کے معاملے میں اپنا حق کھو دے گا اور یہ بہت بڑا نقصان ہوگا ۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ پاکستان اپنی سلامتی کو دشمنوں کی جھولی میں ڈال دے گا ۔ 78 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں سراُٹھا کر باوقار مقام حاصل کیا ہے ۔ لیکن اگر پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی تو یہ اپنے مقام کو گرا لے گا ۔ لہٰذا پاکستان کو اس کے خلاف سٹینڈ لینا چاہیے ۔ کینیڈا جیسا ملک اس وقت امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے چین کے دورہ کے دروان چین سے معاہدے کرکے واضح اعلان کر دیا کہ نیا ورلڈ آرڈر یہاں سے شروع ہوگا۔امریکہ نے چین پر 100 فیصد ٹیرف لگایا تھا کینیڈین وزیراعظم نے 6 فیصد کردیا ۔ یعنی اس نے امریکی معیشت کو بہت بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ اگر کینیڈا سے بغاوت کی یہ لہر اُٹھ رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ امریکی بالادستی کے دن گنے جا چکے ہیں ۔ چین نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ہم پہلا فائر نہیں کریں گے لیکن دوسرا فائر کرنے کی مہلت بھی نہیں دیں گے ۔ یہ واضح دھمکی تھی ۔شاید اب روس بھی چین کا ساتھ دے گا ۔
رضاء الحق:پاکستان کوچاہیے کہ اپنے ہم خیال ممالک کو ساتھ ملا کر ایک متبادل بلاک بنائے ۔ اسے ’’اسلامی امن و عدل بورڈ‘‘ کا نام بھی دیا جا سکتاہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی خبر ہے کہ جو امن بورڈ بن رہا ہے اس کے ذریعے اب مشرق وسطیٰ سے آگے معاملات کو بڑھایا جائے گا ۔ گویا غزہ سے حق وباطل کا جو معرکہ شروع ہو ا تھا وہ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکا ہے اور اب اس سے بھی آگے بڑھنے کی بات کی جارہی ہے ۔ اسی لیے ایران بھی ہدف ہے ۔ پاکستان اگر چاہے تو اس پیش قدمی میں مزاحمت کر سکتا ہے کیونکہ یہاں چین اور روس بھی موجود ہیں، وہ اس کا ساتھ دے سکتے ہیں ۔
سوال: بورڈ آف پیس کاجب اعلان ہو ا ہے تو ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ یہ بورڈ ان علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرے گا جہاں کشیدگی اور تنازعات ہیں ۔ کیا یہ بورڈ کشمیر کے لیے بھی آواز اُٹھا ئے گا ؟
رضاء الحق:بورڈ آف پیس کی تفصیل سامنے آ چکی ہےاُس کے مطابق اس میں صہیونی بھی موجود ہیں جن کا گریٹر اسرائیل منصوبہ واضح ہے ۔ یہ بورڈ بھی اس منصوبے کا حصّہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کچھ قراردادیں فلسطین کے حق میں ہیں جن کی ساری دنیا نے تائید بھی کی اور آزاد فلسطینی ریاست کے لیے آواز بھی اُٹھائی لیکن اب اقوام متحدہ کو بائی پاس کرکے ایک متبادل ادارہ بنانے کا مقصد صرف صہیونی مفادات کو تحفظ دینا ہے ۔ حقیقت میں اس بورڈ نے نہ کشمیر کو دیکھنا ہے اور نہ ہی مسلم مفادات کا کوئی لحاظ رکھنا ہے ۔ جب اقوام متحدہ ختم ہو گا تو کشمیر سے متعلق قراردادیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ جب بورڈ صہیونی مفادات کے تحفظ کے لیے بن رہا ہے تو وہ مسئلہ کشمیر یا عالم اسلام کے دیگر مسائل پر توجہ کیوں کرے گا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح امن ہے ہی نہیں ۔ گزشتہ دنوں بھی اس کا ایک بیان تھا کہ اگر مجھے امن کا نوبیل انعام نہیں دیا گیا تو مجھے امن کی بات کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ وہ ایک اداکار ہے جو صرف اپنی تعریف سننا پسند کرتاہے۔ وہ دنیا میں بہت بڑا فساد پھیلا رہا ہے ۔ اسرائیل اپنی روایت کے مطابق جب چاہے گا معائدہ کرے گا اور جب چاہے گا توڑے گا ، اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ امن بورڈ نے امن قائم کرنے کی ذمہ داری اس کو دی ہے جس نے افغانستان اور عراق میں ہزاروں مسلمانوں کوشہیدکیا ہے ۔ لہٰذا یہ بورڈ مسلم امہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہرگز نہیں ہے ، مسلم اُمہ کو اپنا ایک بلاک بنانا چاہیے اور دیگر ہم خیال غیر مسلم ممالک کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دینی چاہیے ۔
سوال:بورڈ آف پیس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی تنازعہ ہوگا یہ بورڈ اس کو حل کرے گا ، وہاں امن اور استحکام قائم کرے گا ۔ کیا روس اور چین بھی اس میں شامل ہوں گے اور اگر ہوں گے تو کیا ان کو ویٹو کا حق حاصل ہو گا ؟اگر پاکستان آواز اُٹھائے تو کیا مسئلہ کشمیر اس بورڈ کے ٹی اور آرز میں نہیں آسکتا ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:ٹی اور آرز چاہے کچھ بھی ہوں لیکن کرنا انہوں نے وہی ہے جو ان کا منصوبہ ہے ۔ اقوام متحدہ سمیت آج تک جتنے بھی بین الاقوامی ادارے بنے ہیں انہوں نے صہیونی مقاصد کو ہی تحفظ فراہم کیا ہے ۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ شاید عیسائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہ لوگ عیسائیت کے دشمن ہیں ۔ روس اور چین جیسی بڑی طاقتیں پہلے سے ہی الرٹ ہیں ۔ ان کا اپنا سوشل میڈیا ہے ، ان کا ڈیٹا ، ان کے فنگر پرنٹس ، چہروں کی شناخت محفوظ ہے ۔ چین نے کرنسی کا بھی اپنا نظام دنیا میں متعارف کروایا ہے، جس کے تحت چند سیکنڈز میں منی ٹرانسفر ہو جاتی ہے ۔ ہر قسم کی ٹیکنالوجی میں چین اور روس مغرب سے مختلف ہیں ۔ چین دنیا کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ امریکہ کے بغیر بھی دنیا کا نظام چل سکتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے بلکہ پاکستان کو اس کے متبادل بورڈ آف جسٹس بنانا چاہیے کیونکہ جسٹس کے بغیر پیس قائم نہیں ہوتا ۔ یہودیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ کبھی بھی انصاف پر قائم نہیں رہے ، اللہ کے پیغمبروں نے بھی ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے تو ڈنڈے کے زور پر کیا ہے ، ڈنڈے کے بغیر ان سے مذاکرات بھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ حماس کی جو شرائط انہوں نے مانی ہیں وہ بھی ڈنڈے کے زور پر مانی ہیں ۔ اسی طرح اُمت مسلمہ کے پاس ڈنڈا ہوگا تو امن قائم ہو گا ۔
سوال:اسرائیل نے بورڈ آف پیس کے قیام پر کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے ۔ اگر اسرائیل اپنے موقف پر ڈٹ جاتاہے یا اس کی توقعات کے مطابق بورڈ نہیں بنتا تو امریکہ کے پاس متبادل حکمت عملی کیا ہوگی؟
رضاء الحق:اسرائیل کے تحفظات ایک فریب ہیں ، اصل میں یہ سارا منصوبہ ہے ہی اسرائیل کا ۔ بورڈ اس کے آئندہ کے منصوبوں کے تحفظ کے لیے بنایا جارہا ہے تاکہ اس کے ہوتے ہوئے اسرائیل کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہ بنے اور اب تو اسرائیل بھی بورڈ میں شامل ہو چکا ہے ۔ ٹرمپ کو صرف ماؤتھ پیس کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے ۔ رجب طیب اردگان کوتاحیات ممبر بننے کی دعوت دی گئی ہے ۔ جنرل سی سی اور شہباز شریف کو بھی ممبربننے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ یہ ممالک اسرائیل کے منصوبوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں ۔سب کو معلوم ہے کہ یہ بورڈ اسرائیل کے گھر کی لونڈی کی طرح ہوگا ، وہ جب چاہے گا بورڈ کے TORs کواپنے مفادات کے تحت بدل دے گا ۔ اس بورڈ میں زیادہ تر وہی لوگ شامل ہیں جو اسرائیل سے پوچھ کر ہر کام کرتے ہیں ۔ اسرائیل جب چاہے گا ان کے ذریعے ردوبدل کرے گا اور کئی ممالک بھی اس کی تائید کریں گے ۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی اُمت مسلمہ کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا لیکن جہاں بھی مغرب یا اسرائیل کے مفادات تھے وہاں اس نے فوراً ایکشن لیا ۔ جیسا کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں ہوا ۔ فلسطین کے حوالے سے بھی اقوام متحدہ میں قراردادیں موجود تھیں لیکن سلامتی کونسل میں ہمیشہ ان کو ویٹو کر دیا گیا ۔ بورڈ آف پیس میں بھی امریکہ ، برطانیہ اورفرانس ایک طرف ہو گئے جبکہ روس اور چین بھی اس میں اس لیے شامل ہو جائیں گے کہ وہ ان چیلنج کر سکیں ۔ یورپی یونین بھی گرین لینڈ کے حوالے سے مخالفت کرے گی لیکن اس کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ امریکہ کے سامنے کھڑی ہو سکے ۔ دوسرا یہ کہ امریکہ کی مدد کے بغیر نیٹو بھی روس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ لہٰذا یورپی ممالک کے لیے بھی بورڈ میں شامل ہونا مجبوری بن جائے گی ۔ صرف اسرائیل ایسا ملک ہے جو اپنے مفادات کے خلاف امریکہ کی کوئی بات نہیں سنے گا ۔
سوال: بورڈ آف جسٹس کا قیام اُمت مسلمہ کے لیے بہت مثالی قدم ہوگا ۔ لیکن فی الحال امریکہ بورڈ آف پیس کے تحت تمام ممالک کو اکٹھا کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کا مقصد سب پر واضح ہے کہ وہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے ۔ اس صورت حال میں 57 مسلم ممالک فوری طور پر بورڈ آف جسٹس کے لیے کوئی قدم اُٹھائیں گے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:غزہ میں جنگ حماس اور اسرائیل کے درمیان ہے مگر امن بورڈ میں حماس کی شمولیت یا مشورہ تک کا ذکر نہیں ہے ۔ امن کیسے قائم ہو گا جب مخالف فریق کو آپ سرے سے ہی مٹانا چاہتے ہیں ۔ حماس کی سینئر رہنما ڈاکٹر بسام نعیم نے 11 اکتوبر 2025ء کو ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ہم فلسطینی ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مسلمان ٹرمپ کے20 نکاتی پلان کو خوش آمدید نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ 100 سال کے بعدایک نیا بالفور ڈکلیریشن ہے ۔ اسی طرح مغرب کے اپنے صحافتی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ٹونی بلیئر فلسطین کے خلاف جنگ میں ایک نیا ہتھیار ہے ۔ برطانوی خاتون صحافی ایش سارکار نے چینل 4 پر گفتگو کے دوران جملہ کسا کہ جب شیطان نہ ملا تو ٹونی بلیئر کو بلا لیا ۔ ان کا وزیر خزانہ کہہ رہا ہے کہ اسرائیل رئیل اسٹیٹ کا خزانہ ہے ۔ یہ سارا کچھ جاننے کے بعد بھی اگر مسلم ممالک نہیں سمجھتے کہ بورڈ آف پیس مسلم ممالک کے لیے خطرہ ہے تو پھر یہ بہت بڑی نااہلی ہوگی ۔ اس لیے مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنا بورڈ آف جسٹس بنائیں ۔ اگرمسلم ممالک مل کر ایسا بورڈ بنائیں گے تو امریکہ اور اسرائیل کچھ نہیں کر سکیں گے ۔ وہ حماس کو ابھی تک شکست نہیں دے سکے ۔ جب پورا عالم اسلام متحد ہو جائے گا تو وہ کیا کریں گے ۔ وہ اللہ کے منصوبے کو شکست نہیں دےسکتے ۔ لہٰذا مسلم ممالک کے عوام پر اس وقت بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں کہ وہ اسرائیل کی کٹھ پتلی نہ بنیں ورنہ عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑے گا ۔
رضاء الحق:اس پلیٹ فارم سے بھی اور تنظیم اسلامی کے دیگر پلیٹ فارمز سے بھی ہم نے ہمیشہ یہ بات کی ہے کہ مسلم ممالک کو آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہو جانا چاہیے اور اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ مل کر کرنا چاہیے ، تقسیم ہو کر ہم باطل قوتوں کے سامنے نرم چارا بنے رہیں گے ۔ نیٹو ، اقوام متحدہ ، ورلڈ بینک ، IMFوغیرہ سب بین الاقوامی ادارے اسلام دشمنوں نے اپنے مفادات کے لیے بنائے ہوئے ہیں ۔ ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ بورڈ آف پیس مسلمانوں کے حق میںبن رہا ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایک بڑی جنگ کے سائے دنیا پر منڈلا رہے ہیں ۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا کا اپنا ایک بورڈ ہو اور اس میں چین اور روس جیسے ہم خیال ممالک کو بھی شامل کرلیا جائے۔ اگر شریعت کے خلاف کوئی چیز نہ ہو تو کفار کے ساتھ بھی معاہدہ کی گنجائش ہے ۔ اس بورڈ کا مقصد دنیا میں عدل کا بول بالا کرنا ہو ۔ اگر مسلم ممالک کا ایسا بلاک بنے گا تو اس کے بعد کفار کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے سو بار سوچیں گے ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026