(کارِ ترقیاتی) دامنِ قرطاس تنگ - عامرہ احسان

10 /

دامنِ قرطاس تنگ

عامرہ احسان

غزہ میں امن قائم کرنے کی بلی بالآخر تھیلے سے باہر آگئی۔ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا…مگر یہاں تو اہتمام فلسطینی خون کی ندیاں بہانے یا گھٹ گھٹ مرجانے کے ہیں۔ غزہ امن بورڈ کا اعلان کر دیا۔ سارے نرالے ’ پیس‘ (Piece) جوڑ کر۔ اکثریت ٹرمپ کی سربراہی میں اسرائیل کا قرب رکھنے والے فلسطین دشمن ہیں۔ فیصلہ ساز سیاسی اور عسکری قوت ٹرمپ اور اس کے حواریوں کی ہے۔ یعنی مجلسِ عاملہ یا بورڈ آف ڈائریکٹرز۔ سر برا ہی حیثیت میں۔ اسی کے ہاتھ میں مالی اختیارات اور تمام تر(اپنی) مصلحتوں، حکمتوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے منصوبہ سازی کرنا ہے۔ سربراہ ٹرمپ ہیں جو ویٹو پاور رکھتے ہیں! (اگرچہ اتنا ہی تعارف سب کہے دیتا ہے!)
بورڈ کے ممبران کو مزید جان لیجیے۔ مارکو روبیو امریکی وزیر خارجہ ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ میں اسرائیل نوازی میں سرِ فہرست ہیں۔ ’امریکی ویزہ کسی اسرائیل کے ناقد کو نہیں ملے گا‘، یہ کہنے والا امریکی مندوبِ خصوصی  وٹ کاف، صہیونیت کا سرگرم یہودی کارکن، ٹرمپ کا مقرب، رئیل اسٹیٹ کاروباری اور سرمایہ کارہے۔اس کا 30 سالہ بیٹا متنازعہ کرپٹو کرنسی کمائی کے لیے کمپنی چلاتاہے اور ٹرمپ فیملی کا فرنٹ مین ہے۔ (پاکستان سے اسی ضمن میں معاہدہ کر کے گیا ہے۔)
وٹ کاف پر جنگ بندی مذاکرات (غزہ میں) پر عہد شکنی اور اسرائیلی مفادات کی نگہبانی کا بھی الزام آیا۔ جراڈ کشنر، ٹرمپ کا’ نامور‘ یہودی داماد جس نے ٹرمپ کے پچھلے عرصۂ صدارت 2017 ء تا 2021 ء میں مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب، امارات میں اسرائیل سے قرب اور ثقافتی انقلاب کے بیج بوئے۔ نظریاتی ہیئت بدل کر رکھ دی۔ سعودی عرب کی دینی شناخت،( مرکزِ امت، ارضِ حرمین شریفین) کو آئے روز ثقافتی سیاحتی میلوں،  رقص و سرود میں مبتلا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا۔ ابراہام معاہدوں سے اسرائیل اور مسلم ممالک کے ما بین تعلقات بڑھانے، فلسطین پر قابض اسرائیلی ریاست کوتسلیم کرنے سے  گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کی۔ اجے بانگا ہیں جو بھارتی امریکی سکھ ہیں اور ورلڈ بینک کے صدر ہیں، امریکی نامزدگی سے۔ برطانوی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر،عراق پر    عام تباہی کے ہتھیاروں کے جھوٹے الزام پر جنگ اور  قتل و غارت گری کے مجرم ہیں ۔ عراق آج بھی ان زخموں سے بحال نہ ہو سکا۔ دیگر اسرائیل نواز یا ارب پتی ممبران کے علاوہ لائٹ سٹون ہے۔ نہایت ظالمانہ، متنازعہ امریکہ اسرائیل کے’ انسانی امدادی منصوبے‘، اور ابراہام معاہدوں میں بنیادی کردار کا حامل رہا، یہ بھی شامل ہے۔ ( اردو میں ابراہیمی معاہدہ لکھنا سراسر غلط ہے۔ ابراہیمی ؑ سر زمین پر ظلم، بہیمت کی گرم بازاری! صرف ا براہام لنکن، سابق امریکی صدر سے ہی موسوم کی جاسکتی ہے ۔) ’غزہ انسانی امداد فائونڈیشن‘ GHF کے تحت ناقص ترین خوراک اور تذلیل، بندوق کی گولیوں سے خوراک کے متلاشیوں کو بھون ڈالنے کا پراجیکٹ تھا۔ مزید نام بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ چند مسلمان ہماری اشک شوئی کے لیے شامل ہیں جو حروفِ ساکن بن کر بیانات کی شہ سرخیوں میں موجود رہیں گے!
وائٹ ہاؤس کا فرمان ہے کہ: یہ بورڈ مؤثر انتظامیہ اور اعلیٰ ترین خدمات فراہم کرے گا( GHFکی مانند؟ اونچی دوکان زہر یلا پکوان) جس سے امن، استحکام اور خوشحالی غزہ کے عوام کو میسر آئے گی۔ بقول وٹ کا ف فیز ون میں ’ تاریخی انسانی امداد اور جنگ بندی کی پاسداری کرائی گئی!‘ اب 20 نکاتی امن پلان اور جنگ بندی کے پہلے فیز پر ایک نگاہ ڈال لیجیے، دوسرے فیز میں حسن ظن قائم کرنے سے پہلے۔’ تاریخی انسانی امداد‘ کی تفصیل ایک سنگین بے رحم مذاق تھا، مظلوم ترین آبادی سے۔ وٹ کاف نے جنگ بندی پاسداری کا دعویٰ کر دیا جبکہ 1193 خلاف ورزیاں، سینکڑوں اموات اور زخمی مزید ریکارڈ پر ہیں پہلے فیز کے 90 دن میں۔ پھٹے ٹینٹوں، موسلا دھار بارشوں میں ڈوبے خاندانوں، گیلے کمبلوں، بستروں، کپڑوں،غذائیت سے محروم برائے نام خوراکوں کو کس مپرسی کے اعتبار ہی سے تاریخی کہا جاسکتا ہے۔
غزہ کے مناظر جگر پاش ہیں۔ غزہ میں منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر فائز ابو شمالہ نے اپنے ٹوٹے گھر سے ایک دروازہ توڑ نکالا اور اسے چار پتھروں پر لٹا کر بستر بنا لیا۔ اس پر ٹویٹ کیا کہ اب میں غزہ کا سلطان ہوں۔ کیونکہ مجھے ایک بستر میسر ہے۔ (تاریخی!) اللہ وٹ کاف کو بھی ایسی سلطانی نصیب فرمائے۔ آمین 
یہ بھی غزہ ہے جہاں محفوظ رہائش، ملبے ہٹانے، اپنے پیاروں کی لاشیں ملبے سے نکال کر دفنانے کے سازو سامان آنے کی اجازت نہ تھی، مہربان فیزون کی تاریخی کرم نوازی ہے۔ سو یہ نوجوان ا بو اسماعیل حماد ہے۔ جب ہمیں استعماری مینڈیٹ والی غزہ کو نسل اور بورڈ کی مبارک با د دی جا رہی ہے یہ حضرت ملبے پر کیوں بیٹھے ہیں؟ ان کے ہاتھ میں بڑی سی چھلنی ہے گندم چھاننے والی۔ یہ اپنے گھر کی مٹی اِس میں ڈال کر اس میں دب کر شہید ہو جانے والی بیوی اور بچوں کی چھوٹی بڑی ہڈیاں باقیات میں سے چھانٹ کر الگ رکھتا جا رہا ہے۔ دیوانہ نہیں ہے۔ تدفین کر کے محبت کا اذیت ناک قرضہ چکا رہا ہے۔ تم کیا جانو ایپسٹن شہرت والے ٹرمپ یا مسٹر بٹ کوائن وٹ کاف! 
بورڈ کے ساتھ نتھی فوجی قوت، بین الاقوامی استحکام فورس / فوج بھی تو ہے! اس کا سر براہ فلسطینی ہونا چاہیے؟ یہ ممکن نہیں۔ حسب توقع امریکی جنرل جیسپر جیفرز ISF کا کمانڈر ہو گاجو عراق ،افغانستان میں جنگ لڑ چکاہے! اس کا اصل کام مکمل اور دائمی ترکِ اسلحہ کروانا ہے۔ تخفیف نہیں، مکمل نہتا فلسطین، پہلے اسرائیلی بندوقوں، ٹینکوں کے سامنے رہا کرتا تھا اب بین الاقوامی افواج کے حضور بلا دفاع گولیاں، گولے کھا ئے گا؟ سویہ فوج، بین الاقوامی استحکام فورس نہیں۔ IOF یعنی اسرائیلی قابض فوج کی جگہ اب بھی یہ IOF ہی ہے یعنی ’انٹرنیشنل قابض فوج‘ کیا عجوبہ ہو گا کہ امریکی جرنیل کے تابع مسلم افواج، اپنے نہتے مظلوم ترین مسلمان بھائیوں کے خلاف حکم وصول کرکے گولیاں چلائیں؟ ابو عبیدہ بن جراحؓ، خالد بن ولیدؓ، انبیاء کی سرزمین، قدس کے گردونواح میں؟ غزہ آزاد نہیں اب زیادہ بڑی سرکار کے زیر قبضہ ہے، اسرائیل جس کا اٹوٹ انگ ہے۔ رہ گئی طویل فہرست غزہ انتظامیہ قومی کمیٹی کی جو کلیتاً ہو نہار فنی ماہر فلسطینیوں کی ہے۔ مگر ان کی حیثیت واضح طور پر ایک میونسپل کمیٹی کے ارکان کی ہے جو فیصلہ سازی کے مجاز نہ ہوں گے صرف ISF اور بورڈ کے تابع کارکنان، مزدور، کاریگر، سیوریج، سکولوں کی تعمیر، بجلی و دیگر ضروریات، لوازمِ زندگی بحال کرنے والے ہوں گے۔ آنے والی پولیس ’مقابلوں‘ میںدہشت گردی کے نام پر اسرائیل / امریکہ (وٹ کا ف) کے ناپسندیدہ عناصر مارے گی؟ سو یہ ہے وہ’Piece‘پلان جس کے سب منتظر تھے۔
امریکہ ملک کے اندر فساد، انتشار میں گھرا ہوا ہے، ملک کو کالے بھورے رنگوں، نسلوں سے پاک کرنے میں، منی سوٹا، مینا پولس میں ایک طوفانِ گرد باد دھول اُڑا رہا ہے۔ عین موسادی تربیت کی حامل ، امیگریشن روکنے اور مذکورہ نسلوں کو (خواہ وہ امریکی شہری ہی کیوں نہ ہوں) ملک سے نکال باہر کرنے کی پولیس ICE نے بہیمانہ تشدد شروع کیا ایک عورت مار ڈالی۔ ہنگامہ برپا ہو گیا جب ایک ICE (تارکین وطن نکالنے کی پولیس)ایجنٹ نے قرآن جلانے کا اعلان کر دیا۔ کہا کہ ہمیں امریکہ کو سفید فام بنانا ہے۔ ہم صومالی حملے (بڑی صومالی آبادی شہر میں ہے) کے خلاف کھڑے ہوں گے۔(مقامی گورنر اور میئر ڈیمو کریٹ ہیں اور ICEتعیناتی کے خلاف ہیں! سو مرکز اور شہر مابین جھگڑا کھڑا ہے!) بہر طور یہ ایجنٹ جیک لینگ تکبر کے نشے میں چور قرآن لیے کھڑا ہوا تو شامت ِعظمیٰ آگئی۔ گندے انڈے ،مرچوں کا سپرے، سر پر جوتا پڑا، ناقابل بیان غم و غصے کا لاوا پھٹ پڑا۔منی سوٹا، منی غزہ بن گیا امریکی فورس کی مزاحمت کرنا فلسطینیوں سے سیکھ لی! وہاں قرآن جلانا ممکن نہ رہا باوجودیکہ پہلے امریکہ میں ایسا ہو چکا۔ یہ فیضان ہے غزہ کے حفاظِ قرآن کا۔ ان قیامتوں میں بھی خان یونس کے 777 حفاظِ قرآن طلبہ کے    تکمیل قرآن کے اعزاز میں تقریب ہوئی ہے! سبحان اللہ۔ 
ٹرمپ ہر طرف سے گھرا ہوا ہے۔ 75 ممالک بشمول پاکستان!(شاندار، تعریفوں کے پل باندھے تھے ہمارے حکمرانوں کے لیے) شہریوں کے لیے امریکہ امیگریشن ویزہ نہیں دے گا۔ (بھارت ان 75 میں شامل نہیں! امریکہ کے نزدیک ہماری اصل اوقات ؟) امریکہ میں اس وقت بھی کالے بھورے بچے ہائی سکولوں، ملازمین سٹوروں اور مسافر ایئر پورٹوں سے اٹھا کر قید کیے جا رہے ہیں۔ سو ہم اسی فہرست میں شامل ہو گئے باوجود 20 سال افغان جنگ میں ہمہ نوع خدمات اور فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے! باوجو یکہ پوری سفید فام امریکی انتظامیہ خود بھی امریکی نہیں، مقامی امریکی ریڈ انڈین آبادی کو عین اسرائیلی طرز پر کچل کر قابض قوم ہے۔ امریکہ کالے، بھوروں ہی کا ملک تھا۔ سفید فام ،قابض فورس ہیں یعنی ’USOF‘! ( امریکی قابض فورس) ابھی توگرین لینڈ پر قبضے کی انوکھے لاڈلے کی ضدر پورے یورپ کو سیخ پا کر رہی ہے شدید کشیدگی ہے۔ یورپ، ڈنمارک کے ساتھ مکمل یک جہتی کر رہا ہے! ٹرمپ کی چومکھی گھمن گھیریوں کے احاطے کے لیے دامن ِقرطاس تنگ ہے!