لباس کے احکام و آداب
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی
’’ اے آدم ؑ کی اولاد ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہاری شرم گاہوں کو ڈھانپتا ہے اور آرائش و زیبائش کا سبب بھی ہے اور (اس سے بڑھ کر) تقویٰ کا لباس جو ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت اخذ کریں۔‘‘
مندرجہ بالا آیت میں ربُّ ذوالجلال والا اکرام نے لباس کے دو خاص فائدے ذکر کیے ہیں:
ایک ستر پوشی، یعنی انسانی جسم کے ان حصّوں کو چھپانا جن پر غیروں کی نظر نہیں پڑنی چاہیے، اور دوسرے زینت و آرائش، یعنی یہ کہ دیکھنے میں آدمی بھلا اور آراستہ معلوم ہو۔آیت کے آخر میں فرمایا گیا: {وَلِبَاسُ التَّقْوٰی لا ذٰلِکَ خَیْرٌط} یعنی اللہ کے نزدیک فی الحقیقت وہ لباس اچھا اور سراسر خیر ہے جو خدا ترسی اور پرہیزگاری کے اصول سے مطابقت رکھتا ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ کی گئی ہو اور اُس کی نازل کردہ شریعت کے مطابق ہو۔
نبی اکرم ﷺ کے ارشادات اور ذاتی معمولات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ لباس ایسا ہونا چاہیے، جس سے ستر پوشی کا مقصد بھی حاصل ہو اور دیکھنے میں بھی آدمی باجمال اور باوقار معلوم ہو۔ نہ تو ایسا ناقص ہو کہ ستر پوشی کا مقصد ہی حاصل نہ ہو، اور نہ ہی ایسا گندہ اور بے ُتکا ہو کہ بجائے زیب و زینت کے آدمی کی صورت بگاڑ کر رکھ دے اور ہر دیکھنے والا اس سے ملنے میں کراہت محسوس کرے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ کپڑے پہن کر ان الفاظ میں اللہ کا بہت شکر بیان کرتے تھے:((اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي))(مسند احمد)’’اللہ کا شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے مجھے زینت کا لباس عطا فرمایا، جس سے میں لوگوں میں زیب و زینت اختیار کرتا ہوں اور اپنی ستر پوشی کرتا ہوں۔ ‘‘
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒاپنی کتاب حجۃ اللہ بالغہ میں فرماتے ہیں کہ پوری متمدن دنیا میں بسنے والے انسان خواہ کسی مذہب اور عقیدہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ اس بات پر متفق ہیں کہ لباس پہننا زندہ رہنے کی علامت ہے جبکہ برہنگی اور عریانی عیب ہے۔
بقول امام قرطبی ؒمذکورہ بالا آیت عمدہ لباس پہننے ، جمعہ اور عیدین کے مواقع پر،لوگوں سے میل جول ، اپنے رشتہ داروں اور بھائیوں سے ملاقات کے وقت خوبصورت اور دلکش لباس پہن کر اپنے آپ کو حسین و جمیل ظاہر کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ امام قرطبیؒ مزید فرماتے ہیں کہ انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو خوبصورت ظاہر کرے۔ شریعت نے یہ پابندی نہیں لگائی کہ وہ عمدہ لباس نہ پہنےاور اپنی داڑھی اور بال نہ سنوارے۔ ابو الاحوصؒ تابعی اپنے والد مالک بن فضلہ ؓسے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں بہت معمولی اور گھٹیا کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کا فضل ہے۔
آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کس نوع کا مال ہے؟‘‘
میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کا مال دے رکھا ہے، اونٹ بھی ہیں، گائےبیل بھی ہیں، بھیڑ بکریاں بھی ہیں، غلام اور باندیاں بھی ہیں۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جب اللہ نے تم کو مال و دولت سے نوازے تو پھر اللہ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم کا اثر بھی تم پر نظر آنا چاہیے۔ ‘‘(مسند احمد)
حضرت رفیع بن مہران، ابو العالیہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان جب آپس میں ملاقات کریں تو حسن و جمال کا اہتمام کریں تاکہ خوبصورت نظر آ سکیں۔جس طرح لباس اللہ کی آیات میں سے ایک آیت ہے، اسی طرح خوبصورت ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ نیا لباس پہننے پر دعا کی تعلیم فرمائی ہے اور مختلف مواقع پر اپنے اصحابؓ کو تاکید کی ہے کہ آدمی کے وجود پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے رہن سہن میں ان کو بہتر اور اچھا رکھنا چاہیے۔ یہ تکبر کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ نعمت کا شکر ہے۔ موطا امام مالکؒ میں ہے کہ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے: جب اللہ تعالیٰ نے تم پر کشادگی فرمائی ہے تو تم بھی اپنے اوپر کشادگی کرو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ عمل اچھا لگتا ہے کہ میں دھلے ہوئے کپڑے پہنوں، سر میں تیل لگاؤں، نئے جوتے پہنوں، اس طرح کئی چیزوں کا ذکر کیا، آخر میں چابک کی ڈوری کا بھی ذکر کیا، اور پھر کہا:یا رسول اللہ! کیا یہ چیزیں غرور و تکبر کے زمرے میں آتی ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، یہ جمال اور حسن ہے۔
((إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ))
اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق بات کا انکار اور لوگوں کو اپنے سے کم تر سمجھنا ہے، لہٰذا اچھا لباس پہننا تکبر نہیں ہے اور نہ ہی زہد و تقویٰ کے خلاف ہے۔
سلف صالحین کا عبادت کے لیے اہتمام
امام مالک ؒجب درس کے لیے بیٹھتے تو بہترین لباس پہنتے تھے، عام طور پر بھی امام مالک ؒخوبصورت لباس میں رہتے تھے۔ حضرت تمیم داری ؓ نے نماز کے لیے ایک ہزار درہم کا حلہ خریدرکھا تھا۔ امام ابو حنیفہؒ چار سو دینار کی چادر اوڑھتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس کا حکم فرماتے تھے۔ امام محمدؒ قیمتی لباس پہنتے تھے۔ سیدنا علی بن حسین بن علی بن ابی طالبؓ سردیوں میں 50 دینار کا کپڑا خرید کر لباس بناتے اور پھر گرمیوں میں اسے صدقہ کر دیتے، اور پھر گرمیوں میں مصری کپڑا خرید کر لباس بناتے ۔
جن روایات میں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرامj کو اچھا کھانے پینے اور اچھا لباس پہننے میں اتنی وسعت نہیں تھی تو یہ سب اسلام کے دورِ اوّل کی بات ہے، لیکن جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو مالِ غنیمت کی کثرت کی وجہ سے حالات بدل گئے۔ اس کے علاوہ صحابۂ کرامؓ پر جب کبھی زہد کا غلبہ ہوتا تو روزمرہ کے معمولی کپڑوں پر قناعت کرتے، اور جب اللہ کی نعمتوں اور شکر کا غلبہ ہوتا تو بہترین عمدہ قیمتی لباس پہنتے تھے۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا اچھا لباس پہننا اظہارِ نعمت کے لیے بھی تھا، اور بسا اوقات لانے والوں کا دل رکھنے کے لیے بھی ہوتا تھا، اور بیانِ جواز کے لیے بھی۔
جائز اور پسندیدہ لباس
نبی اکرم ﷺ اسی طرح کے کپڑے پہنتے تھے جس طرح اور جس وضع کے کپڑوں کا اس زمانے میں آپ ﷺ کے علاقے اور قوم میں رواج تھا۔ آپ ﷺ تہبند باندھتے تھے، چادر اوڑھتے تھے، کرتا پہنتے تھے، عمامہ اور ٹوپی زیبِ سر فرماتے تھے، اور یہ کپڑے اکثر و بیشتر معمولی سوتی قسم کے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی دوسرے ملکوں اور دوسرے علاقوں کے بنے ہوئے ایسے بڑھیا کپڑے بھی وقتی طور پر پہن لیتے تھے جن پر ریشمی حاشیہ یا نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ یہ بڑھیا کپڑے عموماً لوگ آپ ﷺ کو تحفتاً یا ہدیہ میں پیش کرتے تھے۔اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے امت کو اپنے عمل سے یہی تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کے ساتھ ہر طرح کا معمولی یا قیمتی لباس پہنا جا سکتا ہے۔
آئیے حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو کس طرح کا لباس زیادہ پسند تھا۔ حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ سفید کپڑے پہنو کیونکہ یہ زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو بھی انہی میں کفن دو۔‘‘ (سنن ابی داؤد)
نبی اکرم ﷺ نے سبز دھاریوں والا یمنی کپڑا بھی پہنا ہے جو حضور ﷺ کو بہت پسند تھا۔ (صحیح بخاری، انس بن مالکؓ)
اسی طرح سیاہ بالوں سے بنی ہوئی چادر بھی اوڑھی ہے۔ (صحیح مسلم، رواہ حضرت عائشہؓ)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں حضرت حسن اور حضرت حسینiنے زرد رنگ کے کپڑے پہنے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ بچوں کے لیے زرد رنگ کا لباس جائز ہے۔
عورتوں اور چھوٹے بچوں کے لیے ریشمی لباس جائز ہے۔ (سنن نسائی، انس بن مالکؓ)
ناجائز و ممنوع لباس
خالص ریشمی لباس(عاقل بالغ) مردوں کے لیے حرام ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ ریشم نہ پہنو، کیونکہ جو دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، عمر بن ابی خطابؓ)
البتہ آپ ﷺ نے ایک کسروانی جوڑا استعمال فرمایا ہے جس کے گریبان اور چاکوں کے کناروں پر دیباج یعنی ریشم کا حاشیہ تھا۔ ایک دوسری حدیث میں بھی آیا ہے کہ دو چار انگلیوں کا ریشمی حاشیہ مردوں کے لیے جائز ہے، اس سے زیادہ جائز نہیں۔
اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے زرد (گیروے ) رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، عن علی ؓ )
البتہ عورتوں اور بچوں کے لیے یہ لباس جائز ہے۔
لباس میں خاکساری اور تواضع
جہاں اچھا لباس پہننے کو پسند کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف ایسے غریب لوگ جو اپنی غربت کی وجہ سے خستہ حال ہوں اور زیادہ اچھا لباس نہ پہن سکتے ہوں، ان کی بھی اللہ اور نبی اکرمﷺ کی طرف سے دل جوئی کی گئی ہے۔
حضرت ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں، کیا تم سنتے نہیں، یعنی سنو اور غور سے سنو اور یاد رکھو کہ سادگی اور خستہ حالی بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ یہ آپﷺ نے مکرر ارشاد فرمایا۔ (سنن ابی داؤد)
مطلب یہ ہے کہ ظاہری سادگی اور خستہ حالی بھی ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے۔ (اندرونی ایمانی کیفیات کی وجہ سے بھی زینت و آرائش کی طرف سے بے توجہی یا کم توجہ اختیار کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ بڑھیا قیمتی لباس زیب و آرائش نہ کر سکتے ہوں، اس میں ان کے لیے بھی بشارت ہے کہ ان کی سادگی اور خستہ حالی بھی ایمان ہی کا شعبہ ہے۔ اندرونی ایمانی کیفیت کی وجہ سے بھی زینت و آرائش کی طرف سے بے توجہی یا کم توجہ اختیار کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ بڑھیا قیمتی لباس زیب و آرائش نہ کر سکتے ہوں، ان میں ان کے لیے بھی بشارت ہے کیونکہ سادگی اور خستہ حالی سے ان کے اندرونی ایمانی کیفیات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔)
معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو بندہ بڑھیا اور قیمتی لباس کی استطاعت کے باوجود ازراہِ تواضع اور انکساری اُسے استعمال نہ کرے اور سادہ معمولی لباس ہی پہنے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جو جوڑا بھی پسند کرے اس کو زیب تن کرے۔ (جامع ترمذی)
یہ بشارت ان بندوں کے لیے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اتنی دولت دی ہے کہ وہ بڑھیا اور بیش قیمت لباس استعمال کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس جذبے اور احساس کے تحت بڑھیا لباس نہیں پہنتے کہ اس کی وجہ سے دوسرے بندوں پر میری بڑائی ظاہر ہوگی اور شاید میرے اس لباس کی وجہ سے کسی غریب عاجز بندے کا دل ٹوٹ جائے۔ ممکن ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ ابھی ہم پہلے مال و دولت اور استطاعت کی صورت میں اچھا لباس پہننے کی بات کر رہے تھے اور یہاں اس حدیث میں قدرت و استطاعت کے باوجود اچھا لباس نہ پہننے پر اتنے عظیم انعام و اکرام کی بشارت سنائی گئی ہے، پھر ہم یہ حدیث بھی پڑھ کر آئے ہیں کہ معمولی کپڑوں میں خستہ حالوں کی طرح رہنا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ دراصل ان تمام باتوں میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ان کا محل الگ الگ ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مالی وسعت کے باوجود محض کنجوسی یا طبیعت کی کج روی کی وجہ سے پھٹے حال رہیں، جیسے کہ کپڑے ہی نصیب نہیں، ایسے لوگوں کے لیے فرمایا گیا ہے کہ جب کسی بندے پر اللہ کا فضل ہو تو اس کے رہن سہن سے اور اس کے لباس میں اس کا اثر محسوس ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس خستہ حالی اور اچھا لباس نہ پہننے پر انعام و اکرام والی احادیث کے مخاطب دراصل وہ لوگ ہیں، جو لباس کی بہتری کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اس کے بارے میں بہت زیادہ اہتمام اور تکلف سے کام لیتے ہیں، گویا آدمی کی قدر و قیمت کا وہی معیار اور پیمانہ سمجھتے ہیں۔
حاصل ِکلام یہ ہے کہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے انسان اپنی وسعت اور استطاعت کے مطابق نہ تو بہت ہی بڑھیا اور اعلیٰ درجے کے لباس پہنے کہ وہ دوسروں کی نظروں میں بہت نمایاں ہو جائیں، اور نہ ہی بالکل ہی گھٹیا لباس کہ لوگ پاس بیٹھنے سے گریز کرنے لگیں۔
علاوہ ازیں وہ لباس پرہیزگاری کے اصول سے مطابقت رکھتا ہو اور اس کے پہننے سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین پر اس کی روح کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا ربّ العالمین۔