(دعوت غوروفکر) پاکستان کے دفاع کی ضمانت: اسلامی افواج - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

10 /

پاکستان کے دفاع کی ضمانت: اسلامی افواج

ڈاکٹر ضمیر اختر خان

پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی اور اس کی بقا، استحکام اور سلامتی کا حقیقی راز بھی اسی نظریے میں پوشیدہ ہے۔ دستورِ پاکستان ملک کو اسلامی ریاست تسلیم کرتا ہے، مگر محض آئینی اعتراف کافی نہیں، بلکہ اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ایک اسلامی ریاست کی پہچان صرف نام سے نہیں بلکہ اس کے نظام، طرزِ حکمرانی اور اجتماعی کردار سے ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید نے واضح الفاظ میں اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات بیان کی ہیں کہ اقتدار ملنے پر نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ دی جائے، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا فریضہ ادا کیا جائے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی ریاست کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتے ہیں۔
ایسی ریاست کا دفاع محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت افواجِ پاکستان کی ذِمّہ داری ہے اور یہ ذِمّہ داری اسی وقت کماحقہ ادا ہو سکتی ہے جب دفاعی ادارے اسلامی کردار اور اخلاقی اقدار سے مزین ہوں۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الانفال، آیت 60میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے ہر ممکن طاقت تیار رکھو۔ اس حکم کا تقاضا یہی ہے کہ اسلامی ریاست کے پاس مضبوط فوج، جدید اسلحہ اور ہمہ وقت تیار    دفاعی نظام موجود ہو، تاکہ خطرات سر پر آنے کے بعد  عجلت اور انتشار کا شکار نہ ہونا پڑے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر افواجِ پاکستان کو کمزور کرنے کی مہم چلاتے نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فوج کی مخالفت دراصل ریاست ِپاکستان کی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ ایسے حالات میں افواج کی ذِمّہ داری ہے کہ حکمت، صبر اور عوامی بیداری کے ذریعے ان منفی عزائم کو ناکام بنائیں اور خصوصاً نوجوان نسل میں شعور، اعتماد اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کریں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق صرف اسلحہ اور تعداد ہی فتح کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ اخلاقی قوت اور صبر بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ سورۃ الانفال میں مسلم افواج کو جو اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں، وہ آج بھی اتنی ہی مؤثر ہیں جتنی نزولِ قرآن کے وقت تھیں۔ صبر، ضبطِ نفس، ہوش مندی، اشتعال سے اجتناب اور پاکیزہ مقصد وہ صفات ہیں جو کمزور کو طاقتور پر غالب کر دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان ان اصولوں پر قائم رہے، اللہ کی مدد اُن کے شاملِ حال رہی۔افواج پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی مستقل مدد کے حصول کے لیے اپنے ماٹو (ایمان ،تقویٰ  اور جہاد فی سبیل اللہ) پر پورا اترنے کے لیے ملٹری تربیت کے ساتھ دو کام کرنے کا بھرپور اہتمام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک قرآن مجید کے ساتھ تعلق قائم کریں۔ افواج کے تمام افسران اور جوان قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کا فہم بذریعہ ترجمہ وتفسیر حاصل کریں۔ دوسرے  نماز کا نظام، جو پہلے سے کسی درجے میں قائم ہے، اس کو مزید مربوط کریں۔ تمام سرگرمیوں کے دوران نمازوں کااہتمام اس طرح کریں جیسے علامہ اقبال نے واضح کیا ہے ۔؎
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
 قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
اسوئہ رسولﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے نمونہ عمل کی پیروی کریں۔
افواجِ پاکستان کو کفار کی افواج کے ناپاک طور طریقوں سے اپنے آپ کو بچانا اور محفوظ رکھنا ہوگا جن کا حال یہ ہے کہ ان کی فوجیں اخلاقی زوال، فحاشی،  شراب نوشی اور تکبر میں ڈوبی ہوتی ہیں، اور ان کے مقاصدِ جنگ بھی ناپاک اور استحصالی ہوتے ہیں۔ وہ انسانیت کی فلاح کے خوش نما نعروں کے پیچھے دراصل وسائل پر قبضے اور اقوام کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکا کی حالیہ اور تاریخی جارحیتیں، بالخصوص 1945ء کے بعد ہونے والی درجنوں جنگیں، اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہیں کہ عالمی طاقتیں کمزور دفاع رکھنے والے ممالک کو آسانی سے نشانہ بناتی ہیں۔ 
عالمی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی یہ کوشش قابلِ تحسین ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ مسلم ممالک کو بھی دفاعی تعاون کی پیشکش کر رہا ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر جیسے منصوبے اسی سوچ کا مظہر ہیں۔ تاہم یہ تمام کاوشیں اسی وقت مکمل ثمرات دے سکتی ہیں جب اندرونِ ملک اسلامی نظام کے نفاذ کی طرف سنجیدہ پیش رفت ہو۔ سیاسی خلفشار، انتہاپسندی اور ریاست مخالف بیانیوں کا مؤثر توڑ بھی اسلامی نظامِ عدل و قسط ہی میں پوشیدہ ہے۔
آج کی عالمی صورت حال ان تمام لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جو فوج کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ملکی سالمیت، خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاع ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ قدرتی وسائل سے مالا مال مگر کمزور دفاع رکھنے والے ممالک عالمی طاقتوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ نظم و ضبط، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے ملک کا دفاع کیا ہے اور مستقبل میں بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہر چیلنج سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
آخرمیں ہمیں اِس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مضبوط دفاع صرف جدید اسلحہ یا عسکری حکمتِ عملی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کی اصل ضمانت اسلامی نظریہ، اخلاقی کردار اور اللہ پر کامل بھروسے میں ہے۔ جب ریاست، قوم اور افواج اس سمت میں یکسو ہو جائیں، تو کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتی۔ ان شاء اللہ!