(نقطۂ نظر) گورنر راج ، ایمرجنسی بمقابلہ عوامی مقبولیت - ابو موسیٰ

14 /

گورنر راج ، ایمرجنسی بمقابلہ عوامی مقبولیت

ابو موسیٰ

آج کل کسی روزنامہ میں کالم لکھنا کسی ہفت روزہ یا ماہنامہ میں لکھنے سے کسی قدر آسان اور مفید ہے اس لیے کہ بین الاقوامی اور ملکی حالات جس سُبک رفتاری سے بدل رہے ہیں ہفت روزہ یا ماہنامہ جب تک قاری تک پہنچتا ہے تو بہت کچھ بدل چکا ہوتاہے اور سوشل میڈیا تو تیز تر ہے یعنی صبح کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا اور تازہ خبر آپ کی جیب سے لمحہ بہ لمحہ برآمد ہوتی رہتی ہے اِس پر کہا جائے گا کہ سوشل میڈیا پر تو بہت کچھ جھوٹ ہوتا ہے لیکن اخبارات کا کیا حال ہے وہ پہلے ہی طاقت کے پاؤں تلے آ چکے تھے رہی سہی کسر پیکا قانون نے نکال دی اب یکطرفہ سچ ہے ورنہ جیل ہے۔ لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ کے اندر غیر جانبداری ہے تو آپ سوشل میڈیا کی خبروں کی چھان پھٹک کریں پھر دو طرفہ رویوں پر خبر کو پرکھیں اور خود اِس نتیجہ پر پہنچیں کہ سچ کیا ہے وگرنہ آج پاکستان سمیت تمام پسماندہ خاص طور پر مسلمان ممالک میں سچ پر پردوں کی اتنی تہیں چڑھائی جا رہی ہیں کہ کھدائی کرکے کسی سچ کو پا لینے کے لیے کسی نئے فرہاد کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا اِس کا یہ نتیجہ نکلنا چاہیے کہ قلم توڑ دو اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ کیونکہ قاری پڑھتے ہی کہہ دیتا ہے کہ یہ بات یہ خبر یہ اطلاع تو مجھے دس روز پہلے ہی معلوم تھی اور یہ کہہ کر ہفت روزہ کو ایک طرف رکھ دے گا۔ نہیں ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہنگامی اور اضطراری کیفیات وقتی اور عارضی ہوتی ہیں جبکہ عمومی کیفیات کو قرار حاصل ہوتا ہے۔ اِس کی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے جیسے ایک دریا میں سیلاب کے حالات ہوتے ہیں یہ وقتی اور عارضی ہوتے ہیں دریا کا سیلاب اپنے فوائد اور نقصانات چھوڑ کر کچھ دنوں بعد سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال مہینوں نہ سہی ایک آدھ سال میں ٹھہراؤ کی طرف آجاتی ہے ۔ قیامت کے قائم ہونے تک یہ مدوجزر اقوام کے نشیب و فراز کے فیصلے کرتا رہے گا تو اِس کی درست، صحیح اور جامع خبرگیری یہ جریدے ہی کرتے رہیں گے لہٰذا اِن کی ضرورت ہے یہ ناگزیر ہیں۔ قصۂ کوتاہ ہم بین الاقوامی اور خاص طور پر ملکی طور پر انتہائی ہنگامی حالات سے گزر رہے ہیں ویسے تو ہم بچپن سے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان دوراہے پر کھڑا ہے اور سنگین حالات سے دوچار ہے۔ ایسے ہی بار بار کے خراب اور خراب تر حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے میز کے کناروں پر انگلی چلاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اہلِ پاکستان کی کرتوتوں سے کناروں سے نیچے گرنے کو ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ میز کو سیدھا کر دیتا ہے اور پاکستان کے بچنے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور یوں اللہ اپنی خصوصی مدد سے پاکستان کو بچا لیتا ہے۔
شومئی قسمت اِس وقت بین الاقوامی اور قومی دونوں حوالوں سے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ پہلے بین الاقوامی حالات پر گفتگو کر لیتے ہیں اِس لیے کہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے بھی پاکستان جگہ جگہ دکھائی دیتا ہے کہیں صلح صفائی کرواتے اور کہیں مکہ معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے دشمنوں سے نبرد آزما ہوتے۔ کہیں امریکہ کے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل پرائز کے لیے recommend کرتے ہوئے ،ہمارے وزیر محترم شہباز شریف اِس سے پہلے امریکہ جا کر ٹرمپ کی تعریفوں کا پُل باندھتے ہوئے نوبل پرائز دینے کی سفارش اور حمایت کر چکے ہیں تب صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’محترم‘‘ وزیراعظم آپ یہ سب کچھ میری بیوی کے سامنے بھی دہرا دیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے محترم وزیراعظم شہباز شریف کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور امن کا نوبل پرائز نوی لے اُڑی۔ یہ تراسی (83) سالہ جنوبی افریقہ کی ہندو خاتون اِس انعام کی زبردست حقدار تھی اُس نے سانحہ غزہ کی جس طرح نقشہ کشی کی اور جس طرح اسرائیل کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا اور اُس کے ظلم و ستم کو جس طرح بیان کیا راقم کے لیے نوبل پرائز ایوارڈ کرنے والی کمیٹی کی یہ جرأت رندانہ تھی کہ حق بحق دار رسید۔ قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا بھر میں ٹرمپ کو امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش صرف دو ممالک پاکستان اور اسرائیل نے کی ٹرمپ کی یہ ایوارڈ حاصل کرنے کی یہ خواہش بے ہنگم بھی تھی اور زبانِ زدِ عام بھی تھی اِسی لیے ایوارڈ حاصل کرنے والی خاتون نے کہا کہ میں اور ٹرمپ یہ ایوارڈ نصف نصف کر لیتے ہیں۔ گویا بڑے توہین آمیز انداز میں ٹرمپ کو طنز کیا شاید اِس لیے کہ جنوبی افریکہ کی حکومت کا اقتدار ٹرمپ کے سہارے کا محتاج نہیں ہے۔ امریکہ ایران جنگ کے محاذ پر خاموشی چھائی ہوئی ہے اور یہ خاموشی یقیناً کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ اِس لیے کہ آبنائے ہرمز اوّل تو بند ہے اور لولی لنگڑی چال چلتی ہے کچھ نہ کچھ جہاز گزر پاتے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ میرا اِس پر قبضہ ہے اور ایران بھی قبضہ کا دعوی دار ہے۔ اِس حوالے سے ایران کا پلہ بھاری دکھائی دیتا ہے بہرحال تیل کے سَٹہ باز دولت سمیٹ رہے ہیں جن میں ٹرمپ بمع اہل و عیال شامل ہے لیکن دوسری طرف حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ اِس وقت عروج پر ہے۔ ایران نے حوثیوں کے بارے میں لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جو سفید جھوٹ لگتا ہے یمن کی حکومت جسے سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل ہے پچھلے دنوں بڑا جارہانہ انداز اختیار کرتی دکھائی دی۔ خبروں کے مطابق اُس نے بہت سے اہم مقامات سے حوثیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ باب المندب کے قرب و جوار میں گھمسان کارن پڑا ہے۔ کبھی حوثی اُس پر قابض ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کبھی یمن کی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے دونوں صحیح معنوں میں باب المندب پر قبضہ کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک فریق بھی مکمل قبضہ نہیں کرسکا۔ اگر حوثی باب المندب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دنیا کو تیل کے حوالے سے بدترین بحران کا سامنا ہوگا کیونکہ آبنائے ہرمز پر بھی ایران زیادہ کنٹرول رکھتا ہے۔
امریکہ، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ میں ڈبل گیم کرتا دکھائی دیتا ہے وہ اعلانیہ طور پر سعودی عرب کی حمایت کرتا ہے اور حوثیوں کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے کیونکہ اُسے سعودیوں کو اسلحہ فروخت کرکے مال کھرا کرنا ہے پھر یہ کہ اِس سے تیل کی سپلائی بھی جاری رہے گی اور تیل کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھیں گی لیکن خفیہ طور پر حوثیوں کی مدد کرتا نظر آتا ہے مقصد ہے مسلمان آپس میں لڑ کر کمزور پڑیں اگر کل کلاں اسرائیل اپنے ہدف گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھنے کے لیے سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو سعودی حوثیوں سے جنگ کی وجہ سے کمزور پڑ چکا ہو۔ پاکستان مکہ معاہدہ کی وجہ سے سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ سعودی عرب کی حفاظت تو کرے گا لیکن سعودی عرب کی خاطر کسی دوسرے ملک سے جنگ نہیں کرے گا۔ البتہ حوثی الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان اُن پر حملے کر رہا ہے حال ہی میں 100 جنگی طیاروں نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بے شمار حملے کیے ہیں۔ حوثی سعودی عرب پر مسلسل حملے کر رہے ہیں اُنہوں نے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ پر حملہ کرکے طیاروں کو نقصان پہنچایا ہے ایک پائلٹ سمیت بہت سے سعودی ہلاک ہوگئے ہیں۔ راقم کی رائے میں امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اِس جنگ کی آڑ میں ایران اور پاکستان میں تصادم کی کیفیت پیدا کردے اللہ نہ کرے ایسا ہو جو دونوں مسلمان ممالک کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اُدھر ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اوّل تو ٹرمپ انتہائی ناقابلِ اعتبار انسان ہے اُس کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا پھر یہ کہ مڈٹرم انتخاب 3 نومبر کو یعنی دو ہفتوں میں ہو جائیں گے اُس کے بعد اگر ٹرمپ impeachment سے بچ گیا تو امریکہ ایران ایک بڑی جنگ یقینی نظر آتی ہے اور فرض کریں ٹرمپ صدر نہیں رہتا تب بھی راقم توقع نہیں کرتا کہ کوئی نیا صدر صہیونیوں کا ایجنڈا اور اُن کی خواہشات رد کرکے ایران سے اچھے تعلقات بنا سکے گا۔
جہاں تک پاکستان کے داخلی حالات کا تعلق ہے یہاں بھی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے عجب بات ہے کہ دوسروں میں صلح کروائی جا رہی ہے لیکن ملک کے اندر ایک جماعت جو بلاشبہ سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اُسے نکڑے لگایا جا رہا ہے اور واضح خواہش بلکہ اعلان سامنے آ رہا ہے کہ ہمیں یہ جماعت تو قبول ہو سکتی ہے لیکن اِس کا بانی اور اصل سربراہ کسی طور پر قبول نہیں کسی صورت اُس کا وجود قبول نہیں یعنی تحریک انصاف صرف اُسی صورت میں قبول ہے اگر وہ اپنے بانی کو مائنس کرے کیونکہ ہم اُس پر کراس لگا چکے ہیں۔ KPK کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ پر سوار ہیں بیچ کے بعض لوگوں کی وجہ سے مذاکرات شروع ہوئے جو دو دن چلتے رہے لیکن یہ نا کام ہوگئے کیونکہ ایک طرف کی ضد تھی کہ پہلے لانگ مارچ ختم کرو پھر مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں اور دوسری طرف اِس بات پر رُک گئے تھے کہ جب تک ہم عمران خان سے ملاقات نہیں کریں گے بات آگے نہیں بڑھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو بیچ میں ڈالا گیا لیکن اُن سے بھی ہاتھ ہوگیا۔ اُنہیں کچھ یاد دہانیاں کرائی گئیں لیکن اِس دوران KPK میں گورنر راج اور ایمرجنسی دونوں لگا دی گئیں۔ اگر اٹھارویں ترمیم کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو ماہر آئین و قانون ہی نہیں عام آدمی کو بھی آسانی سے یہ بات سمجھ آجائے گی کہ کسی صوبہ میں گورنر راج تمام آئینی تقاضے پورے کر کے لگانا اگرچہ نا ممکن نہیں لیکن انتہائی مشکل ہے لیکن بہرحال لگا دیا گیا۔آگے بڑھنے سے پہلے قارئین کو بتاتے چلیں کہ پاکستان میں آج تک سولہ (16) مرتبہ گورنر راج لگ چکا ہے۔ فوری اور عارضی طور پر تو مرکز اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا لیکن بحیثیت مجموعی اورکُلیتاً ملک و قوم کو اِس کا نقصان ہی پہنچا اِس مرتبہ اضافی بات یہ ہے کہ جو صوبائی حکومت گورنر راج کی زد میں آئی ہے اُسے صوبہ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے گورنر راج دو ماہ کے لیے ہوتا ہے اور دوبار اُس میں توسیع کی جا سکتی ہے کل چھ ماہ سے زیادہ ایک صوبہ میں گورنر راج آئینی طور پر نہیں رہ سکتا۔ بہرحال آئین میں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد ملک میں عدلیہ ہے پر نہیں ہے لہٰذا فیصلے تو صرف طاقت کی بنیاد پر ہوں گے۔ ایک بات بڑی عجیب ہوئی وہ یہ کہ اِس بحران کے درمیان مسئلہ صرف عمران خان کے حوالے سے چلتا رہا لیکن 2 اکتوبر سے اِس میں دہشت گردی کے مسئلہ کو بھی گھسیٹ لیا گیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مرکز کو سپورٹ نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ معلوم ہوتا ہے۔عوامی سوچ کا رخ تبدیل کرنا مقصود تھا اِس لیے کہ کون ہو گا جو بقائم ہوش و حواس دہشت گردی کی مخالفت نہیں کرے گا اور الزام لگا دیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی میں تعاون نہیں کر رہی تھی جبکہ صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ ہمیں صرف طریقہ کار سے اختلاف تھا۔PTI کے حوالے سے بھی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اگر وہ اسلام آباد پہنچ بھی جاتے تو کنٹینروں کی دو دو لہروں سے اُنہوں نے سر پھوڑنا تھا کب تک کنٹینروں کے سرہانے بیٹھے ماتم کرتے رہے کہ کوئی مثبت نتیجہ نکل آتا۔ کیا آپ یہ توقع کرتے تھے کہ حکومت کا رویہ یہ ہو گا کہ چونکہ تم دونوں اتنے دنوں سے کنٹینروں کے پاس کھڑے ماتم کر رہے ہو لہٰذا تمہارے مطالبات تسلیم کرلیتےہیں یہ عقل سے عاری بات تھی۔ بہرحال گورنر راج اور ایمرجنسی لگ چکی ہے۔ صوبے کو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر سے کاٹ دیا گیا ہے۔ نہ موبائل نہ انٹرنیٹ، نہ وائی فائی کوئی نہیں جانتا کہ صوبہ کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ کچھ جھوٹی خبریں حکومت دے رہی ہے تو کچھ فیک ویڈیوز PTI چلا رہی ہے۔ حکومت سے سوال ہے کب تک صوبے میں ہنگامی صورتِ حال رکھو گے اور کیا اِن حکومتی اقدام سے ملک میں PTI مزید پاپولر نہیں ہو جائے گی آخر کب تک ایمرجنسی رکھوگے اور جب کبھی بھی انتخابات کرواؤ گے تو کیا اِس بار فارم 47 بھی چل سکے گایا کچھ اور ہی کرنا پڑے گا۔
بہرحال پاکستان اس وقت بدترین سیاسی بحران کا شکار ہے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں معاشی ترقی ممکن نہیں۔ جبکہ ہمارا سیاسی عدم استحکام ایک خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے جس نے تشویشناک بلکہ خوفناک بحران کی صورتحال اختیار کر لی ہے۔ ہمارا قرضہ ہمارے جی ڈی پی کا 70 فیصد سے زائد ہو چکا ہے ایسی حالت میں پاکستان ڈیفالٹر قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن موجودہ حکومتی سیٹ اپ جس طرح خطے میں امریکی مفادات کی دیکھ بھال کر رہا ہے لہٰذا امریکہ کے نزدیک پسندیدہ ملک ہونے کی وجہ سے ہمیں آفیشلی دیوالیہ ڈیکلیئر نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان اقتصادی لحاظ سے MENA زون میں ہے جو مڈل ایسٹ نارتھ افریقہ کا مخفف ہے۔ اس زون میں پاکستان کے علاوہ افغانستان شام، یمن اور کچھ دوسرے غریب ممالک ہیں۔ ورلڈ بنک نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق ان ممالک میں جتنے افراد غربت کی لکیر کے نیچے ہیں ان کا 48 فیصد پاکستان میں ہے۔ گویا اس زون میں مجموعی طور پر غربت کی لکیر کے نیچے افراد میں سے تقریباً آدھے پاکستان میں رہتے ہیں۔ پاکستان بری طرح قرضوں کے انبار نیچے دبا ہوا ہے۔ سیاسی ابتری کی وجہ سے نہ صرف بیرونی تجارتی کمپنیاں پاکستان سے بھاگ رہی ہیں بلکہ پاکستان کے سرمایہ دار بھی پاکستان سے باہر سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان بدترین بھوک زدہ ممالک قرار دیے گئے ہیں۔ دنیا میں 31 مقروض ممالک کی ایک تنظیم بنی ہے پاکستان کو اس کی سربراہی دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اس چار سالہ دور حکومت میں غیر ملکی دوروں کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے لیکن ایک پھوٹی کوڑی کی سرمایہ کاری نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کا سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے پہلے اس ملک کی سیاسی صورتحال دیکھتا ہے اور جائزہ لیتا ہے کہ ملک کی بنیادیں مضبوط ہیں یا نہیں۔ انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ ملک ڈوبنے کے ساتھ کہیں ان کا سرمایہ بھی نہ ڈوب جائے۔ بہرحال ہم اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اور خاص طور پر اقتدار کی چھین چھپٹ سے جس مقام پر پہنچ گئے ہیں اس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ آج کی دنیا میں عوام کی اکثریتی رائے کو نظر انداز کر کے اور طاقت کی بنا پر مسلط ہونا بڑا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ پہلے بھی ہم مشرقی پاکستان میں اکثریتی رائے کو طاقت سے ختم کرنے کے نتائج بھگت چکے ہیں۔ تمام سٹیک ہولڈرز سے دست بستہ عرض ہے کہ ملک کے وجود کو داؤ پر نہ لگایا جائے افہام و تفہیم اور مذاکرات سے تمام مسائل حل کر لیے جائیں۔ لڑائی جھگڑے اور شدت پسندی مسئلے کا حل نہیں پیدا کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج اور ایمرجنسی مقبولیت میںمزید اضافہ کا باعث نہیں بنے گی؟ اہل پاکستان سے درخواست ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے کردار ادا کریں۔ اللہ پاکستان کو تا قیامت قائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین!
ززز