(درحقیقت) بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے - خالد نجیب خان

14 /

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

خالدنجیب خان

انتخابات کے نتائج میں بندوں کی تعداد بڑھانے کے لیے جو جتن کیے جاتے ہیں، اُن کو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ انتخابات اگر بھارت میں ہو رہے ہوں تو اُس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑتا ہے کہ حکمران جماعت اپنے ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی سرزمین پر جھوٹ موٹ کے حادثات کرا لیتی ہے اور الزامات پاکستان پر ڈال دئیے جاتے ہیں۔ امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہوں تو وہاں کا حکمران بھی ووٹ حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں جنگ چھیڑ لیتا ہے اور اُس جنگ کو ناگزیر ثابت کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کردیتا ہے۔
انتخابات میں ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے مروجہ طریقۂ واردات کی بھنک اب ناجائز ریاست اسرائیل کے حکمرانوں تک بھی پہنچ چکی ہے، جہاں اسی ماہ کی 27 تاریخ کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ حالانکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ برائی کا آغاز ہی وہاں سے ہوتا ہے۔ یہاں حکمران جماعت لیکود پارٹی کے سربراہ نتن یاہو نے گزشتہ چندبرسوں میں جو جنگی جرائم کیے ہیں، اُن کی وجہ سے اُس کی مقبولیت دنیا بھر میں تو کم ہوئی ہی ہے، اپنے ملک میں بھی بہت کم ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ وہ پہلی مرتبہ 1993ء میں لیکود پارٹی کا سربراہ منتخب ہوا اور 1996ء میں پہلی بار وزیراعظم بن گیا اور 1999ء تک اس عہدے پر رہا۔ بعد میں 2009ء میں پھر وزیراعظم بننے کا موقع ملا تو 2019ء تک اِس عہدے پر براجمان رہا۔ اِس دوران اُس کی مقبولیت کم ہوتی چلی گئی۔ 2019ء اور 2022ء کے درمیان چار مرتبہ انتخابات ہوئے مگر اُس کے لیے حکومت بنانا ممکن نہ ہوا۔ آخرکار 2022ء میں اقتدار ملا تو گویا فلسطین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کرنے کا لائسنس مل گیا، مگر ہر نئے ظلم کے بعد اُسے اپنے عوام کی طرف سے نئی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ دو سال قبل جب بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی میں جنگی جرائم کا مقدمہ قائم ہوا اور اُس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تو اندرونِ اسرائیل بھی اُس کے خلاف بڑی ریلیاں اور جلوس نکالے گئے، جو اِس بات کا مظہر تھے کہ اُس کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔
اقتدار کا نشہ بہرحال ایسا ہے کہ ایک مرتبہ اگر ایک روز کے لیے اتفاقاً بھی مل جائے تو اپنے اثرات چھوڑ جاتا ہے، کجا یہ کہ حصولِ اقتدار کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ہو۔ ایسے میں ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اگر ایک آدھ اپنا مسافر طیارہ بھی خطرے میں پڑ جائے تو بعض سیاست دان اسے بھی سیاسی موقع سمجھنے لگتے ہیں۔ ماضی میں اپنے دو مسافر طیارے اور ایک بڑی عمارت تباہ ہونے کے واقعے کو بنیاد بنا کر ایک بڑے ملک نے دنیا بھر میں جو سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کیے، اُن کے مقابلے میں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں ہونے والے واقعے سے اسرائیل ہی نہیں، پورے خطے میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ 30 ستمبر کو پرواز FZ1073 میں مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ اچانک خطرناک انداز میں نیچے آیا۔ مسافروں اور عملے کی مداخلت سے حملہ آور پر قابو پایا گیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں اور اس کے محرکات کے بارے میں تادم تحریرحتمی بات سامنے نہیں آئی اور توقع ہے کہ ناجائز ریاست کے عام انتخابات کے نتائج آنے تک نہیں آئیں گے۔
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ یہ واقعہ اسرائیل کے عام انتخابات سے چند ہفتے پہلے پیش آیا اور اُس سے ایک روز قبل ہی نتن یاہو نے انتخابات کے دوران ممکنہ حملوں کے خطرے کے حوالے سے خبرداربھی کیا تھا۔اور پھر جیسے ہی طیارے کا واقعہ سامنے آیا، اسرائیل میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا وزیراعظم نے کسی ممکنہ خطرے کی پہلے سے اطلاع حاصل کرلی تھی یا محض عمومی نوعیت کی سیاسی پیش گوئی کی تھی۔ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ نتن یاہو اس واقعے کو اپنی سکیورٹی کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال کر رہاہے۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نتن یاہو نے اس واقعے سے سیاسی فائدہ اُٹھایا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید جمہوریت میں ووٹر کی رائے اِس قدر آسانی سے خوف کے زیرِ اثر لائی جاسکتی ہے؟
جواب اگر اثبات میں ہے تو پھر ہمیں جمہوریت کے اُس دعوے پر بھی نظرِ ثانی کرنا ہوگی جس میں کہا جاتا ہے کہ عوام آزادانہ اور غیر جانب دارانہ ماحول میں اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ خوف زدہ آدمی عموماً دلیل نہیں سنتا، وہ پناہ تلاش کرتا ہے اور کسی سیاست دان کے لیے اِس سے بڑھ کر کوئی انتخابی نعمت نہیں کہ وہ خود کو عوام کی پناہ گاہ بنا کر پیش کرسکے۔
نتن یاہو کے لیے مسئلہ صرف ایک طیارے کا واقعہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملے نے اُس حکومت کے اُس بنیادی دعوے کو شدید نقصان پہنچایا تھا کہ اسرائیل کی ریاست اپنے شہریوں کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب انتخابات کے موقع پر ہر نیا سکیورٹی واقعہ اُس بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کرتا ہے کہ جو حکومت اپنے شہریوں کو اُس بڑے حملے سے نہ بچا سکی، وہ آئندہ اُنہیں کیسے محفوظ رکھے گی؟ یہی وجہ ہے کہ طیارے کا واقعہ محض ایک فضائی حادثہ یا مبینہ حملہ نہیں رہا بلکہ انتخابی سیاست کا موضوع بن چکاہے۔
یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ جو ریاست فلسطینیوں کے لیے ہر روز ’’سکیورٹی‘‘ کے نام پر بم برسانے کو اپنا حق سمجھتی ہے، اُس کے اپنے شہری اب ہر ممکنہ خطرے کو اُسی عینک سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ سکیورٹی کا وہی بیانیہ جو برسوں سے فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہوتا رہا، اب اسرائیلی سیاست کے اندر بھی انتخابی نعرے کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ایک شہری کے خوف کو ووٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ ایک فلسطینی کے خوف کو دہشت گردی کا نام دے کر ختم کرنے کی۔
دنیا بھر کی انتخابی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اپنے کارناموں کا حساب دینے کے بجائے اُن کے خوف کا حساب رکھتی ہیں۔ معیشت خراب ہو تو دشمن کا نام لیا جاتا ہے، بے روزگاری بڑھے تو قومی سلامتی خطرے میں بتائی جاتی ہے،عوام حکومت سے سوال کریں تو کوئی نیا بیرونی خطرہ دریافت کرلیا جاتا ہے،اور انتخابات قریب آئیں تواچانک قوم کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے گرد سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے اور ملک تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ یوں ووٹر اپنے گھر کے خالی چولہے، مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی ناکامیوں کو بھول کر سرحد پار کے دشمن کو دیکھنے لگتا ہے۔
لیکن اس سارے کھیل میں شاید سب سے زیادہ قابلِ رحم خود ووٹر ہے۔ وہ چار یاپانچ سال کے لیے اپنا نمائندہ منتخب کرتا ہے،مگر انتخاب کے دن تک اُس کے سامنے اتنا خوف کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ وہ یہ پوچھنا ہی بھول جاتا ہے کہ جس شخص کو وہ ووٹ دینے جارہا ہے اُس کی گزشتہ سالوں کی کارکردگی کیاہے؟ اُس نے تعلیم کے لیے کیا کیا، صحت کے لیے کیا کیا، روزگار کے لیے کیا کیا، امن کے لیے کیا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس نے اپنے وعدوں میں سے کتنے پورے کیے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت محض اعداد کا کھیل بن جاتی ہے۔ بندے گنے جاتے ہیں، تولے نہیں جاتے۔ووٹوں کی تعداد شمارہوتی ہے، ووٹر کے شعور کا وزن نہیں کیا جاتا۔ جلسے میں کتنے لوگ آئے، یہ خبر بن جاتی ہے؛ یہ خبر نہیں بنتی کہ اُن لوگوں میں سے کتنے اپنے ووٹ کی قدر اور ذِمّہ داری سے واقف تھے۔ پارلیمنٹ میں کتنے ارکان حکومت کے ساتھ ہیں،یہ اہم ہوجاتا ہے؛یہ اہم نہیں رہتا کہ وہ ارکان اپنے ضمیر کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں؟
اسرائیل کے موجودہ انتخابات بھی اِسی بڑے سوال کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔27 اکتوبر کے انتخابات میں نتن یاہو کی جماعت لیکوداگر سب سے بڑی جماعت بن بھی جائے تو حکومت سازی کے لیے اُسے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اکثریت درکار ہوگی۔ تازہ انتخابی جائزوں میں اُس کے اتحاد کی پوزیشن اب بھی اکثریت سے خاصی نیچے دکھائی دے رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقابلہ خاصا سخت ہے۔ ایسے میں ہر سکیورٹی واقعہ، ہر ممکنہ خطرہ اور ہر خوف ناک خبر سیاسی اہمیت اختیار کرے گی۔ابھی تو یہاں کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہاں پر انتخابی نتائج مرتب کرنے کے لیے فارموں کی کل تعداد 45 ہے یا 47؟
بہرحال سوال یہ ہے کہ کیا ایک قوم کو ہمیشہ خوف کے سہارے چلایا جاسکتا ہے؟ کیا ہر انتخاب سے پہلے کوئی نیا دشمن پیدا کرنا ضروری ہے؟ کیا ہر سیاسی ناکامی کو قومی سلامتی کے پردے میں چھپایا جاسکتا ہے؟ اور کیا عوام ہمیشہ یہ مانتے رہیں گے کہ اُن کی حفاظت صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کی حکومت میں اُن کی حفاظت پہلے ہی سوالیہ نشان بن چکی ہو؟
شاید وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر کے ووٹرز یہ معمولی سا سوال پوچھنا شروع کردیں کہ ہمیں ڈرایا کیوں جارہا ہے؟اگر کسی حکمران نے اچھا کام کیا ہے تو اُسے اپنی کارکردگی دکھانی چاہیے، دشمن کا خوف نہیں۔معیشت بہتر کی ہے تواُس کے ثبوت پیش کرنے چاہیں، جنگ کی تصویریں نہیں۔ اگر عوام محفوظ ہیں تو اُنہیں بار بار خطرات سے آگاہ کرکے خوف زدہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
جمہوریت میں اصل طاقت بندوں کی تعداد نہیں، اُن کے شعور کی ہوتی ہے۔مگر جب شعور کے بجائے خوف کو ووٹ دینے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو پھرانتخابات عوامی فیصلے سے زیادہ نفسیاتی مہم بن جاتے ہیں اور نفسیاتی جنگ میں سچ، جھوٹ، حادثہ، خطرہ اور سیاسی مفاد سب ایک دوسرے میں یوں گڈمڈ ہوجاتے ہیں کہ آخر میں عوام کے پاس صرف ایک چیز بچتی ہے جسے خوف کہا جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ خوف محض انسان کا دشمن نہیں بلکہ ایک ایسا اشارہ ہے جو اُسے متنبہ کرتا ہے کہ اُس کی کوئی اہم چیزداؤ پر لگی ہوئی ہے۔ سیاست دان اسی انسانی کمزوری کو سمجھ کر جب خوف کو اپنی انتخابی مہم کا ایندھن بناتے ہیں تو ووٹر مسائل کا تجزیہ کرنے کے بجائے خطرے سے نجات حاصل کرنے والے ہاتھ کی تلاش شروع کردیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بندے کتنے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بندے کس بات پر کھڑے ہیں۔ انتخابات کا حسن یہ نہیں کہ کتنے ووٹ حاصل کرکے اقتدار مل گیا، اصل حسن یہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کتنے سچ بولے گئے۔ ورنہ بندوں کو گننا تو آسان ہے، اُنہیں تولنا ذرا مشکل کام ہے۔ اور شاید اسی لیے دنیا بھر کے حکمران بندوں کو گنتے ہیں، تولتے نہیں۔
(نوٹ:یہ مضمون صرف ناجائزریاست اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے تناظرمیں لکھا گیا ہے،پائی جانے والی کوئی بھی مماثلت اتفاقیہ ہوگی۔ )