(فکرو نظر) ذِمّہ داران کا اپنے کارکنوں میں تفریق کرنا - ابو محمد

14 /

ذِمّہ داران کا اپنے کارکنوں میں تفریق کرنا

قرآن و حدیث کی روشنی میں

ابو محمد

ذِمّہ داران کا کارکنوں میں تفریق کرنا ایک غیر منصفانہ رویہ ہے جو ادارے یا شعبے کی کارکردگی اور حوصلے کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ایک رہنما یا منیجر اپنے ماتحتوں میں ذاتی پسند، رشتہ داری یا دوستی کی بنیاد پر فرق کرتا ہے تو ادارے اور افراد پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل، مساوات ، اخوت، قیادت اور کارکنوں کی ذِمّہ داریوں کا جائز لیتے ہیں۔

 

یہ بات ہمیں سمجھنی چاہیے کہ کسی بھی تنظیم، جماعت یا ادارے کی مضبوطی صرف اس کے قائدین سے نہیں بلکہ کارکنوں کے باہمی اعتماد، اخوت اور اتحاد سے ہوتی ہے۔ جب ذِمّہ دار اپنے کارکنوں میں پسند و ناپسند، قربت و دوری یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فرق کرنا شروع کر دے تو آہستہ آہستہ دلوں میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں، اعتماد ختم ہوتا ہے اور اجتماعی کام متاثر ہوتا ہے۔
اسلام میں عدل کا حکم
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
{اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ } (سورۃ النحل: 90)
’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی قیادت کی بنیاد عدل اور احسان ہے۔ایک ذِمّہ دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام کارکنوں کے ساتھ انصاف کرے۔ کسی کو صرف ذاتی پسند کی وجہ سے آگے بڑھانا اور دوسرے کو  نظر انداز کرنا اسلامی مزاج کے مطابق نہیں۔
اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے: {وَلَا یَجْرِمَنَّـکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَ لَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْاقف ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّـقْوٰی ز} (سورۃ المائدہ: 8)
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
جب اسلام ہمیں مخالف یا ناپسندیدہ شخص کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیتا ہے، تو اپنے ہی کارکنوں کے ساتھ ناانصافی کی گنجائش کیسے ہو سکتی ہے؟
ذِمّہ داری ایک امانت ہے
اسلام میں عہدہ عزت سے زیادہ امانت اور جواب دہی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
لہٰذا جو شخص کسی ٹیم، جماعت یا کارکنوں کا انچارج ہے، اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف لوگوں کا نگران نہیں بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہ بھی ہے۔
اس سے سوال ہوگا کہ:
٭ کیا تم نے سب کے ساتھ انصاف کیا؟
٭کیا تم نے سب کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا؟
٭کیا تم نے کسی کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ترجیح دی؟
٭کیا تم نے کسی مخلص کارکن کو محض ذاتی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کیا؟
کیا تم نے کارکنوں کے درمیان محبت پیدا کی یا گروہ بندی؟پسندیدہ کارکن اور ناپسندیدہ کارکن؟
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’امارت ایک امانت ہے، یعنی یہ عزت یا فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دی گئی بھاری ذِمّہ داری ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
کسی ذِمّہ دار کے لیے یہ درست رویہ نہیں کہ وہ چند لوگوں کو اپنا خاص بنا لے اور باقی کارکنوں کو مسلسل  نظر انداز کرتا رہے۔بقول شاعر  ؎
ہم آہ بھی کر تے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
کارکنوں کی صلاحیتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی کی گفتگو اچھی ہے، کسی کی تنظیمی صلاحیت بہتر ہے، کوئی خاموشی سے محنت کرتا ہے، کوئی مشکل کام اُٹھاتا ہے اور کوئی پس پردہ رہ کر خدمت کرتا ہے۔
ایک سمجھ دار انچارج ہر کارکن کی صلاحیت کو پہچانتا ہے اور اُسے مناسب موقع دیتا ہے۔
قیادت کا مطلب یہ نہیں کہ چند لوگوں کو اپنے قریب رکھا جائے؛ قیادت کا مطلب یہ ہے کہ پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلا جائے۔
رسول اللہ ﷺ کا طرزِ قیادت
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامj کے ساتھ محبت، شفقت اور عدل کا ایسا نمونہ پیش فرمایا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
آپ ﷺ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچانتے اور مناسب ذِمّہ داریاں سونپتے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیف دور کرے، اللہ قیامت کے دن اُس کی تکلیف دور فرمائے گا۔‘‘(صحیح مسلم)
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی مدد، اس کی عزت اور اس کی مشکل میں ساتھ دینا بہت بڑی نیکی ہے۔
ایک ذِمّہ دار کو چاہیے کہ وہ کارکنوں کی مشکلات سمجھے، اُن  کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرے۔
تفریق کے نقصانات
کارکنوں میں تفریق کے بہت سے نقصانات ہیں۔
پہلا نقصان: اعتماد ختم ہو جاتا ہے
جب کارکن محسوس کرے کہ یہاں قابلیت سے زیادہ تعلقات کی قدر ہے تو اُس کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
دوسرا نقصان: اخوت کمزور ہوتی ہے
قرآن کہتا ہے:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ }(سورۃ الحجرات: 10) ’’مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
جب ایک ذِمّہ دار خود کارکنوں کو گروہوں میں تقسیم کرے تو اخوت کا جذبہ کمزور ہوتا ہے۔
تیسرا نقصان: مخلص کارکن پیچھے ہٹ جاتے ہیں
جو شخص مسلسل محنت کرے لیکن اُسے عزت، اعتماد اور موقع نہ ملے تو اُس کے اندر مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔
چوتھا نقصان: اجتماعی مقصد متاثر ہوتا ہے۔
جب کارکن ایک دوسرے کے مقابل گروہ بن جائیں تو اصل مقصد پس ِ پشت چلا جاتا ہے۔
اختلاف اور تفریق میں فرق
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
اختلافِ رائے کوئی بُری چیز نہیں۔کارکنوں کے درمیان رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، گروہ بندی اور ناانصافی میں تبدیل کرنا یعنی تفرقہ بنا دینا انتہائی خطرناک ہے۔
ایک اچھا انچارج اختلاف سن کر فیصلہ اصول، دلیل اور انصاف کی بنیاد پر کرتا ہے، نہ کہ ذاتی پسند اور تعلق کی بنیاد پر۔
قائد کے لیے چند اصول
ایک ذِمّہ دار اگر اپنی ٹیم کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اُسے چند اصول اپنانے چاہییں:
1۔ سب کے ساتھ عزت سے پیش آئے۔
2۔ فیصلوں میں ذاتی پسند و ناپسند کو حاوی نہ ہونے دے۔
3۔ کارکنوں کی بات سننے کا موقع دے۔
4۔ محنت اور صلاحیت کی قدر کرے۔
5۔ غلطی پر اصلاح کرے، تذلیل نہ کرے۔
6۔ کسی ایک گروہ کو مستقل طور پر ترجیح نہ دے۔
7۔ کارکنوں کے درمیان بدگمانی اور چغلی کو فروغ نہ دے۔
8۔ خود بھی احتساب کے لیے تیار رہے۔
قرآن مجید ہمیں ایک عظیم اصول دیتا ہے:
{وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ ص}(سورۃ الشوریٰ: 38)
’’اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔‘‘
لہٰذا اچھا انچارج صرف حکم دینے والا نہیں ہوتا؛ وہ سننے والا، مشورہ کرنے والا اور اصلاح قبول کرنے والا بھی ہوتا ہے۔
کارکنوں کے لیے بھی پیغام
یہ ذِمّہ داری صرف انچارج کی نہیں، کارکنوں کی بھی ہے۔
اگر کسی ذِمّہ دار سے ناانصافی ہو جائے تو فوراً نفرت، غیبت یا گروہ بندی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًاط} (سورۃ الحجرات: 12)
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔‘‘
مسئلہ ہو تو حکمت، خیرخواہی اور مناسب طریقے سے بات کی جائے۔ مقصد شخصیت کو گرانا نہیں بلکہ نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے:
انچارج کی اصل طاقت اُس کے عہدے میں نہیں، بلکہ کارکنوں کے اعتماد میں ہوتی ہے۔
اگر کارکن اپنے انچارج پر اعتماد کریں، انچارج کارکنوں کے ساتھ انصاف کرے، سب کو عزت دے اور سب کو ساتھ لے کر چلے تو ایک مضبوط، متحد اور بااخلاق ٹیم وجود میں آتی ہے۔
لیکن اگر قیادت میں جانبداری، اقرباپروری اور تفریق آ جائے تو بہترین کارکن بھی دل برداشتہ ہو سکتے ہیں اور اجتماعی قوت کمزور پڑ سکتی ہے۔
لہٰذا ہر ذِمّہ دار اپنے دل سے پوچھے:
٭کیا میں سب کے لیے ایک جیسا معیار رکھتا ہوں؟
٭کیا میں اپنے پسندیدہ کارکن اور کم پسند کارکن کے ساتھ ایک جیسا انصاف کرتا ہوں؟
٭کیا میں کارکنوں کو جوڑ رہا ہوں یا انجانے میں تقسیم     کر رہا ہوں؟
آخر میں دعا ہے:
٭اے اللہ! ہمیں عدل و انصاف کرنے والا بنا۔
٭اے اللہ! ہماری قیادت کو امانت، اخلاص اور تقویٰ عطا فرما۔
٭اے اللہ! ہمارے دلوں سے بغض، حسد، تعصب اور 
     گروہ بندی کو دور فرما۔
٭اے اللہ! ہمارے درمیان محبت، اخوت، اتحاد اور 
     خیرخواہی پیدا فرما۔
٭اے اللہ! ہمارے ذِمّہ داروں کو ایسا قائد بنا جو سب کو ساتھ لے کر چلیں اور کسی پر ظلم یا ناانصافی نہ کریں۔آمین یا رب العالمین!