پانچ لاشیں اور صرف ایک انڈا!
تحریر: ڈاکٹر نوید اقبال انصاری
کراچی شہر میں ایک فلیٹ سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس میں گھر کے سربراہ کی لاش بھی شامل ہے جو کوئی فقیر نہیں، ایک ڈاکٹر ہے۔خبر شاید چند سطروں کی تھی اور ابھی یہ نہیں معلوم کہ یہ واقعہ خودکشی کا ہے یاقتل کا، لیکن اس خبر کے اندر چھپی ہوئی کہانی بہت طویل ہے۔ ایک ایسی کہانی جو صرف ایک گھر کی نہیں، شاید ہمارے پورے معاشرے کی کہانی ہے۔
خبر کے مطابق، اس گھر سے کھانے پینے کی اشیاء میں صرف ایک انڈا برآمد ہوا (جب کہ اس سانحہ سے قبل گھر والےاپنے استعمال کاoven فروخت کررہے تھے)۔ گویا کھانے پینے کی کوئی اور چیز وہاں موجود نہیں تھی۔ فریج موجود تھا، گھر موجود تھا، بچے موجود تھے ، مگر کھانے کے لیے صرف ایک انڈا۔ یہ ایک انڈا ہمیں بہت سے پیغام دے رہا ہے۔
پہلا پیغام یہ کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے حقوق بھول گئے ہیں۔ اسلام نے پڑوسی کے حقوق پر بہت زور دیا ہے، لیکن ہم نے شاید یہ محسوس کرنا بھی چھوڑ دیا ہے کہ ہمارے برابر والے گھر میں کھانے کو کچھ ہے یا نہیں۔
ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے پڑوسی کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے گھر میں خوشی ہے یا غم، بیماری ہے یا پریشانی، چولہا جل رہا ہے یا نہیں ۔
یہ ہمیں دوسرا پیغام یہ دیتا ہے کہ ہم نے صرف پڑوسیوں کے حقوق ہی نہیں بھلائے، ہم نے صلہ رحمی بھی بھلا دی ہے۔ اب بھائی اپنے سگے بھائی کو والدین کے ترکے سے حصّہ بھی دینا نہیں چاہتا۔ ناراضی ایسی کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ سگے بھائی کے گھر ایک نئی زندگی نے جنم لے لیا ہے۔ کسی رشتہ دار کی بیماری، پریشانی یا مالی مشکلات کی خبر ہمیں اس وقت ہوتی ہے جب حالات بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کیونکہ چھوٹی چھوٹی ناراضگیاں، معمولی اختلافات اور انا کی دیواریں ہمارے رشتوں کے درمیان کھڑی ہو چکی ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں، تعلق توڑتے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھتے۔ یہاں تک کہ خبر کے مطابق اس سانحے میں مرنے والوں کی نماز و تدفین کا انتظام و خرچہ بھی پولیس والوں نے خود کیا ، سگے رشتہ داروں نے نہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یہی پیغام بھی دے رہا ہے کہ ہم جتنا زیادہ جدید(ماڈرن) ہو رہے ہیں، شاید اتنا ہی زیادہ تنہا بھی ہوتے جا رہے ہیں، ہماری سماجی اقدار دم توڑ رہی ہیں۔ ہمارے پاس موبائل فون ہیں، انٹرنیٹ ہے، سوشل میڈیا ہے، ہر وقت رابطے کے ذرائع موجود ہیں، لیکن شاید ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے فون کی رابطہ فہرست میں سینکڑوں نام موجود ہیں، مگر مشکل وقت میں دروازہ کھٹکھٹانے والا کوئی نہیں۔ ہم بڑی بڑی امدادی رقم، خیرات وغیرہ معروف تنظیموں کو دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض پورا کردیا اور اب ان کی رقم مستحقین تک پہنچانا ان تنظیموں کی ذِمّہ داری ہے لیکن یہ انڈا بتا رہا ہے کہ مرنے والے خاندان تک کچھ نہیں پہنچا ، واضع رہے کہ پاکستان میں سال 2024 میں619 ارب روپے زکوٰۃ ادا کی گئی جبکہ خیرات تقریباً 800 ارب سالانہ دی جاتی ہے۔
یہ انڈا ہمیں ایک اور تلخ حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ کیا ہماری آمدنی واقعی ہماری ضروریات پوری کر پا رہی ہے؟ یہ صرف غربت کی کہانی نہیں، یہ مڈل کلاس کے سکڑتے ہوئے دائرے کی کہانی بھی ہے۔
وہ مڈل کلاس جو کبھی عزت کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم دیتی تھی، گھر کا کرایہ ادا کرتی تھی، بجلی، گیس، پانی اور دیگر اخراجات پورے کرتی تھی اور کبھی کبھار بچوں کو باہر کھانا بھی کھلا دیتی تھی، آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حساب کتاب میں اُلجھی ہوئی ہے۔
انڈا یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ آخر ایک متوسط آمدنی والے خاندان کے لیے آج زندگی کتنی مشکل ہو چکی ہے؟
اور اگر ایک ڈاکٹر، ایک استاد، ایک سرکاری ملازم یا کسی دوسرے سفید پوش گھرانے کے لیے بھی بنیادی اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائیں تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس معاشرے میں سفید پوشی کی قیمت کتنی بڑھ چکی ہے۔
یہ واقعہ یہ بھی پوچھ رہا ہے کیا آج کسی فیکٹری، صنعت اور کسی ادارے وغیرہ کے مالکان اپنے اَن پڑھ تو کیا کسی پڑھے لکھے ڈگری یافتہ ملازم کو اتنی اُجرت دیتے ہیں کہ جس سے صرف ان کےگھر کا چولہا ہی جلتا رہے اور پیٹ کی آگ بجھتی رہے؟
ہم اکثر اعداد و شمار میں ترقی تلاش کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں معیشت بہتر ہو رہی ہے، ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، شہر جدید ہو رہے ہیں، نئی سڑکیں بن رہی ہیں، نئے منصوبے آ رہے ہیں۔لیکن ایک انڈا ہم سے پوچھتا ہے کہ اس ترقی کا عام آدمی کے دسترخوان تک کتنا حصہ پہنچا؟
یہ انڈا حکمرانوں سے بھی سوال کرتا ہے۔ تم ٹیکسوں کے انجکشن سے لوگوں کا خون اور کتنا نچوڑو گے؟یہ کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک دور کا سوال نہیں۔ یہ ایک اجتماعی سوال ہے۔سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے اپنے نعرے ہیں۔ کسی کے پاس تبدیلی کا نعرہ ہے، کسی کے پاس ترقی کا، کسی کے پاس انقلاب کا، کسی کے پاس خوشحالی کا۔ لیکن اس خالی فریج میں پڑا ہوا ایک انڈا پوچھتا ہے کہ بھوک کا نعرہ کہاں ہے؟ عوام کے پیٹ کا سوال کہاں ہے؟ اس گھر کی عورت کے چولہے کا سوال کہاں ہے؟ اس باپ کی پریشانی کہاں ہے جو اپنے بچوں کے لیے راشن نہیں خرید سکتا؟
یہ انڈا شاید ہم سے کہہ رہا ہے کہ سیاسی نعروں پر بحث بعد میں کر لینا۔ یہ بحث بھی بعد میں کر لینا کہ کون اچھا لیڈر تھا اور کون برا، کس کا ماضی کیسا تھا اور کس کی سیاست کیسی تھی۔ پہلے یہ دیکھو کہ عوام کے پیٹ میں کچھ ہے یا نہیں۔ کیونکہ بھوکے پیٹ کو سیاسی نعرہ نہیں چاہیے۔اُسے روٹی چاہیے۔ اُسے دودھ چاہیے۔ اُسے دال چاہیے۔ اُسے بچوں کے لیے خوراک چاہیے۔
شاید یہ ایک انڈا ہم سے کہہ رہا ہے کہ نہ جانے اس ملک میں کتنے گھروں کے فریج اسی طرح خالی پڑے ہیں۔
نہ جانے کتنے سفید پوش لوگ اپنی مشکلات کسی کو بتائے بغیر زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ غریب آدمی تو کبھی کبھی مدد مانگ لیتا ہے، لیکن مڈل کلاس کا آدمی اپنی عزت کی خاطر غربت چھپاتا ہے۔ وہ کسی فٹ پاتھ پر قائم دسترخوان سے ایک نوالہ بھی کھانا اپنی غیرت کے خلاف سمجھتا ہے۔وہ قرض لے لیتا ہے، خرچ کم کر لیتا ہے، اپنی خواہشات ختم کر دیتا ہے، بچوں کی فرمائشیں ٹال دیتا ہے، مگر ہاتھ نہیں پھیلاتا۔
یہ انڈا کہہ رہا ہے، ایک عام آدمی کو سیاسی بحث سے پہلے زندگی گزارنے کا راستہ چاہیے۔یہ ایک انڈا ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر غور کرنے کی دعوت دے رہا ہے کہ کیا ہم اپنے پڑوسی کا حال پوچھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے رشتہ داروں سے باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے آس پاس کون بھوکا سو رہا ہے؟ یا ہم سب اپنی اپنی چار دیواری میں بند ہو چکے ہیں؟
یہ صرف ایک انڈا نہیں۔ یہ تنہائی کی کہانی ہے۔ یہ ٹوٹتے ہوئے خاندانی رشتوں کی کہانی ہے۔ یہ ختم ہوتے ہوئے پڑوسیوں کے تعلق کی کہانی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی کہانی ہے۔ یہ سکڑتی ہوئی مڈل کلاس کی کہانی ہے اور یہ سفید پوشی کے المیے کی کہانی ہے۔ یہ اُن اداروں کے مالکان کی کہانی ہے جو اپنا منافع تو لا محدودد چاہتے ہیں مگر اپنے ملازمین کو اتنی اجرت بھی نہیں دیتے کہ ان کے فریج میں بھی کھانے کو کچھ ہو، علاج کے لیے جیب میں کچھ پیسےہوں۔
یہ انڈا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں سے کہہ رہا ہے، یہاں کسی دریا کے کنارے، کسی بھوکے کتے کی لاش نہیں پڑی، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک رہائشی فلیٹ میں کسی ڈاکٹر کے خاندان کی پانچ لاشیں پڑی ہیں جہاں لاشوں کے علاوہ کھانے کے لیے 'صرف ایک انڈا ہے۔آئیے غور کریں!