الہدیٰ
لا ریب کتاب
سورۃ السجدۃ تین رکوعوں پر مشتمل ایک مختصر سورۃ ہے۔ ابتدائی دور کی مکی سورتوں کی طرح اِس کا ردھم (rhythem) بہت تیز ہے اور یہ نبی اکرمﷺ کی محبوب سورتوں میں سے ہے۔ مستند روایات میں حضورﷺ کا یہ معمول نقل ہوا ہے کہ آپؐ اکثر جمعہ کے دن نمازِ فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ السجدۃ اور دوسری رکعت میں سورۃ الدھر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اِس سے ہمیں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جن سورتوں کے ساتھ حضورﷺ کو خاص تعلق ِخاطر تھا، اُن سورتوں کی تلاوت آپؐ نمازوں میں کثرت سے فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺ کبھی کبھی جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون کی تلاوت بھی فرمایا کرتے تھے۔
آیت 1 {الٓمّٓ (۱)}’’ الف‘ لام ‘میم۔‘‘
آیت 2 {تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(2)}’’اس کتاب کا اُتاراجانا‘ اس میں کوئی شک نہیں ‘تمام جہانوںکے پروردگار کی طرف سے ہے۔‘‘
آیت 3 {اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ ج}’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمدﷺ) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟‘‘
{بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُـنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰٹـہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ(3)}’’(نہیں!) بلکہ یہ حق ہے آپؐ کے رب کی طرف سے‘ تا کہ آپؐ خبردار کر یں اُس قوم کو جس کے پاس آپؐ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا‘ شاید کہ وہ ہدایت پائیں۔‘‘
اہل مکہ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل ؑ سے لے کر حضورﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
درس حدیث
سخاوت کی اہمیت
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ((اَلسَّخِیٌ قَرِیْبٌ مِّنَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ، وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدُ مِّنَ اللّٰہِ بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ)) (ترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سخی اللہ سے قریب ہوتا ہے، جنت سے قریب ہوتا ہے، لوگوں سے قریب ہوتا ہے، جہنم سے دور ہوتا ہے۔ اور بخیل اللہ سے دور ہوتا ہے، جنت سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے دور ہوتا ہے، جہنم سے قریب ہوتا ہے۔‘‘