اداریہ
رضاالحق
ایمرجنسی اور گورنر راج: سیاسی کشمکش یا کچھ اور؟
پاکستان اِس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور وفاق و صوبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی نے قومی یکجہتی کو ایک سنجیدہ امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے حالیہ نفاذ نے ان مسائل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت اسے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کی ضرورت سے جوڑتی ہے، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف اِسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری حقِ حکمرانی پر حملہ قرار دیتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ معاملے کا جائزہ جماعتی وابستگی اور سیاسی نعروں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کے تناظر میں لیا جائے۔ اِس وقت ہمارے تجزیہ کا مقصد ایمرجنسی اور گورنر راج کی آئینی حیثیت پر کلام کرنا نہیں، آئینِ پاکستان تو ویسے ہی موم کی ناک بن چکا ہے جسے طاقتور حلقے جب چاہیں دائیں، بائیں، اوپر، نیچے موڑ دیں۔ المیہ یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بھی اشرافیہ کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کو ’نظریہ ضرورت‘ کی نظر کر دیتی ہے۔ جس ملک میں عام انتخابات کے نتائج ہی فارم 45 و 47 کی بحث کی نظر ہو جائیں وہاں آئین و قانون کی حکمرانی کیا معنی رکھتی ہے! گویا مملکتِ خداداد پاکستان کے قیام کے 79 سال بعد بھی ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ’قومی سلامتی‘ سے کیا مراد ہے۔
قومی سلامتی کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن آئینی اختیار کا استعمال بھی آئین ہی کی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسی، مارشل لاء اور گورنر راج کے مختلف ادوار گزرے ہیں۔ 1958ء، 1969ء، 1977ء اور 1999ء میں مارشل لاء جبکہ 2007ء کی ایمرجنسی پلس نے جمہوری تسلسل اور آئینی اداروں پر ایسے منفی نقوش چھوڑے جو آج تک باقی ہیں۔ اب تو ہائبرڈنظام کا دور دورہ ہے اور کام ’ٹیکنو کریٹس‘ اور ’کونسلوں‘ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے! اسی طرح مختلف ادوار میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور موجودہ خیبر پختونخوا (سابق صوبہ سرحد) ، میں گورنرراج نافذ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اُتار کر مارشل لاء لگانے اور صوبوں میں گورنر راج نافذ کرنے کا آج تک ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ منتخب حکومتوں کی برطرفی یا غیر معمولی بھاری بھرکم بوٹوں والے اختیارات کے طویل استعمال سے سیاسی اعتماد، صوبائی خودمختاری اور جمہوری اداروں کو نقصان ہی پہنچا ہے۔ ایسے اقدامات سے وقتی طور پر انتظامی فیصلے تو شاید تیز ہوگئے ہوں، تاہم ان سے دہشت گردی، بدعنوانی، معاشی ناانصافی اور سیاسی تقسیم جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے، بلکہ بڑھے ہی ہیں۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر اصل مسئلہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی تھا تو اسے احتجاجی مارچ اور سیاسی مطالبات سے الگ رکھ کر کیوں نہ حل کیا گیا؟ اور اگر حکومت کا بنیادی خدشہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا تھا تو کیا اِس مقصد کے لیے قانونی طور پر مناسب انتظامات اور احتجاج کے لیے مقام طے کر دینا ممکن نہ تھا؟ پھر یہ کہ وہ مذاکرات جو شروع ہو چکے تھے اُنہیں پایۂ تکمیل تک کیوں نہ پہنچنے دیا گیا؟
خیبرپختونخوا میں اب تک بیسیوں چھوٹے بڑے آپریشن کیے جا چکے ہیں، لیکن دہشت گردی ختم نہ ہوسکی۔ کلبھوشن یادیو کو گرفتار کر لیا گیا اور یہ ثابت بھی ہوگیا کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ لیکن نہ تو کلبھوشن کو دی گئی سزا پر عمل درآمد کیا گیا اور نہ بھارت کے خلاف عملی اقدامات کیے گئے۔ اس کے برعکس نزلہ گرا تو خیبرپختونخوا کے عوام پر۔ کیا ریاستی جبر سے بھی کبھی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں؟
موجودہ سیاسی بحران میں سوشل میڈیا کا مکروہ چہرہ بھی ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آگیا ہے۔ دونوں اطراف سے جھوٹی خبروں، ویڈیوز کی شیئرنگ، حیا باختہ پوسٹس، ’حق و باطل‘ کے معرکہ میں مصروف سوشل میڈیا ’جہادی‘ ...... ایک طوفانِ بدتمیزی جوتھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اکتوبر 2026ء میں شائع ہونے والی ’’سوچ فیکٹ چیک‘‘ کی رپورٹس کے مطابق، لانگ مارچ کی حمایت میں 2023ء کے چمن احتجاج کی ایک پرانی ویڈیو کو موجودہ احتجاج کا منظر بنا کر پھیلایا گیا۔ ایک دوسری وائرل ویڈیو میں حکومتی حمائتیوں نے (اب سابق) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے منسوب ایسا تاثر پیدا کیا کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں، حالاں کہ رپورٹ کے مطابق اصل ویڈیو میں ایسا بیان سِرے سے موجود نہیں تھا اور وائرل کلپ میں ردوبدل کیا گیا تھا۔یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح گمراہ کن مواد کو عوامی جذبات کو مشتعل اور سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اختلافِ رائے شہریوں کا حق ہے؛ اصل مسئلہ دانستہ غلط معلومات اور غیر مصدقہ الزامات کا ہے۔
یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر عوام کی معتد بہ تعداد میں یہ تاثر جڑ پکڑ گیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو سیاسی انتقام یا صوبے کو سزا دینے کے لیے لگایا گیا ہے تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اِس حوالے سے ہم مزید کچھ بیان کرنے سے گریز ہی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ خیر کا معاملہ فرمائے۔
حکومت کی یہ بنیادی ذِمّہ داری ہے کہ عوامی اعتماد اور آئینی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔پاکستان کو اس وقت اقتدار کی کشمکش سے بڑھ کر سیاسی بصیرت، آئینی بالادستی اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باضابطہ مذاکرات، پارلیمان کی کثیر الجماعتی کمیٹی، غیر جانب دار سیاسی شخصیات کی ثالثی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی جس میں صرف دہشت گردوں کو ٹارگٹ کیا جائے اور عوام متاثر نہ ہوں، اِن سب کی اشد ضرورت ہے۔
ہمارے نزدیک پاکستان کے مسائل کا بنیادی اور دیرپا حل محض حکمرانوں اور سیاسی چہروں کی تبدیلی میں نہیں، بلکہ اس نظام کی اصلاح میں ہے جس کے اندر سیاسی، معاشرتی اور معاشی ناانصافیاں بار بار جنم لیتی ہیں۔ مروجہ نظام میں انتخابات کے ذریعے چہرے تو بدل سکتے ہیں، لیکن اگر نظام کی بنیادی ساخت، طبقاتی تفاوت، معاشی استحصال اور اقتدار پرستی برقرار رہے تو عوام کی مشکلات کا حل ممکن ہی نہیں۔ اس لیے ضرورت ایسی جدوجہد کی ہے جو قرآن و سنت کی رہنمائی میں اجتماعی زندگی کی اصلاح اور نظامِ عدلِ اجتماعی کے قیام کو اپنا مقصد بنائے۔ یہ راستہ کسی سیاسی جماعت یا طبقے سے نفرت کا نہیں، بلکہ پوری قوم کی خیر خواہی، نظامِ عدل اجتماعی کے قیام اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔
پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر ہوا تھا؛ اس لیے مملکتِ خداداد کی حقیقی سلامتی اور بقا کا تقاضا ہے کہ اس نظریے کو محض نعروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اجتماعی، معاشرتی، معاشی اور ریاستی زندگی کی تشکیل کی جائے۔ یقین کیجئے اِسی میں ہماری دنیا کی کامیابی بھی مضمر ہے اور اہم ترین بات یہ کہ ہماری آخرت بھی سنور جائے گی۔
اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026