(منبرو محراب) پردہ اور حجاب کے احکام اور مغربی تہذیب کی ناکامی - ابو ابراہیم

14 /

پردہ اور حجاب کے احکام اور مغربی تہذیب کی ناکامی

(قرآن و احادیث کی روشنی میں)

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے9اکتوبر2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
انسانی معاشرے میں حیاء کی بہت زیادہ اہمیت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے حیاء کے حوالے سے خصوصی رہنمائی عطافرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حیاء اور ایمان لازم و ملزوم ہیں ، اگر ایک چلا جائے تو دوسرا بھی چلا جاتاہے ۔ حیاء کا تعلق ظاہر سے بھی ہے اور باطن سے بھی ، اس کا تعلق پردے سے بھی ہے اور اخلاق و کردار سے بھی اور یہ ساری زندگی پر محیط ہے ۔ لیکن دنیا اس وقت جس دجالی تہذیب کے زیر اثر آچکی ہے ، اُس میں حیاء کی مخالفت کی جاتی ہے اوربے حیائی کے تباہ کن اثرات بھی ہم اپنے معاشروں میں دیکھ رہے ہیں۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس حوالے سے تفصیلی کلام کیا اور ان کی کئی کتابیں اس موضوع پر ہیں ۔ ان کے بقول ہماری اجتماعی زندگی کے تینوں گوشوں (سیاسی نظام ، معاشی نظام اور معاشرتی نظام) پر دجالی تہذیب کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ سیاسی سطح پر اور دیگر اجتماعی معاملات میں اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے ، انسانوں کی اکثریت عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی ، چاہے وہ شراب کو حلال قرار دے دے ، چاہے زنا کو جائز قرار دے دے ۔ معاشی سطح پر بھی اللہ کے احکام پس پشت ڈال دئیے گئے ، سودی بینکاری نظام ، جوئے کی بنیاد پر اسٹاک ایکسچینج اور دیگر غیر شرعی معاشی ہتھکنڈے عام ہیں ۔ اسی طرح معاشرتی سطح پر بھی سوشل انجینئرنگ کے نام پر اورحقوق اور آزادی جیسے بڑے خوشنما عنوانات اور دلفریب نعروں کی آڑ میں حیا ء ، پردے اور گھر کے ادارے میں نقب لگائی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ پوری تفصیل بیان فرمایا کرتے تھے کہ کس طرح پہلے قاہرہ کانفرنس ہوئی ، پھر بیجنگ کانفرنس ہوئی ، پھر بیجنگ پلس فائیوکانفرنس ہوئی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بہت سے ایسے اقدامات تسلیم کرلیے گئے جو واضح طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں، مگر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک بھی ان پر دستخط کرچکے ہیں ۔ نتیجتاً اب مسلم معاشروں میں بھی دجالی تہذیب کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اِس بے خدا تہذیب کے تحت جب انسان کو نرا حیوان سمجھ لیا گیا تو حیاء اور پردے کے کیا احکامات ، محرم و نامحرم کی کیا تمیز،لباس کا کیا تکلف، نکاح کی کیا حاجت! چنانچہ آج کا ماحول بتا رہا ہے کہ انسان حیوانوں کی سطح سے بھی نیچے آ چکا ہے ۔ حتیٰ کہ مسلم معاشروں میں بھی نکاح کا انکار شروع ہوگیا ۔ ہمارے ہاں 8 مارچ کو عورت مارچ کے نام پر چند عورتیں نکلتی ہیں اور سرے عام نکاح کا انکار کرتی ہیں ، حیا ، پردے اور حجاب کی مخالفت کرتی ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے رائٹرز،  اینکر پرسنز ،  خبرناموں کو دیکھیں تو وہاں بھی اس دجالی تہذیب کو پروموٹ کیا جارہا ہے ۔ کوئی خبرنامہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا تو ٓ فلموں ، ڈراموں وغیرہ میں کیا حال ہوگا ۔ یہاں تک کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول بھی ایسا بن چکا ہے کہ حیاء ، شرم ، پردے اور حجاب کا کوئی تصور باقی نہیں رہا ، مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط عام ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تعلیمی اداروں میں خودکشیاں ہورہی ہیں ، منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے ، نوجوان نسل کا کردار بگڑ رہا ہے ۔ اسی طرح شادی بیاہ کے مواقع پر ناچ گانا ، مخلوط ماحول اور وہ سب کچھ ہوتا ہے کہ بقول شاعر ؎
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
دوسری طرف ہمارا سیکولر اور لبرل طبقہ ہے جس کو اللہ کے دین سے خدا واسطے کا بیر ہوگیا ہے ۔ انتہائی ڈھٹائی اور بے باکی سے دین کی تعلیمات کا مذاق اُڑایا جاتاہے اور کہہ دیا جاتاہے کہ :’’یہ پردہ مولویوں کی ایجاد ہے۔ اسی طرح ہمارا وہ روشن خیال طبقہ جو دین کی نمائندگی کا دعویٰ کرتاہے ، اُمت کے 14 صدیوں کے علمی ورثہ ، کتاب و سنت کے فہم سے ہٹ کر باتیں کرتاہے ۔ وہاں بھی یہی جملے سننے کو ملتے ہیں کہ پردہ تو مولویوں کی ایجاد ہے ۔ پھر سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ چینلز کے پروگرامز میں لوگوں سے رائے لی جاتی ہے کہ کتنے لوگوں کا خیال ہے کہ دین میں پردے کا حکم موجود ہے ، اکثریت (دین سے لاعلم ) کہتی ہے موجود نہیں ہے ،تو اینکر کہتا ہے: اکثریت نے اتفاق کر لیاکہ پردے کا حکم نہیں ہے! کبھی پوچھا جاتاہے کہ کتنے لوگوں کا خیال ہے کہ موسیقی کا کوئی مسئلہ اسلام میں نہیں ہے؟ اکثر نے کہہ دیا کہ اسلام میں موسیقی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اینکر کہتاہے اکثریت کی رائے آگئی کہ موسیقی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سب مسائل آج کی اس تہذیب میں ابھر کر سامنے آرہے ہیں ۔آج کے خطابِ جمعہ میں ہم قرآن کی سات آیات کا مطالعہ کریں گےجو کہ ستر ، حجاب اور پردے کے احکامات کے حوالے سے بہت اہم ہیں ۔ آئندہ کسی نشت میں ان احادیث کا بھی مطالعہ کیا جائے گا جن میں پردے اور حجاب کی فرضیت کے متعلق تعلیم ہے اور ان کی روشنی میں ان اعتراضات کا بھی جواب دیا جائے گا جو خواہ مخواہ پردے اور حجاب کے احکام پر کیے جاتے ہیں ۔ آج کی پہلی زیر مطالعہ آیت سورۃ النور کی ہے۔ ارشاد ہوا:  
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَہْلِہَاط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(27)}  ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو ا کرو ‘حتیٰ کہ ان کی رضا معلوم کر لو اور گھر والوں کو سلام کر لو!یہ تمہارے لیے بہتر ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
مراد یہ ہے کہ بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو۔احادیث میں مزید تفصیل آتی ہے کہ جب کسی کے گھر جاؤ تو دستک دینے کا انداز کیا ہوگا ، کھڑے ہونے کا انداز کیا ہوگا ، اندر سے کوئی پوچھے تو جواب دینے کا انداز کیا ہوگا ، اندر سے کوئی جواب نہ آئے تو کیا کرنا ہوگا ،  کتنی مرتبہ دستک دے سکتے ہیں وغیرہ ۔ یہ ساری ہدایات دین ہمیں دیتا ہے تاکہ کوئی بے پردگی کا معاملہ نہ ہو جائے۔ ایک حدیث میں ہے اپنے گھر میں بھی داخل ہو تو پہلے گھر والوں کو خبر کرو ، کھانس لو یا کوئی ایسا انداز اختیار کرو کہ گھر میں موجود افراد کوتمہارے آنے کی خبر ہو جائے ۔ حتیٰ کہ حدیث میں یہ تعلیم بھی ہے کہ اگر گھر میں ماں بھی موجود ہو تو بیٹا پہلے دستک دے ۔ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا : 
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَسَآئَ سَبِیْلًا(32)} ’’اور زنا کے قریب بھی مت جائو‘یقیناً یہ بہت بے حیائی کا کام ہے ‘اور بہت ہی بُرا راستہ ہے۔‘‘
زناتو ہے ہی حرام اور بہت بڑا گنا ہے لیکن وہ تمام راستے یا ذرائع جو اس گناہ تک لے جا سکتے ہیں ، اللہ کا دین ان سے بھی دور رہنے کا حکم دے رہا ہے ۔ اس میں بے پردگی بھی شامل ہے ، نامحرم مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط بھی شامل ہے اور ایسی تمام چیزیں شامل ہیں جو نامحرم مرد و عورت کی قربت کا باعث بن سکتی ہیں ۔ اسی لیے یہ حکم بھی آیا کہ جب کسی کے گھر میں داخل ہو تو پہلے گھر والوں کو خبر کرو تاکہ عورتیں پردے میں چلی جائیں اور کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جس سے شریعت منع کرتی ہے ۔ اگلی زیر مطالعہ دو آیات سورۃالنور کی ہیں ۔ فرمایا :
{قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ط} (النور:30) ’’(اے نبیﷺ!) مؤمنین سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
{وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ} (النور:31)’’اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘‘
جب ہم پردے اور حجاب کی بات کرتے ہیں تو لازماً عورتوں ہی کے بارے میں ذہن میں بات آتی ہے، بات ٹھیک بھی ہے۔ لیکن ستر وحجاب کے احکامات مردوں کے لیے بھی ہیں ۔ اسی طرح نگاہوں کی حفاظت کا حکم مردوں کے لیے بھی ہے اور عورتوں کے لیے بھی ہے ۔ یہاں پہلے مردوں کے لیے حکم آیا اور اس کے بعد عورتوں کے لیے آیا ۔ دراصل مردوں کی بدنگاہی کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے ، ان کے لیے زیادہ ہدایت اور رہنمائی ہے۔یہاں نگاہوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ شرمگاہوں  کی حفاظت کا بھی حکم آیا ۔ معاملہ بدنگاہی سے ہی بگڑتا ہے اور پھر زنا تک جاتاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : شہوت والی نگاہ شیطان کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اعضائے جسمانی میں سے چھ اعضاء زنا کرتے ہیں، شہوت والی نگاہ سے نامحرم کو دیکھنا آنکھ کا زنا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس نے نگاہ کو وہاں جانے سے بچایا ، جہاں اُسے نہیں جانا چاہیے ، اللہ اس کو ایمان کی مٹھاس عطا فرمائے گا۔ آج اگر اس کے برعکس ہو رہا ہے ، شہوت اور جنسی لذت کے لیے نامحرم کو گھورا جارہا ہے تو اس کی نقد سزا یہ ہے کہ عبادت کی لذت چھن جاتی ہے ۔ نماز میں لطف نہیں آتا، تلاوت میں مزا نہیں آتا، اللہ کے ذکر میں دل نہیں لگتا، سجدوں کا لطف نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک نابینا صحابی حضورﷺ کے گھر کی طرف تشریف لائے تو حضور ﷺ  نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؅ سے فرمایا کہ ذرا علیحدہ ہو جاؤ۔ پوچھا : حضورﷺ ! یہ تو نابینا ہیں ۔ فرمایا : تم تو نابینا نہیں ہو ۔ یہاں باقاعدہ تعلیم ہے کہ عورتیں بھی نگاہوں کی حفاظت کریں ۔ زیر مطالعہ آیت میں آگے فرمایا : 
{وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ ص} (النور:31) ’’اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل مار لیا کریں۔‘‘
یہاں یہ تعلیم ہے کہ جب خاتون اپنے گھر میں ہو تو اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے بھی اپنے سینوں کو ڈھانپ کر رکھیں ۔  بِخُمُرِہِنَّسے مراد ایسی چادر ہے جس سے سراور سینہ ڈھانپا جا سکے ، باقی لباس تو ضروری ہے ہی لیکن اس کے اوپر یہ بھی ضروری ہے ۔ ایک عورت اپنے بیٹے ، اپنے والد ، اپنے بھائی اور دیگر رشتہ داروں  کے سامنے بھی ایسا باوقار لباس اختیار کرے کہ حیاء کے تقاضے پورے ہوں ۔ آگے مزید ہدایات ہیں ۔ فرمایا : 
{وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا} (النور:31) ’’اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں‘ سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہو جائے ‘‘
لباس میں بھی زینت ہے، چہرے پر بھی زینت کا اظہار ہے، جسم کے مختلف اعضاء پر پہنے جانے والے زیورات ہیں، یہ سب زینت کا اظہار ہے۔ عورت کی اصل زینت تو اپنے شوہر کے لیےہوتی ہے ۔ شوہر یا محرم کے سامنے زینت کا اظہار کوئی مسئلہ نہیں ۔ لیکن جب گھر سے باہر جائیں تو ایسا پردہ یا حجاب اختیار کریں کہ یہ ساری زینت کسی پر ظاہر نہ ہو ۔مراد یہ ہے کہ جب عورت گھر سے باہر نکلے تو جلباب (بڑی چادر جس سے پورا جسم چھپ جائے )  پہنے ۔ایک روایت ابن عباسؓ سے مروی ہے جس کے مطابق ایک آنکھ کھلی رہ سکتی ہے ، ایک دوسری روایت کے مطابق دونوں آنکھیں کھلی رہ سکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ باقی پورا جسم ڈھانپنا ضروری ہے سوائے اس کے جو از خود( بغیر اختیار کے) ظاہر ہو جائے۔مثلاً قد کو چھپایا نہیں جا سکتا ۔ بیرونی لباس (برقعہ ، چادر ، جلباب وغیرہ )  کو چھپایا نہیں جا سکتا ۔ اسی طرح اگر اپنے بیٹے یا بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہی ہے ، تیز ہوا سے پنڈلی از خود کھل گئی تو یہ استثناء کا معاملہ ہوگا۔جہاں تک زینت کو ظاہر کرنے کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں آگے فرمایا : 
{وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ  اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ ص} (النور:31) ’’اور وہ نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو‘(وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریںکسی پر) سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے‘یا اپنے شوہروں کے باپوں کے‘ یا اپنے بیٹوں کے‘ یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے‘یا اپنے بھائیوں کے‘ یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں) کے‘ یا اپنی بہنوں کے بیٹوں(بھانجوں) کے‘یا اپنی (جان پہچان کی) عورتوں کے ‘یا اُن کے جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھ‘یا ایسے زیردست مَردوں کے جو اس طرح کی غرض نہیں رکھتے‘یا اُن لڑکوںکے جو عورتوں کے مخفی معاملات سے ابھی ناواقف ہیں۔‘‘
سورہ نساء کی آیت نمبر 23 میں چچا ، تایا ، ماموں ، نانا، دادا بھی محرم میں شمار ہوئے ۔ محرم وہ ہے جس سے نکاح نہیں ہو سکتا اور شوہر جس سے نکاح ہو چکا ہوتاہے ، ان سب کے سامنے عورت (شرعی حدود و قیود کے مطابق) اپنی زینت کا اظہار کرسکتی ہے ، ان کے علاوہ باقی سب کے سامنے عورت کے لباس، اطوار ، کلام اور انداز میں فرق ہوگا ۔ یعنی باقی سب کے سامنے پردہ و حجاب لازم ہوگا ۔ غلاموں ، کنیزوں ، بوڑھے خادمین اور بچوں کے سامنے زینت کے اظہار کے بھی اپنے مسائل ہیں جن کے متعلق دین نے رہنمائی دی ہے ، اس پر آئندہ کبھی کلام ہوگا ۔   ان شاء اللہ ۔ آگے فرمایا:
{وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ط}(النور:31) ’’اور وہ اپنے پائوں زمین پر مار کر نہ چلیںکہ ان کی اس زینت میں سے کچھ ظاہر ہو جائے جسے وہ چھپاتی ہیں ۔‘‘
بعض زیورات ( پازیب وغیرہ ) خواتین پیروں میں پہنتی ہیں، ذرا قدم زور سے رکھیں تو اس کی آواز آئے گی ۔ اندازہ کریں، جو دین عورت کے اس پوشیدہ زیور کو بھی پوشیدہ رکھنے کا حکم دیتاہے وہ چہرے کے پردے کے کس قدر اہتمام کا تقاضا کرتا ہوگا ۔ چہرہ تو سب سے زیادہ زینت کے اظہار کا باعث ہے۔ بقول مولانا مودودیؒ  گھر کی حفاظت کر رہے ہیں، کھڑکیاں دروازے سب بند کر دیے، مین گیٹ کھولا ہوا ہے تو حفاظت کیسے ممکن ہوگی ؟ یہی وجہ ہے کہ 14 صدیوں سے اُمّت کے علماء کی عظیم اکثریت چہرے کے پردے کی قائل رہی ہے ۔ اگر چند علماء نے چہرے کے پردے کو فرض نہیں سمجھا تو انہوں نے بھی ذاتی رائے یہی قائم کی ہے کہ چہرے کا بھی پردہ کرنا چاہیے ۔ زیر مطالعہ آیت میں آگے فرمایا:
{وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ(31)} (النور)’’اور اے اہل ِایمان !تم سب کے سب مل کر اللہ کی جناب میں توبہ کرو تا کہ تم فلاح پائو۔‘‘
یہ تین آیات سورۃ النورسے تھیں ۔ اب ہم سورۃ الاحزاب کی چار آیات کو بطور حوالہ پیش کریں گے جو پردہ ، سترو حجاب کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں ۔ آیت 32 میں فرمایا :
 {یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (32)} ’’اے نبیؐ کی بیویو! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو‘اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو‘کہ کسی لالچ میں پڑ جائے وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے ‘اور بات کرو معروف انداز میں۔‘‘
یہاں خطاب رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ سے ہےجس سے بعض حضرات کو غلط فہمی ہوگئی کہ پردے کے احکامات صرف ازواج مطہراتؓ کے لیے ہیں ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ بالواسطہ طور پر یہ حکم اُمت کی تمام خواتین کے لیے ہے، جیسا کہ آگے چل کر ہم مطالعہ کریں گے ۔ اللہ کے رسولﷺ کی بیویوںؓ سے بڑھ کر کوئی پاکیزہ عورتیں ہوں گی؟ان کے لیے تو پردے کا حکم ہو، آواز میں احتیاط کرنے کا حکم ہو، گھروں میں قرار پکڑنے کا حکم ہو، پردے کی اوٹ سے بات کرنے کا حکم ہو، جلباب اختیار کرنے کا حکم ہو اور اُمت کی عورتوں کے لیے نہ ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے ؟ اللہ کے رسول ﷺاُمت کے لیے اُسوہ ہیں، اُمت کی عورتوں کے لیے اسوہ حسنہ کی تکمیل حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے ذریعے ہوگی۔لہٰذا خطاب بھی پہلے ازواج مطہراتؓ سے کیا گیا ۔ ان کے ذریعے اُمت کی عورتوں کو بھی رہنمائی دی جارہی ہے ۔ ضرورت کے تحت عورت غیر محرم مردوں سے کلام کر سکتی ہے، مگر وہ ضرورت ناگزیر ہو ، اس کے باوجود بھی حکم آیا کہ آواز نرم نہ ہو ، کیونکہ عورت کی آواز میں اللہ نے کشش رکھی ہے جو مردوں  کے لیے غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہے ۔ ۔ اگلی آیت میں فرمایا :
{وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَـبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی} (الاحزاب:33)’’اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو‘اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دورِ جاہلیت کی طرح۔‘‘
عورت کا اصل مقام اُس کا گھر ہے، یہ تو ہم بھول گئے لیکن نپولین کے قول کا حوالہ سیکولراور لبرل بھی دیتے نظر آتے ہیں کہ : تم مجھے بہترین مائیں دو، میں تمہیں بہترین قوم دینے کو تیار ہوں۔ اس کے باوجود مجھے کوئی انسٹی ٹیوشن بتا دیں جو کسی لڑکی کو سکھاتا ہو کہ ماں کیسے بننا ہے ۔ اسی طرح گورباچوف کا حوالہ کئی مرتبہ میں نے بھی دیا، مفتی تقی عثمانی صاحبؒ نے ماضی میں اپنی کتابوں میں اس کا حوالہ دیاکہ :ہم نے اپنی عورتوں کو گھروں سے نکال کر چوک چوراہوں میں لا کھڑا کیا ، اب ہمیں ایک ایسی تحریک چلانی چاہیےتا کہ عورت کو اس کے اصل مقام اپنے گھر تک واپس لا سکیں ۔ مغرب آج عورت کو دوبارہ گھر میں لانے کی بات کررہا ہے کیونکہ مغرب کو سمجھ آگئی کہ ماں اور بیوی کا کردار کوئی معمولی کردار نہیں ہے ۔ اگر یہ کردار نہیں ہوگا تو معاشرے ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ۔ بے شک مرد کے ذمّہ جو معاش کی ذمہ داری ہے وہ بھی محنت طلب ہے مگر ذمَّہ دار نسلوں کو پروانا چڑھانا بہت ہی اعلیٰ ذمہ داری ہے اور یہ کام عورت ہی کر سکتی ہے ، اسی لیے اسلام نے عورت پر معاش کی ذمّہ داری نہیں ڈالی تاکہ وہ اعلیٰ نسلیں پروان چڑھا سکے ۔ یہ ذمّہ داری دجالی تہذیب نے چھین لی تو آج مغرب میں نسلیں ناپیدا ہورہی ہیں ، جاپانی قوم نوجوانوں کے لیے ترس رہی ہے ۔ اسلام ضرورت کے وقت گھر سے نکلنے سے منع نہیں کرتا ،شرعی لوازمات کے ساتھ صحابیاتؓ نکلی ہیں ۔ مگر دجالی تہذیب نے فیشن کے نام پر عورت کو کھلواڑ بنا دیا ، اسے مارکیٹنگ کی چیز بنا دیا ،  ایڈورٹائزمنٹ چل ہی نہیں سکتی عورت کے بغیر!ہوس کی نگاہیں اس کو کہاں تک لے کے چلی گئیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں عورت کا اسی طرح استحصال ہوتا  تھا ، وہی استحصال آج دجالی تہذیب میں بھی ہورہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں جب خواتین اسلام قبول کرتی ہیں تو اس قدر خوش ہوتی ہیں کہ گویا انہیں سب سے بڑا خزانہ مل گیا ہو ۔  ان کے آرٹیکلز اور انٹرویوز پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو کتنی بڑی نعمت اور رحمت سمجھتی ہیں۔اگلی       زیر مطالعہ آیت میں آگے فرمایا :
{وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ط} (الاحزاب:53)’’اور جب تمہیں نبی (ﷺ) کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔‘‘
یہاں صحابہ کرامؓ سے خطاب ہے لیکن تعلیم تمام مسلمانوں  کے لیے ہے ۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی کئی مرتبہ یہ بات بیان کی ، دیگر علماء بھی کہتے ہیں اور میں بھی عرض کر رہا ہوں : لوگ کہتے ہیں جی ہمیں اپنی بیٹیوں پر بڑا اعتماد ہے۔ کیا ازواج مطہراتؓ اور صحابہ کرام ؓسے بڑھ کر اُمّت میں کسی پراعتماد کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ان کے لیے پردے کا حکم اللہ دے رہا ہے تو آج کےد ور میں اس کی کتنی ضرورت ہوگی ۔ ہم تو کراچی اور پاکستان کی یونیورسٹیز کو رو رہے ہیں کہ جو بیڑا غرق ہو رہا ہے ، جہاں آزادانہ اختلاط کی خودکشیاں ہورہی ہیں ، نشہ کا استعمال زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں کا اگر یہ حال ہے تو یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کا کیا حال ہوگا جہاں  لڑکیوں کو ماں باپ اکیلے بھیج رہے ہیں ۔ اپنے ملک کی کئی یونیورسٹیوں میں گیا ، یونیورسٹیوں کی انتظامیہ بھی پریشان ہے ، کہتے ہیں طلبہ و طالبات کی مینٹل ہیلتھ اور Spiritual well-being کے لیےتجاویز دو ۔ سیدھی سی بات ہے ، شریعت کی طرف لوٹ آؤ تو یہ سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ۔ انبیاءؑ کے بعد، عظیم ترین جماعت صحابہؓ کی جماعت تھی ، مقدس ترین خواتین حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ تھیں ، اگر اُن کے لیے پردے کا حکم تھا تو آج ہمیں اس کی کتنی ضرورت ہوگی ۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 59 میں فرمایا :
{یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ط} ’’اے نبی(ﷺ)!اپنی بیویوں‘ اپنی بیٹیوں اور اہل ِایمان خواتین سے کہہ دیں کہ‘‘
’’وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصّہ لٹکا لیا کریں۔‘‘
یہاں واضح طور پر تمام مسلم خواتین کے لیے پردے کا حکم ہے ۔ جَلَابِیْبِہِنَّ جلباب کی جمع ہے، جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں۔عبد اللہ بن عباسؓ نے باقاعدہ پریکٹیکل کرکے دکھایا کہ بڑی چادر کو کس طرح  اوڑھنا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ  نے صرف ایک آنکھ کھلی رکھی ، دوسری روایت کے مطابق دونوں آنکھیں کھلی رکھیں ، باقی پورا جسم ڈھانپ کر دکھایا ۔ یہ جلباب کی تشریح ہے جس کے مطابق یہ سر سے شروع ہو کر پاؤں تک جاتاہے ۔ آج بعض نام نہاد سکالرزروشن خیالوں سےبھی  دو ہاتھ آگے نکل گئے کہ فلمیں بھی حلال، ڈرامے بھی حلال، مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط بھی حلال، کوایجوکیشن بھی حلال۔ بقول شاعر؎
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجے فقیہانِ حرم بے توفیق!
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا ایک بڑا تفصیلی خطاب پردہ کے موضوع پر تھا جو اب ’’اسلام میں ستر اور حجاب کے احکامات‘‘کے عنوان سے شائع بھی ہو چکا ہے اور ویڈیو بھی دستیاب ہے۔ اسی طرح ایک اورخطاب’’شرعی پردہ قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہے ۔ ہمارے استاد انجینئر نوید احمدؒنے 2000 ءمیں ’’چہرے کا پردہ‘‘کے عنوان سے ایک کتابچہ مرتب کیا تھا۔اس میں قرآن و سنت سے دلائل کے ساتھ ساتھ اُمّت کے علماء اور اسلاف کی آراء بھی شامل ہیں ۔ بعض خواتین کے آرٹیکلز بھی شامل ہیں ۔ ماضی میں مولانا مودودیؒ نے بھی پردہ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی وہ بھی کمال کی کتاب ہے جس میں مغربی تہذیب کے رد کے ساتھ ساتھ حیاء کی اہمیت پر دلائل بڑے حکیمانہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں ۔ یہ تمام کتب ہمارے گھروں میں ، ہمارے مطالعہ میں ہونی چاہئیں تاکہ اپنی نسلوں کی بہتر تعلیم و تربیت کا اہتمام کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینی احکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!