(حالاتِ حاضرہ) پیاری بلقیس باجی کی پیاری باتیں - شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کی اہلیہ محترمہ

14 /

پیاری بلقیس باجی کی پیاری باتیں

امیر تنظیم اسلامی جناب شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کی اہلیہ محترمہ کا ایک مضمون

 
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(57)}(العنکبوت )’’ہر جان موت (کا مزہ) چکھے گی۔ پھر تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
عن عبد الله ابن عمر قال : قال رسول الله ﷺ : اُذكُروا محاسنَ موتاكم (روائہ أبو داود والترمذي)
’’حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ذکر  کرلیا کرو۔‘‘ (ابوداؤد، ترمذی)
ہماری ہر دلعزیز رفیقہ پچھلے دنوں اِس دنیا کی زندگی کو چھوڑ کر اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو گئیں۔ ہم سب بھی عازم ِ سفر ہی ہیں بس کس کا کب بلاوا آنا ہے، یہ رب العزت کے اذن پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اگلی منازل کی تیاری کرنے کی کوشش کرنے والا بنائے۔ بعض مرتبہ ہمارے قریب سے کوئی ایسا شخص روانہ ہو جاتا ہے جن کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں یہ قابل تقلید پہلو نظر آتا ہے کہ الحمد للہ انہوں نے اپنی زندگی میں حتی الامکان ایسے اعمال کا اہتمام کیا جو اُن کے آخرت کے سفر میں کارآمد ہو سکیں۔
سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ اُن سے مل کر بہت زیادہ پیار کا احساس ہوتا تھا۔ وہ سب ہی سے انتہائی شفقت سے پیش آتی تھیں چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا۔ جیسے ماں کا اپنی اولاد کے لیے شفقت و رحمت بھرا انداز۔ وہ ما شاء اللہ دل کی بالکل صاف خاتون تھیں۔ اسی لیےاُن سے ملنے سے بہت زیادہ اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اُن کو کسی کی کوئی بھی بات بری لگی ہے ، ویسے ہی گرم جوشی کیساتھ ، ہر ایک کو دعائیں دیتی ہوئی ملتی تھیں۔ اُن کا طرزَ حیات اِس حدیثِ مبارکہ کی عکاسی بھی کرتا تھا اور اسی کی تلقین وہ دوسروں کو بھی کرتی تھیں: نرمی جس شے میں بھی ہو، اُسے زینت بخشتی ہے۔(صحیح مسلم)
وہ جوہر شناس خاتون تھیں۔ اس بات کا فوراً اندازہ کر لیتی تھیں کہ سامنے والے شخص میں کس قسم کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ پھر نہ صرف اس شخص کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی رہتی تھیں بلکہ اس فکر میں بھی رہتی تھیں کہ اُس کی صلاحیت کو کہاں پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ دوسروں کو آ گے بڑھانے کا انداز بہت زیادہ تھا۔ چھوٹوں کو نہ صرف سامنے لے کر آتی تھیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہی ہوتی تھیں کہ اِن کو مجھ سے زیادہ اچھا کام کرنا آ تا ہے۔دراصل عاجزی و انکساری کا پیکر تھیں، یہ اُن کی بڑائی تھی کہ کبھی بھی اپنے آپ کو نمایاں نہیں کر رہی ہوتی تھیں حالانکہ دین کے ہر کام کے لیے خود ہمہ تن، ہر دم تیار رہتی تھیں۔ کبھی بھی کسی دینی خدمت کے لیے منع نہیں کرتی تھیں۔
قرآن اکیڈمی یاسین آباد کی پہلی ناظمہ اور حلقہ کراچی شمالی کے مشاورتی اسرہ کی معاونہ کی ذمہ داری کئی سالوں تک انتہائی تندہی سے انجام دیتی رہیں۔وہ ناظمہ سے زیادہ اکیڈمی کی خادمہ ہی نظر آرہی ہوتی تھیں خصوصاً جب اکیڈمی تعمیرات کے مراحل طے کر رہی تھی تو مشکلات کے اُس دور میں بھی آنے والے لوگوں کے لیے ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست اپنے طور پر بھی کرنے کے لیے بھرپور کوشاں رہتی تھیں۔ عمر بڑھنے کیساتھ خواتین میں لکھنے کا رجحان ذرا کم ہو جاتا ہے مگر انتظامی معاملات  چلانے کے اعتبار سے، جس وقت بھی ضرورت سامنے آتی فوراً مردوں کی طرف مذکورہ موضوع کے حوالہ سے خط لکھ کر بھیج دیتی  تھیں ۔ اصل میں تنظیم میں شمولیت سے پہلے اخبارات میں مضامین لکھا کرتی تھیں۔ اُن کے کمرہ میں کسی بھی وقت ، کوئی بھی بلا جھجک اپنی ضرورت بیان کرنے کے لیے داخل ہو جاتا اور اَس پر اُن کو کبھی اعتراض نہیں ہوتا۔ اکیڈمی میں بچوں کے مدر سہ کا آغاز کروانے کے لیے انہوں نے قابل قدر کوششیں کیں۔ آج یاسین آباد اکیڈمی کا پھلتا پھولتا مدرسہ یقیناً اُن کے نامہ اعمال میں صدقہ جاریہ بنے گا۔ 
  اکیڈمی کی تمام تر مصروفیات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اُن کا مسنون دعاؤں ، اذکار اور نفلی نماز وں کی پابند ی کرتے ہوئےنظر آنا ہمارے لیے متاثر کن تھا۔ وہ اکیڈمی میں بھی ا پنی روزانہ کی تلاوت جاری رکھتی تھیں۔ضرورت مند لوگوں کی مالی مدد بڑھ چڑھ کر کرتی تھیں مگر ایسے کہ ایک  ہاتھ سے دیا ہو مگر دوسرے ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو سکے۔ اپنی زبان پر اُن کو ہمیشہ ایسا قابو رہتا تھا کہ کبھی بھی اپنی زبان سے کسی کو تکلیف پہنچانے کا باعث نہیں بنیں۔ 
لحیم شحیم ہونے کے باوجود ہم نے اُن کو ہمیشہ اپنے جسم کوبہت covered رکھتے ہوئے دیکھا ۔ برقع کے اوپر بھی ہمیشہ بڑا سا اسکارف پہنتی تھیں۔ ڈھیلے شلوار قمیض پر دوپٹہ اوڑھنے کا انداز بھی ہمیشہ سورۃالنور میں درج ہدایت کے مطابق ہی ہوتا تھا چاہے گرمی ہو یا سردی۔ اپنے آزمودہ گھریلو ٹوٹکے بھی قریبی لوگوں کو بتاتی رہتی تھیں غرض یہ کہ ان کی شخصیت ’خیر الناس من ینفع الناس‘ کا نمونہ تھی۔
بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر رحم کا نبوی ؐاُصول اُن کی زندگی کا مسّلمہ اصول تھا۔ اسی طرح وہ اس حدیثِ پاک کا بھی عملی نمونہ تھیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی (کامل )مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ وہ ہر ملنے والے کو قرآن کی کلاسز کی دعوت ضرور دیتی تھیں۔ خود بھی بہت شوق سے خواتین کو تجوید پڑھاتی تھیں۔ انکی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اس قدر مصروف رہنے کے باوجودکبھی زبان سے نہیں بتا رہی ہوتی تھیں کہ میں نےیہ یہ کام کئے اور یہی ان کے اخلاص کی دلیل تھی۔
انہوں نے بھرپور جماعتی زندگی گزاری اور اجتماعیت کے معاملات چلانے کے حوالہ سے ہمارے لیے دور رس مثبت اثرات اور دیرپا خوشگوار یادیں چھوڑ کر گئی ہیں ۔اُن کے انتقال کے بعد اُن کی قریبی رفیقات، طالبات اور دیگر ساتھ کام کرنے والی خواتین کی طرف سے مسلسل ان کے کردار کی خوبیوں کی گواہیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اِن سب کو اُن کے حق میں مقبول فرمالے۔  اللہ تعالیٰ ان کی قرآن حکیم سے محبت کو قبر میں اُن کا مونس بنا دے۔ اُن کی تمام بے لوث محنتوں اور بے غرض محبتوں کو بڑھا چڑھا کر قبول کرتے ہوئے اپنے فضل و کرم سے اُنہیں جنت الفردوس عطا فر ما دے۔ آمین یا رب العالمین!