(منبرو محراب) اُمت کی ذلت و رسوائی کے بنیادی اسباب اور حل - ابو ابراہیم

13 /

اُمت کی ذلت و رسوائی کے بنیادی اسباب اور حل

(قرآن و احادیث کی روشنی میں)

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے16اکتوبر2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

 

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اس وقت عالمی سطح پر جو حالات ہیں اور جو ہمارے ملک کی صورتحال ہے کہ ہر طرف اُمّت مسلمہ پر گویا افتادآن پڑی ہے ۔ ان تمام حالات میں اُمّت کے لیے گہراسبق بھی ہے ، نصیحت بھی ہے اور تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ مگر نصیحت حاصل کرنے کے لیے جس آنکھ کا کھلا ہونا ضروری ہے وہ بند ہے ۔ بقول ڈاکٹر اسراراحمد ؒ ہماری مادی آنکھ تو کھلی ہے جس سے ہم ظاہری اسباب دیکھ رہے ہیں، پولیٹیکل ٹاک شوز ہوں ، وی لاگز ہوں یا سوشل میڈیا ہو ، ہر طرف ظاہری اسباب کے حوالے سے گرما گرم بحثیں ہو رہی ہیں لیکن ہماری باطنی آنکھ بند ہے جو کہ وحی کی روشنی میں حالات و واقعات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم حالات و واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کر پارہے اور نہ ہی ان مشکل حالات سے نکلنے کا کوئی راستہ ہمیں مل رہا ہے ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ جب وحی کی روشنی میں ، اللہ کی کتاب کی روشنی میں حدیث نبویؐ کی روشنی میں جب حالات کا تجزیہ کیا جائے گا تو اہل ایمان اس سے سبق بھی حاصل کریں گے اور حالات سے نمٹنے اور دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہدایت و رہنمائی بھی ملے گی۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے: 
{لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط } (الانبیاء:10)’’(اے لوگو!) اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کر دی ہے‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ۔‘‘ 
قرآن زندہ کلام ہےجو ہمارے موجودہ حالات کے مطابق بھی ہمیں رہنمائی دیتاہے مگر اس کو حاصل  کرنے کے لیے ہماری باطنی آنکھ کھلی ہونی چاہیے ۔ آج جو دنیا کے حالات ہیں ، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جو اس وقت بڑی آزمائشی صورتحال ہے، اس میں ہمارے لیے قرآن و حدیث میں بہت بڑی رہنمائی موجود ہے۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے 1990ء میں خلیج کی جنگ کے دوران خطابات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا اور کچھ آرٹیکلز بھی لکھے تھے ، اُن سب کا نچوڑ:’’سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی ، حال اور مستقبل اور مسلمانانِ پاکستان کی خصوصی ذِمّہ داری‘‘ کے عنوان سے کتاب کی صورت میں شائع بھی ہو چکا ہے ۔ انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ موجود ہے۔ ان خطابات اور آرٹیکلز میں ڈاکٹر اسراراحمدؒ  نے قرآن و احادیث کی روشنی میں حالات کا تجزیہ کیا تھا جوکہ بہت مقبول ہوا ۔ آج کی اِس نشست میں ہم اسی سبق کو دہرانے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ ۔  ایک آیت جو ڈاکٹر صاحب ؒ بیان فرمایا کرتے تھے ، یہ تھی : 
{وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیْلًا (62)} (الاحزاب) ’’اور تم ہر گز نہیں پائو گے، اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔‘‘
اللہ کی سنت سے مراد اللہ کا قانون ہے جوکہ کبھی نہیں بدلتا ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اِس دنیا میں جو ہو رہا ہے  وہ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے، اللہ کے قانون کے مطابق ہورہا ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ کہیں ظلم ہو رہا ہے تو کیا اُس میں بھی اللہ کا اِذن شامل ہے؟ البتہ اللہ کی رضا نہیں۔  معروف قول ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہلتا ، کیا اللہ ظلم اور ناانصافی کا حکم دے گا ؟ معاذاللہ ۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اللہ کے قانونِ عذاب اور قانون ِ ہدایت کو سمجھنا ہوگا ۔ قانون ہدایت کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے دو مقامات پر ہمیں غور کرنا چاہیے ۔ پہلا مقام ہے :
{وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ (13)} (الشوریٰ )’’اور وہ اپنی طرف ہدایت اُسے دیتا ہے جو خود رجوع کرتا ہے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا :
{فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ ط}(الصف :5) ’’پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے اُن کے دلوں کوٹیڑھا کر دیا۔‘‘
اللہ کس کو ہدایت دیتا ہے، کس کو نہیں دیتا ،اللہ ہدایت کا فیصلہ کب فرماتا ہے؟ کس کے لیے فرماتا ہے اور کسی کو گمراہ کرنے کا فیصلہ کب فرماتا ہے، اس کی تفصیل قرآن میں موجود ہے ۔اصولی بات یہ ہے کہ ہدایت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار(free will) دی ہے۔ اگر وہ ہدایت کا طلب گار ہو۔ اللہ ہدایت کے راستے کھول دے گا۔ لیکن اگر وہ گمراہی پر ہی اڑا رہے اور ہدایت کو پسند ہی نہ کرے تو پھر اللہ کسی کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔ قرآن کے اِن مقامات کو سامنے رکھا جائے تو اللہ کے قانون ِ ہدایت کو سمجھنا آسان ہو گا ۔ اسی طرح اللہ کے قانون عذاب کے متعلق بھی قرآن کے تمام مقامات کو سامنے رکھیں گے تو اس کی وضاحت ہو جائے گی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا ، آج اُمّت پر جو مصائب نازل ہورہے ہیں ، کیا وہ اللہ کے اِذن کے بغیر ہو سکتے ہیں ؟ اس کا جواب ہمیں اللہ کے قانون ِ عذاب کو سمجھنے سے ملے گا ۔ ہر مصیبت اور عذاب کے کچھ اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ وہ اُمت جو اللہ کو مانتی ہے، قرآن کو مانتی ہے، جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتی ہے اور جس کو خیر اُمّت کہا گیا ، اُمّت وسط کہا گیا ، آج اس کا بیڑا غرق ہو چکا ہے ۔ عالمی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی مسلمانوں کی نہ جان محفوظ ہے ، نہ مال محفوظ ہے ، نہ عزت محفوظ ہے، نہ حیا اور ایمان محفوظ ہے ۔ آج ہمارے  زوال کی انتہا یہ ہے کہ بجلی کے بل بھی ہمارے حکمران خود طے نہیں کر سکتے، آئی ایم ایف کے احکامات کے پابند ہو چکے ہیں۔پٹرول کی قیمت خود طے نہیں کر سکتے ۔آئی ایم ایف کے احکامات کے پابند ہو چکے ہیں۔بقول ڈاکٹر اسراراحمدؒ  آج ہم نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔ اس کی وجوہات کو انہوں نے اللہ کے قانونِ عذاب کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا ۔ ان کا ایک مختصر کتابچہ بھی ’’قرآن کا قانون ِ عذاب‘‘ کے عنوان سے ہے ۔ 
سمجھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ یہ دنیا جسے ہم   حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں ،ا صل میں حقیقی زندگی نہیں ہے ۔ سیدنا حضرت علی ؄ نے فرمایا تھا : اے لوگو! آج تم سو    رہے ہو ، جب موت آئے گی اور دنیا کا پردہ ہٹے گا تو تم جاگو گے ۔ جب یہ پردہ ہٹا تو فرعون کو بھی حقیقت سمجھ میں آگئی تھی اور پکار اُٹھا تھا کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں ۔مگر اس وقت ایمان لانا معتبر نہیں تھا۔یہ دنیا مقصودنہیں ہے، اِس میں دکھ ہے ، تکلیف ہے ، پریشانی ہے ۔ قرآن میں اللہ فرماتاہے :
 
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط}(الملک:2)’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔‘‘
  اصلاً یہ دنیا دارالعمل ہے، اللہ نے عمل کا موقع سب کو دیا ہے ۔ چاہے کوئی اچھا عمل کرے یا بُرا کرے ۔ سورۃ الدھر کے شروع میںبتادیا : 
{اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا(3)}’’ ہم نے اس کو راہ سجھا دی‘اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘چاہے ناشکرا ہوکر۔‘‘
چہرے کی رنگت ، قد کاٹھ وغیرہ کی بنیاد پر کسی کو جنت یا جہنم نہیں ملے گی کیونکہ اس معاملے میں انسان کا اختیار نہیں ہے ۔ انسان کا اختیار عمل کے میدان میں ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں فیصلے ہوں گے ۔ 
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا(95)}(مریم) ’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
یوم حساب کا اقرار ہم ہر نماز میں کرتے ہیں : 
 { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo}(الفاتحہ:3)
یہ اور بات ہے کہ مسجد سے باہر نکلتے ہی ہم یہ بات بھول جاتے ہیں۔ دکان پر بیٹھتے ہوئے ، گھر والوں سے معاملات کرتے ہوئے ، دوسرے لوگوں سے برتاؤ کرتے ہوئے ہمیں شاید یہ اقرار یاد نہیں رہتا ۔ حکمران ، ججز ، ممبران پارلیمنٹ کو شاید یہ یاد نہیں رہتا ۔ کچھ مصائب اور عذاب ہمارے اعمال کی بدولت بھی دنیا میں ہم پر نازل ہوتے ہیں ۔ انفرادی سطح پر کچھ مصائب اور پریشانیاں  آزمائش کے لیے بھی ہوتی ہیں ،کچھ بندے کی اصلاح اور بہتری کے لیے بھی ہوتی ہیں ۔ بیماری اور تکلیف آتی ہے ، بندہ صبر کرتاہے ، اللہ اجر دیتا ہے ، بعض مصائب کی وجہ سے گناہوں کی معافی مل جاتی ہے ۔بعض دنیوی مصائب سے  مسلمان کے آخرت میں درجات بڑھائیں گے۔ کبھی کچھ مصائب انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے آتے ہیں کہ بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے ، توبہ استغفار کرے اور اللہ اسے بخش دے ۔ یہ مباحث اپنی جگہ پر ہیں ۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے ۔ یہاں جو جیسا عمل کرے گا ، ویسا ہی بدلہ وہ آخرت میں پائے گا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج }(الحشر: 18)  ’’اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اُس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے!‘‘
لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم آخرت کی زندگی کے لیے آگے کیا بھیج رہے ہیں ۔ کیا ہم موت کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملے میں خود کو آخرت کی جوابدہی کے لیے تیار کرلیا ہے ۔  قانون ِ عذاب کے حوالے سے اجتماعی سطح پر البتہ معاملہ مختلف ہے ۔  قرآن مجید میں ہم مختلف قوموں کے حالات اور انجام کے متعلق پڑھتے ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قوموں کے اجتماعی گناہوں اور سرکشیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر دنیا میں بھی عذاب بھیجتا ہے ، ان کو دنیا میں بھی سزائیں ملتی ہیں ۔ قوموں کے فیصلے ان کے اجتماعی اعمال کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے ہاں سے طے ہوتے ہیں اور بعض اوقات قوموں    کے اجتماعی اعمال کی وجہ سے بدلوگوں کے ساتھ ساتھ   نیک لوگ بھی پستے ہیں۔ نیک بندے کی نیکی اور ایمان اُسے آخرت میں فائدہ دیں گے لیکن دنیا میں اجتماعی مصائب میں نیک لوگ بھی پس ِسکتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ لوگ بچا لیے جاتے ہیں جو برائی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ۔ سورۃالاعراف میں سبت والوں کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ 
{ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّوْٓئِ } (آیت:165) ’’ ہم نے بچا لیا اُن کو جو برائی سے روکتے تھے۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ کسی قوم کے بارے میں اللہ کی طرف سے  عذاب کا اگر فیصلہ ہو جائے تو جو لوگ نہی عن المنکر کے فریضے کو ادا کرتے ہیں اُن کے لیے استثنیٰ ممکن ہے۔ موجودہ اُمّت کو اسی فریضہ کی ادائیگی کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ}(آل عمران:110 ) ’’تم وہ بہترین اُمّت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے۔‘‘ 
اس اُمت کو تو ساری انسانیت کی فکر کرنی تھی ، دنیا کے لوگوں کو نیکی کا حکم دینا تھا اور برائی سے روکنا تھا ۔ یہی کام اللہ کے رسول ﷺ کر رہے تھے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتاہے :
{یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ } (الاعراف:157 )’’وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے ‘تمام برائیوں سے روکیں گے ۔‘‘
ختم نبوت کے بعد یہ فریضہ اُمّت نے انجام دینا ہے۔ تنظیم اسلامی کے فورم سےہر تین مہینے بعد پورے پاکستان میں کسی منکر کے خلاف آگاہی مہم چلائی جاتی ہے ، کبھی سود کے خلاف ، کبھی بے حیائی کے خلاف اور ابھی کراچی میں ہمارے ساتھیوں نے وراثت میں بیٹیوں کو حق نہ دینے کے خلاف مہم چلائی ہے ۔ اِن مہمات کا مقصد یہ ہوتاہے کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ان برائیوں کے دنیوی اور اُخروی نقصانات کیا ہیں ۔ یہی کام اس اُمّت نے پوری دنیا میں کرنا تھا ۔ اگر اُمّت اِس فریضہ کو ادا نہیں کر رہی تو قرآن کی روشنی میں اسے عذاب سے بچنے میں استثنیٰ  حاصل نہیں ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو سبت والے واقعے میں بیان ہوا ۔ قرآن مجید میں بار بار اُن قوموں کا ذکر آتاہے جن کی طرف رسول بھیجے گئے لیکن وہ برائیوں سے باز نہیں آئے تو اللہ نے ان پر سخت عذاب بھیجے ۔ ان میں سے کچھ شرک میں مبتلا تھیں ، قوم لوطؑ ہم جنس پرستی میں مبتلا تھی ، اس پر پہلے پتھر برسائے گئے ، اندھا کیا گیا ، پھر اُٹھا کر پٹخ دیا گیا اور بحیرہ مردار(Dead Sea) میں غرق کر دیا گیا ۔ اسی طرح قوم شعیب ؑناپ تول میں کمی کے جرم میں ملوث تھی ، اس پر آسمان سے شعلے برسائے گئے ، پھر زلزلہ مسلط کیا گیا ۔قوم فرعون کو غرق کیا گیا ۔ اس طرح قوموں پر عذاب کی ایک وجہ اُن کی سرکشی اور دین سے بغاوت بھی ہوتی ہے ۔ 
وہ قومیں جو اللہ کو مانتی ہیں ، اللہ کے رسولوں کو مانتی ہیں ، اللہ کی کتابوں کو مانتی ہیں ، خاص طور پر جن کو اللہ نے اُمّت کا درجہ دیا اور اللہ کے رسولوں کے مشن میں اُن کا ساتھ دینے اور اللہ کی کتاب کے نفاذ کا تقاضا کیا ، وہ اگر اللہ کے رسولوں کا ساتھ نہ دیں اور اللہ کی کتاب کو      پس پشت ڈال دیں ، آخرت کو فراموش کردیں ، تو ان پر بھی عذاب آیا کرتے ہیں ۔ بنی اسرائیل کی طرف اللہ  نے رسول بھیجے جنہوں نے اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے جہاد و قتال کا تقاضا کیا تو بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور دین سے بغاوت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت اور محتاجی تھوپ دی ۔ سورۃ البقرہ میں ہی ذکر آتاہے :{وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّــۃُ وَالْمَسْکَنَۃُق}(آیت61 )  
 ’’اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی۔‘‘ 
آج ہمارا حال بھی یہی ہے۔دنیا بھر میں آج ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن چکی ہے ۔ اس لیے کہ ہم اللہ کو ماننے والے تھے ، اللہ کے رسولوں اور کتابوں کو ماننے والے تھے ، آخرت کو ماننے والے تھے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نمائندگی کے لیے چُنا تھا ۔ لیکن ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کے مشن کو چھوڑ کر ، اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال کر اور دنیا کی محبت میں ڈوب کر اپنی ذلت و رسوائی کا فیصلہ خود کرلیا ۔ آج دنیا بھر میں ہم مصائب اور ظلم کا شکار ہیں ، سب سے سستا خون ہمارا ہے ۔ ہماری سیاست ، معیشت ، معاشرت اغیار کی محتاج ہے ۔ ہم اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے ۔ ہر دن ہماری بربادی کا ایک نیا پیغام لے کر آتاہے ۔ کیا اللہ کو ہم پر رحم نہیں آتا ؟ کیا اللہ الرحمٰن اور الرحیم نہیں ہے ؟ کیا اللہ علی کل شی قدیر نہیں ہے جس نے فرعون کو غرق کر دیا، وہ نتن یاہواور ٹرمپ کو سزا نہیں دے سکتا ؟وہ علی کل شی قدیر ہےمگر اس کا قانون ِ عذاب بھی موجود ہے کہ جب کوئی اُمّت اللہ کی کتاب کو پس ِپشت ڈال دے ، اپنے پیغمبر کے مشن کو بھول جائے ، آخرت کو بھول جائے اور دنیا میں مگن ہو جائے تو پھر اُس پر عذاب آیا کرتے ہیں ۔ یہ قانون بنی اسرائیل پر بھی لاگو ہوا اور موجود اُمّت مُسلمہ کے لیے بھی یہی قانون ہے ۔ اللہ کا قانون بدلا نہیں کرتا ۔ 
آج دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں لیکن کہیں بھی اللہ کا دین بتمام و کمال نافذ نہیں ہے ۔ حج ہو جائیں گے ، عمرے ہو جائیں گے ، روزے ہو جائیں گے،نمازیں ہو جائیں گی، عید منا لیں گے ، صدقہ خیرات ، قربانی سب کچھ ہو جائے گامگر اسلامی نظام کدھر ہے جس کے لیے اس اُمّت کو کھڑا کیا گیا تھا ؟یہی ہماری ذلت کا اصل سبب ہے۔ہم نے تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے اس کی طرف توجہ دلانے کے لیے متعدد بار’’ توبہ کی پکار‘‘ کے عنوان سے مہم چلائی ۔ بجائے اس پکار پر توجہ دینے کے اُلٹا لوگ میسج کرتے تھے کہ کیا توبہ کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا ؟      انا للہ و انا الیہ راجعون ! کیا ہم اتنے بے باک ہو گئے کہ  اللہ کے کلام پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہم نے اللہ کے کلام کو بیان کیا ، یونس ؑ کی قوم کا واقعہ ایک ثبوت ہے جب اُس قوم نے توبہ کی تو آیاہوا عذاب ٹل گیا ۔ ہم چوری پرسینہ زوری کے مصداق توبہ کی پکار پر بھی لبیک کہنے کو تیار نہیں۔ اللہ اکبر کبیرا! ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیاآج اللہ کا دین ہماری ترجیحات میں ہے؟ مولانا الطاف حسین حالی کتنے برس قبل کہہ گئے ؎
اے خاصۂ خاصانِ رُسلؐ وقتِ دعا ہے
اُمّت پہ تریؐ آکے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغرباہے
آج ہم سب اپنی ذات سے شروع کریں اور حکمرانوں تک چلے جائیں ، کہیں بھی اللہ کا دین ترجیح ہے ؟  چند باتوں پر غور کرنے سے ہم اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ 
پہلی بات! اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ نماز دین کا ستون ہے ، صحابہ کرام ؓکے ہاں یہ طے تھا جو نماز نہیں ادا کرتا وہ(عملی طور پر) کافر ہے ۔ آج ہم دیکھ لیں کہ کتنے لوگ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں اور جماعت میں کتنے لوگ شامل ہوتے ہیں ۔ 
دوسری بات!اللہ تعالیٰ نے قوم شعیب کو ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے سخت سزا دی ۔ آج ہم دیکھ لیں کہ ہمارے ہاں حرام خوری ، ذخیرہ اندوزی ، لوٹ کھسوٹ  کس قدر عام ہو چکی ہے ۔ یہاں تک کہ سود کو اللہ نے حرام اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ قراردیا اور ہمارا پورا معاشی نظام سود کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔ تکبر بھی حرام ہے، حسد بھی حرام ہے، غیبت بھی حرام ہے ، رشوت بھی حرام ہے ۔ مگر آج حرام ہمیں کوئی جرم نہیں لگتا ۔ 
تیسری بات ! اللہ کے رسول ﷺنےفرمایا: ((اِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ))’’بے شک اللہ اس قرآن کی بدولت قوموں کو عروج عطا کرے گا اس کو ترک کر دینے کی وجہ سے ذلیل و رسوا کر دے گا۔‘‘
آج دنیا جہاں کی تعلیم کے لیے ہم کروڑوں خرچ کرتے ہیں، پچاس پچاس ہزار روپے صرف ٹیوشن کی فیس دیتے ہیں لیکن اللہ کی کتاب کو فری میں پڑھنے ، سیکھنے سمجھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ صرف رمضان میں بطور ثواب کبھی ہم قرآن کو کھول لیتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پی ایچ ڈی سکالرز بھی قرآن کے فہم سے محروم ہیں ۔ 
چوتھی بات!اس اُمّت کو اللہ کے دین کی دعوت اور اس کے نفاذ کی جدوجہد کے لیے کھڑا کیا گیا ۔ آج یہ کام ہم نے دینی جماعتوں اور علماء کرام کے ذِمّہ لگا دیا ۔ کیا باقی سب اُمتی نہیں ہیں ؟کیا باقی سب کورسول اللہ ﷺ کی شفاعت نہیں چاہیے ؟
پانچویں بات! گھر میں اگر گلاس ٹوٹ جائے ، ایل سی ڈی ، سمارٹ فون کی سکرین ٹوٹ جائے تو غصہ آتا ہے! آج معاشرے میں اللہ کے احکام کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں ۔ کیا اللہ کا حکم ٹوٹنے پر ہمارے چہرے کا رنگ بھی بدلتا ہے ؟اگر اللہ کا دین ہماری ترجیح میں شامل ہی نہیں ہے ، اللہ ہماری ترجیح میں شامل نہیں ہے تو کیا ہماری دعائیں قبول ہوں گی ؟ کیا اللہ کی مدد اور رحمت آئے گی ؟ 
اسی طرح حکمرانوں کی سطح پر بھی پانچ باتوں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ کیا اللہ کا دین ان کی ترجیح میں شامل ہے ؟ پہلی بات ! کتنے عرصہ سے ہم کہہ رہے ہیں کہ قرآن پاک کے 29 نسخےناپاک حالت میں رکھے ہوئے ہیں ، ان کو شرعاً غسل دینااور پھر احترام کے ساتھ ان کی تدفین کرنا واجب ہے ۔ لکھ کر بھی بھیجا اور سوشل میڈیا پر بھی ، پریس ریلز کے ذریعے بھی توجہ دلائی مگر حکمرانوں کی سطح پر سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ کے لیے تو وقت ہے ، اسمبلی کے اجلاس بھی بلائے جاتے ہیں ، بِل بھی پاس ہوتے ہیں لیکن کیا قرآن کی حرمت بھی ان کی ترجیح میں شامل ہے ؟ قرآن کے مذکورہ بالا نسخوں کو پاک کرنے میں حکومت کو کیا دِقت ہے ؟
دوسری بات ! امریکہ میں قید ایک مسلمان نے امریکی فوجیوں کا قتل کیا تھا ، آج امریکہ اعلان کر رہا ہے  کہ اس کی سزائے موت کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا ۔ ادھر ہماری سپریم کورٹ نے گستاخ رسول کو سزائے موت کے سنائے گئے فیصلہ پر اُس کی اپیل خارج کر دی ہے۔ اب اس سزا پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ؟ 400 کیسز اس وقت عدالت میں موجود ہیں ، اتنی گستاخیاں ہورہی ہیں ، اگر مقتدر حلقوں کی شان میں گستاخی ہو جائے تو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا جاتاہے ، کیا محمد مصطفیٰ ﷺ کی کوئی حرمت اور اہمیت نہیں ہے ؟ (معاذ اللہ)
تیسری بات ! اللہ نے سود کو حرام قراردیا ہے ، وفاقی شرعی عدالت نےاپریل2022ء سے ایک بار پھر ہر قسم کے سود بمعہ بینک انٹرسٹ کے ربا یعنی حرام ہونے کا فیصلہ دیا ہوا ہے۔ کم ازکم ملک کا اندرونی سود تو حکومت ختم کر سکتی ہے ۔بعد میں آئی ایم ایف وغیرہ سے بھی نمٹ لیا جا سکتا ہے ۔ ہمارے بجٹ کا 43 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے ، کہا جارہا ہے کہ 2040ء تک بجٹ کا 90 فیصد سود کی مدد میں خرچ ہوگا ۔ اس صورت میں ملک کہاں کھڑا ہوگا ؟ 
چوتھی بات ! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلم حکمرانوں کے کرنے کے کام بتائے ہیں : 
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ}(الحج:41) ’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکّن عطا کر دیں تو‘وہ نماز قائم کریں گے۔‘‘
اصولاً تو نماز جمعہ اور نمازعیدین بھی حکمران یا اُس کے مقرر کردہ نمائندہ کو پڑھانی چاہئیں ۔ نماز کا پورا نظام قائم کرنا حکمرانوں کی ذِمّہ داری ہے ۔ اگر دل میں اللہ کا خوف ہوگا تو حکمرانی کے معاملات بھی سیدھے ہوجائیں  گے ۔ اگر دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے تو عوام کا کیا خاک خیال کریں گے ۔
پانچویں بات!لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکمرانوں کی ذِمّہ داری ہے ۔ اگر ملک میں امن ہی نہیں ہے تو کیا خاک حفاظت ہوگی ۔ خبریں آتی ہیں کہ سکول کی چھت گرنے سے اتنے معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے ، کہیں بلڈنگیں گرتی ہیں تو بے گناہ لوگ جاں بحق ہو جاتے ہیں ۔ ان بلڈنگوں کو NOCکون جاری کر رہا ہے؟  حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا تھا :’’دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مرجائے تو عمر ؓسے پوچھ ہوگی ۔‘‘ آج بھوک اور افلاس کی وجہ سے کتنے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ۔ انسانی جانیں قیمتی ہیں، چاہے پولیس اہلکار ہو ، فوجی ہو ، سویلین ہو ۔  اللہ کے رسول ﷺ نے قسم اٹھا کر فرمایا تھا :’’ اے کعبہ ! تو اللہ کے ہاں محترم ہے مگر ایک مومن کی جان تجھ سے زیادہ محترم ہے ۔‘‘ گورنر راج ، یا ایمرجنسی لگانے سے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔بے شک بیرونی سازشیں  بھی ہیں لیکن ہمیں  اپنے اعمال بھی دیکھنے چاہئیں ، سب سے پہلے اللہ کے ہاں سچی توبہ کرنی چاہیے اور اس کے بعد جن لوگوں کے ساتھ ظلم ہو ا ہے ، ناانصافیاں ہوئی ہیں ، ان کا ازالہ کرنا چاہیے ۔ ملک میں جو لوگ ناراض ہیں انہیں منانے کی کوشش کرنی چاہیے اور امن کے لیے بھائی چارہ قائم کرنا چاہیے ۔ طاقت سے زبانیں تو خاموش ہو جائیں گی مگر دل میں نفرتیں مزید بڑھیں گی ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اللہ کے دین کو اپنی ترجیح بنائیں ۔ جب دین ترجیح میں ہوگا تو تمام معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔  ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!