(زمانہ گواہ ہے) عالمی سطح پر مظاہروں کے اصل محرکات اور ممکنہ نتائج - محمد رفیق چودھری

13 /

عرب اور افریقی ممالک کوجس طرح عرب سپرنگ کے ذریعے تباہ کیا

گیا، اب یورپ میں مظاہروں سے وہی کام لیا جائے گا :رضاء الحق

سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پرعالمی سطح پر جو تہذیب پروان

چڑھی وہ اب بے نقاب ہورہی ہے : ڈاکٹر حسن صدیق

یورپی ممالک نے صہیونیوں کے ہاتھوں استعمال ہو کر دنیا میں جو

لوٹ مارکی اور مظالم ڈھائے ، اس کا خمیازہ اب وہ خود بھی

بھگتیں گے :پروفیسر یوسف عرفان

’’عالمی سطح پر مظاہروں کے اصل محرکات اور ممکنہ نتائج ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

میزبان:  فرانس سے لے کر یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں عوام سڑکوں پر ہیں۔ حکومتوں کے خلاف نعرے لگاتے اور اپنے پسندیدہ نظامِ حکومت سے ٹکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کیا یہ احتجاج تعلیمی اداروں کی بہتری، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، پنشن اصلاحات، معاشی بدحالی اور حکمرانوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے، دنیا میں کسی بڑی سیاسی اور معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے یا موجودہ عالمی نظام کے خلاف بڑا عوامی ریفرنڈم؟ ہم آج کے پروگرام میں فرانس اور دیگر ممالک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے پس منظر اور پیش منظر پر تجزیہ حاصل کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ سڑکوں پر لگنے والے نعروں کے پیچھے اصل حقائق کیا ہیں؟ لوٹ مار اور دھینگا مشتی پر مشتمل اس بھرپور عوامی احتجاج کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا وہاں کی حکومتیں عوامی مطالبات سننے اور ماننے کے لیے تیار ہیں یا طاقت کے ذریعے اس توانا عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ عالمی سیاست اور معیشت پر ان مظاہروں کے کیا ممکنہ اثرات اور نتائج برآمد ہوں گے۔ میرے ساتھ شریک گفتگو ہیں:ترجمان تنظیم اسلامی جناب رضاء الحق صاحب،معروف دانشور اور مصنف پروفیسر محمد یوسف عرفان صاحب، ریسرچ سکالر ڈاکٹر  حسن صدیق صاحب۔ 
سوال: فرانس اور دیگر ممالک میں آج کل جو مظاہرے جاری ہیں ، ان کے بارے میں ہمیں بتائیں کہ کیا یہ چند حکومتی پالیسیوں کا رد عمل ہے یا یہ عالمی سیاسی اور معاشی نظام کے خلاف بغاوت کا اظہار ہے ۔ 
ڈاکٹر حسن صدیق:علامہ اقبال نے آج سے تقریباً سو سال قبل مغرب کے بارے میں پیشین گوئی کردی تھی ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
آپ کو معلوم ہے کہ فرانس میں ہی سب سے پہلے جمہوریت ایک خونی انقلاب کے طور پر آئی جس کی آڑھ میں سرمایہ دارانہ نظام پروان چڑھا اور پھر اس نے عالمی سطح پر اپنے پنجے گاڑھ لیے ۔ اب اس ظالمانہ اور طبقاتی نظام کے اثرات مقامی سطح پر بھی اور عالمی سطح پر بھی ظاہر ہورہے ہیں ۔ اس سرمایہ نظام کی بنیاد پر جو تہذیب پروان چڑھی وہ اب بے نقاب ہورہی ہے ۔ وہ لوگ جو خود کو تہذیب یافتہ کہتے تھے ، اب کس طرح لوٹ مار کر رہے ہیں اور دوکانیں لوٹ رہے ہیں جیسے کئی دنوں کے بھوکے ہوں۔ایک اندازے کے مطابق 1500سے زائد  دکانوں کو انہوں نے لوٹا ہے اور تقریبا 400 سے 500 ملین یورو کا نقصان ابھی تک ہو چکا ہے۔ اس کی ایک  بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے ۔ اس وقتفرانس میں10 فیصد کے قریب بےروزگاری ہے۔ دوسری طرف فرانس ایک لحاظ سے اس تہذیب اور نظام کا کیپیٹل رہا ہے جسے آپ ابلیسی نظام کہہ سکتے ہیں ۔    دنیا بھر میں جو سوشل انجینئرنگ ہوتی ہے اس کا آغاز وہیں   سے ہوتا ہے ۔ چاہے فیشن انڈسٹری ہو ، سرمایہ داروں کا اکنامک ایجنڈا ہو، ایلیٹ کلاس کا ایجنڈا ہو ، نوجوان نسل کا رہن سہن کا طریقہ ہو ،دنیا کے ٹاپ برینڈز ہوں، ان  سب کا آغاز وہیں سے ہوتاہے ۔ پھر اس تہذیب اور نظام کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا آغاز بھی وہیں ہوتا ہے ، کم و بیش سات سال قبل یلوویسٹ کی تحریک بھی وہیں سے شروع ہوئی اور بہت سے دیگر یورپی ممالک میں پھیلی ۔ کیونکہ عالمی سطح پر بھی اس ظالمانہ نظام کے خلاف لاوا پھٹ رہا ہے ۔ تیل کی قیمتیں ہر ملک میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں ۔ انٹرنیشنل شپنگ رکی ہوئی ہے ۔ آبنائے ہرمز میں اڑھائی ہزار کنٹینرزپر مبنیبحری جہازبارودی سرنگ سے اڑا دیاگیا۔ فرانس سمیت یورپی ممالک نے پچھلے 500 سال سے کالونیل ازم کے تحت دنیا کو لوٹا ہے، افریقہ کو لوٹا ، ساؤتھ امریکہ کو لوٹا ، ایشیاء کو لوٹا اور اب خود ان کو مکافات عمل کا سامنا ہے۔ خلافت عثمانیہ کےٹکڑے کرنے اور ان ٹکڑوں پر اپنے مہرے بٹھانے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کا عروج اسی لوٹ مار اور ٹریڈروٹس کی وجہ سے رہا اور اب اس کا زوال صاف نظر آرہا ہے ۔ خود امریکن    تھنک ٹینکس بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام اب خاتمے کی طرف جارہا ہے اور امریکہ میں بھی مظاہرے ہوں گے۔ اسرائیل 30 سال سے امریکی حکومت پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ ایران پر حملہ کرو لیکن امریکی اسٹیبلشمنٹ نہیں مان رہی تھی کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ ایران کے خلاف اگر جنگ چھیڑی تو ایسے جال میں پھنس جائیں گے کہ ہمارا عالمی نظام کمزور ہو جائے گا ۔ پھر صہیونی لابی ٹرمپ کو لے کر آئی ، حالانکہ الیکشن سے پہلے اس کے خلاف مقدمات چل رہے تھے اور اس کے الیکشن جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔    نتین یاہو سے ملاقات کے بعد اس کے سارے مقدمات ختم ہوگئے اور وہ جیت کر آگیا اور وہی کیا جو صہیونی چاہتے تھے ۔  لہٰذا عالمی سطح پر ایک تباہی کا امکان صاف نظر آرہا ہے ۔ 
سوال: فرانس کے علاوہ دیگر ممالک میں جو احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ان کے بارے میں اپنا تجزیہ دیجیے کہ ان میں مشترکہ عوامل کیا ہیں؟
پروفیسر یوسف عرفان:اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یورپ کے تین ملک ایسے تھے جنہوں نے دنیا میں استعماری نظام قائم کرنے میں لیڈنگ رول ادا کیا ، ان میں فرانس ، برطانیہ اور ہالینڈ شامل تھے ۔ لیکن اس نظام کے پیچھے اصل محرک یہودی تھے ۔ جیسے اقبال نے کہا تھا ؎
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجہِ یہود میں ہے
انقلاب فرانس کے ذریعے وہ اپنے بندے  اقتدار میں لے کر آئے ۔ برطانیہ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام قائم کیا اوراس کے ذریعے معیشت کو اپنے کنٹرول میں کیا ۔ اسی معاشی طاقت کے بل بوتے پر انہوں نے عالم اسلام کو بھی زیر کیا اور دنیا کے تمام ممالک کو کنٹرول کیا۔ یورپی ممالک نے صہیونیوں کے ہاتھوں استعمال ہو کر دنیا میں جو لوٹ مار اور مظالم کیے ، اس کا خمیازہ اب وہ خود بھی بھگتیں گے ۔ فرانس سے جو تحریک شروع ہوئی ہے ، یہ رکے گی نہیں ، یہ برطانیہ ، جرمنی ، اٹلی سمیت تمام یورپ میں پھیلے گی اور امریکہ تک پہنچے گی۔ امریکہ کی 50 ریاستیں ہیں ۔ جب وہاں مظاہرے شروع ہوں گے تو امریکی فوج کو پہلے سے تربیت دی گئی ہے کہ اپنے لوگوں کو اگر قتل کرنا پڑے تو گریز نہیں کریں گے۔ موجودہ عالمی نظام نے غریب اور امیر کا فرق بہت بڑھا دیا ہے ۔ فرانس میں مظاہرے اسی وجہ سے شروع ہوئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر امیر بستی کے ساتھ ساتھ غریبوں کی بستیاں  ہیں جو کثرت میں ہیں لیکن ان کے لیے سہولیات نہیں ہیں، ان کے سکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں ، کہیں سکول کی عمارتیں نہیں ہیں ۔ فرانسیسی حکومت ان کے حقوق کو تسلیم ہی نہیں کرتی ۔ کسان بھی اپنی محرومیوں کی وجہ سے اس تحریک میں شامل ہوگئے ، پھر وکلاء شامل ہوئے ، اس کے بعد اپوزیشن بھی شامل ہوگئی۔ اب یہی صورتحال برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ سرمایہ دار طبقہ اور ایلیٹ کلاس عوام کے حقوق کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ حالانکہ وہ ہیومن رائٹس کا نام لیتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور عوام کو کچھ نہیں دیتے۔ فرانسیسی انقلاب نے آزادی، مساوات اور اخوت کا نعرہ دیا تھا مگر سب اس کے الٹ ہوا۔ یہاں تک کہ اگر مظاہرے    نہ رکے تو فرانسیسی صدر ایمرجنسی بھی نافذ کر سکتے ہیں ۔ 
سوال: کیا دنیا ایسے دور میں داخل ہو گئی ہے کہ ماڈرن کہلانے والے مغربی ممالک میں بھی اب عوام سڑکوں پر نکل کر حکومتی پالیسیاں تبدیل کروائیں گے یا وہاں بھی مارشل لاء ، ایمر جنسی یا گورنر راج لگے گا ؟
رضاء الحق:آج سے کوئی 23سال قبل امریکہ میں فیما (فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی)کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا تھا ۔ اس کے مقاصد میں بتایا گیا کہ اگر ایسی ایمرجنسی صورتحال بنے جس میں عوام سڑکوں پہ آ جائیں تو ان کے خلاف پولیس یا فوج استعمال نہیں ہوگی بلکہ یہ ادارہ ان کو کنڑول کر ے گا ۔ یہ سب تبدیلیاں یورپ میں ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے وہاں تمام دائیں بازو کے لوگ حکومتوں میں آرہے ہیں ۔ ان کے پیچھے صہیونی ہاتھ تو ہمیشہ سے رہا ہے اور بڑے عرصہ سے پلاننگ کر کے بیٹھے ہوئے ہیںکہ جب اُن کا مسیحا (دجال ) آئے گا تو وہ دنیا کے نظام کو بدل دیں گے ۔ دجال منتخب ہو کر نہیں آئے گا بلکہ وہ اپنی بادشاہت قائم کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارے مسائل حل کروں گا۔ احادیث میں خبریں موجود ہیں کہ اس کے پاس دنیا کے خزانے ہوں  گے ، روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے، ایک ہاتھ میں ’’جنت ‘‘ اور دوسرے ہاتھ میں ’’دوزخ‘‘ ہوگی ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے اور صہیونی ہر ملک میں انتشار     اور افراتفری پیدا کرکے دنیا کے نظام کو الٹ رہے ہیں ۔ پہلے عرب سپرنگ کے ذریعے انہوں نے عرب اور   افریقی ممالک کے تختے اُلٹے ، اب یورپ میں ایسے ہی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں ۔ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مہاجر مسلمانوں کو ان میں ملوث کرنا چاہتے ہیں ۔ اقبال نے کہا تھا ؎
 دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش
 تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
 اللہ کو ہےپامردی مومن پہ بھروسہ
 ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
ٹرمپ کی طرح یورپ کے اکثر حکمران بھی صہیونیوں کی کٹھ پتلیاں ہیں اورصہیونی ایجنڈے کے تحت وہ مظاہروں کی آڑ میں مسلم مہاجرین کو کچلنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے ، بلوچستان ،  کے پی کے ، آزاد کشمیر سمیت کئی علاقوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
سوال: مغربی ممالک دنیا کے دیگر ممالک کو تو جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کا درس دیتے ہیں لیکن جب اس طرح کے کوئی مظاہرے اپنے ممالک میں شروع ہوتے ہیں تو یہ سارے اصول بھول جاتے ہیں ۔ایسا کیوں ہے؟ 
ڈاکٹر حسن صدیق:مغرب کے اس دہرے معیار کی سب سے بڑی مثال آپ کے سامنے مصر میں موجود ہے ۔ جب مرحوم  ڈاکٹر مرسی حسنی مبارک کی ظالمانہ حکومت کو انتخابات کے ذریعے شکست دے کر حکومت میں آئے تو مغرب نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ذریعے اس کا تختہ اُلٹ دیا اور تحریر سکوائر میں ہزاروں مسلم مظاہرین کو ٹینکوں تلے کچل دیا ۔ اب سارا یورپ جنرل سیسی کی ڈکٹیٹر شپ کو سپورٹ کر رہا ہے کیونکہ مسلم ممالک میں ڈکٹیٹر ز کے ذریعے مغربی مفادات کا تحفظ آسان ہو جاتاہے ۔ اسی وجہ سے نائن الیون سے دو سال قبل پاکستان میں پرویز مشرف کو لا کر ہماری سیاست اور عوام کو یرغمال بنا لیا گیا ۔ اسی طرح مغرب کے عوام بھی یرغمال ہیں کیونکہ صہیونی پوری دنیا میں انسانوں کو غلام بنا کر اپنا ورلڈ آرڈر نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ سرمایہ درانہ نظام کے تحت عوام کو کچھ سہولیا ت دے کر یہ دھوکہ دیا جاتاہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں آزاد اور خود مختار ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا اور اب اس فریب کا نقاب اُلٹ چکا ہے ۔ انسانی حقوق اور جانوروں کے حقوق کی بات کرنے والوں نے غزہ میں جس طرح انسانی خون بہایا ہے اس کے بعد اب دنیا ان کا فریب جان چکی ہے ۔ فرانس میں مظاہروں کے دوران لوگوں نے فلسطین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے ۔ وہ نتین یاہو کو سب سے بڑا دہشت گرد کہتے ہیں ۔ عوام سمجھ چکے ہیں کہ دنیا کا معاشی اور سیاسی نظام صہیونیوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے پہلے لندن کو اپنا ہیڈکوارٹر بنایا ، پھر لندن سے واشنگٹن میں اپنا مرکز شفٹ کیا ، اب وہ یروشلم کو اپنا مرکز بنانا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے وہ یورپ اور امریکہ میں انتشار پیدا کرکے ان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح وہ ایران پر حملہ اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ ردعمل میں عرب ممالک پر حملے ہوں اور عرب ممالک کمزور ہوں ۔ عرب ممالک کمزور ہوں گے تو گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پورا ہو جائے گا ۔ نتین یاہو بار بار سعودی عرب سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ملا لو ، جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملائے گا تو ایران کے لیے عرب ممالک پر حملوں کا جواز مزید مضبوط ہو جائے گا ۔ برطانیہ سے تو سعودی عرب نے ہاتھ ملا لیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اب خطہ میں حالات مزید کشیدہ ہوں گے ۔ حق اور باطل کی جنگ قریب ہے ۔ 
سوال: آج کے دور میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہو چکا ہے ،جیسا کہ عرب سپرنگ میں اس نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے عوام کی آواز کو طاقت دی ہے یا پھر یہ  عوام کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہا ہے؟
پروفیسر یوسف عرفان:ہر وہ خبر جو غیر مصدقہ ہے، وہ افراد ، معاشرے اور ریاست کے لیے مہلک ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ جب نپولین کو برطانوی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی تو برطانیہ کے یہودیوں کو پہلے سے معلوم تھا ۔ انہوں نے جھوٹی خبر پھیلائی کہ برطانوی فوج کو شکست ہوئی ہے ۔ برطانیہ کی اسٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ، یہودیوں نے دھڑا دھڑ اثاثے خریدنا شروع کر دئیے ۔ چھ گھنٹے  بعد جب خبر پہنچی کہ برطانیہ کو فتح ملی تو اس وقت تک برطانوی عوام اپنا بہت زیادہ نقصان کرچکے تھے ۔ اسی طرح آج کے دور میں سوشل میڈیا کو بڑی تکنیک کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس وقت ورلڈ اکانومی چین کے پاس ہے ، پہلے صہیونی کمپنیوں کے پاس تھی۔ اگر چین کے ٹریڈ روٹس کامیاب ہوتے ہیں تو اصل نقصان اسرائیل کا ہوگا ۔ اس کے لیے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے بہت اہم ہیں ۔ ان راستوں کے ذریعے مشرق اور مغرب کی ساری تجارت ہوتی ہے ۔ اس لیے وہ یورپ میں سرمایہ لگانے کی بجائے اس پورے خطہ میں انوسٹمنٹ کرکے اپنے مفادات کا حصول چاہتے ہیں جس سے یورپ میں حالات مزید خراب ہوں گے ۔ یورپی ممالک کا بجٹ پہلے ہی خسارے میں ہے ، اگر وہ عوام پر ٹیکس لگاتے ہیں توحالات مزید بگڑیں گے ۔ یورپ اور امریکہ کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہاں کی افواج بھی عوام کا ساتھ دیں اور صہیونیت نواز حکومتوں کے تختے اُلٹ کر عوام کی نمائندہ حکومتیں بنائیں ۔ پاکستان میں بھی دشمن کا مضبوط نیٹ ورک موجو دہے ۔ اسی وجہ سے پاکستان طویل عرصہ سے حالت جنگ میں ہے۔ اسرائیل ایران کے صوبہ بلوچستان میں آکر بیٹھنا چاہتا ہے ، ادھر وہ سعودی عرب کی جغرافیائی تقسیم چاہتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا ۔ پاکستان گھیراؤ میںآ جائے گا۔
سوال: جب سے امریکہ، ایران اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی ہےاور آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش کی وجہ سے تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے تو پوری دنیا کی اکانومیز سنبھل نہیں پا رہی تھیں ، اب فرانس اور دیگر ممالک میں مظاہرے بھی شروع ہوگئے ، دنیا کی اکانومی پر اب مزید کیا اثرات پڑیں گے ؟
رضاء الحق:کسی بھی ملک کےسیا سی نظام کا معاشی نظام کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے ۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی وجہ سے دنیا کی معیشت پر جو منفی اثرات پڑے ہیں ، مظاہروں کی وجہ سے ان میں مزید اضافہ ہوگا۔ مغرب میںایک عرصہ سے عوام کا  لائف سٹائل یہ تھا کہ وہاں ہر چیز اُدھار پر لی جاتی تھی ، عوام صبح سے شام تک محنت کرکے ادھار چکاتے تھے اور مزید ادھار لیتے تھے ۔ اب جب تیل اور گیس کی بندش کی وجہ سے ہر چیز مہنگی ہوگی تو عوام پر معاشی دباؤ مزید بڑھے گا اور حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔ تعلیم ، صحت سمیت ہر شعبہ متاثر ہوگا ۔ عوام کی مجبوری بن جائے گی کہ وہ باہر نکل کر مطالبات کریں مگر اب حالات کا واپس بہتری کی طرف جانا ممکن نہیں ہوگا ۔ کیونکہ صہیونی کمپنیاں یورپ میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے اب مشرق وسطیٰ میں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے چین کے BRIمنصوبے کے مقابلے میں  IMECکا منصوبہ پیش کیا ہے ۔ چین بھی اب خاموش نہیں بیٹھے گا وہ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام کرے گا۔
سوال:  فرانس اور دیگر ممالک میں اس وقت جو احتجاجی مظاہرے ہور ہے ہیں کیا آپ انہیں عرب سپرنگ ٹو کا نام دے سکتے ہیں؟
ڈاکٹر حسن صدیق:عرب سپرنگ جب شروع ہوئی تو ہم جیسے نادان لوگ بڑے خوش تھے کہ اب اس کے نتیجہ میں کوئی بڑا انقلاب آئے گا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کے پیچھے CIAتھی اور انہوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے نوجوانوں کا استحصال کیا ۔ اب یورپ میں جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ کیا رنگ لانے والے ہیں ۔ واضح نظر آرہا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی خفیہ ذہن کارفرما ہے ۔ اب AI کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے بھی لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جانے لگا ہے ۔ اس حوالے سے بھی سوشل میڈیا کا ایک رول ہے ۔ پھر یہ کہ ہر فرد کی نگرانی بھی بہت آسان ہو گئی ہے ۔ یہاں تک کہ یہ بھی پتہ چل جاتاہے کہ بندہ کیا سوچ رہا ہے ، کیا کر رہا ہے ، AI سے کیا پوچھ رہا ہے۔ ایک بات اظہر من الشمس ہے کہ یورپ کا معاشی نظام کرش ہونا ہے کیونکہ یورپ کا معاشی نظام صہیونی مالیاتی اداروں پر منحصر تھا اور صہیونی اب اپنی نئی گریٹ گیم میں مصروف ہیں ۔ اسلام نے شروع میں ہی ہمیں ایک سبق دیا تھا ۔ حضور ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں مارکیٹ پر یہودیوں کا کنٹرول تھا ۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ مارکیٹ قائم کی اور اسلامی معاشی اصول وہاں لاگو کیے ۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہےکہ وہ یورپ ، امریکہ اور IMF وغیرہ پر معاشی انحصار کرنے کی بجائے اپنا معاشی نظام تشکیل دیں۔ ایران ابھی تک اگر ڈٹا ہوا ہے تو اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اس نے سائنسدان اپنے پیدا کیے ، اپنی انڈسٹری لگائی ، اغیار پر انحصار کم سے کم کیا ۔ اگر ورلڈ بینک اور IMFکے سہارے اپنی اکانومی چلاتے رہیں گے تو ہم ان کے کنٹرول میں چلے جائیں گے ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ چین کے ساتھ مل کر اپنا ایک متبادل سسٹم بنا سکتا ہے جو بدقسمتی سے نہیں ہورہا ۔ 
سوال: اس وقت فرانس سمیت درجن بھر یورپی ممالک میں مظاہرے ہورہے ہیں ،کیاآپ ان کو جین زی ریولوشن کہہ سکتے یا یہ ایک وقتی احتجاجی لہر ہے جو اگلے چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی؟
پروفیسر یوسف عرفان:یہ مظاہرے جاری رہیں گے ، حتیٰ کہ مارشل لاء آنے کے بعد بھی جاری رہیں  گے کیونکہ اس کھیل کو رچانے والے صہیونی اپنی ایڈوانسمنٹ  جاری کر رکھے ہوئے ہیں ۔آبنائے ہرمز میں امریکہ اپنی ملٹری پاور لے کر آگیا ہے ، قطر میں اس کا سینٹ کام کا اڈا ہے جہاں سے پورے علاقے کو کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ یہ پورے خطے کو کمزور کرکے اسرائیل کی جھولی میں ڈالنے کا کھیل ہے ۔ پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں ، اسے گوادر کو بھی بچانا ہے ، بھارت کو بھی جواب دینا ہے ۔
رضاء الحق:میں سمجھتا ہوں کہ یہ پورا سرکل مکمل کر کے اس جگہ پر آئے گا جہاں پر پہلی جنگ عظیم کا اغاز ہوا تھا اورامریکی حکام پہلے ہی صلیبی جنگ کا نام لے رہے ہیں اور احادیث میں بھی ایک بڑی جنگ کیخبر موجود ہے۔ مسلمانوں کے لیے نجات کا واحد راستہ یہ ہےکہ وہ متحد ہو جائیں ۔ دوسرا یہ کہ اپنے مقصد کو سمجھیں، اگر آپس میں لڑتے رہیں گے تو دشمن کا مقصد پورا ہو جائے گا ۔ تیسرا قدم ہمیں یہ اٹھانا چاہیے کہ اپنی نوجوان نسل کو آنے والے حالات سے باخبر کریں جن کو احادیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ ساتھ ساتھ نوجوان کے مسائل حل کرنے اور ان کی محرومیوں کو دورکرنے کی بھی کوشش کریں ۔ احادیث مبارکہ میں خبریں موجود ہیں کہ اس خطے نےآخری زمانے میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے ۔ اسی خطے سے حضرت مہدی کی نصرت کے لیے بھی لوگ نکلیں گے اور پھر یروشلم پر صہیونی قبضہ ختم کروانے کے لیے بھی سیاہ جھنڈوں والے لشکریہیں سے نکلیں گے ۔ دجال کا خاتمہ ہوگا اور اسلام پوری دنیا پر غالب ہوگا ۔ اس میں ہمارا کیا کردار ہوگا ،ہمیں اس کی فکر اور تیاری کرنی چاہیے ۔