(کارِ ترقیاتی) …اسے بھی پڑھا کرو! - عامرہ احسان

13 /

…اسے بھی پڑھا کرو!

عامرہ احسان

نیا کچھ بھی نہیں۔ جنگیں ، احتجاجی مظاہرے ، ملکوں ملکوں نوجوان احتساب کے پھریرے لہراتے، تھکے ٹوٹے استحصال زدہ عوام کی آواز بن کر ہنگامہ زن ہیں۔ فرانس سرِ فہرست ہے۔ جنگ زدہ ملک لگ رہا ہے۔ 18 ستمبر سے ہائی سکول اور پھر یونیورسٹی طلباء کے تعلیمی وسائل کی فراہمی پر بے توجہی اور ابتری سے مظاہرے شروع ہوئے۔ اسی دوران ایندھن کی کمی، مہنگائی، بدعنوانی پر 15 ستمبر سے احتجاج شروع تھا۔ ستمبر کے اواخر تک اس میں اساتذہ ،  ٹریڈ یونین افراد ، ’ییلو ویسٹ‘ (پیلی کوٹی) نامی تحریک ، (جو عوام کے لیے مصارفِ زندگی،اخراجات) میں اضافہ ، معاشی عدم مساوات پر 2018ء میں اٹھی تھی۔) سبھی شامل ہو کر 17 اکتوبر تک ایک شدید طوفانی صورت اختیار کر گئی۔ 8 لاکھ افراد درجنوں شہروں میں تحریک کا حصہ بن گئے۔2400 گرفتار ، ایک ہزار پولیس والے زخمی، پولیس پر پتھراؤ ، بو تلاؤ (پٹرول بھری بوتلیں دے ماریں۔) گھیراؤ ، جلاؤ ، لوٹ مار ، 1500 بزنس( تجارتی مقامات ، دوکانیں) تباہ ، کروڑوں یورو کا نقصان۔  جلی ہوئی سائیکلیں ، کوڑے کے جلے ہوئے ڈبے ، سیاحتی دفتر، ایک تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش کر کے تباہ کر ڈالا، آگ کے شعلوں میں گھرا۔ جس پر ایک جلے بھنے کا تبصرہ تھا کہ ’یہ دو مرتبہ کی جنگ ِعظیم سہہ گیا مگر رات بھر میں ’اسلام‘ کی بھینٹ چڑھ گیا!حالانکہ ٹائون ہال کے جلانے یا فرانسیسی  غم و غصے کے کھولائو میں اسلام کیسے آن ٹپکا؟ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مغرب میں ہر بلا اور تہمت فرانس ہو یا امریکہ ، سیدھی اسلام اور مسلمان پر جا لگتی ہے۔ مغربی بد معاش خونخوار ، استعماری مزاج گروہ صاف بچ نکلتے ہیں۔ 
امریکہ اسرائیل کی چھڑی جنگوں کے ہاتھوں تمام مغربی ممالک کے وسائل اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل میں مسلسل 3 سال سے جھونکے جارہے ہیں۔ رہی سہی کسر، گریٹر اسرائیل بنانے میں مشرقِ وسطیٰ کو جنگی مرکز بنا لیا۔ ایران پر جنگ نے اسے وہاں اٹھا کھڑا کیا۔ ہر مز اور پھر یمنی باب المندب پر ایندھن کے بحران آکھڑے ہوئے۔ مغربی ملکوں کے حکمرانوں کی سیاست اور جنگجوئی کے شوق نے عوامی سہولتیں ناپید کر دیں۔ اب یہ تو ہونا تھا! مگر   موردِ الزام مسلمان اور اسلام ٹھہرے!
لگے ہاتھوں ٹرمپ نے اپنے متکبرانہ ’اپار تھائیڈ‘ نفرت بھرے لہجے میں فرانس کو ٹرتھ سوشل پر بھاشن دئیے۔ ’فرانس نے ایک بالکل ’مختلف دنیا‘ سے افراد کے لیے دروازے کھول دئیے۔ انہوں نے ایک عظیم ملک کو تباہ کر دیا۔ بند کر دو اپنی سرحدیں ، قبل اس کے کہ دیر ہو جائے‘۔ ’امیگریشن‘ کے عنوان سے امریکہ میں تارکین وطن (دنیا بھر سے آکر امریکہ آباد ہونے والے) پر باضابطہ ’ICE ‘ نامی ادارے کے ہاتھوں پکڑ دھکڑ جیسی جکڑ بندیوں پر اب فرانس ، بلکہ پورے یورپ کو بھی ابھارا جا رہا ہے۔ اس وقت امریکہ میںماہانہ 50 ہزار گرفتاریاں ملک بھر میں آپریشنز میں ہو رہی ہیں۔ گھروں ، ہسپتالوں ، ایئر پورٹوں کے گیٹ ، ٹریفک سٹاپوں پر چھاپے پڑرہے ہیں۔ 
ٹرمپ نومبر انتخابات جیتنے کی دھن میں دیوانہ وار خوف کی لہر تارکینِ وطن پر طاری کر کے خود کو امریکی مفادات کا محافظ اور رکھو الا ، اپنی انتہا پسندانہ مہمات سے ظاہر کرنا چاہ رہا ہے۔ حتیٰ کہ امریکی شہریت کے حامل افراد بھی کئی جگہ اس گھیراؤ میں آئے۔ انہی تارکین ِوطن نے حقیر شہری خدمات، کمترین عوضانہ پر کام کر کے امریکی ترقی میں حصہ ڈالا۔ ڈاکٹروں ، پڑھے لکھے تارکین نے ٹیکسیاں چلائیں ، ہوٹلوں ، تعمیرات میںجابجا مزدوریاں کیں۔ مقامی حکومتوں (نیویارک) میں اس رویے پر شدید ناگواری دیکھ کر ICEکو کارروائیاں خاموشی سے پسِ پردہ ، زیر زمین کرنی پڑیں۔ وہی طریقِ کار جو اصلاً متعصبانہ فار رائٹ گروہوں کا خاصہ ہے ، اب امریکہ، فرانس میں یہی سب پیدا کرنے کے درپے ہے۔ وہاں فار رائٹ سر گرم اور ٹرمپ ہی کی بولی بول کرصدر میکرون کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ خود امریکہ روزِ اول سے ریڈ انڈین قبائل کی سرزمین پر دھاوا بول کر یورپی تارکینِ وطن کے قبضے سے وجود میں آیا، ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ‘ بنا ہے۔
ٹرمپ جب اپنے دورِ حکومت میں جابجا اپنے اصل پیشے ، (رئیل اسٹیٹ) کے مطابق دنیا بھر میں خوبصورت ساحلی علاقوں پر نظریں جمائے رہا۔ اب (مسلم اکثریتی ملک) البانیہ پر بھی افتاد ہے۔ اگر چہ وہاں بظاہر پُر تشدد مظاہرے یونیورسٹیوں کی بد حالی، بدعنوانی اور نہایت مہنگی تعلیم کی بنا پر ہیں۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ہے۔ مگر دور پار سے امریکہ انہیں صبر و تحمل سے کام لینے کو کہہ رہا ہے۔ جبکہ پسِ پردہ اصل کہانی تو کئی ہفتوں سے جاری ٹرمپ کی بیٹی ایونیکا اورکشنر (یہودی داماد) کے ساحلی ’سازان جزیرے پر لگژری (پر تعیش) تفریح گاہ بنانے کی ہے۔ یہ خوبصورت لمبی گردن ، لمبی ٹانگوں والا سرخ پرندہ لم ٹھنگو(Flamingo )، خوبصورت قیمتی صنوبر کے درختوں اور کچھوؤں کا ٹھکانہ؍مرکز ہے۔ وہاں کی دیہاتی آبادی ششدر رہ گئی۔ 81 سالہ کونومی چلایا کہ ایک روز سیاہ یونیفارم والے یکایک خار دار تاریں میری زمین پر لگائے کھڑے تھے، سمندر کنارے ، انہوں نے مجھے اس پر قدم رکھنے سے روک دیا۔ مالک بلبلا اٹھا۔ اب انکشاف ہو رہا ہے کہ میری زمین پر لگژری تفریح گاہ بن رہی ہے۔ میں تو بندوق لے کر مارنے پر تلا کھڑا تھا۔ مغربی کنارے کے اسرائیلی آبادکار آگئے یہاں بھی؟  ملٹی بلین یورو کا پرا جیکٹ ہماری قیمتی زمین پر؟ دیہاتیوں ، مالکان کو معاوضہ، زرِ تلافی تک نہ دیا گیا ! یورپی یونین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جنگلی حیات پر اثرات ہوں گے۔ (مقامی دیہاتی بھی ’جنگلی حیات‘ ہی کا حصہ ہیں!)
  اسرائیل کی غزہ پر حسب ِسابق جارحیت جاری ہے۔ مغربی کنارے پر فلسطینیوں کو زیتون کی کٹائی کے موسم میں ہمیشہ سے کہیں زیادہ تشدد اور لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا، یہودی آباد کار؍قبضہ کاروں کے ہاتھوں۔ 200 حملے ، جسمانی تشدد ، آنسوگیس، فصل اور سازوسامان کی چوری، ہزاروں زیتون کے درختوں کو اکھاڑ دیا یا جلا ڈ الا۔ DW رپورٹ کے مطابق آباد کاروں نے نہ صرف  فلسطینی بلکہ یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر بھی حملہ کیا۔ مغربی کنارے پر انہی کا ایک فرانسیسی میئر مارا پیٹا بھی گیا۔ ایک امریکی صحافی بھی زخمی ہوا۔ان واقعات پر امریکی اور یورپ سے شدید احتجاج آیا۔ اسرائیل سے کہا، مارکو روبیو نے کہ انہیں روکو! (کیا فلسطینیوں پر حملوں سے بھی؟)
سعودی عرب پر نہ صرف حوثی حملے ہورہے ہیںبلکہ اس عزم کا مسلسل اظہار ہے ان کے جرنیل کی جانب سے کہ وہ ہمہ نوع حملے جاری رکھیں گے۔ حوثی یمن کے اقلیتی شیعہ ہیں اور خود کو ایرانی مزاحمت کے محور کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ شہریوں کے زیر استعمال سعودی ائیر پورٹوں پر حوثی حملوں سے احرام پوش زائرینِ عمرہ جواب تک ایک بڑے حملے کی زد میں آئے ان میں 12 افراد شہید اور 309 زخمی ہوئے۔ مصدقہ اطلاعات عمرہ زائرین کی مکمل تو نہیں، تاہم مذکورہ حملے میں بڑی تعداد احرام پوش ہی تھی۔ تاحال   بنگلہ دیش کے بڑے عالمِ دین مفتی نصر اللہ البدر کی شہادت حالت ِاحرام میں ہوئی ، اور تقریباً 27 مزید بنگلہ دیشی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے جو انہی کے ساتھی ٹھہرے۔
پاکستان کی ذہنی؍ نفسیاتی صحت کے حوالے سے ہفت روزہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کو (18 اکتوبر) قومی سطح پر پہلا نمائندہ سروے قرار دیا گیا ہے۔ تشویشناک ہے! یہ کہ ہرتین بالغ پاکستانیوں میں سے تقریباً ایک قابلِ تشخیص ذہنی بیماری اور رویے کے    خلل میں مبتلا ہے۔ گویا لاکھوں افراد ملک بھر میں صحت کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔    5 سالہ ریسرچ کا یہ نتیجہ برطانوی میڈیکل جریدے میں شائع ہوا ہے۔ اس کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور جامع ’سٹڈی‘ قرار دیا جارہا ہے۔ بھاری بھر کم مغربی یونیورسٹیوں، اداروں کے نام ہمراہ نتھی ہیں۔
ذہنی صحت کا یہ سروے صرف سیاسی ، حکومتی (ہائبرڈ)، اشرافیہ طبقے کا ہی سروے ہوتاتو ہم بخوشی قبول کر لیتے۔ ملک جن رولر کوسٹر پالیسیوں، فیصلہ سازی سے گزارا جا رہا ہے، عوام الناس تو زبردست ذہنی صحت کے مالک ہیں کہ زندہ ہیں، جی رہے ہیں۔البانیہ، فرانس کی طرح گھیراؤ جلاؤ نہیں کر رہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ  ’وزیر خارجہ‘ کے پی سنبھالنے کا امورِ داخلہ والا کام کر رہے ہیں۔ اور ’وزیر داخلہ بیرون ملک دوروں ، پلاننگ میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر بھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا… آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی پر بھی سب ہنستے مسکراتے ہوا کھا کر جی رہے ہیں کہ اس پر ٹیکس نہیں لگا۔ یہ سروے ہمیں تفنن برطرف، ہتکِ عزت کا احساس دیتا ہے اگر اتنا فخریہ ملک بھر کے حوالے سے بنا کر سامنے رکھا جائے…! انہی سب سے ٹرمپ حکومت اور اسرائیلی حکومت (بمع کا بینہ) سروے کروا دیکھیے۔ پھر اس کی روشنی میں اس کی حقیقت بارے رائے دے سکیں گے۔
لازم نہیں کہ لوگ کریں مدعا بیاں
چہروں پہ جو لکھا ہے ، اسے بھی پڑھا کرو