پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے ’نہلے ‘ پر وفاقی حکومت کا ’دہلا ‘
نعیم اختر عدنان
موجودہ خیبرپختونخوا پاکستان میں شامل چار اکائیوں میں سے ایک اکائی ہے جس کا پرانا نام شمال مغربی سرحدی صوبہ یعنیNorth West Frontier Province تھا یہ نام انگریزی راج سے چلا آرہا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اٹھارویں ترمیم کے بعد 2010ء میںموجودہ نام یعنی خیبرپختونخوا رکھ دیا گیا ، اُس وقت صوبہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی جو پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت تھی۔ امیر حیدر خان ہوتی اس صوبہ کے وزیر اعلیٰ تھے۔ موصوف خاندانی پس منظر کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر اعظم خان ہوتی کے فرزند ، خان عبد الولی خان کے نواسے اور اسفند یار ولی کے بھانجے ہیں ۔صوبہ میں 1988ءسے 1997 ءتک یکے بعد دیگرے
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی حکمرانی رہی۔
2002ء کے عام انتخابات میں پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل MMA کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت کی سربراہی جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ سے وابستہ محمد اکرم درانی کے حصّہ میں آئی ۔واضح رہے جماعت اسلامی بھی اس اتحادی حکومت میں شراکت دار تھی ۔متحدہ مجلس عمل کی یہ صوبائی حکومت پرویز مشرف کے عہد حکومت میں 2002ء سے 2007 ءتک اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کر کے ختم ہو گئی۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ 2008 ءسے 2013 ء تک پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت قائم رہی۔ اکتوبر 2013 ء میں پاکستان تحریک انصاف نے پہلی بار دیگر جماعتوں کے اشتراک سے پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومت بنائی ، اس اتحادی حکومت میں جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی ، عوامی جمہوری اتحاد اور کچھ آزاد اراکین بھی شامل تھے پرویز خٹک کی اتحادی صوبائی حکومت نے بھی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کی۔2018 ءمیں صوبہ کی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت کی لگاتار دوسری مرتبہ حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ اس بار تن تنہا تحریک انصاف نے اپنی واضح اکثریت کی بنا پر حکومت قائم کی۔ اس حکومت کی سربراہی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے محمود خان کو دی گئی۔ یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی دو صوبائی حکومتوں کا دھڑن تختہ خود ہی کردیا یعنی پنجاب اورخیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کو تحلیل کردیا، یوں صوبہ میں نگران حکومت کا سیٹ اپ قائم ہوگیا۔ نگران حکومت کے سربراہ محمد اعظم خان مقرر ہوئے مگر ان کا جلد ہی انتقال ہوگیا تو ان کی جگہ جسٹس ریٹائرڈ ارشد حسین شاہ کا نگران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تقرر کردیا گیا۔ نگران دور آئینی مدت سے تجاوز کر کے طویل ہو گیا۔
بحرحال 2024 ء میں ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تیسری مرتبہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا قیام عمل میں آگیا، یوں اس صوبہ میں تحریک انصاف نے تیسری مرتبہ حکومت قائم بنا کر ہیٹرک کرلی۔ اس مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کا قلمدان علی امین گنڈا پور کو سونپا گیا ۔ موصوف ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ ووٹوں سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب ہوئے۔ موصوف اس سے قبل وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے طور پر بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ وہ اس سے قبل صوبہ کے وزیر مال بھی رہ چکے تھے۔ موصوف اپنی دبنگ شخصیت، شعلہ بیانی اور جذباتی انداز کی باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں۔ موصوف ایسے کردار کی حامل شخصیت ہیں کہ جو وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ’’پنجابی فلموں کے ہیرو مصطفیٰ قریشی ‘‘ کے ہم پلہ ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود وہ ڈیڑھ سال تک ہی صوبہ کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ سکے۔ اکتوبر 2024 ء کو بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے کا مصداق بن گئے۔
اڈیالہ جیل میں قید تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی عقابی نگاہوں نے صوبہ میں فاٹا کے ضم شدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور متحرک شخصیت کے مالک سہیل خان آفریدی کو علی امین گنڈا پور کی جگہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مقرر کردیا۔پرویز خٹک ہوں ، علی امین گنڈا پور ہوں یا سہیل آفریدی سب نے صوبہ کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے تخت ِاسلام آباد کی اشرافیہ پر چڑھائی میں بھرپور طور پر اپنا حصّہ ڈالا۔ پرویز خٹک ، علی امین گنڈا پوراور سہیل آفریدی نے اپنی صوبائی جغرافیائی حدود سے نکل کر پنجاب ، سندھ اور اسلام آباد کو اپنی نگاہوں کا مرکز بنایا جبکہ سہیل خان آفریدی نے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کے بھی طوفانی دورے کئے اور یوں پورے ملک میں اپنے حامیوں کو اسلام آباد پرچڑھائی کے لیے تیار کیا ، جو اُن کا آئینی حق بھی تھا بشرطیکہ وہ پُرا من احتجاج کریں۔
تحریک انصاف کی صوبائی قیادت گویا اسلام آباد کو سومنات سمجھ کر اُسے ’فتح‘ کرنے کے لیے تیار نظر آئی۔
سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت کا تخت نشیں ہوکر لانگ مارچ کاقدم اٹھانا ضروری خیال کیا بقول شاعر ؎
اے خاک نشینوں اُٹھ بیٹھو ،وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے ،جب تاج اچھالے جائیں گے
اعلان کردہ تاریخ میں اگرچہ کچھ تبدیلی کی گئی مگر پھر وہ وقت ان پہنچا جب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کردیا گیااگرچہ یہ لانگ مارچ کئی دنوں تک صوبہ خیبر پختونخوا کی بھول بھلیوں ہی میں بھٹکتا رہا ۔بالآخر دونوں فریق مذاکراتی عمل پر متفق ہوگئے ۔اس دوران پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی اور نوازلیگ کےوزیروں اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ تحریک انصاف کی اعلیٰ ترین قیادت کے مابین مذاکرات کے کئی سنجیدہ اور طویل دور ہوئے مگر مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ ـ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمٰن صاحب بھی اس مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے متحرک ہوئے مگر ’ اے بسا کہ آرزو خاک شدہ ‘کے مصداق یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔فریقین اس ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے نظرآئے ۔ یوں مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے صدر مملکت کے ذریعے ’آئینی آپشن‘ اور ’بھاری بوٹوں کا وزن‘، استعمال کرتے ہوئے صوبہ کے بارہ اضلاع میں ایمر جنسی اور پورے صوبہ میں گورنر راج نافذ کر کے سہیل آفریدی سمیت صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کو معطل کردیا۔ اس طرح سہیل آفریدی کی حکومت جس کا آغاز 15 اکتوبر 2025 ءکو ہوا تھا اس کا اختتام 10 اکتوبر 2026 ءکو ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی جس حکمرانی کا آغاز 2013 ءمیں ہوا تھا اس کا خاتمہ بھی 10 اکتوبر 2026 ءکو عمل میں آگیا ۔ ہمیں اس موقعہ پر ایک روسی کہاوت یاد آرہی ہے جس کے مطابق ’’اس دروازے کو مت کھولو جسے تم بند نہیں کرسکتے ۔‘‘ صوبائی حکومت کی بار بار دارالحکومت پر چڑھائی کے اعلانات اور عملی میدان میں نکلنے کے سیاسی ’نہلے‘ پر وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنرراج کا’دہلا‘ مار دیا۔ اب یہ چوہے اور بلی کا کھیل تو نہ جانے کب تک جاری رہے گا مگر تحریک انصاف کا اقتدار "The Game is over"ـ کے مرحلہ پر آ کر فی الحال قصّہ ماضی بن کر رہ گئی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے اورملک کی حفاظت فرمائے۔آمین یا رب العالمین!