برائیوں کا سدباب کریں !
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
اسلام معاشرے میں سرے سے برائیوں کی پیدائش ہی کوروکناچاہتا ہے اورتمدن کے طورطریقوں کی اصلاح کر کے ان اسباب وذرائع کاسدباب کرتاہے جن سے خرابیاں رونماہوتی ہیں۔ یہ کام اسلام تعلیم وتربیت کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ اس کے لیے تفصیلی احکام قرآن سنت میں موجودہیں جن پرعمل درآمد گھرسے ریاست تک ہرجگہ مطلوب ہے۔ اس تمام تر اہتمام کے باوجودمعاشرے میں برائی رونما ہوجائے تواس کے تدارک کے لیے قانونِ شریعت حرکت میں آتا ہے اور بڑے بڑے جرائم کے لیے عبرت ناک سزائیں دیتا ہے۔ اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ برائی جب دروازہ کھٹکھٹائے تو دروازہ بند کردیا جائے۔ اسلام کے نزدیک اصل دانش مندی یہ ہے کہ برائی کو گھر تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا تصور معاشرتی اصلاح دنیا کے دوسرے تصورات سے ممتاز دکھائی دیتا ہے۔ اسلام صرف جرم کے ارتکاب کے بعد حرکت میں نہیں آتا بلکہ جرم تک پہنچانے والے راستوں کو بھی بند کرتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں کہتا کہ برائی نہ کرو، بلکہ خبردار کرتا ہے کہ برائی کے قریب بھی نہ جاؤ۔قرآن کا حکم ہے:
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَسَآئَ سَبِیْلًاf} (بنی اسرائیل)’’اور زنا کے قریب بھی نہ جانا، بے شک یہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘
یہ صرف ایک گناہ کے بارے میں حکم نہیں، بلکہ اسلامی معاشرتی حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ اسلام جانتا ہے کہ بڑے جرائم اچانک جنم نہیں لیتے۔ پہلے ایک خیال آتا ہے، پھر ایک نظر پڑتی ہے، پھر ایک عادت بنتی ہے، پھر انسان اس کا عادی ہوتا ہے اور بالآخر وہی چیز جرم یا تباہی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اسی لیے اسلام کہتا ہے:راستہ ہی بند کردو! انگریزی کا محاورہ ہے۔ "Nip the evil in the bud"
یعنی برائی کو اس وقت ختم کردو جب وہ ابھی کلی ہے، درخت نہیں بنی۔ اور آج ہمیں اسی حکمت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہاتھ میں دنیا، مگرکون سی دنیا ؟ اس سوال پر غور کیجیے ! آج ایک بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کا علم اس کے سامنے آسکتا ہے، لیکن اسی رفتار سے دنیا بھر کی برائیاں بھی اس کی آنکھوں، ذہن اور کردار تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے، فیملی وی لاگنگ کے نام پر فحاشی کو کنٹرول کرنے اور بعض پلیٹ فارمز کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر غور ایک اہم معاشرتی بحث کو جنم دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزارتِ داخلہ اس معاملے میں متعلقہ اداروں، بشمول پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور پولیس حکام سے مشاورت کا ارادہ رکھتی ہے اور مختلف ممالک کی پالیسیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے یا نہ لگائی جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو برائی کے سیلاب سے کیسے محفوظ رکھیں؟
اسلام برائی کے ہر دروازے کو بند کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا حسن یہ ہے کہ وہ انسان کو صرف سزا کے خوف سے نیک نہیںبناتیں بلکہ اس کے اندر ایسا شعور پیدا کرتی ہیں کہ وہ برائی کی طرف جانے سے پہلے رک جائے۔ اسی لیے اسلام نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا:
{قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ} (النور:30)’’مومن مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔‘‘اور مومن عورتوں کے لیے بھی نگاہوں اور پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام انسانی نفسیات سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بہت سی برائیاں پہلے آنکھ سے داخل ہوتی ہیں، پھر دل تک پہنچتی ہیں، پھر خواہش بنتی ہیں اور بالآخر عمل کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اسی لیے قرآن نے زنا کو صرف حرام قرار نہیں دیا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے ۔ حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہh سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے
فرمایا:’’ ہر انسان کا بدکاری میں حصّہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ۔ ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے۔ پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے۔ منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔‘‘ (مسند احمد)
یہی اصول فحاشی، بے حیائی، جھوٹ، خیانت، حرام کمائی، بدنگاہی اور دیگر معاشرتی برائیوں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ برائی کے درخت کو کاٹنے سے پہلے اس کی جڑوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو بے لگام کیوں چھوڑا جائے؟ سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی شر نہیں۔ اس کے بے شمار مثبت پہلوبھی ہیں۔ تعلیم، تحقیق، دعوت، کاروبار، روزگار، خبر رسانی اور باہمی رابطے کے میدان میں اس نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر اُس چیز کو جس کے کچھ مفید پہلو بھی ہوں بے لگام چھوڑ دینا درست ہے؟
اگر گاڑی کی رفتار کے لیے قانون ہوسکتا ہے، خوراک کے معیار کے لیے ضابطہ ہوسکتا ہے، ادویات کی فروخت کے لیے قواعد ہوسکتے ہیں، بچوں کے اسکولوں میں حفاظتی اصول ہوسکتے ہیں تو پھر ایسی ڈیجیٹل دنیا، جہاں بچے ہر روز گھنٹوں موجود رہتے ہیں، اسے مکمل طور پر بے ضابطہ کیوں چھوڑ دیا جائے؟
آزادی کا مطلب بے قید آزادی نہیں ہوتا ہے۔ جہاں ایک فرد کی آزادی دوسرے فرد، خصوصاً ایک بچے کے بنیادی تحفظ سے متصادم ہونے لگے، وہاں معاشرتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ مناسب حدود مقرر کی جائیں۔
سب سے بڑا سوال کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں؟ بچوں کے بارے میں معاملہ اور بھی حساس ہے۔ ایک بالغ انسان شاید کسی خطرناک مواد کو پہچان سکے، کسی مشکوک شخص سے محتاط رہے یا کسی دھوکے کو سمجھ سکے، مگر ایک کم عمر بچہ ہر مرتبہ ایسا نہیں کرسکتا۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے موجود شخص واقعی کون ہے۔ اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ ایک تصویر یا ویڈیو مستقبل میں کس طرح استعمال ہوسکتی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ بظاہر معصوم گفتگو کے پیچھے کسی استحصال یا بلیک میلنگ کا منصوبہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں تنہا چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی کم عمر بچے کو ایک بڑے شہر کے چوراہے پر چھوڑ کر کہا جائے کہ اپنی حفاظت خود کرنا! یہ والدین کی ذمہ داری بھی ہے، معاشرے کی بھی اور ریاست کی بھی۔
ذرا اس سرگرمی کو ملاحظہ کریں جسے’’فیملی وی لاگنگ‘‘ کہتے ہیں۔ کیاآپ اپنےبچوں کی نمائش کرناچاہتے ہیں؟ آخراس کا مقصد کیا ہے؟ اس پر ہمیں غیر معمولی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ خاندان کی خوشیاں شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں بذاتِ خود کوئی قباحت نہیں۔ لیکن جب بچوں کی نجی زندگی، ان کے جذبات، گھر کے معاملات، معصوم حرکات اور بعض اوقات انتہائی ذاتی لمحات کو مسلسل کیمرے کے سامنے لاکر عوامی تفریح بنا دیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا ہر وہ چیز جسے دکھایا جاسکتا ہے، دکھانا بھی ضروری ہے؟ بچے آج شاید اپنے والدین کے فیصلے کو سمجھنے یا اس پر اعتراض کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔ مگر کل جب وہ بڑے ہوں گے تو کیا وہ اپنی بچپن کی پوری زندگی کو دنیا کے سامنے نشر کیے جانے پر رضامند ہوں گے؟ صرف چند لائکس، فالوورز اور مالی منفعت کے لیے بچوں کی معصومیت کو نمائش کا ذریعہ بنانا ایک ایسا رجحان ہے جس پر معاشرے کو ضرور سوچنا چاہیے۔ بچے تجارتی مال نہیں یہ انسان ہیں۔
برائی کا علاج صرف پابندی نہیں اگرچہ حدود وقیود کی پابندی انسانی معاشرت کا طرہ امتیاز ہے۔ یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کسی عمر کی حد کا تعین کرتی ہے یا کچھ پلیٹ فارمز کو ضابطے کا پابند بناتی ہے تو یہ مسئلے کا صرف ایک حصّہ ہوگا۔ اصل کام تو گھر سے شروع ہوگا۔ والدین کا محض بچوں کے موبائل فون کے استعمال پر ضروری قدغن لگانا کافی نہیں۔ انہیں صحیح اور غلط کا شعور بھی دیں۔ صرف یہ نہ کہیں کہ’’یہ مت دیکھو‘‘، بلکہ یہ بھی سمجھائیں کہ کیوں مت دیکھو۔ صرف نگرانی نہ کریں، اعتماد پیدا کریں۔ صرف پاس ورڈ نہ پوچھیں، بچے کے دل کا حال بھی پوچھیں۔ صرف موبائل چھین لینے کو تربیت نہ سمجھیں، اپنے بچوں کو قرآن، حیا، سچائی، امانت، پاکیزگی اور ذمہ داری کی تعلیم بھی دیں۔قرآن کہتا ہے:
{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}(التحریم:6)’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
یہ آیت والدین کو ایک عظیم ذمہ داری سونپتی ہے۔ ذمہ داری صرف اولاد کے پیٹ کو کھانا اور جسم کو لباس دینا نہیں بلکہ اس کے ایمان، کردار اور اخلاق کی حفاظت اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔
والدین اپنی ذمہ داری ادا کریں، مگر ریاست اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو واضح اور قابلِ عمل قواعد کا پابند بنایا جائے، خصوصاً بچوں کے تحفظ کے لیے۔عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام ہو۔ بچوں کو نشانہ بنانے والے اکاؤنٹس اور نیٹ ورکس کے خلاف فوری کارروائی ہو۔ سائبر بلیک میلنگ اور استحصال کی شکایات کے لیے آسان اور تیز نظام ہو۔ والدین کے لیے آگاہی پروگرام ہوں۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور آن لائن سیفٹی کی تعلیم دی جائے۔ اور اگر کوئی شخص بچوں کے استحصال یا فحاشی کو کاروبار بناتا ہے تو قانون اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔لیکن قانون بنانا کافی نہیں۔ قانون کا نفاذ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اسلام صرف سزا نہیں دیتا، پہلے اصلاح کرتا ہے اور برائی کے ذرائع کو روکتا ہے۔ یہ بھی اسلام کے نظامِ عدل کا ایک اہم پہلو ہے کہ وہ سزا کو اولین علاج نہیں بناتا۔ پہلے ایمان اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ پھر حیا اور اخلاق کی تربیت کرتا ہے۔ پھر خاندان کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر معاشرے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری دیتا ہے۔ پھر برائی کے اسباب اور راستوں کو محدود کرتا ہے۔ اور جب کوئی شخص ان تمام حدود کو پامال کرکے معاشرے کے امن و اخلاق کو نقصان پہنچاتا ہے تو پھر اسلامی نظام سزا اور احتساب کو بھی نظرانداز نہیں کرتا۔ یعنی تربیت بھی، احتیاط بھی، نگرانی بھی، قانون بھی اور احتساب بھی۔یہ ایک مکمل نظام ہے۔
ہمیں صرف سوشل میڈیا نہیں، اپنا معاشرہ بھی درست کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر برائی کے لیے ایک نیا ’’ملزم‘‘ تلاش کرلیتے ہیں۔ کبھی موبائل فون ملزم ہے، کبھی انٹرنیٹ، کبھی ٹی وی، کبھی فلم، اگرچہ یہ سب برائیوں کو جنم دئیےہیں جنہوں روکنا ضروری ہے۔لیکن ہم یہ سوال کم کرتے ہیں کہ گھر کہاں ہے؟ تربیت کہاں ہے؟ حیا کہاں ہے؟ والدین کی نگرانی کہاں ہے؟ معاشرتی ذمہ داری کہاں ہے؟
اگر گھر مضبوط ہو تو ٹیکنالوجی نعمت بن سکتی ہے۔ اگر تربیت مضبوط ہو تو آزادی ذمہ داری بن سکتی ہے۔ اگر ایمان مضبوط ہو تو تنہائی میں بھی انسان اپنے آپ کو روک سکتا ہے۔ اور اگر کردار کمزور ہو تو دنیا کے بہترین قوانین بھی ہر شخص کے پیچھے پولیس نہیں کھڑی کرسکتے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم ’’ردعمل‘‘ کے بجائے ’’پیش بندی‘‘ کریں۔ ہماری اجتماعی پالیسی اکثر اس وقت حرکت میں آتی ہے جب نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔ بچہ متاثر ہوجائے تو کارروائی ہوتی ہے۔ جرم ہوجائے تو ایف آئی آر ہوتی ہے۔ ویڈیو وائرل ہوجائے تو نوٹس لیا جاتا ہے۔ گھر تباہ ہوجائے تو تشویش ظاہر کی جاتی ہے۔ اسلام ہمیں اس سے پہلے بیدار کرتا ہے۔ فتنے کو پھیلنے سے پہلے روکو۔ برائی کو معمول بننے سے پہلے روکو۔ بچوں کو شکار بننے سے پہلے محفوظ کرو۔ یہی "Nip the evil in the bud" کا حقیقی مفہوم ہے۔
آخری اوراہم بات یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا سے آخرت کی طرف ضرور جانا ہے۔ وہاں کے احتساب سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں بڑا کرنا چاہتے ہیں؟ ایسی دنیا میں جہاں ہر چیز فروخت کے لیے ہو؟ جہاں معصومیت بھی ’’کانٹینٹ‘‘ہو؟ جہاں حیا کو رکاوٹ اور بے حیائی کو آزادی کہا جائے؟ یا ایسی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی انسان کی خادم ہو، انسان ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے؛ جہاںشرعی آزادی کے ساتھ ذمہ داری ہو؛ جہاں ترقی کے ساتھ اخلاق ہو؛ جہاں اظہار کے ساتھ حیا ہو؛ جہاں بچوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تربیت بھی ملے؟
سوشل میڈیا کو ختم کرنا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا کو انسان اور معاشرے کے تابع بنانا مقصد ہونا چاہیے۔ اور اس سے بھی بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں برائی کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی کم سے کم ملے۔ کیونکہ اسلام کا پیغام صرف یہ نہیں کہ گناہ ہوجائے تو سزا دو۔ اسلام کا پیغام اس سے کہیں زیادہ حکیمانہ ہے:
گناہ تک پہنچانے والے راستے بند کرو۔ برائی کے دروازے بند کرو۔ حیا کے دروازے کھولو۔ تربیت کے دروازے کھولو۔ اور اگر کوئی پھر بھی معاشرے کے امن و اخلاق کو پامال کرے تو قانون کا ہاتھ اس تک ضرور پہنچے۔
آخر میں سوال سوشل میڈیا کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نسل کے محافظ ہیں یا صرف اس کے تماشائی؟ اگر ہم نے آج برائی کو اس کی ابتدا ہی میں نہ روکا تو کل ہمیں صرف ایک ویڈیو، ایک ایپ یا ایک پلیٹ فارم کا نہیں، ایک پوری نسل کے اخلاقی مستقبل کا نوحہ پڑھنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے برائی کے پھیلنے کا انتظار نہ کیجیے۔اسے سراٹھاتے ہی روک دیجیے۔ یہی اسلام کی حکمت ہے، یہی معاشرتی ذمہ داری ہے، اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کے تحفظ کا تقاضا ہے۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!