(خصوصی رپورٹ) ’’روشن کردار--- روشن معاشرہ‘‘ - ادارہ

13 /
تنظیم ِاسلامی کورنگی شرقی کے زیرِ اہتمام دعوتی مہم 
 
’’روشن کردار--- روشن معاشرہ‘‘
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ط} (الرعد: 11) ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔‘‘
انسانی معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان اپنے کردار و اخلاق کو سنوارتا، اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرتا، اپنے نفس کا تزکیہ کرتا اور اپنی ذاتی زندگی میں اصلاح لاتا ہے، تو اس کے اثرات اس کے خاندان سے ہوتے ہوئے پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ اسی فکر کو اجاگر کرنے کے لیے تنظیم اسلامی کورنگی شرقی کی جانب سے پانچ ہفتوں پر مشتمل ایک خصوصی لیکچر سیریز کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان تھا ’’روشن کردار-روشن معاشرہ۔‘‘
یہ سلسلہ 5 ستمبر تا 3 اکتوبر2026ء ہر ہفتے (بروز ہفتہ) بعد نمازِ عشاء قرآن اکیڈمی کورنگی سے متصل مسجد ِطیبہ، زمان ٹاؤن، کورنگی نمبر 4، کراچی میں جاری رہا۔ لیکچرز پریزنٹیشن کی مدد سے پیش کیے گئے، جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ با پردہ انتظام کیا گیا تھا۔ ہر لیکچر کے اختتام پر تمام شرکاءکو  لیکچر کے مختصر نوٹس اور خود احتسابی کے لیے سوالات بھی دئیے گئے۔ موضوعات سے متعلقہ کتب کا مکتبہ بھی لگایا گیا۔
پہلی نشست: کردار و اخلاقیات
پہلا لیکچر ’’کردار و اخلاقیات‘‘کے عنوان سے ہوا، جس میں مقامی تنظیم اسلامی کورنگی شرقی کے ناظمِ دعوت محترم ارباب صدیقی نے تدریس کی ذِمّہ داری ادا کی۔
سلسلے کا آغاز کردار کی اہمیت، اخلاقی اقدار کی ضرورت اور ایک مسلمان کی عملی زندگی میں حسنِ اخلاق کے مقام سے ہوا۔ مدرّس نے واضح کیا کہ انسان کی شخصیت کا حقیقی حسن ظاہری وضع قطع یا اندازِ گفتگو میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، معاملات، سچائی، امانت داری، ایفائے عہد اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اصلاحِ معاشرہ     کے لیے لازم ہے کہ ہر فرد اپنی ذات سے آغاز کرے۔ اپنے اخلاق کا جائزہ لے اور اپنے قول و فعل میں مطابقت پیدا کرے، کیونکہ مضبوط اخلاقی بنیاد ہی صالح شخصیت اور ذِمّہ دار معاشرے کی ضامن ہے۔یہ بنیادی نکتہ واضح کیا گیا کہ اخلاقیات کے اصولوں کے لیے ہمیں مغربی معاشروں سے بنیادیں اور راہنمائی اخذ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی مغربی معاشروں کے کھوکھلے پن کو بھی اجمالاً واضح کیا گیا۔
•دوسری نشست: ایمان اور نفاق – کردار کی دو بنیادیں
سیریز کا دوسرا لیکچر’’ ایمان اور نفاق – کردار کی دو بنیادیں ‘‘کے موضوع پر ہوا،   جس میںناظمِ تربیت تنظیمِ اسلامی حلقہ کراچی جنوبی محترم ڈاکٹر محمد الیاس نے تدریسی    ذِمّہ داری ادا کی۔
اس نشست میں اللہ تعالیٰ سے تعلق کی مضبوطی، ایمان کی پختگی اور باطنی قوت کی اہمیت زیرِ بحث آئی۔ واضح کیا گیا کہ ظاہری اصلاح اور اخلاقی استحکام کے لیے باطن کی درستگی ناگزیر ہے۔ اللہ پر پختہ ایمان، اللہ کا ذکر، اس پر توکل اور اس کے احکام کی پابندی انسان کو زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ محض اخلاقی اصولوں سے واقفیت کافی نہیں؛ ان پر استقامت کے ساتھ عمل کے لیے مضبوط ایمانی بنیاد درکار ہے۔ جب انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہوتا ہے تو اس کی ترجیحات، فیصلوں اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
ساتھ ہی تقابل کے طور پر نفاق کی حقیقت، خباثتیں اور اس کے علاج پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ لیکچر کا ربط لیکچر سیریزکے عنوان سے یہ بات سمجھا کر قائم کیا گیا کہ ایمان بہترین سیرت و کردار کی بنیاد بنتا ہے اور نفاق کس طرح انسان کے ظاہر و باطن کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔
•تیسری نشست:’’تزکیۂ نفس -  ترکِ رذائل و اکتسابِ فضائل‘‘
تیسرا لیکچر’’تزکیۂ نفس : ترکِ رذائل و اکتسابِ فضائل‘‘کے عنوان سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس موضوع پر تدریس کی ذِمّہ داری محترم ارباب صدیقی نے نبھائی۔
اس نشست میں انسان کی داخلی اصلاح، اپنی خامیوں کی شناخت، نفس کا محاسبہ اور شخصیت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر گفتگو کی گئی۔ تزکیہ ٔنفس نام ہے نفسِ امارہ سے    نفس ِمطمئنہ کے اس مسلسل سفر کا کہ جس میں انسان  ایک مالی کی طرح خود احتسابی، درون بینی اور قرآن و صاحبِ قرآنؐ سے مضبوط تعلق نیز معرفت ِ الٰہی کے ذریعے اپنے دل کی زمین   کو اخلاقی رذائل مثلاً تکبر، حسد، خودپسندی، غصے اور دیگر اخلاقی کمزوریوں سے پاک  کرنے کی مسلسل کوشش کرتا ہے اور اخلاقی فضائل مثلاً صبر، اخلاص، عاجزی، شکر اور تقویٰ    کو اپنی شخصیت کا حصّہ بنانے کی فکر کرتا ہے۔ اپنی اصلاح کا یہ مسلسل عمل انسان کو بہتر فرد بناتا ہے اور اس کے معاملات، تعلقات اور ذِمّہ داریوں کی ادائیگی پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ تزکیہ ٔنفس کے خانقاہی منہج اور نبویؐ منہج کا اجمالی تقابل بھی کیا گیا۔
•چوتھی نشست:’’گھر کو جنت کیسے بنائیں؟‘‘
لیکچر سیریز کا چوتھا موضوع’’خاندان اور گھر‘‘تھا، جس پر تنظیم اسلامی زون جنوبی کے نائب ناظمِ اعلیٰ، محترم انجینئر نعمان اخترنے نہایت عمدہ انداز میں گفتگو فرمائی۔
اس نشست میں فرد کی اصلاح کے اثرات کو گھر اور خاندان تک وسعت دی گئی۔ مدرّس نے نہایت عمدہ انداز میں واضح کیا کہ گھر محض رہائش گاہ نہیں بلکہ تربیت، کردار سازی اور اخلاقی نشوونما کا بنیادی مرکز ہے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول محبت، احترام، اعتماد، حسنِ سلوک اور دینی اقدار سے آراستہ ہو، جس کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات، والدین کی ذِمّہ داریوں اور اولاد کے کردار پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اہلِ خانہ ایک دوسرے کے حقوق پہچانیں، فرائض خوش دلی سے ادا کریں اور اختلاف کی صورت میں حکمت، تحمل اور خیرخواہی سے کام لیں۔ ایسے ہی بابرکت گھرانے آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت اور صالح معاشرے کی تعمیر کی بنیاد بنتے ہیں۔ 
•پانچویں نشست:’’میرامعاشرہ- میری اجتماعی ذِمّہ داری‘‘
سلسلے کا پانچواں اور آخری لیکچر’’میرا معاشرہ۔ میری اجتماعی ذمہ داری‘‘کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں تنظیم اسلامی حلقہ کراچی جنوبی کے مشیر ِ دعوت محترم عامر خان نے گفتگو فرمائی۔ آخری نشست میں فرد اور خاندان سے آگے بڑھ کر معاشرے میں مثبت کردار کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ سورۃ بنی اسرائیل کے رکوع نمبر تین اور چار اور سورۃ الحجرات کے دروس کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا کہ ایک مسلمان کی ذِمّہ داری اپنی ذات یا گھر تک محدود نہیں، بلکہ اسے اپنے گرد و پیش اور پورے معاشرے کی بہتری کے لیے فکرمند ہونا چاہیے۔ خیرخواہی، باہمی تعاون، حقوق العباد کی ادائیگی، امربالمعروف و نہی عن المنکر اور اجتماعی بھلائی کی جدوجہد اس ذمہ داری کے بنیادی پہلو ہیں۔ نشست کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ انفرادی اصلاح کا حقیقی ثمر تب ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنی صلاحیتیں، اخلاق اور عملی جدوجہد معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کر دے۔ ہر فرد معاشرتی اقدار کو فروغ دے اور معاشرتی برائیوں کی بیخ کنی کرے۔ یوں صالح فرد سےصالح خاندان اور صالح خاندانوں سے صالح معاشرے وجود میں آئیں گے۔
تنظیم اسلامی کورنگی شرقی کی یہ پانچ ہفتوں پر مشتمل لیکچر سیریز اس اعتبار سے اہم تھی کہ اس میں اصلاحِ معاشرہ کے مختلف مراحل کو ایک مربوط ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پہلے کردار و اخلاقیات کے ذریعے فرد کی اخلاقی بنیاد مضبوط کرنے، پھر ایمان اور  اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ذریعے باطنی قوت پیدا کرنے، اس کے بعد تزکیۂ نفس اور اصلاحِ ذات کے ذریعے شخصیت کو سنوارنے، پھر خاندان اور گھر کے ماحول کو بہتر بنانے اور بالآخر سماجی ذِمّہ داری کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ تمام موضوعات دراصل ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ مضبوط ایمان، اچھا کردار اور تزکیۂ نفس ایک بہتر شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں؛ بہتر شخصیت ایک اچھے خاندانی ماحول کی بنیاد بنتی ہے؛ اور صالح خاندان ایسے افراد تیار کرتا ہے جو معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکچرز میں مدرسین کے تنوع نے اس سیریز کے حسن و معنویت میں ہمہ جہتی اضافہ کیا۔
اس لیکچر سیریز کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ معاشرے میں تبدیلی کی خواہش کو عملی شکل دینے کے لیے فرد کی اصلاح سے آغاز کرنا ضروری ہے۔ محض مسائل کی نشاندہی یا دوسروں سے تبدیلی کی توقع رکھنے کے بجائے ہر انسان کو اپنی ذات، اپنے اخلاق، اپنے رب سے تعلق، اپنے گھر اور اپنی معاشرتی   ذِمّہ داریوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ’’روشن کردارروشن معاشرہ‘‘محض ایک عنوان نہیں، بلکہ اصلاح و تعمیر کا ایک جامع تصور ہے؛ ایسا تصور جو انسان کو اپنی ذات سے آغاز کرتے ہوئے خاندان اور معاشرے کی بہتری تک لے جاتا ہے۔   بقول علامہ اقبالؒ:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس دعوتی  و تربیتی کاوش کو قبول فرمائے، اس کے ذریعے شرکاء کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا فرمائے اور ہم سب کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں دین ِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(مرتب: حافظ ارسلان احمد خان ،نقیب ِاسرہ، مقامی تنظیم کورنگی شرقی)