(گوشۂ اطفال) تاریخ ِ اسلام کے عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ - حسیب آصف شیخ (معاون مرکزی شعبہ نشرواشاعت)

13 /

تاریخ ِ اسلام کے عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ

حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

 
سر آصف: کلاس! آج ہم ایک انتہائی دلچسپ موضوع پر بات کریں گے۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کا سب سے پسندیدہ سپر ہیرو کون ہے، تو آپ کس کا نام لیں گے؟
علی: سر! ظاہر ہے سپرمین، آئرن مین، یا بیٹ مین! ان کے پاس حیرت انگیز طاقتیں ہیں، وہ آسمانوں میں اڑ سکتے ہیں، ان کے پاس لیزر گنز ہیں اور وہ دنیا کو بڑے سے بڑے خطرات سے بچاتے ہیں۔
حمزہ: جی سر! اور آئرن مین کا ہائی ٹیک سوٹ تو کمال کا ہے، اس کے بغیر تو کسی سپر ہیرو کا تصور ہی ممکن نہیں۔
سر آصف: (مسکراتے ہوئے) علی اور حمزہ! جن ہیروز کا آپ نے نام لیا، وہ سب خیالی کردار ہیں۔ عملی زندگی میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگرواقعی اس دنیا میں ایک ایسا سپر ہیرو موجود ہو جس نے بغیر کسی جادوئی سوٹ، بغیر اڑنے کی طاقت اور بغیر کسی خیالی ٹیکنالوجی کے، صرف اپنے کردار، شجاعت اور ایمان کے بل بوتے پر دنیا کا نقشہ بدل ڈالا ہو؟
بلال: سر! کیا واقعی تاریخ میں ایسا کوئی حقیقی سپر ہیرو گزرا ہے؟ وہ کون تھے اور انہوں نے ایسا کیا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا تھا؟
سر آصف: بلال! میں بات کر رہا ہوں تاریخِ اسلام کے عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒکی! ایک ایسا سپر ہیرو جس کی زرہ اس کا تقویٰ تھی، جس کی تلوار اس کا ایمان تھی، اور جس کا سپر پاور اس کا لاثانی عدل اور رحم دلی تھا۔ نو سو سال پہلے، جب بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ تھا اور امتِ مسلمہ بکھری ہوئی تھی، تب سلطان ایوبی  ؒ ایک نجات دہندہ بن کر ابھرے۔
علی: لیکن سر! آئرن مین اور سپرمین کے پاس تو سپر پاورز ہوتی ہیں۔ سلطان ایوبی  ؒکی سپر پاور کیا تھی؟
سر آصف: علی! ایک سچے اور حقیقی سپر ہیرو کی سب سے بڑی طاقت اس کا ’’ایمان‘‘ اور ’’رب پر کامل یقین‘‘ ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔‘‘ (سورہ آل عمران) یہی قرآنی فلسفہ سلطان ایوبی  ؒ کا اصل ہتھیار تھا۔ جب دنیا کی تمام طاقتیں اور صلیبی افواج مسلمانوں کو مٹانے کے درپے تھیں، تب سلطان ایوبی  ؒنے قوم کو یکجا کیا۔ ان کی سپر پاور یہ تھی کہ وہ میدانِ جنگ میں دشمن کے سامنے لوہے کی دیوار بن جاتے تھے اور راتوں کو اپنے رب کے حضور رو رو کر دعا کیا کرتے تھے۔ وہ دشمن سے نہیں ڈرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عزت اور فتح صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
 سلطان ایوبی  ؒ کی جنگی حکمتِ عملی اور شجاعت کے سامنے دنیا کا کوئی خیالی ہیرو نہیں ٹھہر سکتا۔ معرکہِ حطین اس کی روشن مثال ہے۔ اس جنگ میں سلطان نے اپنی عسکری بصیرت سے وقت کی سب سے بڑی متحد صلیبی فوج کو گھیر کر ایسی تاریخ ساز شکست دی کہ پورا یورپ کانپ اٹھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک مومن کی حقیقی طاقت اس کے بلند حوصلے اور شجاعت میں ہوتی ہے۔
بلال: سر! ہم فلموں میں دیکھتے ہیں کہ سپر ہیرو جب دشمن کو ہراتا ہے تو سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ فتحِ بیت المقدس کے وقت سلطان ایوبی  ؒنے دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
سر آصف: بلال! یہی وہ مقام ہے جہاں سلطان     صلاح الدین ایوبی  ؒ کا کردار کسی بھی خیالی سپر ہیرو سے یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ جب 1099ء میں صلیبیوں نے پہلی بار بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا، تو انہوں نے مسلمانوں کا اس قدر بے دریغ قتل عام کیا تھا کہ تاریخ لکھتی ہے کہ شہر کی گلیوں میں گھوڑوں کے گھٹنوں تک خون تھا۔ نوے سال بعد، جب سلطان ایوبی  ؒ نے بیت المقدس کو دوبارہ فتح کیا، تو ان کے پاس موقع تھا کہ وہ ماضی کا حساب برابر کرتے اور اپنے دشمنوں سے خونریز انتقام لیتے، لیکن اس سپر ہیرو نے کیا کیا؟
علی: سر! کیا انہوں نے تمام دشمنوں کو قید کر لیا یا سزا دی؟
سر آصف: نہیں علی! سلطان نے ایک بھی غیر مسلح شخص پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے تمام عیسائیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا! جو شہر چھوڑ کر جانا چاہتا تھا اسے حفاظت سے گھر پہنچایا گیا، غریبوں اور بیواؤں کے فدیے کی رقم سلطان نے اپنی جیب سے ادا کی، اور حتیٰ کہ اپنے بدترین دشمنوں کے بچوں اور عورتوں پر بھی شفقت کا ہاتھ رکھا۔ یہ عمل نبی کریمﷺ کی فتحِ مکہ کی عظیم سنت کی یادگار تھا، اور سلطان نے حدیثِ نبوی ؐپر حرف بحرف عمل کر دکھایا کہ ’’رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘ (جامع ترمذی)۔ اس رحم دلی نے عیسائیوں کو بھی ان کے اخلاق کا گرویدہ بنا دیا۔
حمزہ: واہ سر! واقعی طاقت کے عروج پر اپنے غصے اور انتقام پر قابو پانا ہی اصل سپر پاور ہے۔
سر آصف: بالکل حمزہ! اسی بات کے بارے میںرسول اللہ ﷺ 
نے فرمایا تھا: ’’پہلوان وہ نہیں جو اپنے مخالف کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل پہلوان اور طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔‘‘(صحیح بخاری) سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ صرف میدانِ جنگ کے ہیرو نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھنے والے اخلاق کے بھی سپر ہیرو تھے۔
بلال: سر! کیا سلطان ایوبی ؒکے پاس بھی شاہی محلات،   مال و دولت اور بڑی بڑی گاڑیاں تھیں؟
سر آصف: بلال! یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ آج کے خیالی ہیروز کے پاس اربوں ڈالرز کے بنگلے اور ٹیکنالوجی ہوتی ہے، لیکن دنیا کے اتنے بڑے فاتح اور مصر و شام کے حکمران، سلطان ایوبی  ؒکے پاس اپنا کوئی محل نہیں تھا۔ وہ زیادہ تر وقت میدانِ جنگ میں ایک معمولی خیمے میں گزارتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اپنے لیے نیا لباس نہیں بنوایا اور نہ ہی مال و دولت  کی ہوس کی۔ حدیثِ نبوی ((خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ)) ’’بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو نفع پہنچائے۔‘‘کی زبردست تصویر تھے۔
علی: سر! جب ان کا انتقال ہوا تو کیا ہوا؟
سر آصف: علی! یہ بات سن کر ہر انسان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ کا انتقال ہوا، تو اس عظمت والے حکمران کے خزانے میں کل ملا کر صرف 47 درہم اور ایک دینار ملا! ان کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ ان کی تدفین اور کفن کا خرچ اٹھایا جا سکے، ان کے کفن کا انتظام ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے قرض لے کر کیا۔ انہوں نے اپنی تمام تر دولت غریبوں، یتیموں اور مظلوموں میں بانٹ دی تھی۔ انہوں نے دنیا کو سکھایا کہ سچا ہیرو وہ نہیں جو دنیا سے سمیٹتا ہے، بلکہ سچا ہیرو وہ ہے جو سب کچھ قربان کر کے دوسروں کو زندگی دیتا ہے۔
حمزہ: سر! واقعی ہم تو اب تک خیالی دنیا کے نقلی ہیروز پر وقت ضائع کر رہے تھے، اصل اور سچے سپر ہیرو تو ہمارے اپنے سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ ہیں۔
سر آصف: سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہمارے دل میں اللہ کا خوف، قرآنی تعلیمات کا پاس، نبی کریم ﷺ کی سنت کا اتباع اور مظلوموں کا درد ہو، تو ہم میں سے ہر انسان اپنے شعبے میں اور اپنے معاشرے میں ایک ایسا ہیرو بن سکتا ہے جو دنیا کو بہتر اور خوبصورت بنا دے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ جیسی جرأت، ایمان اور اعلیٰ اخلاق عطا فرمائے۔ آمین!