(حالاتِ حاضرہ) اخبار اسلام - خالد نجیب خان

13 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی جنگ نے غزہ کے بچوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق، بچوں کی ایک پوری نسل بے گھری، خوف، اپنوں کی جدائی اور معذوری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایک بینر پر 18 ہزار سے زائد شہید فلسطینی بچوں کے نام اور تصاویر درج کیے جانے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جو جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کے المناک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 1511 فلسطینی شہید اور 5375 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2023ء سے اب تک مجموعی شہادتوں کی تعداد 74475 اور زخمیوں کی تعداد 175517 ہوگئی ہے۔ فلسطینی وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مطابق، اسرائیلی حکام نے اکتوبر 2026ء کے دوران مقبوضہ بیت المقدس اور اُس کے مشرقی اطراف میں یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے 1080 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے دو ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔جن میں شمالی بیت المقدس کی بستی بسغات زئیو میں 730 یونٹس اور معالیہ ادومیم میں بزرگ شہریوں کے لیے 350 یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔ دوسری جانب مسجدِ اقصیٰ کے موجودہ مذہبی انتظام اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ 1967ء کے بعد مسجدِ اقصیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں، یہودی آبادکاروں کے دھاووں اور مذہبی رسومات کے ذریعے نئی صورتِ حال مسلط کرنے کی کوششوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم میں اس خدشے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کا مقصد محض مذہبی تقریبات نہیں بلکہ مسجدِ اقصیٰ کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنا بھی ہے۔سابق اسرائیلی رکنِ کنیسٹ کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے مقام پر تیسرے ہیکل کی تعمیر کے منصوبے کی وضاحت نے ان خدشات کومزید بڑھا دیا ہے۔
l فلسطینی قیدیوں سے متعلق اطلاعات میں بعض اسیران کے وزن میں 30 سے 40 کلوگرام تک کمی، باسی اور آلودہ خوراک کی فراہمی اور صاف پانی و ضروری ادویات کی قلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ عوفر، مجدو، نقب اور جینوت جیلوں میں خارش کی وبا پھیلنے، صفائی کی اشیاء اور ادویات کی عدم دستیابی اور متاثرہ قیدیوں کو مناسب طبی امداد نہ ملنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایتمار بن گویر کی موجودگی میں عوفر جیل میں قید فلسطینی ڈاکٹر مروان الحمص کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اُن کی ہڈیوں میں فریکچر اور کمر میں شدید درد کی شکایات سامنے آئیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طبی عملے کے 82 ارکان نامساعد حراستی حالات میں قید ہیں۔
l فلسطینی مصنفہ عزت جمال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کو محدود انداز میں کھولنے کے باوجود سفر کے منتظر 36800 افراد میں سے صرف 14000 سفر کر سکے، جبکہ امداد اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کی شرح 38 فیصد رہی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے نام نہاد زرد لکیر کو آگے بڑھانے اور غزہ کے محدود حصے میں فلسطینیوں کو محصور رکھنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ غزہ کی تباہ شدہ آبادی کو پانی، بجلی، نکاسیٔ آب، طبی سہولتوں، رہائش اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں

l ایران، امریکہ: یاہو امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے:عراقچی : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یاہو اپنے خلاف مقدمات اور جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہا ہے ۔ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صدر پزشکیان کاکہنا ہے کہ ایران کسی جارح قوت کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ سے نمٹنے کے معاملے میں متعدد غلطیوں اور ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی میں خامیاں موجود تھیں اور بعض اوقات اہم معلومات ان تک نہیں پہنچ پائیں۔
l آذربائیجان:اسرائیلی صدر کی تقریر پر دس ممالک کا واک آؤٹ: دارالحکومت باکو میں ایشیائی تعاون و اعتماد سازی کانفرنس (سیکا) کے سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر ہرزوگ کی تقریر شروع ہوتے ہی پاکستان، ترکیہ، بنگلہ دیش سمیت دس ممالک کے نمائندوں نے واک آؤٹ کیا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان بھی اپنے وفد کے ہمراہ اجلاس سے باہر چلے گئے۔ یہ اقدام غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر سامنے آیا۔ اجلاس میں باکو اعلامیہ بھی منظور کیا گیا۔
l پاکستان :ایران کے خلاف سرزمین استعمال ہونے کی خبر بے بنیاد ہے: پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کو بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیا ہے کہ امریکی بحریہ پاکستانی اجازت سے پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔
l بھارت : مودی کی رہائش کے قریب سو سالہ قدیم مسجد شہید کرنے کا منصوبہ: نئی دلی میں ریس کورس کے علاقے میں سو سال پرانی مسجد کو شہید کرنے کے لئےخالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ریس کورس مسجد 1977ء سے سرکاری گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج اور تاریخی ورثے میں شامل ہے۔ حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا تو دوسری مساجد کے لیے کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے۔
l ترکیہ:مکہ دفاعی معاہدہ بل ترک پارلیمنٹ میں پیش: ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں مکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا۔ متن کے مطابق تینوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع فوجی معاونت انٹیلی جنس کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون کے پابند ہوں گے۔ کسی مخصوص ملک یا خطے کو خطرے کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شریک ملک کی آزادی خود مختاری یا علاقائی سالمیت پر حملے کی صورت میں تمام فریق ایک دوسرے کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔16 شقوں پر مشتمل معاہدے کی کوئی مقررہ معیاد ختم ہونے کی تاریخ نہیں ہے ۔
l مصر:صدر السیسی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان: مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی صدارتی مدت 2030ء میں ختم ہوجائے گی، اس کے بعدوہ عہدے سے الگ ہوجائیں گے اور اس معاملے پر بحث نہیں ہوگی نہ ہی آئین میں کوئی ترمیم کی جائے گی۔