عبادت کی مٹھاس کہاں سے ملتی ہے؟
حق گوئی، نیک صحبت اور آخرت کی فکر
شوکت اللہ شاکر
عبادت صرف نماز، روزے اور تسبیحات کا نام نہیں، بلکہ اس کا اثر انسان کے اخلاق، کردار اور روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ سچی عبادت انسان کو سچ بولنا، دوسروں کے حقوق ادا کرنا، برائی سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر ترجیح دینا سکھاتی ہے۔مشہور بزرگ حضرت احمد بن حرب رحمہ اللہ کا ایک قول ہماری اصلاح کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
عَبَدْتُ اللّٰهَ خَمْسِينَ سَنَةً، فَمَا وَجَدْتُ حَلَاوَةَ الْعِبَادَةِ حَتَّى تَرَكْتُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ: تَرَكْتُ رِضَا النَّاسِ حَتَّى قَدَرْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَتَرَكْتُ صُحْبَةَ الْفَاسِقِينَ حَتَّى وَجَدْتُ صُحْبَةَ الصَّالِحِينَ، وَتَرَكْتُ حَلَاوَةَ الدُّنْيَاحَتَّى وَجَدْتُ حَلَاوَةَ الْآخِرَةِ
’’میں نے پچاس سال اللہ کی عبادت کی، لیکن عبادت کی مٹھاس اس وقت تک نہ پائی جب تک تین چیزیں نہ چھوڑ دیں: لوگوں کو خوش کرنے کی فکر چھوڑ دی، یہاں تک کہ حق بات کہنے کے قابل ہوگیا؛ برے لوگوں کی صحبت چھوڑی تو نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہوئی؛ اور دنیا کی لذتوں میں کھوئے رہنا چھوڑا تو آخرت کی مٹھاس پائی۔ ‘‘
اس قول میں ہمارے لیے تین اہم سبق ہیں۔
(1) لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے حق کا ساتھ دیں
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ حق جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ اُنہیں ڈر ہوتا ہے کہ سچ بولنے سے رشتہ دار ناراض ہوجائیں گے، دوستیاں ختم ہوجائیں گی یا ذاتی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ بعض لوگ کسی غلط کام کی مخالفت اِس لیے نہیں کرتے کہ کہیں اُن کے تعلقات خراب نہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ }(النساء: 135)
’’انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
اِس کا مطلب یہ ہے کہ حق بات کہنے میں اپنے مفاد اور تعلقات کو انصاف پر غالب نہ آنے دیں۔ البتہ حق گوئی کے ساتھ نرمی، حکمت اور اچھا انداز بھی ضروری ہے۔
(2) اپنی صحبت پر نظر رکھیں
انسان اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اگر اس کی مجلسوں میں غیبت، جھوٹ، دوسروں کی تذلیل اور گناہوں کی باتیں عام ہوں تو رفتہ رفتہ اس کے اپنے اخلاق بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس نیک لوگوں کی صحبت انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ)) (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
’’آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘
آج ہمیں اپنی محفلوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی مصروفیات کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ ہم کن لوگوں کو سنتے ہیں، کن باتوں کو آگے پھیلاتے ہیں اور کس قسم کے مواد میں اپنا وقت گزارتے ہیں؟ یہ سب ہماری سوچ اور کردار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بری صحبت سے بچنے کا مطلب کسی گناہ گار کی اصلاح سے منہ موڑنا نہیں، بلکہ خود کو برائی سے محفوظ رکھتے ہوئے دوسروں کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے۔
(3) دنیا میں رہیں، مگر آخرت کو نہ بھولیں
دنیا کی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ حلال روزی کمانا، اولاد کی تربیت کرنا، گھر والوں کی ضروریات پوری کرنا اور مخلوق کی خدمت کرنا قابلِ قدر کام ہیں۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اہل و عیال، مال، عہدہ، شہرت اور آسائشیں انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و اطاعت سے بھی بڑھ کر! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰىکَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا} (القصص: 77)
’’اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو۔‘‘
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کمانے کی دوڑ میں بعض لوگ حلال و حرام کی تمیز، رشتوں کے حقوق اور آخرت کی فکر کو بھول جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ضروریات پوری کریں، مگر اس مقصد کے لیے اپنے دین، دیانت اور کردار کو قربان نہ کریں۔
ہماری زندگی کے لیے پیغام
حضرت احمد بن حرب رحمہ اللہ کے اس قول کا خلاصہ یہ ہے کہ عبادت کی حقیقی مٹھاس حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنے اندر تبدیلی لانا پڑتی ہے۔ اسے لوگوں کی بے جا خوشنودی کے بجائے حق کا ساتھ دینا، بری صحبت کے بجائے نیک رفاقت اختیار کرنا اور دنیا کی محبت میں کھوجانےکے بجائے آخرت کی تیاری کرنا سیکھنا ہوگا۔ اقامتِ دین کی جدوجہد بھی ایسے ہی کردار کی محتاج ہے۔ صرف نعرے لگانے یا دوسروں کو نصیحت کرنے سے معاشرہ نہیں بدلتا؛ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب انسان خود سچائی، امانت، دیانت، صبر اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نمونہ بنے۔ اپنی اصلاح، اپنے گھر کی تربیت اور معاشرے کی خیرخواہی سے اس سفر کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
آئیے! ہم روزانہ اپنا محاسبہ کریں: کیا ہم حق بات کہنے میں مخلص ہیں؟ کیا ہماری صحبت ہمیں نیکی کی طرف لے جارہی ہے؟ اور کیا ہماری دنیاوی مصروفیات آخرت کی تیاری میں مدد دے رہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی عبادت نصیب فرمائے جو ہمارے دلوں کو پاک، کردار کو مضبوط اور زندگی کو اپنی رضا کے تابع کردے۔ آمین!