(دعوت فکر) ہماری تربیت میں تین بڑے خلل - ڈاکٹر یوسف قرضاویؒ

14 /

ہماری تربیت میں تین بڑے خلل

ڈاکٹر شیخ یوسف القرضاویؒ

تنظیم اسلامی کے ہر رفیق کےلیے ایک بہت اہم تحریر

شیخ یوسف القرضاویؒ نے اپنی مشہور کتاب: أين الخلل؟  میں ناکامی کی پانچ بڑی اقسام بتائی ہیں۔ان میں سے تیسری قسم کی بیماری کے متعلق لکھتے ہیں: ہم نے تحریکیں کھڑی کر لیں، جماعتیں بنا لیں، نعرے ایجاد کر لیے، لیکن انسان نہیں بنائے۔اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔ تربیت ہے کیا؟ تربیت صرف معلومات دینا نہیں ہے۔ تربیت انسان کے اندر کو بدلنا ہے۔ قرآن اسے ’’تزکیہ‘‘ کہتا ہے۔ {قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰىہَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىہَا (10)}(الشمس) ’’ یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا، اور نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا۔‘‘
رسول اللہﷺ نے 13 سال مکہ میں کوئی حکومت قائم نہیں کی، صرف انسان بنائے۔ دارِ ارقم میں وہ تربیت گاہ تھی جہاں ابوبکر و عمر و بلال ؓ جیسے رجال بنے۔ پھر ان بنے ہوئے انسانوں نے دنیا بدل دی۔ آج ہم نے یہ ترتیب الٹ کر دی ہے۔ ہم انسان بنائے بغیر ہی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔شیخ یوسف القرضاویؒ کے مطابق آج تربیت میں تین بڑے خلل ہیں:
1۔ روحانی تربیت کا خلل: ہماری مسجدیں آباد ہیں، مگر دل ویران ہیں۔ زبان پر اللہ اکبر ہے، دل میں خوفِ دنیا ہے۔ ہم نے قیام اللیل کو چھوڑ دیا، صبح کے اذکار کو چھوڑ دیا، تنہائی میں اللہ کے سامنے رونے کو چھوڑ دیا۔ ہماری دعوتی سرگرمیاں تو بہت ہیں، مگر اللہ سے تعلق کمزور ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم تھوڑی سی آزمائش پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ جیل، فقر، یا شہرت آتے ہی ہمارا سارا اخلاص بہہ جاتا ہے، کیونکہ جڑیں گہری نہیں تھیں۔ (الا ماشاء اللہ)
2۔ فکری تربیت کا خلل: ہم نے نوجوان کو سوچنا نہیں سکھایا،صرف نعرہ لگانا سکھایا۔اُسے دلیل نہیں دی، جذبات دئیے۔وہ سوال کرے تو ہم اسے بدتمیز کہہ کر خاموش کرا دیتے ہیں۔ اسی لیے آج کا نوجوان ایک شکوک و شبہات والی ویڈیو دیکھ کر دین سے بدظن ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کی فکری بنیادیں کچی ہیں۔ہم اسے قرآن کے مقاصد، سنت کی حکمت، فقہ کا تنوع نہیں پڑھاتے۔ بس اپنی جماعت کا لٹریچر رٹا دیتے ہیں۔ ایسا ذہن جو صرف ایک زاویے سے سوچے، وہ کبھی اُمّت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔
3۔ اخلاقی اور سلوکی تربیت کا خلل:یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، مگر آپس میں حسد، غیبت، بدگمانی، وعدہ خلافی اور تکبر میں ڈوبے ہیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے دو بھائی ایک دوسرے کا عیب تلاش کر رہے ہیں۔شیخ یوسف القرضاویؒ کہتے ہیں، اللہ نے فتح اخلاق والوں کو دی ہے، نعرے والوں کو نہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا تھا :
 (انامحب الموت كما تحبون الحياة )
’’ہم موت سے ایسے محبت کرتے ہیںجیسے تم زندگی سے محبت کرتے ہو۔‘‘
یہ ان لوگوںکا کردار تھا۔آج ہم سچ میں خیانت کرتے ہیں، امانت میں کوتاہی کرتے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کیوں نہیں کرتا؟ اس خلل کا نتیجہ کیا نکلا؟نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری تحریکیں کارکنوں سے بھری ہیں، مگر مردوں سے خالی ہیں۔ شور بہت ہے، اثر کم ہے۔ ہم دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں، خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔ علاج کیا ہے؟علاج وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔
1) خلوت کو جلوت پر مقدم کرو: دن بھر کی مصروفیات سے پہلے رات کا ایک حصّہ اللہ کے لیے نکالو۔
2)علم کو عمل سے جوڑو: ہر ہفتے ایک آیت، ایک حدیث کو صرف پڑھو نہیں، اس پر جیو۔
3) چھوٹی جماعت میں تربیت لو: پانچ سات مخلص بھائیوں کی ایسی مجلس بناؤ جہاں تم ایک دوسرے کا محاسبہ کر سکو، نصیحت کر سکو۔
یاد رکھیں، خلل اسلام میں نہیں ہے۔ اسلام آج بھی ویسا ہی کامل ہے جیسا ساڑھے چودہ سو سال پہلے تھا۔ خلل ہم میں ہے۔
جب ہر شخص یہ کہنے کے بجائے کہ ’’اُمّت میں خلل ہے‘‘یہ کہے کہ ’’مجھ میں خلل ہے اور مجھے اپنی تربیت کرنی ہے‘‘ تو اسی دن سے اُمّت کی تربیت شروع ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ!