(کارِ ترقیاتی) ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے - عامرہ احسان

14 /

ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

عامرہ احسان

انتخابی معر کے جمہوریت کے تحت جمہور، یعنی    عوام الناس پر حکمرانی کے اہل ترین افراد کا چناؤ دنیا کو لاحق ہے۔ فوری طور پر تو انتخابی بخار، امریکہ (وسط مدتی انتخابات) اور اسرائیل میں عروج پر ہے۔ ٹرمپ اور نتین یا ہو شدید   جنگی جنون سے تپ رہے ہیں۔ ایران پر حملے کی دھمکیاں۔ ٹرمپ، ڈیمو کریٹ مضبوط امیدواروں پر چڑھائی کرتے،لگے ہاتھوں اسلامو فوبیا اور امیگرینٹ(تارکینِ وطن، امریکہ میں آبسنے والوں) پر شب و روز زبان آوری کے شعلے برسا رہے ہیں۔
ٹرمپ اور نتین یا ہو کا پارہ یوں بہت چڑھ گیا کہ برازیل کے انتخابات میں چوتھی مرتبہ عوام نے لولا ڈی سلوا  ہی کو صدارت کے لیے پھر منتخب کر لیا۔ اس کی مہم کا مرکزی نکتہ برازیل کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا تھا۔ ٹرمپ کے ہاتھوں بے پناہ سفارتی اور تجارتی دباؤ کا مقابلہ کرتے!’یہ ملک کسی کا پچھلا صحن بن کر رہنا قبول نہ کرے گا‘۔ فیکٹری کے مزدور کی حیثیت سے سیاست تک منزلیں مارتا ، اسرائیل کا شدید مخالف، (ICC)، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کا حمایتی جیت گیا۔ یہ بدشگونی کی علامت، (توہمات کی دنیا میں) گلوبل سطح پر غزہ سے محبت اور ہمدردی کا استعارہ بن گیا۔
امریکہ، اسرائیل کے بعد فرانس اور بھارت کو آئندہ چند ماہ میں انتخابات کا سامنا کرنا ہے۔ سو وہاں بھی تبدیلی کی لہر، عدم اطمینان کا اظہار، نو جوانوں کی سطح پر بالخصوص یورپ بھر کو لپیٹ میں لیے چلا گیا۔ پچھلی صدی میں جب جمہوریت خدائی کے درجے پر متمکن تھی ، اقبال نے حقیقت بیان کر دی تھی۔
دیوئے استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو جسے سمجھا ہے آزادی کی ہے نیلم پری
  قرآن سے مستنیر دل و نگاہ نے اس کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا تھا۔ ہم خود لنڈے کی جمہوریت ، استعماریت کی باقیات سینے سے لگائے ، اس کے چر کے سہتے چلے آرہے ہیں۔ ملک میں حکمرانی ،جابرانہ استحصال اور بدعنوانی ، آمریت کا دوسرا نام رہا ہے۔ نااہلی ، بد دیانتی کی بدروح جمہوری قالب میں کارفرما ہے۔ ادھر اسرائیل میں نتن یاہو کو لالے پڑے ہوئے ہیں کامیابی کے۔21 فی صد مسلمان اسرائیلی شہریوں کی دو پارٹیوں اور اسرائیلی مخالف پارٹیوں نے بلاک بنا کر یاہو کے خلاف انتخاب لڑا۔نتائج میں کسی پارٹی کی واضح اکثریت کے امکان کم ہیں       اور حکومت سازی انتشار کا شکار ہونے کو ہے۔ لیکن  فلسطینیوں اور مسلمانوں کے لیے یہ شر قائم رہے گا! اپنی       صہیونی انتہاپسندی پر سیاسی کیرئر بنانے والے نے ظلم کے     بین الاقوامی ریکارڈ فلسطینیوں پر توڑ ڈالے۔ مگر اب انہی صہیونیوں میں سے امریکی ارب پتی، بل آک مین جو ٹرمپ اور نتین یا ہو کے لیے فنڈ فراہم کرتا رہا ، کہتا ہے کہ (انتہا پسندی کی انتہاپر عمل کر کے) ’پچھلے وزراء بن گویر اور سموٹرچ نے اسرائیل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل سے نفرت کی شدت اب دنیا بھر کا ہر   جیتا جاگتا باشعور انسان بلا تفریقِ مذہب و نسل رکھتا اور برتتا دیکھا جاسکتا ہے۔ اب یہودی کان پر جوں رینگی کہ تکبر اور بے رحم جبر نے خوف یا رعب کی جگہ انہیں (بلا تفریق) لائقِ نفرین بنا دیا۔ بہر طور اس صہیونی نے لکھا ہے کہ   نتن یاہو نے ایک اچھا کردار ادا کیاہے، اسرائیل کے دفاع اور تحفظ کا! اس سے جمہوری اقدار کے لیے تجوریوں کے   منہ کھول دینے والوں کی انسانیت سے محبت اور معیارِ حکمرانی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ 
دنیا بھر میں یہودیوں ، صہیونیوں اور ان کے    آلہ کاروں سے نفرت بلا سبب تو نہیں۔ انتخابات کے لیے ان مہم جوؤں نے آخری دنوں میں بھی غزہ یو نیورسٹی پر ہوائی حملہ کیا جب تعلیم جاری تھی۔ عملے اور طلبہ میں 3 شہید اور 8 زخمی ہوئے۔ یہ امن معاہدے کے دوران ہو رہا ہے جنگ بندی کے بیچ۔ 95 فی صد عمارات پہلے تباہ ہو چکیں۔ جبکہ 20 ہزار سے زائد طلبہ ، ایک ہزار سے زائد اساتذہ اور کچھ عملہ غزہ جنگ میں شہید اور 32 ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ 21,500 بچے شہید ہوئے۔
مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کی فوجی چوکی پر 2فلسطینی نوجوانوں نے مسلح حملے میں (23 اکتوبر) دواسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 زخمی کر دیئے تھے۔ حملہ آور شہید کر دیئے گئے۔ مگر بدلہ چکانے کے لیے فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ 2500 فلسطینی بے دخل کرکے مکانات مسمار کر دیئے۔ قبضہ مزید حق ٹھہرا اسرائیلیوں کا۔ شہر کا محاصرہ کر کے درجنوں فلسطینی اغوا، آباد کاروں کے جتھے دو دن سے شب وروز گھروں پر چھاپوں ، فوجی گاڑیوں ، ٹرکوں نے آبادی پر قہر توڑ رکھا ہے۔ رمالہ، دیرالبلاح کے دیہاتوں، قصبوں ، بیت اللحم ، بیت حنینہ سب زیر عتاب ہیں ۔مؤخر الذکر علاقے میں حنان الرجبی کا گھر ڈھایا جس میں وہ شوہر اور پانچ بچوں کے ساتھ مقیم تھی۔ 60,000 شیکل کا جرمانہ بھی کیا۔ سو یہ ایک دن بعد ہونے والے انتخابات کی تیاری تھی! کہاں تک پڑھو گےکہاں تک ، کب تک تماش بین رہو گے ، اے اہل اُمّت!
ایسے میں ہم مسلمانوں کا حال ملاحظہ ہو۔ ماہِ اکتوبر میں راقمہ کے کالم پر (راکھ کا ڈھیر) ایک قاری نے متوجہ کیا کہ ’الاقصیٰ (قبلۂ اول، مقامِ معراج النبیؐ) جو آپ نے لکھا اسے درست کریں۔ قبلۂ اول خانہ کعبہ ہے‘!
دوسرے پارے کا آغاز قرآنِ پاک میں تحویلِ قبلہ کی ابتدائی آیت سے ہو رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ اور    صحابہ کرامj (اللہ کے حکم سے ہی) مکہ مکرمہ میں 13 سال اور ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں سولہ سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ باضابطہ حکم سورۃ البقرہ کی آیت 144 میں آجاتا ہے۔   ’لو اب ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیر ے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدالحرام کی طرف رخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تم ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو‘۔ یہ حکم 2 ہجری میں نازل ہوا۔ تقریباً چودہ سال بیت المقدس/مسجد الاقصیٰ کی طرف رخ رہا نماز میں! اس لیے یہ قبلۂ اول ٹھہرا۔ چنانچہ ظہر کی ادائیگی کے دوران نزولِ حکم کے ساتھ ہی آپؐ کی اقتداء میں پوری جماعت نے رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا۔
قصور لکھنے اور تصحیح کا مطالبہ کرنے والے کا نہیں۔ اس نظامِ تعلیم کا ہے جو کالم پڑھنے کے قابل تو بنا رہا ہے لیکن قرآنِ پاک کی پہلی سورت، بنیادی عقائد تک سے محروم رکھ رہا ہے۔بیت المقدس ،مسجد الاقصیٰ کی خاطر تین سال 23 لاکھ غزہ کی آبادی نے اپنے بیٹے ، مرد وزن، ننھے بچے ، 90 فی صد سرزمین اسرائیلیوں کے ظلم کے بھینٹ چڑھا دی۔ عورتوں، بچوں کے چیتھڑے اُڑ گئے اور مغربی (کافر) دنیا تڑپ کر مظاہروں سے گلوب پورے کو تھرا دیتی رہی۔ مگر ہماری نوجوان نسل اپنی تاریخ، جغرافیہ، عنداللہ بحیثیت اُمتّی، اپنی ذِمّہ داری تک نہ پہچان پائی؟ جبکہ قرآن اور سیرتِ رسول ﷺ (جو انسانیت روزِ اول سے یعنی قرآن اور دورِ صحابہؓکی تاریخ ہی ہے۔) ہمارا نصابِ زندگی ہے۔ جسے پڑھے، جانے بغیر ہم یکسر ان پڑھ(Illiterate) ہیں۔ یہ لازم فرض علم (جو قبر کے سوالوں کا بھی حصہ ہے) نہ بہم پہنچانا خلافِ آئینِ پاکستان بھی ہے اور والدین کی زبردست کوتاہی بھی، جو دنیاوی تعلیم کے لیے امریکہ، یورپ زمینیں تک بیچ کر تعلیم دلواتے ہیں! تلخ نوائی پر معذرت۔ مگر کالم کے عنوان کے پسِ پردہ شعر کا معنی بھی یہی ہے۔ کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی!
 رہا الخلیل پر حملہ…؟ یہ شہر ابراہیم علیہ السلام (خلیل اللہ)  کے نام پر ہے۔ جہاں مسجد ِابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب ، ان کی ازواج مطہرات ، حضرت یوسف fسب کی مبارک قبریں یہاں    مکفیلہ غار میں موجود ہیں۔ یہ مسحور کن خوشبودار کہانی باذن اللہ پھر سہی۔ اللہ پاکِ اس مبارک سرزمین کو مسلمانوں کے عظیم ورثے کو ہمیں لوٹا دے۔ (آمین)
فی الوقت تو پاکستان خود عجب دور سے گزر رہا ہے۔ اپنی شناخت، حقیقی مقام و کردار سے عاری! عوام الناس شدید عدم تحفظ اور معاشی بحران کا شکارہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 ء سے اب تک 670 سے زیادہ پولیس مقابلوں میں، (ماورائے عدالت) ہلاکتیں پنجاب میں ہو چکیں۔ ڈان: 22 فروری میں   زوہا وسیم کا مضمون: ’یہ عام سی بات بن چکی ہے کہ ملزم کو لاتے لے جاتے گرفتاری کے دوران، اچانک ہی جا بجا پولیس/قانون نافذ کرنے والوں کو ملزم کے ساتھیوں کی طرف سے حملے کا سامنا ہو جاتا ہے۔ جس پر پولیس کو جواب دینا پڑتا ہے۔ اور پھر ہمیشہ شہری مارے جاتے ہیں۔ اداروں والے یا صاف بچ جاتے ہیں یا تھوڑا بہت زخمی ہو جاتے ہیں‘۔ ایک کارٹون میں میزانِ عدل (علامت ِسپریم کورٹ) کے ایک پلڑے پر زورآور پولیس جو تا رکھے ہاتھوں میں بندوق تا نے تڑتڑ گولیاں داغ رہا ہے۔ میزان ادھ موا ہوا پڑا ہے۔عالمی سطح پر ٹرمپ اور نتن یاہو کے دورِ اقتدار نے دنیا بھرکو درہم برہم کردیا!
نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِراہ داں کے لیے