(گوشۂ تربیت) سالانہ اجتماع کی اہمیت، ضرورت اور تقاضے - ابو عبداللہ

14 /

سالانہ اجتماع کی اہمیت، ضرورت اور تقاضے

ابو عبد اللہ

سالانہ اجتماع محض لوگوں کے جمع ہونے، تقاریر سننے یا چند رسمی سرگرمیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے، اپنے مقصد کو سمجھنے، اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینے، باہمی تعلقات مضبوط کرنے اور آئندہ کے لیے عملی منصوبہ بندی کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔
 وحدت اُمّت کا ذریعہ 
اسلام ہمیں اتحاد، اخوت اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔ سالانہ اجتماع ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم الگ الگ افراد نہیں، بلکہ ایک بڑی اُمت کا حصہ ہیں۔ ہمارے مقاصد مشترک ہیں اور ہماری ذمہ داریاں بھی مشترک ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص}   ( آل عمران: 103) ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اجتماعیت کی اصل بنیاد اللہ کی کتاب، اُس کے دین اور حق پر قائم رہنا ہے۔سالانہ اجتماع ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، باہمی اختلافات کو حکمت سے حل کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ اخوت و محبت کا معاملہ کریں۔
 ایمان اور تعلق باللہ کی تجدید
انسان روزمرہ کی مصروفیات میں کبھی اپنے اصل مقصد سے غافل ہو جاتا ہے۔ دنیا کی دوڑ، کاروبار، ملازمت اور گھریلو ذمہ داریاں اس کے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے میں دینی اجتماعات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ(28)} ( الرعد)  ’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔‘‘
سالانہ اجتماع کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا ہو، قرآن سے تعلق مضبوط ہو، نماز کی پابندی بڑھے اور ہماری زندگیوں میں تقویٰ و اخلاص پیدا ہو۔لیکن یاد رکھیے! اجتماع کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ ہم نے کتنی اچھی تقریریں سنیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اجتماع کے بعد ہماری زندگی میں کتنی مثبت تبدیلی آئی۔
 مقصد ِ زندگی اور ذمہ داریوں کا شعور
ایک مسلمان کی زندگی بے مقصد نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بندگی اور نیک اعمال کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (56)} ( الذاریات) ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
سالانہ اجتماع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف ذاتی ترقی، معاشی کامیابی یا دنیاوی مفادات نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اپنی ذات، خاندان اور معاشرے کو نیکی کی طرف لے جانا بھی ہے۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:کیا ہماری نمازیں درست ہیں؟کیا ہمارے اخلاق قرآن و سنت کے مطابق ہیں؟کیاہم اپنے گھر والوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟کیا ہم اپنے معاشرے میں خیر، عدل اور اصلاح کو فروغ دے رہے ہیں؟کیا ہم اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں؟یہ خود احتسابی سالانہ اجتماع کی روح ہے۔ 
 دعوت و اصلاح کے جذبے کو مضبوط کرنا
اسلام ہمیں صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں رکھتا بلکہ دوسروں کی بھلائی کی فکر بھی سکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:{وَلْـتَـکُنْ مِّنکُمْ اُمَّـۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ } ( آل عمران: 104)’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے۔‘‘
سالانہ اجتماع دعوت، تربیت اور اصلاح کے جذبے کو تازہ کرنے کا موقع ہے۔ یہاں ہم سیکھتے ہیں کہ لوگوں تک دین کی بات حکمت، محبت، خیرخواہی اور اچھے اخلاق کے ساتھ کیسے پہنچائی جائے۔دعوت کا مطلب لوگوں کی تحقیر کرنا، ان کی غلطیوں کو اچھالنا یا ان پر اپنی برتری ثابت کرنا نہیں، بلکہ محبت کے ساتھ حق کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ایک حقیقی دینی کارکن وہ ہے جس کے کردار سے لوگوں کو دین کی خوبصورتی نظر آئے، جس   کی زبان سے خیر نکلے اور جس کے رویے سے دوسروں کو  عزت و احترام ملے۔
 کارکنوں کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ 
کسی بھی دینی، اصلاحی یا سماجی تحریک کی کامیابی کے لیے تربیت یافتہ، مخلص اور باکردار کارکن ضروری ہیں۔سالانہ اجتماع کارکنوں کو سیکھنے، تجربات کے تبادلے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور بہتر انداز میں ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (4)} (سورۃ الصف) ’’بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اِس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘
اس آیت میں منظم اور مضبوط صفوں کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں بھی نظم، ذمہ داری، باہمی اعتماد اور مقصد سے وابستگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ کارکنوں کی حوصلہ افزائی کریں، اُن کی صلاحیتوں کو نکھاریں، اُن کی مشکلات سنیں اور ان کے ساتھ عزت و محبت کا معاملہ کریں۔ کارکنوں میں امتیاز، تحقیر یا غیر منصفانہ رویہ اجتماعیت کو کمزور کر سکتا ہے
 نظم و ضبط اور باہمی مشاورت 
اجتماعی کام صرف جذبات سے نہیں چلتا؛ اس کے لیے حکمت، منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور مشاورت بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: 
{وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ ص}( الشوریٰ: 38)
’’اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔‘‘
سالانہ اجتماع میں گزشتہ سال کی کارکردگی کا جائزہ لینا، مشکلات کو سمجھنا، غلطیوں کی اصلاح کرنا اور آئندہ کے اہداف طے کرنا چاہیے۔ایک کامیاب اجتماع وہ ہے جس میں صرف ہدایات نہ دی جائیں بلکہ کارکنوں کی آراء بھی سنی جائیں، مسائل کا منصفانہ حل نکالا جائے اورذمہ  داریوں کی واضح تقسیم ہو۔
اجتماع کے بعد عملی تبدیلی 
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ سالانہ اجتماع منزل نہیں، بلکہ منزل کی طرف سفر میں ایک اہم پڑاؤ 
ہے۔اگر اجتماع میں شرکت کے بعد ہماری نمازوں میں بہتری نہیں آتی، ہمارے اخلاق نہیں سنورتے، ہمارے معاملات میں دیانت نہیں آتی، ہمارے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ نہیں بڑھتا اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں بہتر نہیں ہوتیں، تو ہمیں اپنی شرکت کے مقصد پر غور کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ))(صحیح بخاری و مسلم) ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘
لہٰذا اجتماع میں ہماری نیت اللہ کی رضا،اُخروی نجات، اپنی اصلاح، دوسروں کی خیرخواہی اور جائز اجتماعی ذمہ داریوں کی بہتر ادائیگی ہونی چاہیے۔ہمیں اجتماع سے واپسی پر چند عملی عہد کرنے چائیں:نماز اور قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں گے۔اپنے اخلاق اور معاملات کی اصلاح کریں گے۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ محبت، انصاف اور احترام کا رویہ رکھیں گے۔اپنی ذمہ داریوں کو وقت پر اور دیانت داری سے ادا کریں گے۔اپنے خاندان اور معاشرے میں خیر و بھلائی کے لیے عملی کوشش کریں گے۔ 
 اجتماع کی کامیابی کا اصل معیار
کسی اجتماع کی کامیابی کا معیار صرف حاضرین کی تعداد، جلسے کی رونق، تقریروں کی طوالت یا انتظامات کی خوبصورتی نہیں ہے۔ یہ چیزیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن اصل معیار یہ ہے کہ اجتماع نے انسانوں کے دلوں، کردار اور عمل پر کیا اثر ڈالا۔کیا ہمارے اندر اخلاص بڑھا؟ کیا ہمارے درمیان محبت بڑھی؟ کیا ہم نے اپنی غلطیوں کی اصلاح کی؟ کیا ہم نے اپنے فرائض کو بہتر طور پر سمجھا؟ کیا ہم نے کسی ضرورت مند کی مدد کی؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے کے لیے کوئی مفید قدم اُٹھایا؟اگر ان سوالات کے جواب مثبت ہیں تو اجتماع کے اثرات ہماری زندگیوں میں ظاہر ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ط}(سورۃ الرعد: 11)’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔‘‘
اس آیت سے ہمیں اپنی اصلاح اور عملی جدوجہد کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔ اجتماع سے حاصل ہونے والے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔
اختتامی پیغام 
آئیے!ہم عہد کریں کہ ہمارا سالانہ اجتماع محض ایک یادگار تقریب نہیں ہوگا، بلکہ ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔ہم اختلافات کو نفرت میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ایک دوسرے کی عزت کریں گے، ذمہ داریوں میں عدل سے کام لیں گے، مشاورت کو فروغ دیں گے اور اپنی تمام جائز اجتماعی کوششوں میں اخلاص، دیانت اور حسنِ اخلاق کو مقدم رکھیں گے۔ہم قرآن کو اپنا رہنما، سنت ِرسول ﷺ کو اپنا نمونہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُخروی نجات کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے اجتماعات کو ایمان کی تازگی، کردار کی تعمیر، امت کے اتحاد، انسانیت کی خدمت اور نیکی کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو خالص فرمائے، ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے، ہمارے درمیان محبت و اخوت پیدا فرمائے اور ہمیں اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین!