(زمانہ گواہ ہے) ’’بدر MOU اور ایران کے ساتھ مذاکرات ‘‘ - محمد رفیق چودھری

14 /

اسرائیل میں کوئی بھی جماعت برسراقتدار آجائے ، صہیونی

منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی : رضاء الحق

خلیج میں بڑی جنگ پاکستان کی معیشت اور بیرون ملک کام

کرنے والے پاکستانیوں کے مفادات کو بھی متاثر کر سکتی

ہے:ڈاکٹر ضمیر اختر خان

صلاح الدین ایوبی ؒ نے بیت المقدس کوعظیم قربانیاں دے کرواپس

لیا تھا ، ہم ہومیوپیتھک قسم کے الائنس بنا کر اسے حاصل نہیں 

کر سکتے : مصطفیٰ کمال پاشا

’’بدر MOU اور ایران کے ساتھ مذاکرات ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

میزبان: قارئین! مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک طاقت کا توازن بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے کے بعد قطر اور انڈونیشیا کو بھی ایک معاہدے کے تحت اپنی اجتماعی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اس سکیورٹی ارینجمنٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممالک اپنے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر کوئی مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنا پائیں گے یا یہ دفاعی معاہدے صرف سفارتی بیانات کی حد تک محدود رہیں گے۔ دوسری طرف دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیلی انتخابات اور امریکہ کے مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج کیا مسئلہ فلسطین پر اسرائیلی پالیسیوں ا ور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔ سابقہ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ چہرے بدلنے سے حکومتی پالیسیاں نہیں بدلا کرتیں۔ ہم آج کے پروگرام میں بہت تیزی سے بدلتے ہوئے ان حالات و واقعات کے تناظر میں خطے کے مستقبل کا منظر نا مہ جاننے کی کوشش کریں گے۔ میرے ساتھ تشریف فرما ہیں ترجمان تنظیم اسلامی جناب رضاء الحق صاحب، معروف دانشور اور تجزیہ نگار جناب مصطفیٰ کمال پاشا صاحب اوراسلام آباد سے ہمیں آڈیو کے ذریعے جوائن کریں گے تنظیم اسلامی کے رہنما اور دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر ضمیر اختر خان صاحب۔
سوال:مکہ معاہدہ ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش ہوا ہے تو اس کی تفصیلات کچھ سامنے آئی ہیں؟ اس معاہدے کی اہم شقیں کیا ہیںاور بنیادی طور پر اس کے مقاصد کیا ہیں؟
مصطفیٰ کمال پاشا: بنیادی طور پر یہ ایک عسکری سطح کا دفاعی معاہدہ ہے۔تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی قومی سلامتی کی حفاظت کا عہد کیا ہے ، ترکیہ کی پارلیمنٹ میں جو مسودہ پیش کیا گیا ہے ، اس کے مطابق اس معاہدے کی 16شقیں اسی بنیادی نقطے کے گرد گھومتی ہیں کہ ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ اور کسی ایک کی سلامتی کے لیے خطرات کو تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا ۔ سلامتی کے تحفظ کے لیے تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر سکتے ہیں ، دفاعی صنعت اور عسکری شعبے میں تعاون بھی شامل ہو سکتا ہے ۔ اس میں فوجی تربیت بھی شامل ہے اور دفاع کے لیے مشترکہ عسکری کاوشیں بھی شامل ہو سکتی ہیں ۔ یہ ایک خوبصورت ڈیکلریشن ہے  لیکن ایک ابہام موجود ہے کہ یہ اتحاد کس کے خلاف ہے؟ عموماً دفاعی تیاریاں کسی ٹارگٹ کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہیں  مگر مکہ معاہدہ میں واضح نہیں ہے کہ ان تینوں ممالک کو کس سے خطرہ ہے اور کس کے خلاف یہ معاہدہ حرکت میں آئے گا۔ یہی اس معاہدے کی بڑی کمزوری ہے جس نے باقی تمام خوبصورت باتوں کو گہنا دیا ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاہدہ ایک خوف کے انداز میں فوری ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے ۔ اس کے پیچھے کوئی بہت زیادہ گہری سوچ اور منصوبہ بندی شامل نہیں ہے ۔ 
سوال: کیا مکہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے؟ کہیں یہ بھی OICکی طرح کا اتحاد     نہ بن جائے جس کے پاس کوئی مؤثر عملی قوت نہیں ہے ؟
رضاء الحق:دفاعی نوعیت کا معاہدہ بھی کسی سٹریٹیجک خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جاتا ہےاور واضح کیا جاتاہے کہ ہمیں فلاں دشمن سے خطرہ ہے جبکہ مکہ معاہدہ میں شامل تینوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداران کے بیانات موجود ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے ۔ پھر اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ بھی مبہم ہے ۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کسی ملک کی طرف سے حملہ ہوا تو مل کر دفاع کریں گے ۔جبکہ حوثی ملک نہیں ہیں بلکہ وہ ایک گروہ ہے۔ یہ بات بھی اس معاہدے میں شامل نہیں ہے کہ یہ غزہ ، فلسطین ، کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے وہاں مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کیاجائے گا یا طاغوتی قوتوں کی عالم اسلام کے خلاف جنگ کے خلاف کوئی مزاحمت کی جائے گی ۔ فرض کریں اگر بھارت پاکستان پر حملہ کر دیتا ہے تو کیا سعودی عرب اور ترکیہ بھارت کے خلاف پاکستان کی مدد کریں گے؟ اوآئی سی 1969ء میں بنی تھی جب ایک آسٹریلوی صہیونی نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی ۔ شروع کے چند سال تویہ کافی متحرک رہی کیونکہ اُس وقت شاہ فیصل ، ذوالفقار علی بھٹو اور کرنل قذافی جیسے لوگ اس کو لیڈ کر رہے تھے لیکن ان کے بعد یہ رفتہ رفتہ ڈیبیٹنگ کلب بن گئی اور اب اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ۔ اس کے منشور میں لکھا ہوا ہے کہ اس کا ہیڈکوارٹرآزادیروشلم میں ہوگا اور تمام مسلم ممالک فلسطینیوں کی اخلاقی ، سفارتی اور عسکری سطح پر مدد کریں گے لیکن ابھی تک ایسا کوئی اقدام نظر نہیں آرہا ۔ اسی طرح مکہ معاہدہ بھی موثر ثابت نہیں ہوگا جب تک اس میں ایران سمیت دیگر مسلم ممالک بھی شامل نہیں ہوتے ۔ 
سوال:سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کو ترکیہ ، انڈونیشیا اور قطر کے ساتھ باہمی تعاون کے ایم اویو کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟کیا یہ کسی وسیع تر مسلم دفاعی اتحاد کی تشکیل کی کوشش ہے یا اس کے پس پردہ حقائق کچھ اور ہیں ؟
ڈاکٹر ضمیر اختر خان: ذاتی طور پر میں ان دونوں معاہدات کو{وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ }(الانفال:60)کی عملی تعبیر سمجھتا ہوں۔ دونوں معاہدوں کی نوعیت میں تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھنے سے دونوں کی الگ الگ ضرورت سمجھ میں آتی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ میں ہونے والا معاہدہ اجتماعی دفاع اور مشترکہ ڈیٹرنس سے متعلق ہے، جبکہ پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں طے پانے والا معاہدہ بدر بنیادی طورپر دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار کے فروغ کے لیے ہے۔ دونوں معاہدے ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس نئے معاہدے کی ضرورت کے تین بنیادی اسباب ہیں:
 1:  آج کسی ملک کی دفاعی قوت صرف اس کے فوجیوں، میزائلوں، طیاروں یا ٹینکوں کی تعداد سے متعین نہیں ہوتی، اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں وہ کتنے عرصے تک اپنے دفاعی نظام کو فعال رکھ سکتا ہے۔ اگر دفاعی    ساز و سامان بیرونی ممالک سے حاصل کرنا پڑے تو دفاعی خود مختاری سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ معاہدہ بدر کے ذریعے مشترکہ تحقیق، پیداوار، فنی تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
2: چاروں ممالک کی صلاحیتوں کا امتزاج ہے۔ ہمیں معلوم ہے ترکی دفاعی ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی میں قابل ذکر تجربہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس اللہ کے فضل و کرم سے جوہری صلاحیت کے علاوہ دفاعی پیداوار، عسکری تربیت اور عملی تجربے کی صلاحیت ہے۔ انڈونیشیا ایک بڑی آبادی اور اہم صنعتی و بحری  ضروریات رکھنے والا ملک ہے، جبکہ قطر مالی وسائل اور  سرمایہ کاری کی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔ اگر یہ صلاحیتیں  محض الگ الگ معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ منصوبوں میں ڈھل جائیں تو ان چاروں ممالک کو معاشی اور دفاعی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
3:  بدلتے ہوئے علاقائی حالات ہیں، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ،  اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کے ناپاک عزائم، خلیج میں عدم استحکام، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی اہمیت نے واضح کیا ہے کہ کسی بیرونی طاقت پر انحصار خطرات پیدا کر سکتا ہے۔اگر ان دونوںمعاہدوں کو سفارت کاری، باہمی اعتماد اور مشترکہ معاشی ترقی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ مسلم دنیا کی اجتماعی قوت میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے، ان شاء اللہ۔
سوال: ایک طرف مسلم ممالک آپس میں دفاعی معاہدے کر رہے ہیں، دوسری طرف اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں بچےکھچے فلسطینیوں کو بھی شہید کر رہا ہے ۔ مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی کیوں نہیں اپناتے ؟
مصطفیٰ کمال پاشا:1948ء میں اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک اسرائیل مسلسل حملے کر رہا ہے اور مسلم ممالک مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کر پائے ۔ ان کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے ۔ مکہ معاہدہ بھی صرف ایک ہومیوپیتھک ردعمل ہے ، ایکشن نہیں ہے ۔ جبکہ صہیونی ایکشن لیتے ہیں اور اپنے 1896ء کے پروٹوکولز کے مطابق مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ایک قدم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ 1948ء کے اسرائیل سے آج کا اسرائیل بہت زیادہ آگے بڑھ گیا ہے ۔ ابھی بھی اسرائیل کی سرحدیں متعین نہیں ہیں ، مزید آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے ایران میں رجیم چینج کے لیے 200  سے زیادہ بندوں کی فہرست بہت پہلے سے تیار کی ہوئی ہے جن کو انہوں نے ٹارگٹ کرنا ہے اور اپنی مرضی کی حکومت ایران میں لانی ہے ۔ اسی طرح مسلم ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی لائحہ عمل طے کریں اور اس پر عمل درآمد شروع کریں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اُمت کے ٹکڑے کرکے مفاد پرست لوگوں کو قیادت دی گئی جیسا کہ عرب کے بدو جولٹیرے اور ڈاکو تھے ان کو ریاستیں سونپی گئیں جن کی کوئی اجتماعی سوچ ہی نہیں ہے ۔ ان کے پاس بے انتہا دولت ہے لیکن حالات یہ ہیں کہ اطلاعات کے مطابق ایران کواربوں ڈالرز اس لیےپیش کر رہےہیں تاکہ ان پر حملے نہ کیے جائیں ۔بعض ذرائع کے مطابق سعودی حکام بھی ایک ارب ڈالر لے کر تہران پہنچ گئے۔ ایسے لوگ فلسطینیوں کی کیا مدد کریں گے ۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے لیکن ابھی تک کشمیر کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکا ۔ جبکہ بھارت نے پیش رفت کرتے ہوئےمقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرلیا ہے ۔ فلسطین یا کشمیر کا مسئلہ بھیک سے حل نہیں ہوگا ۔ صہیونیوں کو اسرائیل بھیک میں نہیں مل گیا ۔ وہ اپنی ریاست کو پھیلاتے چلے جارہےہیں۔ ہم ہومیوپیتھک قسم کے الائنس بنا کے اسرائیل کو ڈرانہیں سکتے ۔یہ بیت المقدس عظیم قربانیاں  دے کر صلاح الدین ایوبی  ؒ نے واپس لیا تھا،اسی طرح آج بھی جب تک ہم قربانیاں نہیں دیں گے ہم پیش رفت نہیں کر سکتے ۔ 
سوال:پاکستان کے آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران اور ایران و مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟کیا یہ کوشش خطے میں ایک نئے سفارتی اور دفاعی توازن کی بنیاد بن سکتی ہے ؟
ڈاکٹر ضمیر اختر خان:فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے اس دورے کو میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم امتحان اور سفارتی موقع سمجھتا ہوں۔ اس کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں شریک ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کی طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور اہم علاقائی مفادات وابستہ ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی قیادت سےجو ملاقاتیں کیں ان میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، حوثی حملوں، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کے انتظامات پر گفتگو شامل تھی۔ ایک ممکنہ علاقائی عدم جارحیت کے نظام کی کوشش کی بھی اطلاعات ہیں ۔ اس پیش رفت کو میں تین زاویوں سے دیکھتا ہوں۔
 1: پاکستان کے لیے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی محض دو بیرونی ممالک کا مسئلہ نہیں۔ اس کے اثرات ہماری مغربی سرحد، بلوچستان کے امن، تجارت، توانائی کی فراہمی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی قومی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ خلیج میں بڑی جنگ پاکستان کی معیشت اور بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے مفادات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے جنگ کو پھیلنے سے روکنا ایک اصولی موقف بھی ہے اور ملی اور قومی ضرورت بھی۔
دوسرا زاویہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور ایران کے ساتھ سفارت کاری کا ہے۔ بظاہر ان میں تضاد نظر آتا ہے،مگر کسی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کا مقصد اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہو سکتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے ختم کر دئیے جائیں۔ پاکستان اگر سعودی عرب کے دفاعی تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ متوازن سفارت کاری کی مثال بن سکتی ہے۔
3: اس سے نیا سفارتی اور دفاعی توازن پیدا ہو سکتا ہے لیکن ابھی اسے کامیاب علاقائی نظام قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اگر چاروں ممالک ایک دوسرے کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا احترام کرتے ہوئے عدم جارحیت، تنازعات کے پرامن حل اور مستقل مذاکرات کے اصولوں پر اتفاق کر لیں تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
سوال: اسرائیلی انتخابات میں اگر نتن یاہو کو شکست ہو جاتی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی ؟
رضاء الحق: اسرائیل میں حکومتی جماعت اور اپوزیشن دونوں کٹر صہیونی ہوتی ہیں ۔ کوئی بھی جیت جائے مگر ان مسلم دشمن پالیسی میں ، یا مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ حالیہ اسرائیلی انتخابات کے دوران نتن کےمقابل نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کے خلاف جس طرح کا ایکشن لیا جانا چاہیے تھا ، نتن یاہو نے نہیں لیا جس کی وجہ سے مسائل پیداہوئے ۔ اسرائیل کہتا ہے کہ ہم مسجد اقصیٰ کو گرا کر تھرڈ ٹیمپل بنائیں گے ۔ ان کےوزیرخزانہ نے بھی اسی طرح کی باتیں کی ہیں۔ اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان کا تعلق ان دہشت گرد تنظیموں سے تھا جو برطانوی دور میں فلسطین پر جبری قبضہ کرنے میں مصروف تھیں۔ تمام صہیونیوں کا مقصد ایک ہی ہے ۔ بدقسمتی سے ہم مسلمان اور ہمارے حکمران اپنا مقصد بھلا چکے ہیں۔ اگر ہمارے سامنے کوئی بڑا مقصد ہوتا تو اس کے لیے ہم قربانیاں بھی دیتے ۔ مقصد کے بغیر زندگی میں صرف پیسہ کمانا ، بیوی بچوں کو خوش رکھنا یا بنگلہ ، گاڑی تک سوچ محدود رہ گئی ہے ۔ جبکہ صہیونیوں کے سامنے ایک مقصد ہے، وہ دوریاستی حل کو بھی نہیں مانتے ، وہ  ’’جیوئش نیشن سٹیٹ لا‘‘ بنا چکے ہیں ۔ ان کی فقہ کی کتاب تالمود میں حسبراہ کا قانون موجود ہے جس کے مطابق مخالف کو زیر کرنے کے لیے اگر جھوٹ بھی بولنا پڑے تو جائز ہے ۔ جب اخلاقی معیار یہ ہوگا تو پھر اُن سے کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ 
مصطفیٰ کمال پاشا: اسرائیل کے قیام کے لیے جن دہشت گرد گروہوں نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا یا اُن کی زمینوں پر قبضے کیے تھے ، انہی گروہوں کو جوڑ کر IDF(اسرائیلی ڈیفنس فورس)بنائی گئی تھی ۔ لہٰذا ان کا طریقہ کار اور مسلمانوں سے نفرت آج بھی اُسی طرح کی ہے ۔ 
سوال:کیا یہ امکان موجود ہے کہ صدر ٹرمپ 3نومبر 2026ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران پر ایک بڑا حملہ کردے ؟
ڈاکٹر ضمیر اختر خان:ٹرمپ کی متنازع مزاجی کو سامنے رکھا جائے تو کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صدر کے اعلانیہ بیان تضادات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے8 اکتوبر 2026ء کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ 3 نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو نتیجہ خیز قرار دیا لیکن ساتھ ہی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا راگ بھی الاپا۔بہرحال انتخابات سے پہلے بڑے پیمانے پر حملے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایک تو مڈٹرم الیکشن کے دوران کانگرس پر کنٹرول کا معاملہ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے اہم ہے۔  ایران کے ساتھ جنگ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی فوجیوں کی طویل تعیناتی داخلی سیاسی دباؤ بڑھا سکتی ہے اور بڑھ بھی رہا ہے، اسی لیے انتخابات سے پہلے حملے روکنا سیاسی اعتبار سے قابل فہم حکمت عملی ہے۔اس کے برعکس اگر مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو جائیں ،خطے میں امریکی یا اتحادی تنصیبات پر حملے ہوں یا امریکہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سفارتی راستہ موثر نہیں رہا تو فوجی کارروائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اہم نکتہ یہ ہے کہ اس جنگ میں صرف ایران کا نقصان نہیں ہوگابلکہ علاقائی اتحادی ، تیل کی عالمی منڈیاں ، اس کی ترسیل اورپوری عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کے جوابی حملے بحران کو مزید بڑھا سکتے ہیں ۔ دعاہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لائیں اور عالمی بحران سے دنیا کو چھٹکارا ملے ۔ 
سوال:مسلم ممالک آپس کے اختلافات میں اُلجھے ہوئے ہیں یا پھر اپنے اپنے قومی مفادات ہیں، کسی نے واشنگٹن کو اپنا قبلہ بنایا ہوا ہے، کسی نے ماسکو کو اور کسی نے بیجنگ کو، جبکہ اسرائیل کا مقصد واضح تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنے مقصد کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں مسلم ممالک کیا حکمت عملی اختیار کریں  کہ خطے میں امن قائم ہو اور اُمت مسلمہ کے اچھے دن آئیں ؟
مصطفیٰ کمال پاشا: خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جو نظام برطانیہ نے قائم کیا تھا اور پھر امریکہ نے جس کی قیادت سنبھالی تھی وہ نظام اب نئے حالات اور واقعات کی روشنی میں قائم رہتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ امریکہ کو جو سپریم پاور کی حیثیت حاصل تھی وہ تو تار تار ہو چکی ہے۔ چین نے ڈوبتے ہوئے روس کو بھی اپنے ساتھ ملا کر ایک طاقت دے دی ہے ۔ چین اب معاشی طور پر اپنی برتری ثابت کر چکا ہے، عسکری طور پر اس کی برتری کے بارے میں مغرب میں خوف پایا جاتا ہےحالانکہ مغرب نے چین کی عسکری طاقت کی ابھی صرف دو تین جھلکیاںہی دیکھی  ہیں۔1: جب ہانگ کانگ واپس لیا ، 2:تائیوان پر موقف اور3:آخری پاک بھارت جھڑپ میں چینی ٹیکنالوجی کی برتری جبکہ بھارت کے پاس مغرب اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی تھی ۔ پھر ایران امریکہ جنگ نے بھی امریکہ اور یورپ کا پول کھول دیا ہے ۔ امریکہ کے اس خطے سے جانے کے بعد طاقت کا جو خلا پیدا ہوگا ، اس کو امریکہ ایسے ہی بھرنے کی کوشش کر رہا ہے جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد جب برطانوی کالونیل نظام ختم ہوا تھا تو اس کی جگہ اُس نے دولتِ مشترکہ کا نظام تشکیل دے کر اپنے مفادات کو، اپنے مراعات یافتہ طبقات کو تحفظ دیا تھا اور وہ طبقات ابھی تک موجود ہیں۔اسی طرح امریکہ یہاںاتحاد بنا کر علاقے میں کشیدگی کو برقرار رکھے گا۔یعنی ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے والے جو دو گروہ پیدا ہوں گے وہ دونوں ہی مسلمان ہوں گے ۔ ایک طرف مکہ معاہدہ اور بدر میں شامل مسلم ممالک ہیں اور دوسری طرف ایران ، لبنان اور عراق وغیرہ پر مشتمل گروہ ہے ۔ 
رضاء الحق:پہلی بات یہ ہےکہ ہم اپنے دوست دشمن کی پہچان کریں۔ قرآن پاک اس حوالے سے ہمیں  واضح رہنمائی دیتا ہے :       
{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرۃ:120) 
’’اور(اے نبیﷺ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
{لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج}(المائدۃ:81)
’’تم لازماًپائو گے اہل ِایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘
آج کل کے دور میں دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ اسرائیل، انڈیا اورصہیونی لابی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دوسری طرف ہماری اپنی کمزوریاں بھی احادیث میں ہمیں بتا دی گئی ہیں۔ آج ہم کفار کے سامنے کھڑے کیوں نہیں ہورہے یا مسلم ممالک آپس میں متحد کیوں نہیں ہورہے اس کی وجہ احادیث میں وَهْنٌ  

 

(( حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ)) کی بیماری بتائی گئی ۔ مسلم حکمرانوں کو اپنی کرسی اورمال و دولت پیار ی ہے ، اونچی بلڈنگیں بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ حالانکہ اس اُمت کو ایک عظیم مشن سونپا گیا تھا : 
 {ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(الصف:9)’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین ِحق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘‘
ہمیں دنیا میں اللہ کے نظام کو قائم کرنا تھا لیکن اس مشن کو چھوڑ کر ہم دنیا میں پڑ گئے ۔ لہٰذا ہمارا یہ حال تو ہونا ہی تھا ۔ اللہ کا دین تو آخر دنیا میں غالب ہوکر رہنا ہے ، یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ ہم اس وعدے کو مدنظر رکھتے ہوئے دین کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔ مکہ معاہدہ میں ہی باقی مسلم ممالک کو بھی شامل کریں ، الگ الگ معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر صہیونی یہ کہتے ہیں کہ ان کے گریٹر اسرائیل کی سرحدیں نیل سے فرات تک ہوں گی ۔ ہمیں تو احادیث میں خوشخبری دی گئی ہے کہ خراسان سے اسلامی لشکر نکلیں گے اوریروشلم میں جا کر جھنڈے گاڑیں گے، دجال کے خلاف حضرت مہدی کی نصرت کریں گے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ تشریف آوری پر اُن کا ساتھ دیں گے ، پھر اللہ کا دین پوری دنیا میں قائم ہو گا ۔ ہم اس وعدے کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں ۔