سیرت النبی ﷺ اور فلسفہ ٔ انقلاب
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ
بانی ٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی کتاب’’ سیرت النبی ﷺ سیریز:3‘‘سے ماخوذ
دُنیا کے دوسرے انقلابات سے انقلابِ محمدی ﷺ اِس اعتبار سے بنیادی طورپر مختلف ہے کہ دوسرے دنیوی انقلابات کے نظریات انسانوں کے ذہن کی پیداوار تھے---------- بالشویک یعنی اشتراکی انقلاب کا فلسفہ کارل مارکس کے ذہن کی اختراع تھا۔ اِسی طرح انقلابِ فرانس کا فلسفہ والٹیئر‘روسو اور بہت سے مفکرین کے ذہنوں کی پیداوار تھا۔ مگر اسلامی انقلاب کا فلسفہ اللہ تعالیٰ کا ودیعت کردہ ہے جو وحی کے ذریعہ سے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا۔ لہٰذا اس نظریہ کی نشر واشاعت کے معنی ہیں قرآن حکیم کی نشرواشاعت‘ ` اس کی تبلیغ‘ ` اس کے ذریعہ سے دعوت‘ ` اس کے ذریعہ سے تبشیر و اِنذار اور اس کے ذریعہ سے تذکیر ونصیحت۔ گویا نبی اکرم ﷺ کا آلۂ انقلاب اور ذریعۂ انقلاب قرآن حکیم تھا۔ علاوہ ازیں قرآن انسان کے لیے جو ہدایت لے کر آیا ہے اس میں یقیناً انفرادی زندگی کے لیے بھی راہنمائی ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی۔ قرآن کے موضوعات انفرادی اعمال وافعال کو بھی محیط ہیں اور اجتماعی اَقدار کو بھی۔ لیکن انقلابی عمل کے لیے قرآن کے اس حصّہ کو نمایاں کرنا ہو گا جس کا تعلق اجتماعی نظام کے ساتھ ہے۔
پاکستان میں اِسلامی اِنقلاب کی ضرورت و اہمیت
اور طریق کار
پاکستان میں اسلامی انقلاب کے ذکر سے پہلے چند تمہیدی باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ پاکستان کی بقا اور استحکام صرف اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ ہمارے پاس اسلام کے سوا اس ملک کی بقا اور استحکام کے لیے کوئی اور بنیاد سرے سے موجود نہیں ہے---------- اب یہ بات خود ایک مستقل موضوع ہے کہ تحریک پاکستان کا پس منظر کیا تھا! یہ ملک بنا کیوں تھا! اس کے محرکات اور عوامل کیا تھے! اس کی اساسات کیا ہیں!---------- پھر یہ کہ مختلف ممالک کے استحکام اور بقا کے لیے کون کون سے عوامل سہارا دیتے ہیں اور اس کی تقویت کا باعث بنتے ہیں! ان میں سے ایک ایک عامل کاجائزہ لے کر یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ دُنیا کے عام ممالک کو اپنے استحکام اور بقا کے لیے جو سہارے دستیاب ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس جو واحد سہارا ہے وہ ہمارا دین ہے۔ ہمارے بارے میں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ
ع کافر نتوانی شُد ناچار مسلماں شو۔
’’ہم کافر ہو ہی نہیں سکتے‘ ہمیں تو لامحالہ مسلمان ہونا پڑے گا۔‘‘
پاکستان میں اسلام انتخابی طریق سے نہیں آ سکتا ہے بلکہ اس کے لیے واحد راستہ انقلاب کا راستہ ہے۔ اب اس کے لیے بھی دلائل و شواہد چاہئیں۔ انتخابات میں بھی بعض لوگ اسلامی نظام کے قیام کے لیے نیک نیتی سے حصّہ لیتے ہیں کہ اس طریق سے اسلام کی سربلندی کے لیے کام کریں۔انتخابات میں حصّہ لینے والوں میں یقیناً ایسے لوگ بھی ہوں گے جو نہایت خلوص کے ساتھ اسلامی نظام کے قیام و نفاذ کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسی انتخابی طریق کار پر عمل پیرا رہے ہیں اور رہیں گے۔ لیکن مجھے قوی اور مستحکم دلائل کی بنیاد پر اس سے شدید اختلاف ہے۔ میرے نزدیک پاکستان میں اسلام اگر آ سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف انقلابی عمل کے ذریعے سے ہی آ سکتا ہے۔
تیسری بات یہ کہ جب پاکستان کی غالب آبادی سُنّی ہے تو ظاہر بات ہے کہ یہاں جو بھی انقلاب آئے گا اور اس کے نتیجہ میں یہاں جو بھی نظام قائم ہو گا وہ سُنّی تصوّرِخلافت ِ عامّہ پر مبنی ہو گا۔
چوتھی بات یہ ہے کہ وہ انقلاب اگر آئے گا تو خالصتاً اس نہج پر آئے گا کہ جس نہج پر محمد رسول اللہ ﷺ نے انقلاب بپا کیا تھا۔ امام مالک ؒ سے حضرت ابوبکر صدیق ص کا یہ قول منقول ہے کہ ’’لَا یَصْلُحُ آخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا بِمَا صَلَحَ بِہٖ اَوَّلُھَا‘‘ یعنی ’’اِس اُمّت کے آخری حصّہ کی اصلاح نہیں ہو سکے گی مگر صرف اس طریق پر کہ جس پر اس کے پہلے حصّہ کی اصلاح ہوئی تھی‘‘ ---------- اس قول کے متعلق میرا تأثر اتنا یقینی ہے جتنا اس پر کہ کل سورج طلوع ہو گا۔ پھر یہ کہ اس کارگاہِ عالم کی زندگی کا آخری دور شروع ہو چکا ہے۔حالات اس رخ پر جا رہے ہیں جن کی خبر نبی اکرم ﷺ نے دی تھی۔
پانچویں بات یہ کہ آخری دور میں اسلام کے عالمی غلبہ کی جو خبرالصادق و المصدوق ﷺ نے دی تھی‘ اس کا بھی عمل یقیناً شروع ہو گا۔ البتہ یہ کہاں سے شروع ہو گا اور کس خطہ ارضی کو یہ سعادت نصیب ہوگی! یہ ہم نہیں جانتے۔ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مکہ سے مایوس ہو کر نبی اکرم ﷺ نے اپنے طور پر طائف کا انتخاب فرمایا تھا‘ لیکن طائف میں جو کچھ حضور ﷺ کے ساتھ ہوا وہ کون نہیں جانتا۔ یومِ طائف کو نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیات ِ طیبہ کا سخت ترین دن قرار دیا تھا۔ وہاں سے آپ ﷺکو ناکام واپس آنا پڑا ---------- لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا مدینہ منورہ کا۔ حضور ﷺ کے قدم مبارک وہاں پہنچے بھی نہیں کہ وہاں انقلاب آ گیا۔ تمہیداً چھ افرادحج کے موقع پر ایمان لائے۔ اگلے سال ان میں سے پانچ اور سات دوسرے افراد یعنی کل بارہ افراد حاضر خدمت ہو گئے۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ---------- جسے کتب ِ سیرتِ مطہرہ میں بیعت ِ عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے ---------- اور درخواست کی کہ ہمیں اپنا کوئی جان نثار شاگرد دیجیے جو ہمیں قرآن پڑھائے اور یثرب میں (جو مدینہ منورہ کا پہلا نام ہے) دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے۔ لہٰذا حضورﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرص کو اُن کے ساتھ جانے کا حکم دیا۔ حضرت مصعبص کی ایک سال کی تعلیم ِقرآن اور دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں اگلے سال بہتر(72) مرد او ر تین خواتین کل پچھتر (75) افراد نے آکر نبی اکرم ﷺ کے دست ِ مبارک پر بیعت کی اور یہ بیعت ہجرت کی تمہید بن گئی۔ اسے بیعت ِ عقبہ ثانیہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان پچھتر انصار ث نے عرض کیا کہ حضورﷺ!آپؐ ہمارے یہاں تشریف لایئے۔ اگر قریش یثرب پر حملہ آور ہوں گے تو ہم آپ ﷺ کی اس طرح حفاظت کریں گے جیسے اپنے اہل وعیال کی کرتے ہیں۔ بعد ہٗ جب حضور ﷺہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں استقبال کی تیّاریاں تھیں۔ کئی دن سے لوگ روزانہ شہر سے باہر آ کر آپ ﷺ کی تشریف آوری کے منتظر رہتے تھے۔ اِدھر مکہ میں قریش خون کے پیاسے ہیں جہاں تیرہ برس حضور ﷺنے بنفس نفیس دعوت دی۔ یہاں تو نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکرصکو تین دن رات غارِ ثور میں روپوش رہنا پڑا۔ پھر یہ کہ تعاقب ہو رہا تھا۔ سراقہ بن مالک جو بعد میں دولت ِ ایمان سے بہرہ مند ہو گئے دو مرتبہ قریب پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر حفاظت فرمائی۔مکہ کا حال تو یہ ہے اور اہل مدینہ سراپا انتظار آپﷺ کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کا وہاں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت سے داخلہ ہورہا ہے۔
تو یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت میں ہے کہ وہ کس جگہ کو سعادت عطا فرمائے‘ کون سے مقام کو چن لے۔ یہ اُسی کا انتخاب ہے۔ہم نہیں جانتے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور عالمی سطح پر دین حق کے غلبہ کا آغاز کس ملک سے ہو گا! لیکن یہ بات پورے یقین و وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آخری دور کے بارے میں جن واقعات و حالات کی خبریں احادیث ِ صحیحہ میں دی گئی ہیں وہ دور آ چکا ہے‘ اس کا آغاز ہو گیا ہے۔ کسی نہ کسی خطہ ارضی کو یہ سعادت حاصل ہو کر رہے گی کہ اسے اللہ تعالیٰ صحیح اسلامی انقلاب کے لیے منتخب فرما لے ------------------
اور یہ انقلاب بالکل اسی نہج پر آئے گا جس نہج پر برپا فرمایا تھا محمدرسول اللہ ﷺ نے۔ اِن شاء اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں اسی نہج پر انقلاب آئے گا جو عالمی سطح پر غلبۂ دین کی تمہید بنے گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان کا یہ خطہ ارضی‘ جو حقیقت کے اعتبار سے مملکت خداداد ہے‘ یہ ہمارے قوت ِ بازو اور ہماری جدّوجُہد کا نتیجہ نہیں ہے‘ اسے اللہ تعالیٰ اس سعادت کے لیے قبول فرما لے۔ بظاہر احوال تو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سامنے آتے ہیں‘ پھر اُمید بندھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔ اس کی شانِ والاتباریہ ہے: {یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ} (الروم:19)اُسے ہر شے پر قدرت حاصل ہے‘ وہ شر سے خیر برآمد کرتا ہے جس کا کہیں سان گمان تک نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل اور قدرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم معروضی طور پر (objectively) غور کریں اور سمجھیں کہ انقلاب کا ’’محمدی ؐ طریق‘‘ ہے کیا؟
بحث و تمحیص کے تین حصے
ایک بات تو بالکل آغاز ہی میں سیرتُ النبی ﷺ کے واقعات و حالات کے حوالوں (references) کے بغیر اصولی طور پر جان لینی چاہیے کہ انقلاب کسی بھی نوع کا ہو اس کے لیے چھ مراحل طے کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ یہ بات سیرتِ نبوی ﷺ کے معروضی مطالعےسے حد درجہ واضح ہے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ مطالعۂ سیرتِ مطہرہ کے دوران جو حالات و واقعات پیش آئے انھیں خاص سے عام کر کے یعنی generalize کر کے جو اصول و مبادی مستنبط ہوتے ہیں ان کی روشنی میں انقلابی عمل کے مراحل و مدارج اور لوازم طے کیے جائیں گے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ اس مستنبط خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے ہمیں سیرتِ مبارکہ ؐ سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ کیا ہے؟
اور تیسری بات جو عملی اعتبار سے بہت ضروری ہے‘ یہ ہو گی کہ ہمارے حالات اور نبی اکرم ﷺ کے دورِ سعید کے حالات میں بہرحال چودہ سو برس سے کچھ زیادہ ہی مدّت کا فصل ہے۔ اس دوران حالات میں بہت کچھ تغیر و تبدل ہوا ہے اور انسان کے تمدنی و عمرانی تصوّرات میں بہت کچھ ارتقاء ہوا ہے۔ پھر ایک نمایاں ترین فرق یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کا پورا انقلابی عمل ایک خالص مشرکانہ وکافرانہ ماحول میں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا‘ جبکہ ہمیں اسلامی انقلاب کے لیے جو کام کرنا ہے وہ اسلام کے دعویدار مسلمانوں میں کرنا ہے‘ کافروں میں نہیں۔ لہٰذا ان حالات کی بنا پر ہمیں غور کرنا ہو گا کہ جو طریق کار ہمیں سیرت النبی ﷺ میں ملتا ہے آیا بعینہٖ وہی اختیار کرنا لازم ہے یا اس طریق کار میں ہمیں درپیش حالات کے فرق و تفاوت کی وجہ سے کہیں کچھ اجتہاد کرنا ہو گا! (جاری ہے)