دین میں پردے اور حیاء کے احکام
(قرآن و احادیث کی روشنی میں)
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس ،کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے23اکتوبر2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
گزشتہ جمعہ کو ہم نے پردے کے احکام کے بارے میں سات قرآنی آیات کا مفہوم سمجھا تھا ۔ آج کی نشست میں انہی آیات کے ذیل میں اور انہی عنوانات کے تحت چند احادیث مبارکہ پیش کرنا مقصود ہے۔ان احادیث کی روشنی میںہم دیکھ سکتے ہیں کہ دین کے ہم سے تقاضے کیا ہیں اور ہم آج کس طرف جارہے ہیں ۔ احادیث بھی وحی کا حصہ ہیں(وحی غیرمتلو)اور قرآن کی تشریح ہیں ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِط وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(44)} (النحل )’’(ہم نے انہیں بھیجا) کھلی نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کیا آپؐ کی طرف الذکر ‘تا کہ آپؐ واضح کر دیں لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اُن کی جانب اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘
قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف محض ذوقِ جمع آوری کاپی کےلیے نہیں بھیجا کہ گھر میں رکھ دیں بلکہ سیکھنے، پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے بھیجا ہے۔یہ حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا ، آپ ﷺ کی زبان مبارک سے جاری ہوا ، صحابہ کرام؇ نے سیکھا،حفظ کیا اور اُمت تک پہنچایا ۔قرآن کی تشریح احادیث کے ذریعےبھی ہوگی ۔ وہ طبقہ جو احادیث کو حجت و دلیل ماننے سے انکار کرے ، وہ بڑی گمراہی پر ہے ۔ سورۃ النجم میں فرمایا:
{وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی (5) اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(4)} ’’اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش ِنفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘
ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ عام الفاظ میں ہم اس کو سنت یا حدیث کہتے ہیں ۔ سورۃالمومنون کی پہلی گیارہ آیات میں جنت پانے والوں کی صفات کا ذکر آیا ہے ۔ وہیں اللہ نے فرمایا:
{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ (5)}’’اور جو اپنی شرمگاہوںکی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
اس حکم کی تشریح احادیث کے ذریعے ہوگی کہ اپنی شرم وحیاء اور ایمان کی حفاظت کس طرح کرنی ہے ۔ اس میں سترو حجاب کے احکام بھی شامل ہیں ، حیاء ، ایمان ، لباس، گھروں میں داخل ہونے ، محرم اور نامحرم کی تمیز اور علیحدگی(segregation of sexes)، گھروں میں پردے کا اہتمام ، گھر سے باہر پردے کی نوعیت سمیت وہ تمام احکام شامل ہیں جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ گزشہ جمعہ کو ہم نے سورۃ النور کی آیت نمبر 27 کا مطالعہ کیا تھا جس میں گھروںمیں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے اور بات کرنے کے طریقے کے متعلق احکام بیان ہوئے ۔ اس حکم کی تشریح میں پہلی حدیث سنن ابی داؤد سے پیش خدمت ہے۔ حدیث کے مطابق اللہ کے رسول ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺ کسی کے گھر جاتے تودروازے کے عین سامنے کھڑے نہ ہوتے۔ اس کی ایک حکمت ہے۔ اگر کوئی نامحرم خاتون اندر سے آئے تو بے پردگی نہ ہو جائے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ دستک دینے کے بعددروازے کی اوٹ میںذرا ہٹ کے کھڑے ہوجاتے۔ اسی طرح بخاری شریف میں حدیث ہے کہ جب کسی کے گھر جاؤ تو زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ پکارو!آج کل گھنٹی بجاتے ہیں لیکن اُس وقت آواز دے کر پکارا جاتا تھا۔ اگر تین مرتبہ پکارنے کے باوجود بھی گھر سے کوئی جواب نہ آئے تو واپس پلٹ جاؤ ۔ سورۃالنور کی ایک آیت میں بھی ہے:
{ہُوَاَزْکٰی لَکُمْ ط}(آیت:28) ’’یہ طریقہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہے ۔‘‘ اور کبھی گھر والے گھر پر موجود بھی ہوںلیکن کسی وجہ سے ملاقات نہ کرنا چاہتے ہوں تو بھی واپس چلے جاؤ ۔ آج تو سمارٹ فون کا دور ہے ، ملاقات کا وقت پہلے سے طے کیا جاسکتاہے ۔ بغیر اطلاع دئیے اگر آپ ملاقات کے لیے گئے ، لیکن گھر والے ملنا نہیں چاہتے تو واپس چلے جانا بہتر ہے ۔ اگلی حدیثمبارکہ سنن ابی داؤد سے ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص بالکل دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر گھر میں داخلے کی اجازت مانگ رہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اجازت لینے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ گھر کے اندر موجود افراد پر اچانک نظر نہ پڑے۔ لہٰذا تمذرا ہٹ کے کھڑے ہو کر اجازت مانگو۔ سنن ابی داؤد کی ایک اورروایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب نگاہ (گھرمیں) داخل ہو گئی تو پھر خود(گھرمیں) داخل ہونے کے لیے اجازت مانگنے کی کیا تُک ہے؟سنن ابی داؤد کی ہی روایت میں ہے کہ ایک شخص دروازے پر کھڑے ہو کر کہہ رہا تھا : علی میں داخل ہو جاؤ ں ؟ آپ ﷺ نے اس کو طریقہ بتایا کہ اللہ کے بندے ایسے اجازت طلب نہیں کرتے ۔ پہلے السلام علیکم کہتے ہیں ۔ پھر اپنا تعارف کرواتے ہیں اور پھر اجازت طلب کرتے ہیں ۔ اسی طرح ایک شخص سلام کیے بغیر یونہی آکر بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ باہر جاؤ اور سلام کرکے اندر آؤ ۔ اسی طرح ایک شخص نے دروازے پر دستک دی ، آپ ﷺ نے پوچھا :کون ؟ جواب آیا : میں ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اتنا کافی نہیں ہے ، اپنا نام بتاؤ ۔ ان ساری تعلیمات کا مقصد حیاء کی حفاظت کرنا سکھانا تھا ۔ اس مقصد کو سامنے رکھیے تو بہت سے احکامات کی حکمتیں ہم پر واضح ہو جائیں گی ۔ جیسا کہ اپنے گھر میں بھی داخل ہوں تو پہلے اجازت طلب کریں ۔ایک شخص نے پوچھا ؛میری والدہ گھر میں اکیلی ہوتی ہیں ۔ کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے وقت بھی اجازت طلب کروں ۔ فرمایا : ہاں ! جب گھر میں داخل ہوتو اجازت طلب کرو ۔ فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ تم اپنی والدہ کو کسی بے لباسی کی کیفیت میں دیکھو۔ اس تعلیم میں حکمت یہ ہےکہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اگر اجازت لی جائے گی تو گھر کی خواتین اپنے،ستر یا پردے کا اہتمام کرلیں گی۔ سورۃ النور کی آیت 31 میں باقاعدہ تعلیم ہے کہ گھر میں موجود خواتین بھی اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہر کے۔ قریبی محرم رشتےجن کا ذکر اس آیت میں آیا اُن کے سامنے بھی عورت کا مکمل سترپوشی کرنا لازم ہے ۔ سورۃ النور کی ان آیات میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم بھی آیا ۔ اس کی تفصیل بھی احادیث میں آئی ہے ۔
مسند احمد اور جامع ترمذی میں مشہور روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علیؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا ۔پہلی نگاہ جو بلاارادہ پڑ گئی‘وہ معاف ہے مگر دوسری نگاہ نہیں جانی چاہیے ۔‘‘
بدقسمتی سے آج کچھ شرپسند لوگ حدیث کا مذاق اُڑا کر اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں ۔ نظروں کا غلط استعمال کرنے کے بعد بھی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک نظر ہی دیکھا ہے ۔ استغفراللہ ۔ ایسے لوگ اپنی آخرت کی خیر منائیں ۔ حدیث کا مفہوم تو یہ ہےکہ غیر ارادی طور پر اگر نگاہ پڑ ے تو اسے فوراً ہٹا لیا جائے اور دوسری مرتبہ نہ دیکھا جائے ۔ کیونکہ دوسری مرتبہ اگر نگاہ ڈالی تو وہ ارادتاً ہوگی ۔ حضرت جریر ؓ نے پوچھا :یارسول اللہ ﷺ ! اگر اچانک نگاہ پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو۔جن کو آخرت مطلو ب ہے اُن کے لیے یہ کوئی مشکل معاملہ نہیں ہے لیکن جن کا ایمان کمزور ہے اور آخرت کی طلب نہیں ہے اُن کے لیے دین پر عمل کرنا مشکل ہے ۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اللہ کی جنت مشکلات اور مصائب سے گھری ہوئی ہے اور جہنم آسانیوں ، لذتوں اور خواہشات سے گھری ہوئی ہے ۔ جو لوگ لذتوں اور خواہشات کے پیچھے بھاگیں گےوہ آخر میں جہنم کے گھڑے میں گریں گے ۔
اگلی حدیث مسند احمد کی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان کی نگاہ کسی عورت کے حسن پر پڑے اور وہ نگاہ ہٹا لے تو اللہ اس کی عبادت میں لطف اور لذت پیدا کر دیتا ہے۔
آج اگر ہمارا نماز میں دل نہیں لگ رہا ، قرآن کی تلاوت کا لطف نہیں آرہا ، اللہ کے ذکر سے بھی سکون نہیں مل رہا تو سمجھ لیجئے کہ اللہ ہم سے کسی وجہ سے ناراض ہے اور وہ وجہ ہماری بدنگاہی بھی ہو سکتی ہے ۔ اگلی حدیث بھی اسی تسلسل میں ہے۔ طبرانی شریف میں حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بُری نگاہ (لذت یا شہوت والی نگاہ) ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔ جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کی حفاظت کرے گا ،میں اس کے بدلے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میںمحسوس کرے گا۔یہ ابلیس کی پھونکیں ہی ہیں جو آج ہمیں آپس میں لڑا رہی ہیں ، ایک دوسرے سے نفرت اور دشمنی کا باعث بن رہی ہیں۔ جو بدنگاہی سے بچے گا وہ اپنے دل میں ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا ۔ شریعت نے غیر محرم کو ایک نظر دیکھنے کی گنجائش چند صورتوں میں دے رکھی ہے ۔ مثال کے طور پر رشتہ طے کرتے وقت لڑکا لڑکی ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھ لیں ۔ اسی طرح انتہائی ناگزیر صورت میں کہیں عدالتی کارروائی کا معاملہ ہو ، انوسٹی گیشن کا معاملہ ہو یا مریضہ کا معاملہ ہو تو شریعت گنجائش دیتی ہے۔ لیکن بُری نیت سے دیکھنا حیاء اور ایمان کے لیے انتہائی مہلک ہے ۔
اگلی حدیث ستر کے بارے میں ہے ۔ ستر جسم کا وہ حصہ ہے جسے ہر حال میں چھپانا فرض ہے۔مسلم شریف میں روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے۔ ایک اور حدیث حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کسی زندہ یا مردہ انسان کی ران پر نگاہ نہ ڈالو ۔اسی وجہ سے جب کسی کو غسل دیتے ہیں تو ڈھانپ کر غسل دیتے ہیں ۔ یہ شرعی احکام ہیں اور ان میں حکمت ہے ۔ آج جس طرح کے لباس خواتین و حضرات پہن رہے ہیں ، خاص طور پر کھیلوں کے دوران خواتین جس طرح کا لباس پہنتی ہیں ،سوشل میڈیا پرجو کچھ دیکھا جارہا ہے ، فلموں اور ڈراموں میں جو کچھ دکھایا جاتاہے تو ذرا سوچئے کہ وہاں نگاہوں کی حفاظت ، حیاء کی حفاظت ممکن ہے ؟ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اپنے ستر کو اپنی بیوی یا کنیز کے سوا باقی سب سے محفوظ رکھو ۔ آج کنیزوں اور غلاموں کا تصور موجود نہیں ہے لہٰذا آج معاملہ میاں بیوی تک محدود رہے گا ۔
ایک شخص نے پوچھا :یارسول اللہ ﷺ! جب ہم تنہائی میں ہوں تو ؟ فرمایا : سب سے بڑھ کر اللہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے ۔ لہٰذا تنہائی میں بھی ہو تو اپنے ستر کو پوشیدہ رکھو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی برہنہ رہیں۔ حضرت عمر اس حدیث کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے بھی نہ پہناؤ کہ جو اتنے تنگ ہوں کہ جسم کے اعضاء نمایاں ہو جائیں۔
ان شرعی تعلیمات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چست پینٹ پہننا بھی حیاء اور شرم کے خلاف ہے ۔ خواتین کا معاملہ تو اور بھی حساس ہے ۔ ان کے لیے تو سرسے لے کر پاؤں تک جلباب کا حکم ہے۔ کہاں یہ کہ آج تنگ لباس اور مختصر لباس کا رجحان مغربی تہذیب سے مستعار لے لیا گیاہے۔ جبکہ خود مغرب کی خواتین جب اسلام قبول کرتی ہیں تو وہ پردے اور حجاب کو اہمیت دیتی ہیں ۔ ایک نومسلم خاتون نے اس موضوع پر ایک شاندار آرٹیکل لکھا اور اس میں سیب کی مثال دی کہ جب تک سیب اپنے قدرتی کور(چھلکا) کے اندر رہتا ہے وہ تازہ رہتا ہے اور جب چھلکا اُتار لیا جاتا ہے تو وہ چند لمحوں کے اندر کالا اور خراب ہونا شروع ہو جاتاہے ۔ اسی طرح عورت کامفہوم ہی پردے کی چیز ہے ۔ جب تک عورت پردے اور حجاب میں ہے وہ بہت سی نگاہوں اور خرابیوں سے بچی ہوئی ہے ۔ پردہ اور حجاب ہٹ جائے تو برائیاں دوڑ کر آتی ہیں ۔ یہ بات یورپ کی بعض سلیم الفطرت خواتین کو سمجھ میں آرہی ہے لیکن ہم مسلمانوں کو سمجھ میںآج نہیں آرہی ۔
ایک سعودی فیملی کی خواتین پیرس کے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں گئیں ، وہاں ایک نو مسلم لڑکی نقاب میں تھی، سعودی خواتین نے (جو حجاب میں نہیں تھیں )اُسے گھور کر دیکھااوراس کے حجاب پر فقرہ کساتو نومسلم لڑکی نے کہا : تم مسلمانوں نے پردے کو بیچ دیا اور ہم نے اسے خرید لیا ۔ اس صدی میں پردہ کرنے والیاں پردہ نہ کرنے والیوں کے خلاف حجت بن جائیں گی۔ اگر پیرس، نیویارک اور لندن میں پردہ ہو سکتا ہے تو پاکستان کی عورتوں کو اور مسلمان معاشروں کی عورتوں کو کون سی مصیبت پڑ گئی ہے؟
غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان عورتوں سے بڑھ کر ان کے مردوں کوغوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی غیرت آج کہاں چلی گئی ہے؟
سورۃ النور کی آیت کا مطالعہ ہم نے گزشتہ جمعہ کو کیا تھا جس میں گھر کے اندر خواتین کے پردے اور اوڑھنی کا حکم تھا ۔اسی کے ذیل میں ابو داؤد شریف میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگ اپنے گھروں کی طرف پلٹے اور جاکر اپنے گھر کی خواتین کو یہ آیت سنائی ۔ معلوم ہوا کہ مرد کے ذمے صرف معاشی کفالت ہی نہیں بلکہ گھر کی خواتین کی دینی تعلیم کا اہتمام کرنا،اپنے گھر کے اندر شرعی احکام کا نفاذ ، گھر والوں کی حیاء، عقیدے اور ایمان کی حفاظت بھی مرد کی ذمہ داری ہے ۔
روایت میں ہے کہ سورۃ النور کی ان آیات کوسننے کے بعد تمام مسلم خواتین نے اس پر عمل کیا ۔ ان میں نامحرم سے پردہ کے مسائل بھی شامل ہیں ، نظروں کی حفاظت ، گھر سے باہر حجاب اور گھر کے اندر اوڑھنی اور لباس کے مسائل بھی بیان ہوئے ہیں ۔ اسی طرح غیر محرم مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی ممانعت بھی شامل ہے ۔ اس کی تفصیل اور تشریح بھی احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔مسند احمد کی روایت ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو ، اسے چاہیے کہ کسی عورت کے ساتھ ایسی خلوت میں نہ بیٹھےجس میں کوئی تیسرا موجود نہ ہو۔کیونکہ ایسی صورت میں ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسولﷺ نے اس بات کو سخت ناپسند فرمایا کہ مرد نامحرم خواتین کو چھوئیں یا ان سے ہاتھ ملائیں۔ معجم طبرانی کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : یہ گوارا کرلینا کہ تمہارے سر میں کیل ٹھونک دی جائے مگر یہ گوارا نہ کرنا کہ تم کسی نامحرم عورت کو چھوو جو تمہارے لیے حلال(تمہاری نکاح میں ) نہ ہو ۔
آج ہمارے معاشرے میں کیا ہورہا ہے ؟ فلمیں ، ڈرامے اور سٹیج شوز تو ایک طرف سکولوں میں بچے اور بچیاں سٹیج پر اکٹھے ڈانس کرتے ہیں اور والدین بیٹھ کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں ۔پھر شادی بیاہ کے مواقع پر جو کچھ ہوتا ، اللہ معاف فرمائے ۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
آج ہمارے گھرانوں میں ،کزنز میں، تعلیمی اداروں میں، کارپوریٹ سیکٹر میں بات کہاں تک پہنچ گئی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ جب خواتین سے بیعت لیتے تو مصافحہ نہیں کرتے تھے ۔ صرف زبانی اقرار کرواتے تھے ( سنن نسائی سنن ،ابن ماجہ )۔
آج جاہل قسم کے پیر جو کچھ حرکتیں کررہے ہیں ۔ اسی طرح گزشتہ جمعہ کو ہم نے سورۃ النور کی آیات کی روشنی میں پڑھا تھا کہ خواتین اپنے پوشیدہ زیب و زینت کو بھی ظاہر نہ کریں ۔ زینت میں چہرہ بھی شامل ہے، لباس اور زیورات بھی شامل ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے توخواتین کو تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے بھی منع کیا۔ ترمذی شریف کی روایت ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجد میں آنے سے منع نہ کرو مگر وہ خوشبو لگا کر نہ آئیں ۔ مسجد میں تو بڑا پاکیزہ ماحول ہوتا ہے۔ اگر مسجد میں اللہ کا دین اس قدر احتیاط کا تقاضا کر رہا ہے تو باہر کس قدر احتیاط کی ضرورت ہوگی ۔ ترمذی شریف میں ہی ایک اور روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو عورت عطر لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے،وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔ یہ اللہ کے رسولﷺ فرما رہے ہیں ۔ ذرا سوچئے جو عورتویں بے پردہ ہو کر گھروں سے نکلیں اُن کے لیے کس قدرسخت وعید ہوگی ۔ ابو داؤد شریف کی ایک اور روایت میں ہے جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کےد رمیان سے گزرے تاکہ لوگ لطف اندوز ہوں ، وہ زانیہ ہے ۔جو عورتیں لوگوں کو دکھانے کے لیے میک اپ کرتی ہیں اور بن سنورکر نکلتی ہیں یا فلموں اور ڈراموں میں کام کرتی ہیں یا ڈانس کرتی ہیں اُن کی تو بات ہی نہیں آئی ، صرف لوگوں کو متوجہ کرنے کی غرض سے خوشبو لگانے پر اس قدر وعید ہے تو آگے کا معاملہ ہمیں خود سمجھ جانا چاہیے۔
سورۃالاحزاب کی آیات کی روشنی میں ہم نے پڑھا تھا کہ اگر انتہائی ناگزیر ہو تو عورت غیر محرم مرد سے بات اس طرح کرے کہ لہجہ نرم نہ ہو تاکہ مرد کے دل میں کوئی بُرا خیال پیدا نہ ہو ۔ اسی طرح ہم نے پڑھا کہ خواتین کا اصل مقام اُن کا گھر ہے ۔ ان احکام کی تشریح کے لیے بھی احادیث موجود ہیں ۔ طبرانی شریف کی روایت ہے کہ بلاشبہ عورت چھپانے کے لائق ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور وہ اپنے رب کی رحمت کے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہوتی ہے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت کے مطابق عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور وہ اپنی رعیت یعنی اولاد کے معاملے میں جوابدہ ہے۔یعنی اس کی اصل ذمہ داری اس کے گھر میں ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ فرض ہے ،مگر چار لوگوں پر نہیں :غلام، عورت، بچہ اور مریض۔معلوم ہوا کہ ناگزیر ضرورت کےتحت عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے اور مسجد میں جمعہ یا نماز ادا کر سکتی ہے لیکن زیادہ فضیلت گھر میں رہنے میں ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ عورت جتنا پوشیدہ ہو کر نماز ادا کرے ، اس کے لیے اتنا ہی زیادہ اجر ہے ۔ یعنی باہر کے مقابلے میں گھر میں ، صحن کے مقابلے میں کمرے میں اور کمرے کے مقابلے میں کسی پوشیدہ کونے میں نمازادا کرنے کی زیادہ فضلیت ہے ۔ جو دین اس قدر حیاء اور پردے کا تقاضا کرتاہے وہ خواتین کے چہرے کے پردے اور لباس کے متعلق کس قدر حساس ہوگا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنگ اُحد کے موقع پر ام خلادکے بیٹے شہید ہوگئے ، وہ اُن کے بارے میں پوچھنے جب تشریف لائیں تو مکمل حجاب میں تھیں ۔لوگوں نے کہا اس حال میں بھی کہ تمہارا بیٹا شہید ہوچکا ہے تم اب بھی نقاب اور پردے کی کیفیت میں ہو ۔ ام خلاد نے فرمایا : میرا بیٹا مرا ہے، میری حیاء نہیں مری ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی اور فرمایا تمہارے بیٹے کو دو شہیدوں کا ثواب ملے گا کیونکہ اس کو اہلِ کتاب نے شہید کیا ہے ۔
اسی طرح افک کے واقعہ کے متعلق حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب صفوان بن معطلؓ تشریف لائے تو انہوںنے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور اپنے چہرے کو ایک بڑی چادر سے چھپا لیا ۔ یہ ہمارے دین کی تعلیمات ہیں ، دل میں ارادہ کیجئے کہ ہم نے ان احکامات پر عمل کرنا ہے ۔ غلطیاں انسان سے ہو جاتی ہیں لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!