(اداریہ) تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی! - رضا ء الحق

14 /
اداریہ
 
رضاء الحق
 
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی!
 
فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں اکتوبر 2026ء کے دوران جاری احتجاجی مظاہرے، پُرتشدد تصادم، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو پہنچنے والا نقصان محض چند حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردِّعمل نہیں، بلکہ اس گہرے بحران کی علامت ہے جس نے جدید مغربی معاشرے کے سیاسی، معاشی، سماجی و تہذیبی اور اخلاقی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ فرانس میں طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کی خراب صورتِ حال اور ناکافی وسائل کے خلاف شروع ہونے والی تحریک نے مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، روزگار کے عدم تحفظ اور ریاست کی طرف سے ملنے والی عوامی خدمات (benefits) کے زوال کے خلاف وسیع تر احتجاج کی شکل اختیار کرلی ہے۔ 17 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار بھی ہوئی، جبکہ 24 اکتوبر کو فرانس بھر میں تقریباً چار لاکھ دس ہزار افراد نے دوبارہ مظاہروں میں شرکت کی۔ حکومت نے 31 اکتوبر کے لیے مزید احتجاج اور 5 نومبر کے لیے ملک گیر ہڑتال کی تیاریوں کے باعث دباؤ برقرار رہنے کا اعتراف کیا ہے۔ چلو فرانس حکومت نے بھاری دباؤ کا اعتراف تو کیا ..... ہمارے ہاں ایسا ہوتا تو جیل، جبر اور ’سوفٹ ویئر اپڈیٹ‘ ہی ملتی! بہرحال فرانس کی صورتِ حال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے: کیا ہم چند عارضی احتجاجی تحریکوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں یا ایک ایسے عالمی نظام کے خلاف عوامی اضطراب کا اظہار دیکھ رہے ہیں جو سیاسی آزادیوں کے بلند بانگ دعووں کے باوجود معاشی انصاف، سماجی تحفظ اور انسانی وقار کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے اور مزید ناکام ہوتا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ واقعات کی سطحی تصویر سے آگے بڑھ کر ان کے بنیادی اسباب اور باہمی تعلقات کا جائزہ لیا جائے۔
 فرانس کی موجودہ احتجاجی لہر کو صرف ایک سبب تک محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حقیقی اور باطنی سطح پر احتجاج کا سبب عوام کے اذہان، قلوب اور خصوصاً روح کی وہ بے چینی ہے جو ’’سیکولرازم‘‘ اور ’’لبرل ازم‘‘ کا تحفہ ہے اور اِس خلا کو صرف اللہ کا دیا ہوا دین ہی پورا کر سکتا ہے۔ ظاہری سطح پر بہرحال مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی، ایندھن اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، رہائش کا بحران، تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی اور سرکاری خدمات پر دباؤ اس بے چینی کے نمایاں اسباب ہیں اور اب تو مختلف پیشوں سے وابستہ افراد، مزدور تنظیمیں، کسان اور ماضی کی تحریکوں کے کارکنان بھی اِس احتجاج میں بڑے پیمانے پر شریک ہو چکے ہیں۔ تاہم، ان مسائل کی شدت اس وقت زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی ہے جب عام شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ریاستی ادارے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب حکومتیں عوام سے قربانی کا مطالبہ کرتی ہیں، لیکن معاشی اور سیاسی طاقت کے مراکز اپنی مراعات برقرار رکھتے ہیں، تو معاشی شکایت رفتہ رفتہ سیاسی بے اعتمادی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ 
ہمارے اِس تجزیہ میں اگر کسی معاملے میں ہماری 79 سالہ تاریخ سے مماثلت بنتی ہے تو اُسے اتفاقیہ ہی سمجھیں۔ فرانس سے باہر بھی یورپ میں بے چینی کی متعدد صورتیں سامنے آئی ہیں۔ اکتوبر2026ء میں اٹلی اور بیلجیم میں احتجاجی سرگرمیوں، اسپین اور پرتگال میں ناقابلِ برداشت رہائشی اخراجات کے خلاف تحریکوں، اور البانیہ میں حکومت پر بدعنوانی کے الزامات کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔گویا نام نہاد ’ترقی یافتہ‘ یورپ کے عوام خصوصاً نوجوان نسل کو تعلیم اور روزگار کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے، جبکہ مہنگائی اور رہائش کے اخراجات نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مغربی ممالک دنیا بھر میں جمہوریت،    آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کے علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اپنے ہاں جب احتجاج ان کی معاشی ترجیحات یا خارجہ پالیسیوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے تو انہی اصولوں کے ڈنکے کی چوٹ پر پرخچے اُڑا دیئے جاتے ہیں۔ 
یورپی کونسل کے کمشنر برائے انسانی حقوق نے 23اکتوبر کو واضح کیا کہ چند افراد کے تشدد کو بنیاد بناکر پورے پُرامن اجتماع کو منتشر کرنا یا اس پر عمومی پابندی لگانا درست نہیں۔ وطنِ عزیز میں ہم بھی ایسے اداروں کو ترستے رہے ہیں اور شاید اُن کی راہ ہی تکتے رہیں گے۔ یورپ میں بڑھتے ہوئے عوامی اضطراب کا ایک پیمانہ فلسطین کے حق میں مظاہرے تھے۔ اکتوبر میں لندن، برلن، ڈبلن اور دیگر یورپی شہروں میں فلسطینی عوام کے حق میں بڑے اجتماعات ہوئے۔ فرانس میں بھی فلسطینی پرچم بعض احتجاجی اجتماعات میں نمایاں دکھائی دئیے۔ 
یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب محض مشرقِ وسطیٰ کا تنازع نہیں رہا، بلکہ مغربی معاشروں میں بھی انصاف، نوآبادیاتی تاریخ، انسانی حقوق اور ریاستی طاقت کے استعمال کے بارے میں بحث کا حصّہ بن چکا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ نے ایک نئی چھوڑی۔ موصوف نے 6 اکتوبر کو فرانس کے طلبہ احتجاج کو اسلام اور بے قابو ہجرت سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ تحریک دراصل تعلیمی مسائل کے بجائے اسلام کے فرانس پر غالب آنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے فرانس میں بدامنی کو مہاجرین سے منسوب کرتے ہوئے سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ فرانسیسی حکام نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی باتوں کا یقین ممکن نہیں اور وہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کا ہی لایا ہوا ایک شخص ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی فرانس کی بدامنی کو اسلام پسند عناصر اور فلسطین کی حمایت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ، نتن یاہو اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی سیاست میں ایک مشترکہ سیاسی طریقۂ کار دیکھا جاسکتا ہے: قوم پرستی، قومی سلامتی اور تہذیبی شناخت کے بیانیے کو سیاسی حمایت مجتمع کرنے کے لیے استعمال کرنا، اور مسلمانوں کو بیک فٹ پر لانے کی ہر ممکن کوشش کرنا۔مغربی ممالک میں دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کا بڑھتا ہوا اثر مسلمانوں کے لیے واقعی تشویش ناک ہے۔ البتہ ایک بات تو پتھر پر لکیر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیل اُس موڑ پر کھڑا ہے کہ جلد اُس نے دنیا کی قیادت سنبھالنی ہے، جس کے لیے وہ ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرے گا اور یورپ، امریکی اور عالمِ عرب و دیگر اہم مسلم ممالک کو کمزور سے کمزور کرے گا۔ اور یوں یورپ میں بھی ’عرب سپرنگ‘ کی طرح کی ’یورپ سپرنگ‘ شروع ہو جانا بعید القیاس نہیں۔ 
ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے حالیہ الیکشن پر ہم اِس لیے تفصیلی کلام کرنا ضروری نہیں سمجھتے کہ چاہے نتن یاہو پھر کامیاب ہو جائے یا اُس کا مخالف، اسرائیل کے ابلیسی منصوبے تیزی سے آگے ہی بڑھتے رہیں گے۔ مسلم دنیا کے لیے مغربی احتجاجی تحریکوں میں ایک اہم و بنیادی سبق یہ ہے کہ محض نظام سے ناراضی اور ایسے ’معاہدے‘ کرنا جن کا سر پیر ہی نہ ہو کافی نہیں؛ ایک حقیقی عادلانہ متبادل کا تصور، اس کے لیے علمی تیاری، اخلاقی کردار اور منظم اجتماعی جدوجہد بھی ضروری ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے معاشی عدل، دولت کی منصفانہ گردش، کمزوروں کے حقوق، حکمرانوں کی جواب دہی اور اجتماعی مشاورت محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ دینی تقاضے ہیں۔ ہمارا دین تمام انسانیت کو اِن تمام معاملات میں ہماری رہنمائی فرماتا ہے۔ جہاں تک فرانس اور اہلِ مغرب کا تعلق ہے، تو اُن کے لیے علامہ اقبال کا یہ شعر ہی کافی ہے:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
معتبر ملکی اور بین الاقوامی میڈیااورخود وفاقی وزارتِ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان شہباز شریف صاحب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران امریکہ ہی میں بل گیٹس (Bill Gates) سے مل کر پاکستان میں ’’زرعی اصلاحات‘‘ کے نام پر جی ایم او (GMO)یعنی Genetically Modified Organisms کے بیجوں کا مکمل ٹھیکہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ پھر لندن پہنچ کر ایک اجلاس میں بد نام زمانہ یہودی روتھشیلڈ (Rothschild)  خاندان کی کمپنی روتھشیلڈ اینڈ کو (Rothschild & Co )  کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی، علاوہ ازیں لندن ہی میں دنیا میں جنگ و جدل کا ایندھن فراہم کرنے اور ممالک کو سودی قرضہ میں جکڑنے والی کمپنی بلیک راک (Black Rock)کے اعلیٰ عہدےداران سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں انتہائی تشویشناک اور شرمناک ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کی زراعت کو ملٹی نیشنلز کے حوالے کر دیا گیا تو یہ پاکستان کے چھوٹے کاشت کار کو مارکیٹ سے باہر کرنے کا موجب بنے گا۔ مغرب کی بڑی کمپنیاں جی ایم او(GMO) بیجوں کو فروخت کریں گی بلکہ اس ساری مارکیٹ کو ہی سنبھال لیں گے۔پھر لندن میں روتھشیلڈ اینڈ کو (Rothschild & Co ) کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات، جس میں پاکستان نے جیو معاشی ترجیحات، کیپیٹل مارکیٹس اور معیشت میں مشاورتی تعاون کا عندیہ دیا ہے انتہائی تشویش ناک ہے۔لندن میں ہی وزیراعظم پاکستان نے کئی بڑے کمرشل بینکوں کے اعلیٰ عہدے داران سے بھی ملاقات کی، گویا مزید سودی قرضہ حاصل کرنے کے لیے کشکول ایک بار پھر نکال لیا گیا ہے۔لندن میں بلیک راک(Black Rock) کے عہدے داران سے ملاقات میں وزیراعظم پاکستان نے فرنٹیئر مارکٹس (Frontier Markets) میں بلیک راک( Black Rock) کمپنی کو سرمایہ کاری کی دعوت دے کر اور معیشت کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کی درخواست کر کے غنڈوں اور بدمعاشوں کے لیے راستے کھول دئیے ہیں۔جب ہماری خوراک کا قبضہ بل گیٹس(Bill Gates) کے پاس ہوگا اور ملکی معیشت کے فیصلے روتھشیلڈ اینڈ کو(Rothschild & Co ) اور بلیک راک (Black Rock) کریں گے، تو عالمی استعمار کے ان نمائندوں کی ایک گولی چلائے بغیر ہی پاکستان کی خوراک اور معیشت پر مکمل اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔ جس سے اُن پاکستان دشمن قوتوں کو کھل کھیلنے اور مملکتِ خداداد پاکستان کو خدا نخواستہ نقصان پہنچانے کا موقع مل جائے گا۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ بل گیٹس سے پاکستان میں GMO کے فروغ کے لیے بات چیت بند کرے۔ روتھشیلڈ/بلیک راک جیسے دشمنوں سے کوئی معاہدہ یا تعلق قائم نہ کیا جائے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے معدنی ٹھیکے      اوپن بڈنگ سے مکمل شفاف ہوں اور صوبوں کے عوام کو وسائل اور آمدنی میں سے ان کا حق دیا جائے تاکہ اُن کی ناراضگی بھی کم ہو اور وہ ملکی ترقی میں حصّہ دار بھی بنیں۔ ہمارے نزدیک پاکستانی معیشت کے مسائل کا اصل اور واحد حل     اسلامی نظامِ عدلِ اجتماعی کا نفاذ ہے۔ ربا کا فوری خاتمہ ہی امن، سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ حکومت اور ریاستی اداروں کو دینِ اسلام کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!