(الہدیٰ) احکامِ الٰہیہ کی تنفیذ، نظام ِ کائنات - ادارہ

14 /
الہدیٰ
 
احکامِ الٰہیہ کی تنفیذ، نظام ِ کائنات
اور اللہ تعالیٰ کی ’’تدبیر ِامر‘‘
 
آیت 5 {یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ} ’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف‘‘
کائنات کے انتظامی امور کی منصوبہ بندی اللہ تعالیٰ کے ہاں ہزار سال کے حساب سے کی جاتی ہے‘جیسا کہ اگلے جملے میں واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ کا ایک دن ہمارے ہزار سال کے عرصے کے برابر ہے۔ اس منصوبہ بندی کے اندر ’’لیلۃ القدر ‘‘ گویا انسانی کیلنڈر کے حساب سے متعلقہ سال کے بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سالانہ بجٹ میں فیصلے کیے جاتے ہیں کہ متعلقہ سال کے اندر دنیا میں انسانوں کے لیے کون کون سے امور کس کس طرح نمٹائے جائیں گے۔ انہی فیصلوں کی تعمیل و تنفیذکے لیے آسمانوں سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے جس کا ذکر سورۃ القدر میں آیا ہے۔
{ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ} ’’پھر وہ (امر)چڑھتا ہے اُس کی طرف‘‘
پھر فرشتے ان احکام کی تعمیل سے متعلق اپنی اپنی رپورٹس اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔
{فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(5)}’’(یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے۔‘‘
یہ مضمون اپنی اہمیت کے پیش نظر قرآن حکیم میں دو مرتبہ آیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الحج میں کفار کی طرف سے عذاب کی جلدی مچانے کے جوا ب میں یوں وضاحت فرمائی گئی:{وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(5)} ’’اور یقیناً ایک دن آپؐ کے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کی طرح ہے جیسے تم لوگ گنتی کرتے ہو‘‘۔ جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ کی ’’تدبیر امر ‘‘کے سلسلے میں ایک بنیادی اصول کے طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہوتے ہیں اُن کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کے عرصے کے مطابق کی جاتی ہے۔
 
 
درس حدیث
 
متکبر کا آخرت میں انجام!
 
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو ؓ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ:(( يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ النَّاسِ، يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصَّغَارِ، يُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي النَّارِ يُقَالُ لَهُ بُولَسُ، يَعْلُوهُمْ نَارُ الأَنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ))(رواہ الترمذی) 
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو انسانوں کی شکل میں، چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں،دوبارہ زندہ کیا جائے گا ہر چھوٹی چیز بھی اُن سے بڑی ہو گی (یا ان کے اوپر سے گزر جائے گی) پھر انہیں ہانک کر جہنم میں موجود قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام 'بولس ہے۔ ان پر لکڑیوں کی آگ غالب آ جائے گی۔اور انہیں اہل ِجہنم(کے خون اور پیپ وغیرہ) کا نچوڑ پلایا جائے گا۔‘‘ 
تشریح:اس حدیث میں تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہے، ہر وہ شخص متکبر ہے جو حق کوٹھکراتا ہے اور لوگوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ متکبر کے لیے جہنم میں ایک جیل تیار کی گئی ہے جس کا نام بولس ہے۔ اگر اللہ رب العالمین کسی انسان پر مہربانی کرتے ہوئے کسی نعمت سے نوازے تو اُسےاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن افسوس کہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام کے بعد وہ اللہ تعالیٰ ہی کے خلاف بغاوت پر اُتر آتا ہے اور تکبر کرتا ہے۔ روزِ قیامت متکبر کو چیونٹی کی مثل جسم دیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں تکبرسمیت تمام باطنی، روحانی اور اخلاقی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین!