بخت نصر اور چنگیز خان
اُمّت ِموسوی اور اُمّت ِمحمدی ﷺ کو ان کے عروج کے وقت
عبرتناک عذابوں کی مماثلتیں اور ان کے کردار
حافظ محبوب احمد خان
بخت نصر (Nebuchadnezzar) اور چنگیز خان تاریخ کے وہ دو خوفناک نام ہیں جنہوں نے بالترتیب بنی اسرائیل (یہودی اُمّت) اور مسلم اُمّت کو ان کے عروج کے وقت ایسی عبرتناک تباہی سے دوچار کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ دونوں کرداروں نے اپنے وقت کی سب سے عظیم مذہبی اور تہذیبی سلطنتوں کو نیست و نابود کر دیا۔ اُمّت ِموسویہ ؑ اللہ کی پسندیدہ اور بے شمار انعامات کی حامل اُمت جس پر اللہ تعالیٰ نے توریت ‘زبور‘ انجیل جیسی عظیم الشان ہدایت کی حامل کتابیں نازل کیں۔حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بھی ا س قوم کی ہدایت کے لیے عظیم الشان اور جلیل القدر انبیاء کرامf کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی بعثت ہوئی جن کو روح القدس کی خصوصی تائید بھی حاصل رہی۔ ان انعامات کے باوجود بھی اُمّت اخلاقی پستی کا شکار ہوتی رہی جس کے باعث بالآخر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُن کے لیے عذاب کا فیصلہ ہوا ۔
ذیل میں ان دونوں کرداروں کی تفصیل‘ ان کے درمیان مماثلت اور اُن کی تباہ کاریوں کے وقت دونوں اُمتوں کے احوال کا تفصیلی موازنہ پیش ہے:
(1)بخت نصراور بنی اسرائیل
بخت نصر بابل (Babylon) کا ایک طاقتور اور بے رحم بادشاہ تھا جس نے586 قبل مسیح یروشلم (بیت المقدس) پر حملہ کیا۔ اُس نے بنی اسرائیل کی سلطنت یہوداہ کو ختم کیا‘ حضرت سلیمان ؑ کا بنایا ہوا ہیکل سلیمانی (First Temple) مٹی میں ملا دیا‘ اور تورات کے اصل نسخے جلا دئیے۔ وہ لاکھوں یہودیوں کو قتل کرنے کے بعد ہزاروں کو غلام بنا کر بابل لے گیا‘ جسے تاریخ میں ’’اسیرانِ بابل‘‘ (Babylonian Captivity) کہا جاتا ہے۔
جب اُمتیں اس طرح کے غیر ضروری مباحث میں پڑ جاتی ہیں جن کا تعلق عملی زندگی سے نہیں ہوتا تو معاشرے پر مذہب کی گرفت کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے اور مذہبی طبقہ رہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے ۔وہ مذہب کی حقیقی روح سے خالی ہو جاتا ہے ۔ صرف قانونی موشگافیوں پر اپنا وقت صرف کرتا ہے اور معاشرے کے زندہ مسائل سے صرفِ نظر کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ یہودی مذہبی طبقے میں آ گئی تھی کہ ربیوں (مذہبی پیشواؤں) نے تورات اور تلمود کے قوانین کی تشریح میں اتنی باریک بینیاں پیدا کر دیں کہ مذہب صرف ’’کیا حلال ہے اور کیا حرام‘‘ کے چکر میں گم ہو گیا۔ مثال کے طور پر‘ سبت (ہفتے کے دن) کے دن کتنے قدم چلنا جائز ہے یا کون سا گرہ باندھنا گناہ ہے‘ جیسے مسائل پر ضخیم کتابیں لکھی گئیں۔ ایک طویل عرصے تک یہودی طبقہ ’’کابالا‘‘ (Mysticism) کے مباحث میں اُلجھا رہا۔ وہ حروف اور اعداد کے خفیہ نظام کے ذریعے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے‘ جس نے اُنہیں مادی سائنس اور دنیاوی سیاست سے دور رکھا۔ یہودی تاریخ میں کئی بار ایسے ’’جھوٹے مسیح‘‘ (جیسے شبطائی زیوی) اُٹھے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہودیوں کو دنیاوی غلامی سے نجات دلائیں گے۔ روایتی مذہبی طبقہ اُن کے پیچھے لگ کر اپنی عملی صلاحیتیں اور سرمایہ تباہ کرتا رہا‘ بجائے اس کے کہ وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے سیاسی یا اقتصادی کوششیں کرتے۔ہاسکالا (یہودی روشن خیالی) سے پہلے‘ روایتی یہودی معاشرہ سائنسی‘ فلسفیانہ اور غیر ملکی زبانیں سیکھنے کو گناہ سمجھتا تھا۔ ان کا سارا وقت صرف مذہبی مدارس (Yeshivas) میں تلمود پڑھنے میں گزرتا تھا۔
(2)ہیکل کی تباہی کی پیشین گوئیاں
بنی اسرائیل کے انبیاء کرام fنے اپنی قوم کو بار بار خبردار کیا کہ اگر تم نے گناہ ترک نہ کیے تو خدا تم پر ایسے شخص کو مسلط کر دے گا جو تمہارے سپاہیوں کو قتل کرے گا اور سب عورتوں اور بچوں کو قید کر لے گا۔ بخت نصرکے حملے میں حضرت ارمیاء جو اُس وقت نبی تھے قید ہو کر چلے گئے تھے ۔ اُن کی شناخت ہونے کے بعد بخت نصر نے اُن سے سوال کیا آپ کون ہیں؟ آپؑ نے بتایا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قوم کی طرف بھیجا ہے کہ وہ آنے والی مصیبت سے اُنہیں ڈرائیں لیکن اُنہوں نے اُسے جھوٹا سمجھ کر قید کر دیا۔ بخت نصر نے کہا یہ قوم کتنی بری ہے جس نے اپنے ربّ کے بھیجے ہوئے نبی کی نافرمانی کی۔ اس کے بعد ارمیاءdکو چھوڑ دیا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
دونوں کرداروں میں گہری مماثلت
بخت نصرنےبنی اسرائیل جبکہ چنگیز خان نے مسلم اُمّہ کے مذہبی مرکز کو مکمل تباہ کیا۔بغداد (خلافت کا مرکز) اور وہاں کے کتب خانوں کو تباہ کیا۔مقدس کتب کا ضیاع تورات کے اصل نسخوں کو جلایا اور مٹایا۔دنیا کی عظیم ترین اسلامی لائبریری ’’بیت الحکمت‘‘ کو دریا میں بہا دیا۔ لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا اور نسل کشی کی۔تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کیا‘ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ یہودیوں کو غلام بنا کر بابل (عراق) لے گیا۔ مسلمانوں کو قیدی اور لونڈیاں بنا کر منگولیا لے جایا گیا۔یہودی انبیاء کرام ؑ نے اسے بنی اسرائیل کے گناہوں کی وجہ سے ’’خدا کا کوڑا‘‘ قرار دیا۔چنگیز خان نے خود کو’’خدا کا عذاب‘‘ (Scourge of God) کہا جو مسلمانوں کے گناہوں کی سزا تھا۔
(3) تباہی کے وقت بنی اسرائیل کی حالت
بخت نصر کے حملے کے وقت بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال چکے تھے۔ وہ شرک‘ بت پرستی‘ جادو ٹونے اور ناانصافی میں غرق تھے۔اللہ نے اُن کی اصلاح کے لیے حضرت یرمیاہ (Jeremiah) اور دیگر انبیاء کرام ؑ بھیجے‘ لیکن اُنہوں نے انبیاء کرام ؑ کا مذاق اُڑایا‘ انہیں قید کیا اور بعض کو قتل کر دیا۔وہ مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے تھے لیکن انہیں اپنے ’’برگزیدہ اُمّت‘‘ ہونے پر اتنا گھمنڈ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا اپنے گھر (ہیکل سلیمانی) کو کبھی تباہ نہیں ہونے دے گا‘ چاہے وہ کتنے ہی گناہ کیوں نہ کر لیں۔جب کسی طبقے کو یہ یقین ہو جائے کہ صرف ایک خاص عقیدے یا گروہ سے وابستگی کی وجہ سے ان کی نجات پکی ہے‘ تو اُن کے اندر سے ذاتی اور اجتماعی احتساب کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی اخلاقی‘ سماجی اور معاشی برائیوں کو برائیاں ہی نہیں سمجھتے‘ یا انہیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ان کی’’برگزیدگی‘‘ کی وجہ سے ان کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بنی اسرائیل (یہودی) اس سوچ کا شکار ہوئے کہ وہ اللہ کے چنیدہ ہیں اور ’’انہیں جہنم کی آگ چند دنوں کے سوا چھو بھی نہیں سکتی‘‘ تو وہ ہر قسم کے زوال کے باوجود خود کو دنیا کی سب سے برتر قوم سمجھتے رہے۔ یہ انکار قوموں کو اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔جب کوئی طبقہ خود کو خطا سے پاک سمجھنے لگے‘ تو وہ اپنی ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔مذہبی طبقے جب اپنی معاشرتی اور معاشی ذِمّہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو چند ظاہری رسومات‘ فرقہ وارانہ برتری اور سیاسی اقتدار کی ہوس تک محدود ہو جاتے ہیں۔ علم‘ تحقیق‘ محنت اور جدید معیشت کو سمجھنے کے بجائے شارٹ کٹ یا محض دعاؤں پر تکیہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ جب تک مذہبی طبقے برگزیدگی کے اس فرضی خمار سے باہر نکل کر اپنی خامیوں کا اعتراف نہیں کرتے اور ایک عام انسان کی طرح محنت‘ انصاف اور اخلاق کو اپنا شعار نہیں بناتے‘ تب تک زوال کی یہ دلدل گہری ہوتی چلی جاتی ہے جو بالآخر قوم کے زوال کا سبب بن جاتی ہے۔
(4) چنگیز خان حملے کے وقت اُمّہ کی حالت
چنگیز خان (Genghis Khan)منگول سلطنت کا بانی تھا جس نے 13ویں صدی عیسوی (1220ء) کی دہائی) میں مسلم دنیا پر قیامت ڈھائی۔ اگرچہ بغداد کو اس کے پوتے ہلاکو خان نے 1258ء میں تباہ کیا‘ لیکن مسلم سلطنتوں (خصوصاً خوارزم شاہی سلطنت) کی تباہی کی بنیاد خود چنگیز خان نے رکھی۔ منگولوں نے نیشاپور‘ بخارا‘ اور سمرقند جیسے مسلم تہذیب کے عظیم مراکز کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور کروڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔
اُس وقت مسلم دنیا (خلافت عباسیہ اور خوارزم شاہی سلطنت) بری طرح تقسیم تھی۔ مسلم حکمران ایک دوسرے کے خلاف منگولوں سے مدد مانگ رہے تھے۔سلطنت کے امراء اور عوام دنیاوی عیش و عشرت میں مگن تھے۔ علم و تحقیق کی جگہ بحث و تکرار اور فرقہ واریت نے لے لی تھی۔ خوارزم شاہ کو اپنی لاکھوں کی فوج پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اس نے چنگیز خان کے سفیروں کو قتل کر کے خود منگولوں کو حملے کی دعوت دی‘ یہ سمجھے بغیر کہ وہ کس بلا کو بیدار کر رہا ہے۔خوارزم شاہ کی طرف سے چنگیز خان کے سفیروں اور تجارتی قافلے کو قتل کروانا (جسے تاریخ میں واقعہ اترار کہا جاتا ہے) محض ایک غلط فہمی نہیں تھی‘ بلکہ یہ شدید تکبر‘ سیاسی بدانتظامی اور منگولوں کی طاقت کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ تھا۔خوارزم شاہ کا یہ ماننا کہ چنگیز خان کوئی بڑا ردعمل نہیں دے گا۔
خوارزم شاہ اس وقت عالمِ اسلام کا ایک عظیم بادشاہ مانا جاتا تھا اور اس کی سلطنت موجودہ ایران‘ وسطی ایشیا اور افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ خود کو’’دوسرا سکندر‘‘ کہتا تھا‘ اس لیے اسے اپنی فوجی طاقت پر حد سے زیادہ ناز تھا۔ خوارزم شاہ اور اس کے گورنر (انالچق) منگولوں کو صرف وحشی اور خانہ بدوش قبائل سمجھتے تھے جن کا کوئی باقاعدہ ریاستی نظم و ضبط نہیں تھا۔ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ چنگیز خان چین جیسی بڑی طاقت کو شکست دے چکا ہے۔خوارزم شاہ کو یہ غلط فہمی بھی تھی کہ چونکہ وہ ایک مسلم سلطنت کا سربراہ ہے‘ اس لیے غیر مسلم چنگیز خان اس پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا‘ اور اگر ایسا ہوا بھی تو مسلم دنیا اُس کا ساتھ دے گی۔ چنگیز خان نے ابتدا میں جنگ کے بجائے تجارت اور امن کا پیغام بھیجا تھا‘ جسے خوارزم شاہ نے منگولوں کی کمزوری سمجھا۔ جب چنگیز خان نے اپنے سفیروں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے تین مزید سفیر بھیجے کہ مجرم (اترار کے گورنر) کو ہمارے حوالے کیا جائے‘ تو خوارزم شاہ نے ان سفیروں کو بھی قتل کروا دیا اور کچھ کی داڑھیاں مونڈ کر واپس بھیج دیا۔ یہ منگول ثقافت میں شدید ترین توہین تھی۔یہ اقدام خوارزم شاہ کی سیاسی بصیرت کی بدترین ناکامی تھا‘ جس نے چنگیز خان کو اشتعال دلایا اور اس کے نتیجے میں منگولوں نے خوارزم شاہ کی سلطنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور پوری اسلامی دنیا میں وہ تباہی مچائی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
اسی طرح تاریخ کا ایک اور باب بھی دونوں اُمتوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے کہ ان دونوں بڑے عذابوں کے بعد دوعذاب اور تیمور لنگ اور ٹائٹس رومی کی شکل میں دئیے گئے اور ان میں بھی گہری مماثلت ہے۔
چنگیز خان اور بخت نصر (نبوکڈنضر) کی تباہ کاریوں کے بعد‘ تاریخ نے دیکھا کہ ان کے مفتوحہ علاقوں یا ان کی اپنی اقوام پر بالترتیب تیمور لنگ اور ٹائٹس رومی کی صورت میں دوسرا بڑا عذاب نازل ہوا۔ٹائٹس رومی (Titus) نے 70ء میں یروشلم کو دوبارہ اسی طرح تباہ کیا جیسے صدیوں پہلے بخت نصر نے کیا تھا۔ دوسری طرف‘ تیمور لنگ نے چنگیز خان کی طرح مسلم دنیا‘ خاص طور پر بغداد اور وسطی ایشیا کو دوبارہ اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ان دونوں تاریخی عذابوں کے درمیان مماثلت اور اس کے اسباب کو درج ذیل اہم نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(1) جغرافیائی اور نسلی مماثلت،یروشلم اور بنی اسرائیل پر عذاب: بخت نصر نے جس ہیکلِ سلیمانی اور یروشلم کو تباہ کیا تھا‘ ٹائٹس رومی نے بھی ٹھیک اسی شہر کو دوبارہ مٹی میں ملایا اور یہودیوں کو جلاوطن کیا۔چنگیز خان نے جن مسلم سلطنتوں (خوارزم‘ بغداد وغیرہ) کو اجاڑا تھا‘ تیمور لنگ نے بھی صدیوں بعد انہی علاقوں پر دوبارہ قہر ڈھایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیمور خود کو چنگیز خان کی نسل (چغتائی) سے جوڑتا تھا اور اسی کے نقشِ قدم پر چلا۔
(2) اخلاقی اور سماجی زوال،سرکشی اور عہد شکنی: بخت نصر کے عذاب کے بعد جب بنی اسرائیل کو دوبارہ عروج ملا‘ تو وہ دوبارہ سرکشی‘ انبیاء کی تکذیب اور اخلاقی پستی کا شکار ہوئے۔ اسی طرح چنگیز خان کی تباہی کے بعد مسلم دنیا نے سنبھلنے کی کوشش تو کی‘ لیکن حکمران طبقہ عیش و عشرت‘ اندرونی خلفشار اور مذہبی دوری میں مبتلا ہو گیا۔تاریخ کا قانون: دونوں صورتوں میں ’’دوسرا عذاب‘‘ تب آیا جب پہلی تباہی کے سبق کو فراموش کر دیا گیا اور معاشرہ دوبارہ اسی ڈگر پر چل پڑا جس نے پہلے عذاب کو دعوت دی تھی۔
(3) بے پناہ خونریزی اورٹائٹس کی بے رحمی: بخت نصر کی طرح ٹائٹس نے بھی یروشلم کا طویل محاصرہ کیا‘ شہر میں قحط پیدا کیا اور لاکھوں یہودیوں کو قتل کر کے ان کے ہیکل کو ہمیشہ کے لیے مسمار کر دیا۔چنگیز خان کی طرح تیمور لنگ بھی جہاں جاتا‘ قتلِ عام کرتا اور مقتولین کی کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا۔ بغداد‘ دمشق اور دہلی میں اس نے چنگیز خان سے بھی بڑی تباہی مچائی۔
(4) الٰہیاتی اور مذہبی نقطہ نظر:قرآنی اور بائبلی پس منظر: اسلامی اور سامی روایات کے مطابق‘ بنی اسرائیل پر دو بڑے عذابوں کا وعدہ تھا (جیسا کہ سورۃ الاسراء میں ذکر ہے)۔ پہلا عذاب بخت نصر اور دوسرا عذاب ٹائٹس رومی کی شکل میں ظاہر ہوا۔
مسلم تاریخ دان (جیسے ابنِ خلدون) تیمور لنگ کے حملوں کو مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کے خاتمے اور گناہوں کی پاداش میں ایک ’’تازیانہِ عبرت‘‘ یا خدائی عذاب قرار دیتے ہیں‘ بالکل اسی طرح جیسے چنگیز خان کو’’خدا کا قہر‘‘ کہا گیا تھا۔
ان دونوں واقعات میں مماثلت کے اسباب تاریخی تکرار‘ قوموں کا اخلاقی زوال‘ اور فاتحین کی یکساں سفاکی ہیں۔ جب کوئی قوم پہلی تباہی کے بعد اپنی اصلاح نہیں کرتی‘ تو قدرت دوسرے عذاب کے لیے نئے مہرے (جیسے ٹائٹس اور تیمور لنگ) میدان میں لے آتی ہے۔
(5) دینی طبقوں کی اپنی ذِمّہ داریوں سے غفلت
کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں دین اور اہل دین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی معاشرہ ’’روح‘‘ سے خالی ہو جائے تو محض جسم اس کو زندہ نہیں رکھ سکتا۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے کہ جب تک نظریاتی طور پر قوم مضبوط ہوتی ہے تو بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکرا جاتی ہے ۔ نظریاتی مضبوطی ہی کسی قوم کا استحکام ہوتی ہے ۔ لیکن جب نظریاتی طور پر قوم تقسیم ہو جائے تو اس کی طاقت بھی انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ دین ہی وہ واحد قوت ہوتی ہے جو کسی معاشرےکو ترقی کی جانب لے جاتی ہے اور اگر معاشرے میں دین کے مسخ شدہ تصورات پنپنا شروع ہو جائیں تو پھر معاشرے کو زوال سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین معاشرے کے سب طبقوں کے لیے یکساں ہوتے ہیں نہ کسی کی خواہشات ‘ طولِ امل‘ اندھی عقیدتیں ان قوانین کو نہیں بدل سکتیں۔ اللہ کے قوانین سب کے لیے اٹل ہیں ‘ اللہ اپنے قوانین نہیں بدلتا بلکہ قوموں کو خود کو بدلنا ہوتا ہے ۔ اگر قومیں نہ بدلیں تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ ایک جھلک اب ان معاشروں میں مذہبی طبقوں کی دیکھتے ہیں کیونکہ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کا قول ہے کہ تین طبقے کسی معاشرے کو برباد کرتے ہیں‘ حکمران ‘ مذہبی طبقہ اور تاجر ۔ سو اب مذہبی طبقے کا جائزہ لیتے ہیں۔مذہبی طبقہ اپنی قوم کا زوال دیکھنے سے کیوں قاصر رہا؟ اس کی چند بنیادی وجوہات تھیں: مسلم اور یہودی دنیا کا مذہبی طبقہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ ’’ہمارا ماضی شاندار تھا‘ اس لیے ہم ہمیشہ برتر ہیں‘‘۔ جدید علوم اور مغربی ایجادات کو ’’کفر‘‘ یا’’بدعت‘‘ قرار دے کر مسترد کیا۔اس عقیدے پر قائم رہا کہ وہ ’’خدا کی چنی ہوئی قوم‘‘ ہیں‘ اس لیے انہیں دنیاوی علوم یا جدید فوجی و سیاسی نظام سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زوال کی وجہ سائنسی اور معاشی پسماندگی کے بجائے صرف ’’عبادات میں کمی‘‘ کو قرار دیا گیا۔زوال اور مظالم کو خدا کی طرف سے سزا سمجھ کر صرف توبہ اور مسیح کے انتظار تک محدود رکھا۔ طاقت کا غلط مرکزبادشاہوں اور آمروں کے درباروں سے وابستہ ہو کر اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا‘ عوام کی فکری تربیت نہیں کی۔معاشرے کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رکھنے پر زور دیا تاکہ ان کی مذہبی اجارہ داری قائم رہے۔دونوں تہذیبوں کے زوال کی مشترکہ وجہ یہ تھی کہ ان کے مذہبی طبقے نے ’’مذہب کی روح‘‘ کو چھوڑ کر ’’مذہب کی صورت‘‘ (Rituals) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ جب دنیا بدل رہی تھی‘ نئی ٹیکنالوجی آ رہی تھی اور معاشی نظام تبدیل ہو رہے تھے‘ اس وقت یہ طبقات اس بحث میں مصروف تھے کہ کون سا عقیدہ یا فروعی مسئلہ زیادہ درست ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عملی صلاحیتیں برباد ہو گئیں اور وہ قومیں محکوم بن گئیں۔
ان امتوں پر آنے والے تیسرے عذاب قریبی صدیوں میں آئے۔ ان میں اگرچہ مماثلت کے پہلو کم ہیں مگر عبرت ناک سزائوں کی مماثلت ضرور نظر آتی ہے۔
ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی (Holocaust) اور نادر شاہ کے ہاتھوں دہلی کے ہندوستانی مسلمانوں کا قتل ِعام1739ء تاریخ کے دو ایسے بھیانک ابواب ہیں جو اپنے دور کی بدترین تباہی کی داستان بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ان دونوں واقعات کے ادوار، جغرافیائی حالات اور نظریات بالکل مختلف تھے، لیکن ان کے درمیان تباہی کے اسباب اور مظالم کی نوعیت میں کئی گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ان دونوں تاریخی سانحات کا تقابلی جائزہ اور تباہی کے اسباب درج ذیل ہیں:
ہٹلر اور نادر شاہ کے حملوں میں مشترکہ مماثلتیں
دونوں واقعات میں مشترکہ مماثلتوں میں پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینا جیسا کہ ہٹلر نے کسی فرد کے جرم کے بغیر، صرف یہودی ہونے کی بنیاد پر پوری نسل کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح، جب دہلی میں چند مقامی لوگوں نے نادر شاہ کے فوجیوں کو قتل کیا، تو نادر شاہ نے بدلے میں پوری دہلی کی معصوم عوام بشمول خواتین اور بچوں کے قتل ِ عام کا حکم دے دیا۔
ان حملوں میں بے پناہ معاشی لوٹ مارہوئی ۔ نازیوں نے یہودیوں کو کیمپوں میں بھیجنے سے پہلے ان کی جائیدادیں، دکانیں، سونا اور گھر ضبط کیے۔ نادر شاہ کا بھی دہلی پر حملے کا بڑا مقصد دولت سمیٹنا تھا۔ اس نے مغل خزانے سمیت، کوہِ نور ہیرا اور تختِ طاؤس لوٹ لیا اور دہلی کو کنگال کر دیا۔
دونوں جرنیلوں کے دلوں میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ ہٹلر نے گیس چیمبرز کا استعمال کیا، جبکہ نادر شاہ نے دہلی کے چاندنی چوک پر بیٹھ کر اپنی تلوار نیام سے نکال کر تب تک قتلِ عام جاری رکھنے کا حکم دیا جب تک مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا نے پیروں میں گر کر رحم کی بھیک نہیں مانگی۔
تباہی اور ناکامی کے اسباب
ان دونوں ہولناک واقعات کے پیچھے چند گہرے اسباب کارفرما تھے: (1)داخلی کمزوری اور سیاسی نااہلی ۔ دہلی کے مسلمانوں پر اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ مغل سلطنت کا زوال اور نااہلی تھی۔ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا عیش و عشرت میں مگن تھا اور سلطنت کے دفاع سے غافل تھا۔ مغل فوج نظم و ضبط کھو چکی تھی، جس کی وجہ سے نادر شاہ کو ہندوستان میں داخل ہونے اور تباہی مچانے کا آسان موقع ملا۔
(2)نسلی اور نظریاتی انتہا پسندی (ہٹلر کے تناظر میں)ہٹلر کی تباہی کا سبب اس کا فاشسٹ نظریہ (نازی ازم) تھا۔ وہ جرمن نسل (آریائی) کو دنیا کی سب سے برتر نسل سمجھتا تھا اور یہودیوں کو جرمنی کی تمام معاشی اور سیاسی مشکلات کا ذِمّہ دار ٹھہراتا تھا۔ اس اندھے تعصب نے جرمن معاشرے کو اس قتل ِعام کے لیے تیار کیا۔
(3)پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مہم تباہی سے پہلے ہمیشہ زمین تیار کی جاتی ہے۔ ہٹلر نے میڈیا اور ریاستی طاقت کے ذریعے یہودیوں کے خلاف اتنی نفرت پھیلائی کہ عام لوگ بھی اس ظلم پر خاموش رہے۔ اسی طرح نادر شاہ کے حملے کے وقت، مغل دربار کی آپسی سازشوں اور افواہوں نے مغل فوج اور عوام میں ایسا انتشار پھیلایا کہ وہ دفاع کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔
(4) مطلق العنانیت اور بلا روک ٹوک دونوں واقعات میں اقتدار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔ ہٹلر جرمنی کا ڈکٹیٹر تھا اور نادر شاہ ایران کا مطلق العنان شاہ۔ جب طاقت کا توازن بگڑ جائے اور حکمران کو روکنے والا کوئی ادارہ یا قانون باقی نہ رہے، تو ایسے ہی ہولناک انسانی المیے جنم لیتے ہیں۔
اگرچہ ہٹلر کا ظلم ایک منظم اور نظریاتی نسل کشی تھا جو سالوں پر محیط رہا، اور نادر شاہ کا حملہ ایک سیاسی اور معاشی جارحیت تھی دونوں کرداروں نے چند دنوں میں تباہی مچا دی۔ لیکن دونوں کا انجام ایک جیسا تھا لاکھوں بے گناہ انسانوں کی موت، تہذیبوں کی بربادی، اور تاریخ کے صفحات پر ان حکمرانوں کا نام ہمیشہ کے لیے بطورِ ظالم درج ہو جانا۔
تاریخ کا یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی کوئی اُمّت (چاہے وہ بنی اسرائیل ہو یا مسلم اُمّہ) اپنے عروج پر پہنچ کر اخلاقی‘ مذہبی اور سیاسی زوال کا شکار ہوتی ہے‘ تو قدرت بخت نصر یا چنگیز خان‘تیمور لنگ‘ٹائٹس رومی‘ ہٹلر اور نادر شاہ جیسے ظالموں کو اُن پر مسلط کر دیتی ہے۔ دونوں اُمتوں کے لیے یہ کردار محض بیرونی حملہ آور نہیں تھے‘ بلکہ ان کے اپنے اعمال کا عبرتناک نتیجہ تھے۔