الہدیٰ
بندوں کے اعمالِ بدکی وجہ سے بحروبر میں فساد
آیت 41 {ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ}’’بحر و بر میں فساد رونما چکا ہے‘لوگوں کے اعمال کے سبب‘‘
یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے اُفق پر نمایاں ہوئی ہے، شاید اپنے نزول کے وقت اِس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح انداز ہ تھا اور نہ ہی ’’فساد‘‘ کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں، اُن کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر ’’گلوبل ویلج‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے، اِس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے ’’فساد‘‘ کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں آج اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آ یا ہے۔
{لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا} ’’تا کہ وہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا‘‘
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سب اعمال کی سزا دنیا میں نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہو تو روئے زمین پر کوئی انسان بھی زندہ نہ بچے: ’’ اور اگر اللہ گرفت کرے لوگوں کی اُن کے اعمال کے سبب تو اس (زمین) کی پشت پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے‘ لیکن وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے ان کو ایک مقررہ مدت تک‘‘۔( فاطر:45) اِس اصول کے تحت اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی حد تک انسانوں کی زیادہ تر نافرمانیوں کو نظر انداز کرکے اُن کی سزا کو مؤخر کرتا رہتا ہے لیکن بعض گناہوں یا جرائم کی گرفت وہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور اِس گرفت کا مقصد یہ ہوتا ہے :
{لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَo}’’تا کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘
کہ شاید اس سے کچھ لوگوں کو ہوش آ جائے اور وہ توبہ کر کے اپنی روش تبدیل کر لیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان جس ذلت وخواری کو اپنا مقدر سمجھے بیٹھے ہیں، شاید ایسی کسی گرفت سے اُنہیں بھی غور کرنے کی توفیق مل جائے کہ : ؎
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں !
(غالبؔ)
موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اِس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اُس سے فائدہ اُٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں۔
درس حدیث
لباس میں خاکساری اور تواضع پر انعام و اکرام
عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ : ((مَنْ تَرَکَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ دَعَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی رُؤُسِ الْخَلَائِقِ حَتّٰی یُخَیِّرَہُ مِنْ اَیِّ حُلَلِ الْاِیْمَانِ یَلْبَسُھَا))(رواہ الترمذی)
حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’ جو بندہ قیمتی لباس کی استطاعت کے باوجود از راہِ تواضع و انکساری اس کو استعمال نہ کرے (اور سادہ معمولی لباس ہی پہنے) تو اللہ تعالیٰ اُس کو قیامت کے دن ساری مخلوقات کے سامنے بُلا کر اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جو جوڑا بھی پسند کرے‘ اُس کو زیب تن کرے۔‘‘