اداریہ
رضاء الحق
آئین کی اسلامی اساس و روح!
گزشتہ کچھ عرصہ میں ملک میں کئی اہم آئینی فیصلے اور ترامیم سامنے آئیں، جن میں 26 ویں اور 27ویں ترامیم نمایاں ہیں اور اب 28 ویں ترمیم کا ذکر چلا ہوا ہے۔ہم نےیہ مناسب سمجھا کہ اِس سلسلہ میں چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت ﷺ اور شرعی معاملات سے متعلق عدالتی اُمور کے تناظر میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے اور بعد ازاں نظرثانی پر فیصلوں کی شرعی نکتہ نظر سے اصلاح کے واقعات ومراحل نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ آئین کی اسلامی روح، قراردادِ مقاصد اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اور مستقل آئینی ،قانونی و عدالتی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
اِس پس منظر میں دیگر حلقوں کے ساتھ تنظیم اسلامی کی بھی یہ دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ خیرخواہی کے جذبہ کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت، ریاستی اداروں اوراثر انداز ہونے والے طبقات کو آئندہ کے لیے مشورے فراہم کرے۔
پہلی اور اہم ترین گزارش یہ ہے کہ اِس ضمن میں سب سے بلند تر تو رب تعالیٰ کافرمان پیش نظر رہے:
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِطوَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِo} (سورۃ الحج)
(ترجمہ)’’وہ لوگ کہ اگر ہم اُنہیں زمین میں اقتدار دیں تو وہ نما زقائم رکھیں اور زکوٰۃ اداکریں اور بھلائی (کے کاموں ) کا حکم دیں اور برائی (کے کاموں )سے روکیں اور اللہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔‘‘
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَط اِنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (41)} (سورۃ الحجرات )
(ترجمہ)’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اُس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔‘‘
درج بالا آیاتِ قرآنی کی واضح تعلیمات کی رو سےذیل میں ہماری جانب سے چند دستوری و آئینی ترامیم کے ضمن میں تجاویز پیشِ خدمت ہیں:
1۔ انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کا قیام
تنظیم اسلامی کا بھی یہ مسلسل مؤقف رہا ہے کہ بہتر انتظامی ڈھانچےاور عوام الناس کی سہولت کے لیے صوبوں میں اضافہ کیا جائے،بلکہ ڈویژن کی سطح پر صوبے بنانے پر غور کیا جائے تاکہ زیادہ بہتر انداز میں مقامی افراد کی براہِ راست شراکت کامعاملہ ہوسکے بشرطیکہ اس فیصلے میں عجلت اور جبر سے اجتناب کیاجائے۔نیز، فیصلہ شفاف ہو اور کسی سیاسی و عدالتی دباؤ، عجلت یا جوڑ توڑ سے پاک ہو۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں سے دو تہائی حقیقی عوامی نمائندگی کے ساتھ منظوری ہو۔ البتہ پہلے سے طے شدہ بلدیاتی نظام اور اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے۔ وفاقی نظام کی روح اور بنیادی ڈھانچے کو کسی صورت متاثر نہ کیا جائے۔
2۔ عدالتی اصلاحات وعدلیہ کی آزادی
اعلیٰ عدلیہ میں تقرری، صرف میرٹ یعنی دینی و قانونی قابلیت واہلیت اورتجربہ و سینیارٹی کی بنیاد پر ہو۔ اِس ضمن میں ایک مستقل خود مختار عدالتی ادارہ قائم ہو جو حکومت و پارلیمان کی مداخلت سے آزاد ہو۔عدلیہ میں شمولیت، تقرر، ترقی اور کلیدی عہدوں کے لیےآزاد عدالتی ادارہ کے تحت شفاف امتحانی و کارکردگی پر مبنی نظام رائج کیا جائے۔
3۔ تعلیم کے معیارات و نصاب کا تعین : دینی و عصری نظام ِ تعلیم کا امتزاج
ایک متفقہ و یکساں قومی تعلیمی نظام جوقدیم ، روایتی و جدید، دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کا حسین امتزاج ہو اورجس میں طبقاتی تقسیم کی گنجائش نہ ہو۔میٹرک تک مفت تعلیم اور یکساں قومی نصابِ تعلیم درج بالا اصولوں پر اپنی اصل روح کے ساتھ فراہم کیا جائے۔ہر شہری کے لیے لازم ہو کہ میٹرک کے بعد کم از کم دو سالہ فکری و نظریاتی اور عسکری تربیت سے گزرے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ہنر کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔عربی زبان کی خصوصی تعلیم وترویج اور علاقائی زبانوں کے حقوق کا تحفظ ہو۔نجی تعلیمی اداروں کےلیے یکساں تعلیمی نصاب ومعیارات کی رہنمائی و معاونت کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بلکہ لزوم ہونا چاہیے۔
4 ۔ آئین /دستوراور شرعی احکامات و نظامِ عدل میں اسلامی تشخص
قراردادِ مقاصد کو آئین کی دیگر تمام شقوں پربالادست،عملی اور نافذالعمل حیثیت دی جائے۔آئین کی اسلامی دفعات کے نفاذ کےلیے مقررہ مدت اور عدم نفاذ پر جوابدہی لازم قرار دی جائے۔وفاقی شرعی عدالت اورسپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ میں محض عصری قانون دان یا ’’اسلامی اسکالرز‘‘ نہیں بلکہ اکثریت مستند علماء کی ہو۔ان جج صاحبان کی تقرری مستقل بنیادوں پر اور اتحاد تنظیمات المدارس کے ایک مجوزہ پینل سے ہو۔وفاقی شرعی عدالت کے فاضل جج صاحبان کو ہائی کورٹ اور شریعت اپیلٹ بینچ کے فاضل جج صاحبان کو سپریم کورٹ کے مساوی حیثیت و مراعات دی جائیں۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل پر از خود حکم امتناعی کی بجائے صرف تقاضے اور دلائل کی بنیاد پر محدود مدت کے لیے دیا جاسکے، لہٰذا بلاجواز غیر معینہ التواء کاسلسلہ بند کیا جائے۔تمام شرعی معاملات صرف وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں لائے جائیں۔بتدریج یکساں عدالتی (شرعی) نظام کی طرف پیش قدمی کا اہتمام کیا جائے۔
5۔ دینی اداروں اور اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کااہتمام کیا جائے۔ اتحاد تنظیمات المدارس و جیّدعلماءکرام کی مشاورت کے بغیردینی، مذہبی و نظریاتی فیصلے نہ کیے جائیں۔
مندرجہ بالا تجاویز ملک و ملت کے مفاد، آئین کی اسلامی روح اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے انتہائی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرزاِن نکات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ان پر عملدرآمدکے حوالے سے اپنے دائرہ اختیارمیں ہر سطح پر مؤثر کردار ادا کریں گے۔اِس فرمان الٰہی کے مصداق :
{وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)} (آل عمران)
(ترجمہ)’’ اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘
بلندی اور عروج حاصل کرنا ہے تو ریاستی سطح پر اپنے موجودہ نظام میں درج بالا دینی و نظریاتی اصلاحات کرنی ہوں گی اور اگر ہم نے انگریز کے چھوڑے ہوئے گلے سڑے نظام کو جوں کا توں گلے سے لگائے رکھا تو خدانخواستہ ہمارا انجام بھی درج ذیل آیت کے مصداق نہ ہو۔ (اعاذ نا اللہ منہ)
{وَمَنْ یَّــبْـتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّــقْبَـلَ مِنْہُ ج وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (85)} (آل عمران)
(ترجمہ)’’ اور جو کوئی دین اسلام کےسوا کوئی اوردین (نظام) چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ پاکستان کو حقیقی معنوں میں عدلِ اجتماعی کی بنیاد پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائے اور ہمیں اقامتِ دین کی اِس جدوجہد میں اخلاص و استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026