یہ حکومت یہ تجارت…..
عامرہ احسان
بین الاقوامی چالبازیاں جاری رہتی ہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب امریکی دوستی پر پاکستانی بغلیں بجا رہے تھے۔ مودی منہ پھلائے بیٹھے تھے۔ ٹرمپ گرم جوش مظاہرے پاکستان کے ساتھ کر رہے تھے اور بھارت پر بھاری ٹیرف عائد ہونے کے اعلانات تجارتی سطح پر امریکہ کر رہا تھا۔ پاکستان کی آؤ بھگت غیر معمولی تھی۔ پھر چرخِ گردوں کے چند چکروں کے بعد اب یکایک مودی اور بھارت، امریکہ کے ساتھ روایتی دوستی کے روپ میں آگئے۔ باہم تجارتی معاہدے کا اعلان ہو گیا۔ ٹیرف بھی یکایک کم کر کے 18 فی صد پر آ گیا اور ہم منہ تکتے رہ گئے۔ دوستی، تعلقات صرف خاندانوں میں نہیں، ممالک کے مابین بھی معاشی، سیاسی،استحکام ہی کی بنیاد پر ہوا کرتے ہیں۔ ہماری معیشت کا انحصار قرضوں پر ہو۔ سیاست میں صوبہ در صوبہ خانہ جنگی کی کیفیت طاری رہے تو ملکی ساکھ تو لازماً متاثر ہوگی۔ ہم ستمبر میں ٹرمپ کو اپنے قیمتی دھاتوں کے اثاثے دکھا کر متاثر کر رہے اور سرمایہ کاری کی راہ دکھا رہے تھے۔ اور ادھر بلوچ لبریشن اور دیگرملک دشمن تنظیموں کی جانب سے ہمہ گیر بڑے حملے 12 شہروں اور قصبوں بشمول کوئٹہ پر کئے گئے۔ حملہ آوروں کے اب تک00 2افراد مارے گئے اور گار ڈین نے مستنگ میں ایک جبل پر حملے کے نتیجے میں حملہ آوروں کے اپنے 30 قیدی چھڑانے کی خبر دی۔ہمارے ملکی استحکام کو زیروزبر کرنے کی اس کوشش پر بھارت کی طرف ہی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ آپریشن سیندور کی ناکامی کے بعد سے بھارت پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش میںہے۔ بلوچ باغیوں کو فنڈنگ اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ نیا کچھ بھی نہیں، یہ اس کے تاریخی، روایتی ہتھکنڈے ہیں جو بنگلہ دیش سے ان کے تعلقات کے بگاڑ کے بعد دو چند ہو گئے ہیں۔ ان حملوں پر یورپی یونین، فرانس، ایران، امریکہ سبھی نے مذمت کی ہے اور پاکستان سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ حسب ِتوقع بھارتی ترجمان رندھیر جیسوال نے بلوچ عوام کے حقوق غصب کرنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام دینا ضروری جانا۔
بلوچستان بے شمار معدنی و مسائل سے مالا مال، تیل، کوئلہ، کاپر، بڑی مقدار میں کرومائٹ رکھتا ہے۔ لیڈ، زنک، ماربل، گرینائٹ، سو نے کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ ایک طرف ستمبر میں صدر ٹرمپ کو اپنے قیمتی وسائل کے نمونے دکھا کر ہم نے سرمایہ کاری کی طرف امریکہ کو متوجہ کیا تھا۔ دوسری جانب پہلے چین کے ساتھ معدنیاتی وسائل پر سمٹ (Summit) ہوئی۔ جس کے فوراً بعدبلوچ لبریشن نے جعفر ایکسپریس ٹرین کے اغوا کی کوشش کی۔ 300 سے زائد مسافر چھڑوا لیے گئے۔ 33 حملہ آور مارے گئے۔ ادھر 60 ارب ڈالر کا اہم ترین سی پیک، جنوب مغربی چین کو بحیرۂ عرب سے ملانے کو ہے۔
ایسے میں توجہ جابجا قرض خواہی اور کشکول درازی سے بڑھ کر عقل و دانش اور ملک سے دیانت داری کا تقاضا یہ تھا کہ ترجیح اول بلوچستان کے سیاسی، معاشی، معاشرتی مسائل حل کرنے کو بنایا جاتا۔ ملک میں میرٹ پر دیانت، تدبر، صلاحیت اور خدا خوفی کی بنیاد پر ہر سطح پر افسران لا بٹھائے جاتے۔ حقیقی مسائل پر توجہ دی جاتی۔ عوام کے دل جیتے جاتے تاکہ سیاسی الجھاؤ پیدا نہ ہوتا۔ مشرقی پاکستان کے تجربے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنا تھا تاکہ غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔ آج بنگلہ دیشی بھی پیچھے پلٹ کر دیکھتے اور بہت کچھ سیکھ رہے اور ہم سے اظہار محبت کر رہے ہیں۔ مگر ہماری انانیت ،سیاست بازی، مفاد پرستی ہمیں سبق اندوزی سے باز رکھتی ہے! سو،نعمتوں سے مالا مال ملک کرپشن، نفع خوری، ایمان سے تہی دامنی، آخرت کی جواب دہی سے بے نیازی نے ہمیں اس حال کو پہنچا دیا۔ سرحدوں پر بھاری رشوتیں چلتی ہیں۔ سو بھرپور سمگلنگ رواں دواں اور دشمنانہ سرگرمیاں بھی ممکن ہو پاتی ہیں۔ بھارتی عنصر اور کل بھوشن کے بھائی بند کھلی چھٹی اور مواقع پاتے ہیں ہمیں زک پہنچانے کو۔ ملکی سلامتی کو پارٹی بندی اور سیاست پر ترجیح دی جائے تو مسائل حل ہو نے ممکن ہیں۔
دوسری طرف قوم عدم سنجیدگی، کھیل تماشے، ہر وقت ہلے گلے کی تلاش میں رہتی ہے۔ اندھا پیسہ ہو، فراواں ہو، حلال و حرام سے قطع نظر، تو آئے روز جشن میلے منائے جائیں۔ انفرادی سطح پر ماڈلنگ اورفلمی خوابوں کی دنیا میں بین الاقوامی، ملت و امت کے حالات و مسائل سے بے پرواہ، شادیاں دھوم دھڑ کے اور اجتماعی سطح پر اب بسنت میلے رواں دواں ہیں۔ ساری دنیا سے مانگے تانگے کلچر ہمارے ہی ہیں۔ ہولی، دیوالی ہو، ہیلو وینی بھوت بھتنیاں بن کر تھر کنا ہو یا پھر حیا سوز ویلن ٹائن ! پوری دنیا کا کلچرل کچرا ہمی کو اٹھانا اپنانا ہے۔ گل پلازہ کا شدید بھاری المیہ ہوا، چند وڈیو کلپ دیکھ کر تماشوں میں مگن رہنا ہمارا کام ہے۔ قومی خزانہ جو ہماری پھٹی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر ٹیکسوں سے بھرا جاتا ہے، اس سے لٹ جانے والوں کو معاوضے لاکھوں کروڑوں میں دے کر حکومت فارغ ہو جاتی ہے اپنے اللوں تللوں میں گم۔ منصوبہ بندی، احتساب کی طرف تو جہ محنت طلب ہے۔ محنت کی ہمیں عادت نہیںسو ملک نہایت غریب اور کشکول بردار ہے!
لاہور میں ہر موٹر سائیکل کو ہم نے جب آگے ایک راڈ لگی دیکھی تو سمجھ نہ پائے۔ پھر پتہ چلا یہ لاہوری تہذیب کا جزو لاینفک بسنت کی تیاری ہے۔ ڈور حملہ آور ہو تو راڈ آڑے آ جائے!نا گہاں فوتیدگی سے بچانے کا کیسا سائنسی اہتمام ہے۔ جہاں چاہ وہاں راہ۔ سارے ہوٹل بک ہیں۔ حتیٰ کہ گھروں کی چھتیں کرائے پر ہیں۔ دو یا تین دن کے لیے 50 ہزار تا لاکھوں کرایہ ہوگا۔ سائز اور سہولیات کے مطابق۔ ہر گھر اخراجات کی صورت بسنت کا تاوان دے گی، اولادوں، نیانوں، سیانوں، بے گانوں سبھی کی خاطر۔ (یہ لاہور ہے۔ دشمن سرحد پار ہے!) اخراجات میں کپڑے (پیلے)، ساؤنڈ سسٹم، حسب حیثیت کھانے۔ (سموگ اسی دھوئیں سے بنتا اور ہسپتال آباد کرتا ہے) دیگیں، باربی کیو، کباب، شراب، پرل کانٹی نینٹل کے کمرے غیر ملکیوں، رئیسں ملکیوں کے لیے بک ہو چکے۔ ابرار الحق کا کنسرٹ بھی ہوگا۔ نجانے عمران خان کو اتنے بڑے، اہم ایونٹ پر پیرول پرکیوں نہیں چھوڑا! یہ بسنتی اہتمام اس لیے ہے کہ ’ہمیں اپنا کلچر پتہ ہونا چاہیے‘! کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
طویل عرصے سے غزہ پر ٹرمپ کی ہر آن کہہ مکرنیاں، اہل مغرب کے ’کلچر‘ جس میں وہ ہر ہفتہ اتوار غزہ کے لیے مظاہرہ کنان ہوتے دیکھتے رہے۔ ہم بھول ہی چکے تھے کہ اس سے ہٹ کر بھی کوئی کلچر ہو سکتا ہے۔ ان کی زندگی کا مرکز و محور تو یہی رہا دو سال سے زیادہ! مگر پلٹ کر ادھر دیکھا تو ایک تو شاندار شادی نے دم بخود کر دیا ہر طرف تصاویر دیکھتے دیکھتے! ساتھ ہی بسنت امڈ آیا۔ ہم نے تو اصلاً مغربی حکمرانوں، سیاست دانوں کی ناپاک ایپسٹین سکینڈل سے گھبرا کر ادھر رخ پھیرا تھا۔ یہودی، دجالی نسبتوں والا جیفری ایپسٹین جو اسرائیل، موساد سے نسبت رکھتا اور اپنے لیے ’بعل‘ کی علامت/ نام کا بینک اکاؤنٹ رکھا، یہودی خوشنودی کے لیے۔ جس کے طریق واردات میں دنیا کی اہم ترین شخصیات ہر شعبے سے پھانسی گئیں۔ ایلون مسک، بل گیٹس، مودی سے رابطہ، بل کلنٹن اور سب سے بڑھ کر ٹرمپ، برطانوی پرنس اینڈریو، بڑے سیاستدان، اخباری مالکان، نیوزسٹارز، حتیٰ کہ ضمناً ملالہ کا تذکرہ بھی۔ 30 لاکھ صفحات اب تک اس کی فائلوں کے سامنے آئے ہیں۔ جس میں آدم خوری، بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور ان کا خون پینا، کم عمر لڑکیوںسے وحشت، شیطانیت اور 13 تا 15 سالہ لڑکوں کے ساتھ ظلم۔
فی الوقت تو امریکہ قیامت خیز برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہے۔ ٹرمپ نے شدت سے، تکبر سے کہا تھا ہم امریکہ کو سفید (فام) کر دینا چاہتے ہیں۔(تمام کالے،بھورے، پیلے لوگ امریکہ سے نکال کر) قبولیت کا وقت تھا۔ آدھا امریکہ منجمد سفید ہوا پڑا ہے۔ 150 ملین(15 کروڑ) سفید منجمد ہو گئے۔ ایک ہزار ٹریفک حادثات، ایک لاکھ 70 ہزار بجلی کے بغیر، ہزا ر ہا فلائٹیں منسوخ ۔ حال نہ پوچھیں۔ امریکہ سفید ہو گیا!
یہ عیشِ فراواں یہ حکومت یہ تجارتدل سینۂ بے نور میں محرومِ تجلی
tanzeemdigitallibrary.com © 2026