(نقطۂ نظر) مسئلہ کشمیر کیوں حل نہ ہوا؟ - ابو موسیٰ

9 /

مسئلہ کشمیر کیوں حل نہ ہوا؟

ابو موسیٰ

اہلِ کشمیر اپنی آزادی کی تحریک اہلِ ہند کی 1857ء کی تحریکِ آزادی سے بھی پہلے شروع کر چکے تھے۔ اِس لیے کہ جب انگریز نے کشمیر پر قبضہ کیا تو اُس نے کشمیریوں کے تحریکیت کے جذبہ کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر پر بالواسطہ قبضہ رکھنے کو ترجیح دی اور معاہدہ امرتسر کے تحت جموں و کشمیر کا پورا علاقہ، اُس کی تمام آبادی اور وسائل 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کر دیئے۔ ڈوگرہ حکمران انگریزوں سے کہیں بڑھ کر مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اُنہوں نے مساجد کو گھوڑوں کے اصطبل اور بارود خانوں میں بدل دیا یہاں تک کہ مسلمانوں کو اذان دینے اور جمعہ و عیدین کا خطبہ پڑھنے کی اجازت بھی نہ تھی، مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے تھے۔ اُنہوں نے پونچھ کے مسلمان لیڈر سبز علی خان اور علی خان کی زندہ کھالیں اتار دیں جس سے اُنہوں نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اِس پر عوام میں شدید ردِعمل پیدا ہوا اور رفتہ رفتہ مختلف تنظیمیں وجود میں آگئیں۔ان میں شیخ عبداللہ کی سری نگر میں ریڈنگ روم پارٹی بھی شامل تھی۔ 1931ء میں پہلی بار جموں میں کشمیر ڈے منایا گیا۔ اُن ہی دنوں پنجاب میں بھی ’’چلو چلو کشمیر چلو‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں جس پر انگریز حکومت نے مداخلت کی اور ڈوگرہ راج والوں کو اعتدال اختیار کرنے کو کہا۔
1947ء میں تقسیم ہند تک کشمیری تحریکوں کی سرگرمیوں کو راقم طوالت کے خوف سے ادھورا چھوڑ کر اِس پر فوکس کرتا ہے کہ ہندؤوں کی جماعت آل انڈیا کانگرس اور مسلمانوں کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے تقسیم ہند کے موقع پر کشمیر کے حوالہ سے کیا پالیسی اختیار کی اور مسلم لیگ کی کِن غلطیوں کی وجہ سے کشمیر پر بھارت قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا جو آج تک قائم ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ مؤقف پاکستان کے تمام حکمرانوں نے اپنایا، لیکن بھارت آج تک ہماری شہ رگ پر قبضہ جمائے ہوئےہے۔ ہم اِس قبضہ کو چھڑانے میں آج تک مکمل طور پر ناکام ہیں اور اب ہماری کشمیر کے حوالے سے جدوجہد 5 فروری کو یومِ کشمیر منانے تک محدود ہوگئی۔ اِس روز ملک بھر میں تعطیل ہوتی ہے اور ہم ہندوستانی گانوں کی ریکارڈنگ سنتے ہوئے بسنت مناتے ہیں اور ’’بُو کاٹا‘‘ کی صدائیں لگاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی دو تہائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اِس کی 600 میل لمبی سرحد پاکستان سے ملتی تھی ریاست کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی اور بیرونی دنیا کے ساتھ ڈاک اور تار کا نظام بھی پاکستان سے جُڑا ہوا تھا۔ کشمیر سے نکلنے والے دریا ہی اُن علاقوں کو سیراب کرتے ہیں جو پاکستان میں ہیں اور بقول سابق امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور پاکستانیوں کو تو ہوائیں بھی کشمیر سے آتی ہیں۔ اب آئیے اِس طرف کہ آل انڈیا مسلم لیگ اور پاکستان کے حکمرانوں سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوئیں کہ بھارت کو کشمیر پر قبضہ کرنے کا موقع میسر آگیا اور صاف بات ہے اب ہم’’ کشمیر کو بھول جاؤ اور بُھلا دو‘‘ کے چکر میں ہیں ۔کوئی سیاسی یا مذہبی سیاسی جماعت کشمیر کی آزادی کو عام انتخابات کی مہم میں فوکس نہیں کرتی۔یہ قصہ پارینہ بن چکا ہے اور اِس حوالے سے ہمارا ماضی ہمارے لیے عذاب بن چکا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے آل انڈیا مسلم لیگ نے جو ہمالائی غلطی کی وہ یہ تھی کہ 3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کا جو فارمولا طے ہوا تھا کہ ہندوستان میں جن علاقوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے، وہ پاکستان کا حصہ بنیں گے اور غیر مسلم آبادی والے علاقے بھارت کا حصہ بنیں گے۔ برصغیر کی تمام ریاستیں جہاں راجے اور مہاراجے انگریزوں کی سرپرستی میں اندرونی طور پر خود مختار تھے وہ ریاستیں اپنے جغرافیائی اور معاشرتی و سماجی حقائق کے پیش نظر اپنے اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق بھارت یا پاکستان سے الحاق کر لیں لیکن آل انڈیا مسلم لیگ نے اصرار کیا کہ ریاستوں کے الحاق کا معاملہ عوام پر نہ چھوڑا جائے بلکہ یہ فیصلہ ریاستوں کے راجے اور مہاراجے کریں کہ اُنہوں نے پاکستان سے الحاق کرنا ہے یا بھارت سے۔
راقم کی رائے میں آل انڈیا مسلم لیگ کے بڑوں کی سوچ یہ تھی کہ نوزائیدہ ریاست پاکستان اپنے مالی معاملات کیسے چلا پائے گی اور حیدرآباد دکن چونکہ بڑی امیر ریاست ہے۔وہاں کی اکثریتی آبادی غیر مسلم ہے لیکن راجہ مسلمان ہے اور آل انڈیا مسلم لیگ سے اچھے تعلقات رکھتا ہے لہٰذا حیدرآباد دکن کی دولت نئی ریاست پاکستان کے مالی مسائل حل کر سکے گی۔ کانگرس نے مسلم لیگ کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا۔ کشمیر کا راجہ ہندو تھا۔ کانگرس نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کے راجہ نے بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا ہے، اِس حوالہ سے بات ابھی واضح نہیں تھی۔ لیکن اکتوبر 1947ء میں بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دیں اوربھارت کشمیر کے راجہ کےساتھ الحاق کی دستاویزات سامنے لے آیا۔ پاکستان نے اِن دستاویزات کو حقیقی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور قائداعظم نے پاکستان کی افواج کے کمانڈر چیف جنرل ڈگلس گریسی کو کشمیر پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن اُس نے حکم ماننے سے انکار کر دیا اور جواز یہ پیش کیا کہ میری تعیناتی تخت ِبرطانیہ نے کی تھی، میں اُن کے حکم کا پابند ہوں۔ بہرحال مسلم لیگ نے امیر ریاست حیدرآباد دکن لیتے لیتے کشمیر گنوا دیا۔پھر یہ کہ ریاست دکن چاروں طرف سے بھارت میں گھیری ہوئی تھی اور آبادی بھی زیادہ غیر مسلم تھی ، وہ کب تک پاکستان کے ساتھ جُڑی رہتی۔
11ستمبر1948ء کو قائداعظم وفات پاگئے اُسی روز بھارت نے حملہ کرکے حیدرآباد دکن پر قبضہ کر لیا اور پاکستان منہ دیکھتا رہ گیا۔ گویا پاکستان کا معاملہ یہ ہوا کہ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے۔ اب پاکستان کے حکمرانوں کی دوسری غلطی جان لیں جب ڈگلس گریسی نے کشمیر پر حملہ سے انکار کر دیا تو ہمارے قبائلی ایک طویل سفر طے کرکے کشمیر پر حملہ آور ہوگئے اُنہوں نے کشمیر کے بہت سے علاقوں سے بھارتی فوجیوں کو مار بھگایا اور مسلسل فتح یاب ہوتے ہوئے جموں و کشمیر کے ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گئے۔ تب نہرو چیختا چلاتا سلامتی کونسل پہنچ گیا اور امن امن کی صدائیں دینے لگا۔ سلامتی کونسل نے جنگ بندی کرا دی اور مذاکرات کا جھانسہ دیا۔ہم نے حماقتِ عظمیٰ کا ارتکاب کرتے ہوئے جنگ بندی تسلیم کر لی اور سلامتی کونسل نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت کے خلاف فیصلہ دے دیا۔بھارت پہلے تو ٹال مٹول کرتا رہا پھر عذرِ لنگ تراش کر اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہو گیا۔ بہرحال پاکستان کے حکمرانوں نے قبائلیوں کی جان جوکھوں والی جدوجہد کو غارت کر دیا۔اور وہ جنگ جو پاکستان قبائلیوں کی بدولت میدان میں جیت رہا تھا سفارتی میدان میں بری طرح ہار گیا۔
یاد رہے یہ وہی قبائلی ہیں جنہیں آج ہم غدار قرار دے رہے ہیں اور اُن پر طرح طرح کے الزام لگا رہے ہیں۔یہ آزاد کشمیر اُن ہی’’ غداروں‘‘ کے طفیل ہمیں ملا تھا جس نے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کو انتہائی اہم کر دیا ہوا ہے۔ 1962ء کی ہندچینی جھڑپوں کے درمیان پاکستان نے تیسری انتہائی ہولناک غلطی کا ارتکاب کیا جب چین نے پاکستان کے اُس وقت کے فوجی حکمران ایوب خان کو پیغام دیا کہ بھارت نے چین سے جنگ کی وجہ سے اپنی تمام افواج کشمیر سے نکال لی ہیں اِس لیے پاکستان کو کشمیر میں’’ واک اورر‘‘ مل جائے گا۔ یہ پیغام نصف شب میں قدرت اللہ شہاب کے ذریعے ایوب خان کو پہنچایا گیا لیکن ایوب خان اِس پر عمل کیا کرتا اُس نے اپنے پرنسپل سیکرٹری قدرت اللہ شہاب سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سویلینز نہیں جانتے کہ افواج کی نقل و حرکت کتنا بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور خواہ مخواہ عسکری معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ گویا اپنے پرنسپل سیکرٹری کو ٹکا سا جواب دے کر فارغ کر دیا۔
اصل بات یہ تھی کہ بھارت امریکہ کے ذریعے پاکستان سے یقین دہانی حاصل کر چکا ہوگا کہ چین کے خلاف ہندوستان کے جنگ میں مصروف ہونے کے دوران پاکستان کشمیر میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ میڈیا کے مطابق امریکہ نے ایوب خان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ہندچینی جنگ کے بعد امریکہ مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کروا دے گا۔ بہرحال وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا کے مصداق بعد ازاں کسی قسم کے مذاکرات نہ ہوئے۔
درحقیقت ہر فوجی طالع آزما سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ کو بہت عزیز ہے کیونکہ اُسے اقتدار بھی تو امریکہ کی آشیرباد سے ملا ہوتاہے۔ بہرحال ہم نے سنہری موقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور بھارت ایک بار پھر چکمہ دینے میں کامیاب ہوگیا۔ 1965ء میں پاکستان نے سرکاری اور غیر سرکاری چھاپا مار گوریلے کشمیر میں داخل کر دیئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بغیر کسی منصوبہ بندی اور کشمیر کی تناظیم سے بھی کوئی مضبوط رابطہ کیے بغیر پھر بھی اُنہوں نے بھارتی افواج کو کافی نقصان پہنچایا۔ یکم ستمبر کو پاکستان نے باقاعدہ اپنی افواج کو کشمیر میں داخل کر دیا جو کشمیر کے اندر کافی کامیابی سے آگے بڑھی لیکن بھارت نے 6 ستمبر کو پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کر دیا پاکستان کی کشمیر میں پیش رفت رک گئی کیونکہ اُسے اب پاکستان کو بچانا تھا۔ اُس وقت یہ افواہ بڑے زور انداز میں پھیلی کہ وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو یقین دلایا تھا کہ بھارت کسی صورت انٹرنیشنل باڈر کراس نہیں کرے گا۔ واللہ اعلم! سترہ روزہ جنگ کے بعد تاشقند میں پاک بھارت سربراہان کی ملاقات ہوئی،کشمیر پر مذاکرات کرنا طے پایا۔ بھارت نے مذاکرات کو جان بوجھ کر طول دیا اور بالآخر وہ کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگئے۔ البتہ 1965ء کی جنگ کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ دنیا کے سامنے یہ بات آگئی کہ اگر پاکستان فوجی کارروائی کرکے بھارت سے کشمیر نہیں چھین سکتا تو بھارت بھی پاکستان پر اچانک حملہ کرنے کے باوجود اُس کے دفاع کو توڑنے اور اُس کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تب سے پاکستان 6 ستمبر کو یومِ دفاع مناتا ہے۔
بھارت کے حکمرانوں میں سے واجپائی واحد وزیراعظم تھا جو بھارت اور پاکستان کو مسلسل جنگی صورتِ حال سے نکالنا چاہتا تھا حالانکہ وہ B.J.P جیسی مسلمان اور پاکستان دشمن جماعت کا سربراہ تھا۔اُس دور میں نواز شریف پاکستان کا وزیراعظم تھا جو شروع سے بھارت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ نوازشریف کی دعوت پر واجپائی نے پاکستان کا دورہ کیا اور مینارِ پاکستان کے سامنے کھڑے ہو کر پاکستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا جو یقیناً نواز شریف کی بحیثیت وزیراعظم بہت بڑی کامیابی تھی لیکن جلد ہی کارگل کا سانحہ ہوگیا۔ سانحہ کارگل کے بارے میں نواز شریف کے انتہائی لاڈلے بیوروکریٹ مہدی حسن لکھتے ہیں کہ وہ نوازشریف کے ساتھ اندرون ملک دورے پر تھے کہ نواز شریف کو وزیراعظم واچپائی کا فون آیا کہ آپ نے کارگل پر حملہ کرکے میری کمر میں خنجر گھونپا ہے۔ اُس پر نواز شریف کو معلوم ہوا کہ ہماری افواج نے کارگل پر کوئی فوجی کارروائی کی ہے گویا یہ آرمی چیف مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا جو وقت کے وزیراعظم سے بھی پوشیدہ رکھا گیا۔ اِس پر نواز شریف نے آرمی چیف جنرل مشرف کو بلا کر ساری صورتِ حال کا جائزہ لیا۔
مہدی حسن لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اپنی چرب زبانی سے نواز شریف کو شیشہ میں اتار لیا اور اُنہیں یقین دلا دیا کہ اِس جنگ سے پاکستان بھارت سے کشمیر چھیننے میں کامیاب ہو جائے گا۔ دوسری طرف چودھری شجاعت حسین (ق لیگ کے سربراہ) نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو بتایا کہ اُس کی موجودگی میں کارگل کی جنگ سے پہلے وزیراعظم نواز شریف کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی اور نواز شریف باخبر تھے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ دونوں میں سچاکون ہے؟البتہ یہ بات ریکارڈ پر آنی چاہیے کہ اِس جنگ میں پاک فضائیہ بھی استعمال ہوئی تھی اور پاکستان نے بھارت کے ایک یا دو جہاز مار گرائے تھے جس پر وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کو للکار کر کہا تھا کہ جتنے جہاز بھیجو گے سب گرائیں گے۔
کارگل کی جنگ میں پہلے پاکستان کو بڑی کامیابی ملی اور بھارت کا بڑا نقصان ہوا ،لیکن جب کارگل سے واپسی کا فیصلہ ہوا یا کرنا پڑا تو پاکستان کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستانیوں کا کس قدر جانی نقصان ہوا اِس کا اندازہ کرنا آسان نہ تھا کیونکہ اس میں فوج کے علاوہ غیر ریاستی عناصر بھی شامل تھے۔ عجب اتفاق یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین کی آل اولاد آج شریف فیملی کی حکومت میں وزارتیں سنبھالے ہوئے ہے۔اسٹیبلشمنٹ اور شہبار شریف کی حکومت نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ یک جان اور دو قالب دکھائی دیتے ہیں۔اس لیے کہ دونوں کے سامنے ایک ہی دشمن ہے جس کا وہ مل کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ تب یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ بے معنی جنگ جسے اِن تینوں پارٹنرز میں سے کوئی ownنہیں کرتا کوئی اِس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ۔ پھر اِس بے مقصد جنگ میں جن سہاگنوں کے سہاگ اُجڑ گئے، جو مائیں گود سوختہ ہوگئیں،جو بچے شفقت پدری سے محروم ہوگئے، جن بوڑھوں کی لاٹھی ریزہ ریزہ ہوگئی، جن بھائیوںکے سروں پر بہنیں سہرا سجانے کی تیاریوں میں تھیں، وہ سفید کفن سے ڈھانپنے پڑے، یہ سب اِن تینوں میں سے کس کے ہاتھوں پر اپنے پیاروں کا خون تلاش کریں جو ذاتی اور سیاسی مفاد میں پھر مل بیٹھے ہیں اور ہاتھوں میں ہاتھ دیئے ہوئے ہیں۔
افسوس صد افسوس!سب کچھ گنوا کر بھی آج کشمیر پر بھارت کا قبضہ برقرار ہے۔ راقم کی رائے میں آج جو کشمیر میں یہ صدائیں اُٹھ رہی ہیں ’’پاکستان سے رشتہ کیا لا الٰہ الا اللہ‘‘ جب تک پاکستان میں لا الٰہ الا اللہ عملی طور پر ایک نظام کی صورت اختیار نہیں کر لیتا اور اہلِ کشمیر بھی دوسرے تمام آپشنز یکسر مسترد کرکے صرف کشمیر بنے گا پاکستان کا آپشن دل و جان سے قبول نہیں کرتے اِس دو طرفہ عمل کے بغیر بات نعروں تک محدود رہے گی کشمیری بھارت کا ظلم و ستم سہتے رہیں گے اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارت سے چھڑایا نہ جا سکے گااور ہماری تمام تر ایلیٹ مسئلہ کشمیر کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتی رہیں گی۔