پاکستان اس دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا کہ ہندو
اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں ، لہٰذا ہندوؤں کا تہوار
بسنت منانا دو قومی نظریہ کی نفی ہے :رضاء الحق
بسنت کے تہوار کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے
دن سے متصل کرنا کشمیر ی شہداءکے خون سے
غداری ہے : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
بسنت اشرافیہ کا شوق ہے اور اس وجہ سے جب غریبوں
کی جانیں جائیں گی تو کوئی پوچھنے والا بھی نہ
ہوگا: قیصر احمد راجہ
’’یوم یکجہتی کشمیر اور بسنت کا ہندوانہ تہوار ‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال:امریکہ اور اسرائیل غزہ کے مسلمانوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں ، دوسری طرف برادر اسلامی ملک ایران پر حملے کے لیے اس کا گھیراؤ کیا جارہا ہے ، کراچی میں درجنوں لوگ جل کر خاکستر ہوگئے، بلوچستان میں BLA اور خیبر پختونخوا میں TTPکی دہشت گرد کارروائیاں جاری ہیں۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے بسنت جیسے خونی تہوار کی بحالی کیا معنی رکھتی ہے ؟
قیصر احمد راجہ: میرے خیال میں اکیلے بسنت کے تہوار کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ ریاست کی ایک حالیہ پالیسی کی توسیع ہےجس میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں ۔ کچھ لوگ اسے کلاسیکل رومن سکیم"Bread and Circuses" کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی مسئلہ ہو تو لوگوں کو میلے ٹھیلوں پر لگا دو اور چیزیں تھوڑی سستی کر دو۔ اس پر بات ہو سکتی ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے سے حکومتی سرپرستی میں میوزیکل کنسرٹس بھی ہورہے ہیں ، بے حیائی والے ڈرامے بھی دکھائے جارہے ہیں ۔ یہ مجموعی طور پر Hard State کے تصور کی عکاسی ہے ۔ بلاشبہ ہماری اصل شناخت اسلامی ہے لیکن مقامی طور پر صدیوں سے کچھ چیزیں ثقافتی طور پر چلی آرہی ہیں ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مقامی ثقافت کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے لیکن یہ بہت Bad Taste کا مظاہرہ ہے کیونکہ اس کی ٹائمنگ غلط ہے ۔ ایک طرف آپ یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں اور دوسری طرف ہندوانہ تہوار منا رہے ہیں۔ بسنت کا یہ تہوار حکومت کی جانب سے سوشل انجینئرنگ کی ایک تحریک بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں میں باہمی تناؤ تھوڑا کم ہو ، لوگ ریلکس ہوں اور برداشت اور ہم آہنگی بڑھے لیکن سوال یہ ہے کہ بسنت ہی کیوں ؟ کسانوں اور زمینداروں کے کئی تہوار ہیں ، نیزہ بازی ، بیلوں کی دوڑ وغیرہ جیسے کئی کھیل بھی منائے جا سکتے تھے ۔
رضاء الحق: پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور وہ دو قومی نظریہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ مسلمانوں کے اپنے تہوار ہیں اوروہ اسلامی تاریخ ، روایات اور شعائر کے امین ہیں ۔جیسا کہ عیدالاضحی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل iکی عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے جس کا تعلق ہمارے عقائد اور مذہب سے ہے ۔ اس کے برعکس لفظ ’’تہوار‘‘سنسکرت کا ہے ، اس کے معنی بھی عید ہیں لیکن اس کا پس منظر مشرکانہ اور غیراسلامی ہے ۔ لہٰذا اس کا منانا نظریۂ پاکستان کے بھی خلاف ہے ۔ پھر یہ کہ اس میں اخلاقیات، جان اور مال کے ضیاع کا عنصر بھی شامل ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق بسنت کے تہوار کا آغاز ایک ہندو طالب علم’’ حقیقت رائے‘‘ کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخی سے ہوا تھا۔ اسے اسلام قبول کرنے یا موت کی سزا کا آپشن دیا گیا تھا جس پر اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ہندوؤں کے نزدیک وہ ایک قربانی تھی جس کی یاد میں یہ تہوار منایا جاتا ہے ۔ اگر یہ کہانی درست نہ بھی ہو تب بھی بسنت ایک ثابت شدہ ہندو رسم ہے جس کا ذکر ہندو لٹریچر میں بکثرت موجود ہے۔ لہٰذا اس کا منانا اسلام اور نظریۂ پاکستان کے منافی ہے ۔
سوال: ایک طرف 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہارِیکجہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر کا دن منایاجارہا ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والے ہندوؤں کی ثقافت اور روایت کو زندہ کرنے کے لیے بسنت کا تہوار منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ کیا یہ کھلاتضاد نہیں ؟
ڈاکٹر فرید احمدپراچہ:آپ کا سوال بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔بالکل یہ کھلا تضاد ہے ۔ 5 فروری کا دن 36 سال سے یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جارہا ہے ۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد صاحب کا یہ صدقہ جاریہ ہے۔ 1990ء میں انہوں نے یہ اپیل کی تھی ، اس کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں لیکن کوئی بھی حکومت یہ جسارت نہیں کر سکی کہ اس دن کو وہ بدل سکے۔ اس دن کشمیریوں کے حق میں تقاریب بھی منعقد ہوتی ہیں ، تمام جماعتیں اور پوری قوم نکلتی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلتی ہے ۔ لیکن اب اس دن کو ثبوتاژ کرنے کے لیےاس کے ساتھ بسنت کا تہوار متصل کر دیا گیا ہے ۔ وہ کشمیری جن کا لہو پاکستان کے لیے بہہ رہا ہے ، اُن کے گھروں پر پاکستانی پرچم لہراتے ہیں ، وہ پاکستانی وقت کے مطابق اپنے گھڑیوں کا ٹائم سیٹ کرتے ہیں ، وہ بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر اور پاکستان کا یوم آزادی یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان سے الحاق کے لیےاپنا ایک ناقابل ترمیم موقف اپنا رکھا ہے اور ان کے اس موقف کو دبانے کے لیے اُن پر 8 لاکھ ہندو فوج مسلط ہے جو ان کی نسل کُشی کر رہی ہے ۔ بسنت کے اس تہوار سے اُن کشمیریوں کو کیا پیغام جائے گا ؟گویا ہم نے کشمیریوں سے اتحاد اور یکجہتی کے جذبے اور ولولے کو متنازعہ کر دیاہے ۔ ہم نے خون ِ شہیداں میں ہندوانہ رسم کامشرکانہ بسنتی رنگ ڈال دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے حکمرانوں نے دانستہ طور پر کشمیریوں کے لہو کے ساتھ بدعہدی کی ہے اور یہ انتہائی قبیح اقدام ہے۔ حکومت کو اپنے اس اقدام پر کشمیریوں سے اورپوری پاکستانی قوم سے بھی معذرت کرنی چاہیے اور آئندہ کے لیےبسنت کے تہوار پر مستقل پابندی عائد کرنے کا اعلان کر نا چاہیے۔
سوال: جب بسنت کی بات آتی ہے تو اسے تفریح، روایت اور ثقافت کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی روایت یا ثقافت انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے؟
رضاء الحق: ہمیں دو چیزوں کو الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ مشن ہے جس کے لیے شہادت پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ حق و باطل کے معرکہ میں ایک مسلمان اپنی جان شہادت کے لیے پیش کرتاہے ۔پھر ایک وہ تفریح ہوتی ہے جو صحت مند ہوتی ہے جیسے دوڑ یا کشتی میں حصہ لینا، گھڑ سواری ، تیر اندازی کی مشقیں وغیرہ ۔ اسلام صحت مند تفریح سے منع نہیں کرتا لیکن ایسے تہوار منانے سے منع کرتاہے جس میں غیر مسلموں سے مشابہت ہو یا جس میں بے گناہ لوگوں کی جان و مال کا نقصان ہو اور اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے ۔
سوال: آج کل حکومتی اہلکار یہ کہتے ہیں کہ بسنت سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور معیشت بحال ہوگی۔ وزیراعلیٰ صاحبہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ لوگ ایسے خوش ہیں جیسے عید کا چاند نظر آگیا ہو۔
قیصر احمد راجہ:معیشت اور سیاحت کے یہ دلائل انتہائی بودے ہیں، یہ صرف سپورٹنگ آرگومنٹس ہو سکتے ہیں، اس لیے پہلے ہمیں اصل آئیڈیا کو دیکھنا ہوگا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ اگر صرف پیسے کی بات ہے، تو پھر شراب خانوں،نائٹ کلبوں یا گوادر کو لاس ویگاس بنانے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟۔ اگر صرف دولت کی تخلیق مقصد ہے تو ماضی میں بدکاری کے بازاروں سے بھی اکنامک ایکٹیویٹی جڑی ہوئی تھی اور کئی لوگوں کے کاروبار چلتے تھے۔ان سب چیزوں کی اجازت ہم اس لیے نہیں دے سکتے کہ کاغذی طور پر ہی سہی ہم یہ طے کر چکے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اسلامی روایات پر قائم ہوگا ۔ پاکستان اسلام کے نام پر ہی بنا تھا ۔ ہمیں بسنت کو بھی اسی معیار پر پرکھنا ہوگا۔اگر ہم یہ انتہائی مختلف نقطۂ نظر مان بھی لیں کہ اسلام میں ہر وہ چیز جائز ہے جسے کتاب و سنت نے حرام قرار نہیں دیا، تب بھی اسلام نے ہر چیز کے اصول رکھے ہیں۔ بسنت میں سے اگر ہم مرد و زن کی ہلڑ بازی، اسراف ، موسیقی، بے حیائی اور اختلاط، دوسروں کی جان، مال کو لاحق خطرات نکال دیںجو کہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں تو پیچھے صرف ایک نائیلون کی ڈوراور کاغذ کی پتنگ بچتی ہے ۔ کیا اُس سے معیشت بحال ہو جائے گی ؟ سوال اگر معیشت کا ہے تو سی آئی اے کے بجٹ کا بڑا حصہ منشیات کی اسمگلنگ سے آتاہے ، کیا اُسے بھی جائز مان لیا جائے ؟
سوال:حکومت ِ پنجاب جن قواعد و ضوابط کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت دے رہی ہے ، کیا ان اقدامات سے سائیکل و موٹر سائیکل سواروں اور پیدال چلنے والے عوام کے گلے کٹنے سے محفوظ رہ سکیں گے ؟
ڈاکٹر فرید احمدپراچہ: حکومت کی طرف دعوے کیے جارہے ہیں کہ یہ بڑی محفوظ بسنت ہوگی ، پورے اہتمام سے منائی جائے گی، حکومت نے کہا پتنگ وغیرہ یکم فروری سے بیچے جائیں گی لیکن وہ پہلے سے فروخت ہورہی تھیں ۔ دس دس ہزار کی پتنگیں فروخت ہورہی ہیں ۔ 25 سال پہلے عدالت نے اس تہوار پر پابندی لگائی تھی ۔ اس لیے کہ 916 افراد کے گلے کٹے تھے ۔ کھیل کوئی کھیل رہا ہے اور گلا کسی کا ناحق کٹ رہا ہے۔ اسی طرح چھتوں سے گر کے بچے جان بحق ہوتے ہیں ، سڑکوں پر پتنگ کے پیچھے دوڑتے ہوئے گاڑیوں کے نیچے آجاتے ہیں ۔ لاہور میں اندرون شہر میں پچاس پچاس لاکھ میں چھتیں کرائے پر لی جارہی ہیں ۔درحقیقت یہ سارے کھیل تماشے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ہورہے ہیں کہ عوام بھول جائیں کہ غزہ میں کیا ہورہا ہے ، مہنگائی کتنی ہوگئی ہے ، کرپشن کتنی ہورہی ہے ۔ ملک میں سود ی نظام کی وجہ سے معاشی بحران کس قدر سنگیں ہو گیا ہے ۔
سوال: بسنت کے تہوار پر ہماری سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی عائد کی گئی تھی ۔ اگر یہ تہوار اتنا ہی اچھا ہے تو اس پر پابندی کیوں لگی اور اب حکومتی سرپرستی میں اسے بحال ہو نا چاہیے یا پابندی برقرار رہنی چاہیے ؟
رضاء الحق: سپریم کورٹ نے 5 اکتوبر 2005ء کو پتنگ بازی اور بسنت پر پابندی لگائی تھی کیونکہ انسانی جانوں کا ضیاع بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ صرف اُس سال تقریباً 19 لوگ اس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے تھے کیونکہ دھاگے کی جگہ کیمیکل، شیشے اور اسٹیل کی تار استعمال ہونی شروع ہو گئی تھی جوسائیکل اور موٹر سائیکل سواروں ، حتیٰ کہ پیدل چلنے والوں کےخلاف تلوار کا کام کرتی تھی۔ یہ پابندی خالصتاً انسانی بنیادوں پر لگی تھی، جیسے ریڈ لائٹ کراس کرنے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ ایکسیڈنٹ نہ ہوں۔ لیکن بسنت کو بحال کرنا ایک سوشل انجینئرنگ پروگرام کا حصہ ہے جو اشرافیہ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ وہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ تقسیم صرف ایک لکیر تھی،جس کے دونوں پاررہنے والے ایک ثقافت کے حامل ہیں ۔وہ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور ہم بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب عدالت کی جانب سے اس پر پابندی لگ چکی تھی تو اسے بحال کرنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔
سوال: حکومت بسنت کے لیے جو ایس او پیز اور رولز بنا رہی ہے، کیا ان کے ذریعے انسانی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟
قیصر احمد راجہ:2005 ءاور آج کے لاہور میں بہت فرق ہے۔ آبادی اور موٹر سائیکلوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔کچھ موٹر سائیکل سواروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں لیکن بہت ساروں نے نہیں کیں ، پھر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے لوگ بھی ہیں ، کیا سب لوگ احتیاطی تدابیر اختیا رکر سکتے ہیں ؟ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ بلی کے آگے دودھ رکھ کر SOPsبنا دیں کہ اُس دودھ کی طرف دیکھنا بھی نہیں ہے ۔ پھر یہ کہ اس ملک کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ سڑکوں پر چلتے ہوئے عام لوگوں پر گاڑی چڑھا دیں تو ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی ۔ اگر اشرافیہ کا شوق بسنت منانا ہے اور اس وجہ سے لوگوں کی جانیں جائیں گی تو کیا اشرافیہ کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟اشرافیہ تو رولز اور SOPsکو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتی ہے ۔
سوال:دینی نقطۂ نظر سے کسی مسلمان کا غیر اسلامی تہوار منانا کیسا ہے ؟
ڈاکٹر فرید احمدپراچہ:دینی نقطۂ نظر تو بڑا واضح ہے۔ اسلام تفریح کی اجازت بھی دیتاہے اور تفریح کے جائز مواقع بھی فراہم کرتاہے ، نبی اکرم ﷺ کے دور میں کُشتیاں بھی ہوتی تھیں ، تیراندازی ، دوڑ اور تیراکی کے مقابلے بھی ہوتے تھے ۔اسلام صحت مند تفریح سے منع نہیں کرتالیکن ساتھ ساتھ غیر مسلموں سے مشابہت اختیار کرنے اور ان کے غیر شرعی بلکہ بسنت جیسے مشرکانہ تہوار منانے سے منع بھی کرتاہے ۔ نبی اکرم ﷺ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اُس وقت مدینہ میں پہلے سے ایک موسمی تہوار منایا جاتا تھا ۔ آپ ﷺ نے اسے منانے سے منع کیا اور فرمایا: کہ اللہ نے آپ لوگوں کو اس سے بہتر دو تہوار عطا کیے ہیں ۔ ایک عید الفطر اور دوسرا عیدالاضحی۔ ایک رمضان کے بعد اظہار تشکرکے طور پر منایا جاتاہے ، اس میں خوشی بھی ہے، تبلیغ بھی ہے اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی ہے ۔ اسی طرح عید الاضحی بھی خوشی کے طور پر منائی جاتی ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل ؊ کو سرخرو فرمایا تھا ۔ لیکن دونوں تہواروں کا آغاز بھی اللہ کی بندگی سے ہوتا ہے ، یعنی نمازعیدین کی ادائیگی سے اور اس کے ساتھ ساتھ مقصدیت اور سنت انبیاءؑ کو بھی اجاگر کیا جاتاہے۔اسلامی تہواروں میں کسی بھی قسم کی بے ہودگی اور بے حیائی یا اسراف و تبذیر کی گنجائش نہیں رکھی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا کام کرنے کی اجازت ہے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے ۔ یہ کونسا تہوار ہے جس میں قوم کے کروڑوں روپے پتنگ اُڑانے پر خرچ کیے جاتے ہیں ، ناچ گانا ، بے ہودگی اور بے حیائی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ؟ پھر کتنے لوگ ڈور پھرنے سے اپنی جان سے جاتے ہیں ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کئی جگہوں پر شراب و شباب کی محفلیں سجتی ہیں اور ہوائی فائرنگ ہوتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہوائی فائرنگ کی وجہ سے بھی جان سے جاتے ہیں ۔ اسلام اس طرح کے کسی بھی تہوار کی اجازت قطعاً نہیں دیتااور نہ ہی ایسا کوئی تہوار اسلامی معاشرے یا اسلامی تہذیب و افکار سے مطابقت رکھتا ہے ۔
رضاء الحق: ہر تہوار جس نے اسلام کے سائے تلے جنم نہیں لیا ضروری نہیں کہ وہ غیر اسلامی ہو۔ اگر برف باری کے موسم میں لوگ شمالی علاقہ جات جاتے ہیں ، یا گرمیوں میں سمندر کے کنارے جاتے ہیںاور یہ تفریح شرعی دائرے کے اندر ہو تو اسلام اس سے منع نہیں کرتا ۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ حضرت یوسف ؈ کے بھائیوں نے اپنے والد سے تقاضا کیا کہ یوسف ؑ کو ہمارے ساتھ کھیل کود کے لیے بھیج دیں تو حضرت یعقوب؈ نے منع نہیں کیا بلکہ جانے دیا ۔ البتہ اسلام غیرشرعی چیزیں اور غیر مسلموں کے تہوار منانے سے منع کرتاہے ۔ اسلام کا اپنا ایک مزاج ہے جس کے مطابق کوئی بھی سرگرمی ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کے خلاف اگر کوئی کام ہو تواُس کی قطعاً اجازت نہیں ۔ مثال کےطور پر عیسائی کرسمس مناتے ہیں ۔ اسلام عیسائیوں کو کرسمس منانے سے منع نہیں کرتا لیکن مسلمانوں کے لیے جائز قرار نہیں دیتا کہ وہ کرسمس کے تہوار میں حصّہ لیںیاہندوؤں کی ہولی ، دیوالی کے کیک کاٹیں اور بتوں کی پوجاپاٹ کا حصّہ بنیں۔ اسلامی تہواروں میں متانت، سنجیدگی اور اللہ کا شکر ادا کرنے کاپہلو شامل ہوتا ہے ، اس کے علاوہ ایسابھی ہرگز نہیں ہوتا کہ عید کے دن نمازیں اور دیگر عبادات چھوڑ دی جائیں بلکہ عید کے دن بھی اپنے آپ کو اللہ کی فرمانبرداری میں رکھنا ہوتا ہے ۔ جبکہ بسنت جو ہلڑ بازی ، بے حیائی ، اسراف اور بے ہودگی کا ملغوبہ ہے اُس کا اسلام کے مزاج کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ اسلام میں یہ چیزیں حرام ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں اور عوام سب کو سمجھ عطافرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026