قرآن حکیم اور ہم
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ
یہ امیر محترم کے25 مارچ2022ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص ہے۔ چونکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ موضوع کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر قند مکرر کے طور پر شائع کر رہے ہیں۔(ادارہ)
رمضان کی آمد آمد ہے اس لیے ’’ قرآن حکیم اور ہم ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(55)} ’’اور آپ تذکیر کرتے رہیے‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔‘‘(الذاریات:55)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا کہ جو مرضی ہے کرے بلکہ اس کو ایک مکمل نظام بھی دیا ہے تاکہ اس کے مطابق زندگی گزار کر آخرت کی دائمی زندگی میں سرخرو ہوجائے ۔اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ قرآن مجید کا نزول فرمایا تاکہ ہم اس کا مطالعہ کرکے اُخروی نجات کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے مطابق زندگی گزاریں ۔ فرمایا : {اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ(13)} ’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔‘‘
{وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ(14)}’’اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘(الطارق)
یعنی یہ قرآن ہمارے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔یہ ایسی شے نہیں ہے کہ جس کو نظر انداز کر دیا جائے ،پس پشت ڈال دیاجائے ،جس کے لیے دل میں کوئی طلب نہ ہو،تڑپ نہ ہو،محنتیں نہ کی جائیںیا جس کے لیے وقت نہ نکالا جائے ،بلکہ یہ ایک فیصلہ کن کلام ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اس کو ترک کرنے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا۔‘‘
اقبال نے اسی کی ترجمانی کی کہ ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
یعنی اس امت کے زوال کی وجہ قرآن حکیم کو پس پشت ڈال دیناہے ۔ یہ اصول فرعون،نمرود، قارون کے لیے بیا ن نہیںہو رہا بلکہ یہ اللہ کو ماننے والوں کے لیے بیان ہو رہا ہے ۔ یعنی اللہ کو ماننے والے اللہ کی ماننے پر آئیںگے تو اللہ انہیں دنیا میں بھی عروج دے گا بلکہ حدیث کا مفہوم ہے کہ دنیا کو ذلیل کرکے ان کے قدموں میں ڈالے گا۔لیکن سب سے بڑا مسئلہ آخرت کا ہے او ر اس حوالے سے بھی یہ فیصلہ کن کلام ہے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
{القرآن حجۃلک اوعلیک}(صحیح مسلم) ’’قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔‘‘
میں اور آپ تنہائی میں سوچیںکہ آج ہمارا قر آن کے ساتھ کیسا تعلق ہے؟ کیاہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ کل یہ ہمارے حق میں سفارش کرنے والا ہوگا؟ اگر ایسا ہے توالحمد للہ ! لیکن اس پر بھی شکر کریں کہ ابھی مہلت عمل باقی ہے ۔ نہ معلوم کب بلاو اآجائے ۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق کس طرح مضبوط ہوگا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے کتابچے :’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کامطالعہ مفید رہے گا۔ اس میں انہوں نے پانچ حقو ق بیان فرمائے:
1۔قرآن پر ایمان صرف زبانی ہی نہیں بلکہ دل سے بھی تصدیق کا ہونا ضروری ہے ۔
2۔اس کی باقاعدہ تلاوت کی جائے ۔
3۔اس کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
4۔ اس کے احکام پرعمل کیا جائے اور اجتماعی زندگی میں بھی ان کے نفاذ کی کوشش کی جائے ۔
5۔اس کے پیغام کودوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔
اگر ہم قرآن مجید کے یہ حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں تو اس کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہوگا ۔ ان شاء اللہ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا :
{لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط}(الحشر:21) ’’اگر ہم اس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘
یہ پہاڑوںکوہلادینے والاکلام ہے ۔ ذرا غور کیجیے کہ کیامرتبہ ہوگا محمدمصطفیﷺ کے قلب اطہرکا جس کو رب عظیم نے اس پُروقار اور پُرجلال کلام کے نزول کے لیے تیار کیا۔ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ یہ کس قدر عظیم کلام ہے؟ کیا ہم اس پر توجہ دیتے ہیں ؟جب ہم نماز میں کھڑے ہوں اور امام تلاوت کررہاہو توہمیں فکر ہوتی ہے کہ ہم سے کیا کہا جارہا ہے ؟ ہماری عظیم اکثریت کوپتا ہی نہیں ہوتا کہ قرآن کیاکہہ رہاہے ۔ الاماشاء اللہ!وہ لوگ جن کوقرآن حکیم کی زبان کو سیکھنے کاموقع ملا،جن کو قرآن حکیم کی محافل میںشرکت کاموقع ملا،جن کوفہم قرآن کے کورسز میں جانے کا موقع ملا، اُن کو کسی قدر اندازہ ہوگا۔ لیکن عظیم اکثریت ایسی ہے جس نے کبھی قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ مکمل نہیں پڑھا ہوگا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں ۔ ہمارے شہروں سے لوگ آکسفورڈ میںجاکر انگلش زبان میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں،بلکہ اتنا پڑھ لیاہے کہ جاکے ناسا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، اسی طرح ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن اللہ کی کتاب کے حوالے سے کبھی رونگٹے کھڑے ہوئے ،کبھی دل کی دھڑکن بھی تیز ہوئی ہے ؟یہ سوچنے کامقام ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن حکیم کی عظمت ہمارے دلوںمیں بٹھائے ۔یہ کتاب ہدایت ہے اس کابنیادی تعار ف کیاہے :
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)}(البقرۃ)’’پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘
{ہُدًی لِّلنَّاسِ}(البقرۃ:185)’’لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘
{ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ}(بنی اسرائیل:9)’’یہ سب سے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘
{ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ }(ابراہیم:1) ’’لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتےہیں۔‘‘
مگر آج ہماری اکثریت ثواب کے لیے بھی قرآن کو نہیں پڑھتی بلکہ ایصال ثواب کے لیے پڑھتی ہے ۔ اب تو قرآن خوانی کاپیٹرن تبدیل ہوگیا ہے ۔آن لائن قرآن خوانی ہو رہی ہے کہ قرآن کے اتنے پارے پڑھ کررکھے ہوئے ہیں اتناپیسے دیںاور قرآن کاثواب لے لیں ۔ اناللہ واناالیہ راجعون!یہ قرآن کے ساتھ کیا مذاق ہو رہا ہے ؟دنیا کی کسی تحریر کامتن بغیر سمجھے کوئی نہیں پڑھتالیکن کیااللہ کاکلام ہی رہ گیاہے جوبغیر سمجھے پڑھے جارہے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بغیر سمجھے بھی قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ اگر کوئی قرآن کومحبت سے سینے سے لگائے گا تواس کابھی اجر پائے گا۔لیکن قرآن صرف ادب اور ثواب پہنچانے کے لیے نہیں آیا بلکہ یہ قرآن ہدایت کے لیے آیاہے ۔ سیدناعلی h فرماتے ہیں:
’’جب میں رب سے کلام کرناچاہتاہوںنماز میںکھڑا ہوتا ہوںاور جب میں چاہتا ہوںکہ اللہ مجھ سے کلام کرے تومیںقرآن پاک کی تلاوت کرتا ہوں۔ ‘‘
قرآن کہتاہے اللہ کی یہ کتاب ہمارے لیے نازل ہوئی ہے:
{لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(10)}(الانبیاء)’’(اے لوگو!) اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کر دی ہے‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ۔تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
ذکرکا ایک مفہوم شرف،عزت یاوقارہے لیکن یہاں کہا گیا کہ اس میں تمہارا ذکر موجود ہے ۔سیدابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں :’’ہمارے اسلاف قرآن حکیم کوایک آئینے کے طور پر لیتے تھے۔‘‘
میں اللہ کی قسم اٹھاکرکہتاہوںکہ آپ آٹھ دس رکوع قرآن کے ترجمہ کے ساتھ تلاوت کریں توکوئی ایک نکتہ ضرورآپ کو ملے گاجوآپ سے متعلق ہوگا۔جیسے فرمایا:
’’اور فیصلہ کر دیا ہے آپؐ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اُس کے ‘اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں‘تو انہیں اُف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو‘ اور ان سے بات کرو نرمی کے ساتھ۔‘‘(بنی اسرائیل :23)
یعنی ہلکی سی ناگواری کا صدوربھی تمہارے رویے اور وجود میں نہیں ہونا چاہیے ۔ ذرا سوچیں !اگر ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے تو کیا یہ آیات پڑھتے ہوئے ہمیں احساس نہیں ہوگا کہ ہم والدین کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں ؟لیکن بغیر سمجھے پڑھنے سے ہم یہ مس کررہے ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجیدمیںفرمایا:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط} (آل عمران:185) ’’ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا۔‘‘
آج ہم ان ہدایات کو مس کر رہے ہیں اسی لیے معاشرے کا یہ حال ہے اور جس کتاب سے ہدایت لے کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارنا تھا اُس کتاب کو ہم نے محض ثواب کے لیے رکھا ہوا ہے۔ قرآن مجید کے نسخے مسجدوں میں رکھوا دیے یا اس کے سائے میں بیٹی کو رخصت کر دیا ۔ حالانکہ قرآن کونہ بیٹی کھولتی ہے نہ اس کے ماں باپ کھولتے ہیںکہ اس میں لکھا کیا ہے ؟کیایہ قرآن شکایت لے کر کھڑا نہیں ہوگا؟کیاصاحب قرآن ﷺ شکایت لے کر کھڑے نہیںہوںگے ؟ارشا د ہوتاہے :
{وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا(30)}(الفرقان) ’’اور رسولؐ نے کہا (یا رسول کہے گا): اے میرے پروردگار !میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ ی ہوئی چیز بنا دیا۔‘‘
چھوڑدیاکامطلب ہے کہ نہ تلاوت کررہے ہیں، نہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں،نہ اس کواللہ کی سب سے بڑی نعمت سمجھ کراپنے شب وروز میں اس سے ہدایت حاصل کر رہے ہیں ،نہ اس کے احکامات پرعمل کالحاظ ہے اور نہ اس کے نفاذ کی کوشش ہے ۔ نہ ختم نبوت کے بعداس کے پیغام کودوسروں تک پہنچانے کی فکر ہے ۔ اگرآج یہ فکر نہیںہے اور اس کے باوجود ہم حضورﷺ کی شفاعت کی تمنا بھی رکھتے ہیںاور دعابھی کرتے ہیں توسوچئے ! اگر حضور ﷺ شکایت لے کر کھڑے ہوجائیںتوکوئی ہمیں بچا سکے گا؟ اس حوالے سے ہمیں سوچناچاہیے ۔
کیاخوب بات ہو کہ اگر ہمارے نظام تعلیم میںقرآن حکیم باقاعدہ ایک سلیبس کے طور پرموجود ہو۔ ڈاکٹر اسرارا حمدؒ ذرا وسیع تر بات کرتے تھے کہ اجتماعی سطح پر یونیورسٹیزکے لیول پرقرآن ایک مین کتاب کے طور پر پڑھائی جائے۔ باقی علوم کوثانوی درجے میں رکھاجائے۔ لیکن ہم نے دوسرے علوم کاجتنابھاری سلیبس بچوں پرلادا ہوا ہے اتنا ہی معاشرے میں اخلاق، حیااور اعمال کاجنازہ نکل رہا ہے ۔ جتنابڑا تعلیم یافتہ ہے اتنابڑا وہ فراڈ بھی کر رہاہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم میں سے رب کو نکال دیا ہے ۔ جبکہ قرآن کے نزول کی ابتدا ہی اس حکم پر ہوئی تھی :
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)}(العلق) ’’پڑھیے اپنے اُس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
اب پاکستان میں اس حوالے سے کچھ خوش آئند فیصلے بھی ہوئے ہیں ۔ 2017ء کے آفیشل گزٹ میں ایک پوری سکیم آف سٹڈیز دی گئیں کہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ پڑھایاجانا چاہیے اور چھٹی سے بارہویں کلاس تک ترجمہ پڑھایاجانا چاہیے ۔ کے پی کے کی پچھلی حکومت نے اس حوالے سے سرکاری سکولوں میں کوشش شروع کردی۔ الحمدللہ !اس دور حکومت میں بھی پنجاب میں طے ہوا ہے کہ چھٹی سے بارہویں تک ترجمہ قرآن پڑھایاجائے گا اور کوشش ہورہی ہے کہ وہ لازمی مضمون کے طور پرہوجس کا50نمبروں کاامتحان بھی ہونا چاہیے۔ یہ مثبت اقدام ہیں جن کی ہمیں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مزید خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلی وفاقی حکومت کے تحت تمام مکاتب فکر کے علماء کی ایک کمیٹی’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ بنی تھی۔ اس میںپانچ بڑے وفاق المدارس (دیوبندی،بریلوی،اہلحدیث، جماعت اسلامی اور اہل تشیع)کے علماء شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے علم فاؤنڈیشن کا مرتب کیا ہوا قرآن مجید کا ایک سلیبس متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے ۔ علم فاؤنڈیشن کراچی میں ایک ادارہ ہے جس کے ساتھ میں بھی منسلک ہوں اور وہ 2009ء اس سلیبس پر کام کر رہا ہے جس میں قرآن حکیم کاترجمہ ، کچھ تشریح،مشقیں ،سورتوںکے تعارف اور اسباق شامل ہیں۔ قرآن حکیم کا یہ سلیبس سات حصوں پر مشتمل ہے۔ الحمد للہ علم فائونڈیشن کی طرف سے مجھے بھی اس سلیبس کی تیاری میں سعادت ملی اور تین سالوں کی محنت کے بعد وفاق المدارس کا اس سلیبس پر اتفاق ہوگیا اور 28 جنوری2020ء کوسب نے سائن کردیے ۔اب ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتیں اس قرآن کو ایک لازمی مضمون کے طورپر سلیبس میں شامل کریں ۔اس وقت پاکستان میں ساڑھے پانچ کروڑ بچے سکولوں میں جاتے ہیں اورڈیڑھ کروڑ سکولوں سے باہر ہیں ۔ اگر یہ سات کروڑ بچے سکولوں اور کالجز میں قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ اور مشقوں کے ساتھ پڑھیں گے توسوچ لیں کہ دس سال کے بعد ہمارے پاس کون سی نسل ہوگی۔ آپ کو چاہیے اس بات کو عام کریں ۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ اس میں سے خیر برآمد کرے ۔ بہت سے لوگ ہوں گے جن کے اپنے سکولز ہوں گے وہ بھی اس کو عمل میں لاسکتے ہیں ۔
اسمبلی ہرسکول میں ہوتی ہے لاکھوں بچے اسمبلی میں کھڑ ے ہوتے ہیں ۔ بعض سکولوںمیں یہاں تک ہوا کہ ایک طالب علم نے تلاوت کرنی ہے دوسرے نے ترجمہ کرناہے اور ایک استاد نے آکر ان آیات کی تشریح بیان کرنی ہے ۔ میں کراچی میں ایسے سکولز کوجانتاہوں جن میں دوسالوں میں 17،18 پاروں کی تکمیل ہوچکی ہے ۔ بلکہ ایک جگہ توپورا قرآن مکمل ہوچکا ہے اوردوبارہ سلسلہ شروع کیاگیا۔اس کے علاوہ پرائیویٹ اداروں میں یہ کام ہورہاہے ۔ یہ ممکن ہے، کیاجاسکتاہے ۔
میری اگلی گزار ش گھروں کے اعتبار سے ہے ۔ ہمارے گھروں کو قرآن پاک کا مرکز ہوناچاہیے ۔ ایک دور تھاکہ گھروں میں قرآن پاک کی تلاوت سے پہلے ناشتہ نہیں ملتا تھا۔ آج یہ ہورہاہے کہ بچہ کارٹون نہ دیکھے تواس کی آنکھ نہیں کھلتی یاورکر صبح گانانہ سنے تواس وقت تک اس کے ہاتھ نہیں چلتے ۔ حالانکہ گھرتوہمارے اختیار میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ استاد محترم ڈاکٹر اسرارا حمدؒ پراپنی رحمتیں نازل فرمائے ان کو پاکستان سے زیادہ باہر لوگ سن رہے ہیں ۔ باہر کے لوگوں نے تو یہاں تک ترتیب بنا رکھی ہے کہ اتوار کو دوچار گھرانوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور مل کرڈاکٹر صاحب کو سن رہے ہیں ۔ یہ ترتیب بھی ہوسکتی ہے ۔ اگر کسی کا کسی دوسرے عالم پراعتماد ہے ،ان کوپسند کرتاہے توان کا ترجمہ تشریح پڑھ لے لیکن قرآن سے اپنے آپ کوضرور جوڑے۔ ہم نے دنیا جہاں کاٹیکسٹ اپنے بچوں کو پڑھا لیا اور کوالیفائیڈ بنالیالیکن اللہ کی کتاب کوکتناپڑھاہے؟یہاں میںبانی تنظیم اسلامی کا بیان القرآن تجویز کروں گا جو ڈاکٹر ذاکر نائیک کی درخواست پر 1988ء میں ریکارڈ ہوا ۔ چنانچہ وہ پہلے کیبل پرچلتاتھااب وہ سیٹلائٹ چینل پر چل رہاہے ۔الحمدللہ۔ اللہ نے اس کوبڑا قبول فرمایا۔ اس کا دورانیہ108گھنٹے پر مشتمل ہے۔ روزانہ ایک گھنٹہ اگر سنیںتو تقریباًچار مہینے میں مکمل ہوجائے گا۔ روزانہ تقریباً 15منٹ سنیں تو ایک سال میں پورا قرآن آپ سن سکتے ہیں ۔ میری تعلیم یافتہ لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اس کو ضرور سنیں ۔ میں ذاتی طورپر ایسے گھرانوں اور اداروں کوجانتاہوں جہاں پریہ کام اجتماعی طور پر کیاجارہاہے اور ہوسکتاہے۔ یوں اگر قرآن ہمارے گھرانوں میں آئے تواللہ کی رحمتیں اور برکتیں بھی آئیں گی ۔
رات کا قیام
الحمدللہ ! ڈاکٹر اسرارا حمدؒ نے1984ء سے رمضان المبارک میں نماز تراویح کے ساتھ دور ہ ترجمہ قرآن کاآغاز کیاتھاجس کو اللہ نے قبول عام فرمایا۔ یہ پروگرام اب پاکستان بھر میں کئی مقامات پر سینکڑوں کی تعداد میںہورہاہے ۔آگے رمضان آرہاہے ۔ یہ آپ کی ایک ماہ کی انوسٹمنٹ ہے ۔ میں اپناتاثر شیئر کرتاہوںکہ ہم نے لوگوں کی زندگیاں بدلتی ہوئی دیکھی ہیں ۔ میں آپ سے گزارش کروں گاکہ جہاں بھی یہ پروگرام ہورہاہے اس میں ضرور شامل ہوجائیں ۔ ہمارے ساتھیوں سے رابطہ رکھیں ۔جوریکارڈنگز دیکھناچاہے وہ تنظیم کی ویب سائٹ پردیکھ لے ۔
ہم سب محمدﷺ کے امتی ہیں اوراس امت نے بڑا کام کرناہے ۔پیٹ بھرنا ، بچے پالنا ، گھر بنانا یہ کام چرند پرند اور حیوان بھی کر لیتے ہیں ۔ اس اُمت کو اللہ نے بڑے کام کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اللہ فرماتاہے :
{ہُوَ اجْتَبٰـٹکُمْ}(الحج:78)’’اُس نے تمہیں ُچن لیا ہے‘‘
پہلے سوالاکھ انبیاء ورسل کو چنا،نبی اکرم ﷺ کے بعد اب اس امت کو اللہ نے اس کام کے لیے چنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد اب دین کوپہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ اس دعوت کے کام کوبھی محمدمصطفیﷺ نے قرآن مجید کے ذریعے انجام دیا۔ مکہ کے تیرہ برس تلوار نہیں چلی ، قرآن کے ذریعےاسلام پھیلا۔ دعوت ، تبلیغ، تذکیراور تزکیہ، بشارت اور انذار کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے قرآن حکیم کو ذریعہ بنایا۔ظاہر ہے ہم سیکھیں گے توآگے پہنچائیں گے۔ہم پہلے گزریں گے قرآن سے تودوسروںکوگزاریں گے ۔نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے :
’’تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘ (الحدیث)
اللہ کایہ کلام صرف تلاوت کاتقاضا نہیں کرتابلکہ یہ اقامت کا تقاضا کرتاہے جس کے لیے رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کا اُمتی ہونے کے ناطے ہمارا فرض صرف دعوت وتبلیغ ہی نہیں بلکہ قرآنی احکامات کو معاشرے میں نافذ کرنا بھی ہمارا فریضہ ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سب سے بڑے داعی تھے مگران کا خون طائف میں اور احد میں بہاہے ۔ آپﷺ کے گھر میں فاقے بھی آئے ہیں ۔آپؐ کے پیارے صحابہ ؓ شہید ہوئے ہیں ۔ یہ سب آپ ﷺ نے برداشت کیا ہے اس عظیم قرآنی مشن کے لیے تاکہ معاشرے میں انصاف قائم ہو ، اللہ کا نظام قائم ہو ۔ ہم سب کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں الحمدللہ ! مگر جس کے پاس دووقت کاکھانانہیں ہے کیاوہ نارمل لائف گزار سکتاہے ؟ انسانیت کی فلاح اور معاشرے میں عدل و انصاف کے لیے قرآن کا نفاذ بھی ضروری ہے اور ختم نبوت کے بعد یہ ہم سب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔یہ کام اکیلے نہیںہوسکتا۔ اس کے لیے جماعت ضروری ہے۔ کسی بھی ایسی جماعت کے ساتھ کھڑے ہوجائیں جومنہج نبوی کے مطابق اقامت دین کی جدوجہد کر رہی ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!