پاکستان اور افغانستان کے ماضی، حال و مستقبل کے تعلقات
تنظیم اسلامی کا موقف
خصوصی اجلاس مرکزی مجلس عاملہ تنظیم اسلامی پاکستان منعقدہ 4 نومبر 2025ء میں’’تنظیم اسلامی کا پاکستان اور افغانستان کے ماضی،حال اور مستقبل کے تعلقات پر مؤقف ‘‘کے موضوع پر معزز اراکین مجلس نے اظہار خیال فرمایا۔ بعد ازاں امیرمحترم نے مزید مشاورت اور غور وفکر کے بعد نکات کی صورت میںاس موضوع پر درج ذیل حتمی موقف 20 جنوری 2026 کو مرتب فرمایا۔
1-اسلام اور پاکستان
(i)دنیا کا واحد ملک جو دین کے نام پر، دین کی خاطر اور دین کے نفاذ کے لیے بنا۔
(ii)اس کا استحکام اور اس کی بقاء صرف اسلام میں ہے۔
(iii)پاکستان کے بنتے ہی قرار دادِ مقاصد میں اس عزم کا ببانگِ دہل اظہار کیا گیا۔
(iv)پاکستان کی Destiny (تقدیر مبرم) اسلام ہے۔
(v)ضرورت اس امر کی ہے کہ جو عزم و اعلان کیا گیا تھا اس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ لہٰذا دستور میں طے شدہ اسلامی تشخص اور اسلامی اقدار کو رائج و اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے۔
(vi)فطرت کا اصول ہے کہ خلاء نہیں رہ سکتا خلاء پُر ہوتا ہے۔ لہٰذا دستوری سطح پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں مسلمانانِ پاکستان خصوصاً دین سے محبت کرنے والے اور دین پر عامل افراد عمل درآمد کے لیے دوسرے راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے یا ان کو اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے غلط راستوں اور طریقوں پر ابھارا جاسکے گا۔
2-پاکستان اور افغانستان
(i)روزِ اول سے مخاصمت رہی ہے۔
(ii)بھارت نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
(iii)لہٰذا پاکستان کی مغربی سرحد غیر محفوظ رہی اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی افرادی ومالی وسائل کا بوجھ رہا۔
(iv)روس کا افغانستان پر بالواسطہ تسلط اور بعد ازاں بلاواسطہ قبضہ اور اس کے خلاف جہاد ۔
(v)پاکستان نے امریکہ کی مدد سے اس میں بھرپور کردار ادا کیا۔
(vi)روس کے انخلاء کے بعد جہادی تناظیم کا آپس میں جنگ و جدل کا معاملہ۔
(vii)تحریکِ طالبان افغانستان کا آغاز اور ان کا افغانستان کےکم وبیش 90 فیصد علاقہ پر اسلامی حکومت/نفاذ شریعت۔
(viii) پاکستان کی تاریخ میں مغربی سرحد پہلی مرتبہ محفوظ۔
(ix)پاکستان بشمول سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے فوری طور پر تسلیم کیا۔
(x)مغربی دنیا کی مخالفت کے علی الرغم طالبان حکومت کو سپورٹ کیا۔
(xi) 11/9 کا واقعہ اور امریکہ و اتحادی ملکوں کا افغانستان پر چڑھ دوڑنا۔
(xii)پاکستان کاجلد بازی سے اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننا اور افغان طالبان کی اسلامی حکومت گرانے کا سہرا اپنے سر باندھنا، اسلام اور ہمسائیگی کےاصولوں کے برعکس اورغیر دانشمندانہ فیصلہ
3-امریکہ کے صفِ اول کے اتحادی بننے کے نتائج
(i) امریکہ کی ایما پر پاکستان کی آزادی کے بعدقبائلی علاقوں اور حکومتِ پاکستان کے درمیان انگریز وں کے زمانے سے طے شدہ معاہدات کے برعکس پہلی مرتبہ پُر امن قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں۔
(ii) امریکہ کی جانب سے پاکستان کی حدود کے اندر ڈرون اور فضائیہ کے ذریعے حملے و تباہیوں کا جواب نہ دینا بلکہ مذمت کی بجائے انہیں اپنی کارروائیاں قرار دینا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینا۔
(iii) ان حالات میں قبائلی علاقوں کے غیور اور مسلح عوام کا چار گروہوں میں منقسم ہونا۔
(ا)دین و شریعت سے مخلص عناصر جو بنیادی طور پر طالبانِ افغانستان کے جہاد کی نصرت اور رسد میں مصروف اور فعال تھے ۔
(ب) علاقے میں ظلم و بربادی پر پاکستان کی خاموشی بلکہ امریکہ کی پشت پناہی کے ردِ عمل میں متاثرہ عناصر کا پاکستان اور پاک فوج کے خلاف برسرِ پیکارہونا۔
(ج) امریکی، بھارتی اور افغانی ایجنسیوں کے باقاعدہ اہلکارجن کی پشت پناہی پاکستان میں بھی دہشت گردی کا باعث ہے۔
(د) ان علاقوں کی مسلح تناظیم میں پاکستانی ایجنسیوں کا اثر رسوخ و عمل دخل اور ان میں اپنے افراد بھی داخل کیےگئے ۔
ان میں (ب) (ج) اور (د) کے افراد و اہلکار TTP کے تحت منظم ہوئے ۔
(iv)قبائلی علاقوں میں حالات کی پیچیدگی اور پاکستان کی غیر واضح بلکہ دوہری پالیسی کی وجہ سے اس تاثر کا ابھرناکہ ’’دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے‘‘۔
(v) نتیجتاً پاکستان کے نہ صرف سرحدی بلکہ شہری علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کا بڑھنا و پھیلنا۔
4-افغان طالبان کا دوسرا دورِ حکومت
(i)نائن الیون کے ڈراما کے بعد 7 اکتوبر 2001ء کو امریکہ اور اس کے کم و بیش 40 اتحادی ممالک نے افغانستان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں افغان طالبان نے کابل میں اپنی حکومت چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں میں فوجی حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ۔
(ii)اس دوران ملا عمر ؒکے زیرِ قیادت افغان طالبان نے امریکہ اور نیٹو کی افواج کے خلاف گوریلا جنگ لڑی، جس میں کئی نشیب و فراز آئے۔ بالآخر 15 اگست 2021 ءکو امریکہ ہزیمت ناک شکست کھا کر افغانستان بدر ہوا۔
(iii) 15 اگست 2021ء کو امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کیا اور افغان طالبان کے زیرِ قیادت امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ایک مرتبہ پھر فعال کیا گیا۔
(iv)اس 20 سالہ جہاد میں جہاں پاکستان نے افغان طالبان کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کی اور لاکھوں افغانوں کی شہادت کا ذمہ دار رہا، وہیں افغان طالبان اور اُن کے حمایتیوں کی پشت پناہی بھی کی۔ امریکہ بھی پاکستان پر افغانستان کے معاملے میں ڈبل گیم کرنے کا الزام لگاتا رہا۔
(v)بہرحال ، امارتِ اسلامیہ افغانستان کے دوبارہ قیام کے بعد اس بات کی امید تھی کہ پاکستان کی مغربی سرحد ایک مرتبہ پھر افغان طالبان کے پہلے دورِ حکومت کی طرح محفوظ ہو جائے گی۔
(vi)لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ خود افغانستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں جن میں طالبانِ افغانستان کے اہم ذمہ داران بھی شہید ہوئے۔ مزید براں سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے مابین بننے والی باڑ کو جگہ جگہ سے کاٹ کر پاکستان کی سرزمین میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہیں۔
(vii)اس کے باوجود کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور حکومتِ پاکستان کے مابین مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا، بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔پاکستان سے جید علماء کرام کے کئی وفود بھی افغانستان گئے اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن اس کا بھی کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ مزید براں دوحہ معاہدے میں یہ شق بھی موجود تھی کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کی سرزمین کو دیگر ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا ۔
5- ہمارا مؤقف
(i)دہشت گردی یعنی عوام الناس میں قتل و غارت کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کے قطعاً خلاف ہیں اور اس کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔
(ii)ہم پاکستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف واضح ثبوت کے ساتھ خفیہ نہیں بلکہ کھلی عدالتوں میں قانونی کارروائی اور قانون کے مطابق بیخ کنی کا اہتمام۔
(iii)پاکستان کو موجود حالات تک پہنچانے کے عوامل کا غیر جانبدارانہ جائزہ وتشخیص، زیادتیوں کےازالے اور انہیں دور کرنے کےلیے عملی اقدامات کا اہتمام۔
(iv)ہم دستورِ پاکستان میں اسلامی شقات کو مؤثر بنانے اور ان کے نفاذ کے لیے دعوت، تربیت اور احتجاجی منہج کے قائل ہیں۔
6-حکومتِ پاکستان کو مشورے
(i)افغانستان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کرنا اور ان کے ساتھ تمام سفارتی و تجارتی تعلقات وغیرہ بحال کرنا۔
(ii)اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے ابلیسی اتحاد ثلاثہ کی اسلام دشمنی سے چوکنا رہتےہوئے احادیث مبارکہ میں بیان کئے گئے مستقبل کے خراسان کے کرداراور اسلامی برادری و ہمسائیگی کے حقوق کو پیش نظر رکھ کر افغانستان کے خلاف عسکری کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعہ تعلقات استوارکرنے کی کوشش کرنا۔
(iii)ماضی کی تلخ باتوں کو فراموش کر کے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
(iv)قیادت اور ذمہ داران کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کرنا۔
(v)افغانستا ن میں موجودپاکستان دوست افراد کے ذریعہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
(vi)بھارت اور امریکہ کا واضح گٹھ جوڑ اور پاکستان سے دشمنی اور اس کے خلاف ریشہ دوانیوں کے مؤثر توڑ کے لیے افغانستان کی اسلامی حکومت کے ساتھ عسکری / دفاعی اتحاد کا عملی اہتمام کرنا۔
(vii)امریکہ کی بالفعل غلامی سے نجات اور آزادانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنا۔
(viii) پاکستان میں اسلامی اقداراور رواج کو فروغ دینا۔
(ix)شریعت ِاسلامی کے عملی نفاذ کا اہتمام کرنا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اسلامی فریضہ سرانجام دینا۔
(x)خصوصاً معیشت کو سود سے پاک کرنا اور اسے اسلامی خطوط پر استوار کرنا۔
(xi)فحاشی، عریانی / بے پردگی کا خاتمہ و مخلوط تعلیم و معاشرت پر پابندی۔
(xii) ذرائع ابلاغ / میڈیا اور اجتماعی محافل کو اسلامی اقدار کے تحت لانا۔
درج بالا اقدامات ایک طرف پاکستان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت کا راستہ ہموار کر یں گے تو دوسری جانب افغان طالبان کو بھی مضبوط کرنے نیز پاکستان میں اسلام کے نام پر متشدد یا عسکری منہج اختیار کرنے والوں (مثلاً داعش اور TTP ) کے جواز کے خاتمہ کا باعث ہوں گے ۔
(xiii) مزید براں پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور قبائلی عوام کی حق تلفیوں اورزیادتیوں کا ادراک و اعتراف اور ان کے ازالہ کے لیے اعلانیہ، واضح اور حقیقی اقدامات کا اہتمام کرنا۔ اس سے PTM کے وجود کا جواز ختم ہو سکے گا۔
(xiv) اسی طرز کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے تمام متاثرہ علاقے مثلاًبلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متاثرہ عوام کے احساسِ محرومی کا ازالہ بھی ہوجائے گا اور دشمنان ِ پاکستان کی شورش پھیلانے کی گنجائش ختم ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ!
7-امارتِ اسلامیہ افغانستان کو مشورے
(i)دوحہ معاہدے میں جن شرائط پر دستخط کیے تھے اور اُن پر عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا ،اُن سےپہلو تہی نہ کی جائے۔امارتِ اسلامیہ افغانستان کی سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اگر خود معاہدے کی اِس خلاف ورزی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ مل کر شر پسندوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
(ii)اسلامی برادری اور ہمسائیگی کے حقوق کو پیش نظر رکھ کر پاکستان سے بہتر تعلقات استوارکرنے کی کوشش کرنا۔
(iii)قیادت اور ذمہ داران اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کریں ۔
(iv)اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے ابلیسی اتحادِ ثلاثہ کی اسلام دشمنی سے چوکنا رہاجائے۔
(v)بھارت جیسے اسلام اور مسلمان دشمن ملک کی طرف جھکاؤ سے اجتناب کیا جائے۔
(vi)دہشت گردی میں ملوث افراد اور جتھوں سے اعلانیہ برأت کی پالیسی کو اختیار کیا جائے۔
(vii)ماضی کی تلخ باتوں کو فراموش کر کے وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
(viii) مستقبل کے منظر نامہ میں خراسان کے خطہ کا اہم کردار ہے۔ اِس خطہ کا اصل جوہر افغانستان ہے۔ لیکن جس خراسان کا ذکر احادیث ِ مبارکہ میں آیا ہے اُس میں پورے افغانستان کے ساتھ کچھ حصّہ ایران اور پاکستان کا اور کچھ علاقے ترکمانستان اور اُزبکستان کے بھی شامل ہیں۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان اِن ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔