اداریہ
رضاء الحق
بدلتے عالمی حالات میں مقبوضہ کشمیر کا مستقبل!
بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غاضبانہ قبضہ 79 ویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ بھارت نے روزِ اوّل سے مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا آئٹم ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ وہ کشمیر جو عوام کے اکثریتی فیصلے کے بنابریں پاکستان کا حصّہ بننا تھا، اُسے شاطربھارتی حکمرانوں نے کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ سازباز کرکے ہتھیا لیا۔ اگر قبائلی مجاہدین غیرتِ ایمانی کے ساتھ اپنی جانوں پر کھیل کر وہ حصّہ آزاد نہ کرواتے جو آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے تو سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ پاکستان کا انگریز آرمی چیف گورنر جنرل (قائداعظم) محمد علی جناح کا بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا حکم ماننے سے انکار کر چکا تھا۔ گویا ڈوبتے ہوئے تاجِ برطانیہ نے بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے بلکہ سازش کے تحت کشمیر کے معاملے کو پاکستان اور بھارت کے مابین ایک تنازعہ کی صورت میں برقرار رکھنا مغرب کے مفاد میں جانا۔ پھر یہ ہے کہ اِس سازش میں قادیانیوں کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ غلطیاں اپنوں سے بھی ہوئیں۔ بہرحال تاریخ کے اِس تاریک دریچے میں جھانکنے کی بجائے اِس تحریر میں ہم مستقبل کے ممکنہ خدشات، خطروں اور اندیشوں کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ساتھ میں مقبوضہ کشمیر کو ہندوتوا بھارت سے واگزار کروانے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے مقبول نعرہ کو عملی شکل دینے کے حوالے سے کچھ گزارشات بھی قارئین کے سامنے رکھیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے مذموم عزائم 370 اور 35A کی بحالی سے انکار اور ہندوتوا کے نفاذ (اکھنڈ بھارت کا قیام) سے آگے بڑھ کر خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے ابلیسی مقاصد کو پورا کرنے تک پھیل چکے ہیں۔ اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحادِ ثلاثہ نے بھارت کے ذریعے گزشتہ برس ماہِ مئی میں پاکستان پر زوردار حملہ کیا تھا۔ بھارت کو ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل نے، جس نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، غزہ کے 70 ہزار سے زائد مسلمانوں جن میں اکثریت بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے، کو شہید کر چکا ہے، فلسطینی مسلمانوں کی نسل کُشی پر تُلا ہوا ہے (بھارت دیگرمسلم دشمن پالیسیوں کی طرح نسل کُشی کے معاملے میں بھی اسرائیل کا شاگرد ہے) اور جس کا ناجائزوزیراعظم نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کے توسیعی منصوبہ کو اپنا ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن قرار دیتا ہے، مئی2025ء میں بھارت کے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور میں اپنے فطری اتحادی کو عسکری سازوسامان سمیت ہر نوع کی مدد فراہم کی تھی۔ حملے کے مقاصد جہاں یہ تھے کہ پاکستان کو دھمکی دی جائے کہ غزہ کے معاملے میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے سے باز رہے اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم کرلے،وہیں یہ بھی تھا کہ پاکستان کی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا جائے، جو اسرائیل، امریکہ اور بھارت تینوں کی دیرینہ خواہش ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوئی اور پاکستان نے بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اُس کے پشتی بان بھی انگلیاں دانتوں تلے دبا کر رہ گئے۔ اِس سُبکی کے بعد بھارت دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہوا اور مغربی ممالک و بھارت کے فطری اتحادیوں کا اُس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا پروپیگنڈا بری طرح بے نقاب ہو گیا۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ مودی سرکار کو گھٹنوں کے بَل گر کر ٹرمپ کی منتیں کرنا پڑیں کہ کسی طرح جنگ بندی کروا دی جائے۔
بہرحال، اس فتح پر ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور باطل قوتوں کے خلاف اگلے معرکہ کے لیے ہر طرح کی مکمل تیاری رکھنی چاہیے۔ بھارت اپنے پشتی بانوں کی مکمل معاونت کے ساتھ پاکستان پر سندور2 کے نام سے دوبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
فلسطین کے مسلمانوں پر 7 اکتوبر 2023ء کے بعد جو بیت گئی ہے فلکِ پیر نے ایسی انسان دشمنی کا مظاہرہ کبھی نہ دیکھا ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کی داستان اتنی طویل، اتنی خونچکاں اور اتنی لرزہ دینے والی ہے کہ اسے قرطاس پر منتقل کر دینا عملاً ممکن نہیں ہے۔ جھوٹے نگوں سے مرصع چمکتی دمکتی آنکھوں کو خیرہ کرتی مغربی تہذیب کس طرح مسلمانوں کے خون کے دریا بہا رہی ہے، لیکن اپنے دامن پر چھینٹ نہیں پڑنے دیتی۔ حیرت ہے یہ سب کچھ کر کے اِن خونی درندوں کے معاشرے پھر مہذب اور تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں۔ جس عیاری اور چالاکی کے ساتھ مسلمانوں کو تختۂ مشق بنایا جا رہا ہے، اور اُن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اُس کی جدید تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ پھر یہ کہ ٹرمپ جیسے اداکاروں اور میڈیا کی جادو گری (جس میں سوشل میڈیا سب سے آگے ہے) کے ذریعے ظلم اور تشدد کا ذمہّ دار بھی مسلمانوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے (اِس حوالے سے نوم چومسکی کی کتاب ’’Manufacturing Consent‘‘ اور یون کانگ یانگ کی کتاب ’’Weapons of Mass Deception‘‘ ہر باضمیر فرد کی دل کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں)۔ امریکہ اور اہلِ مغرب (جس میں اسرائیل اور بھارت کو بھی شامل کر لیں) کا اوّلین ہتھیار میڈیا کے ذریعہ جھوٹا پروپیگنڈا کر کے دنیا کو دھوکا دینا ہے۔
عالم اسلام کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان حکمران اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے اور ’’وہن‘‘ کی بیماری کا شکار ہو کر اُن کی ہر ڈکٹیشن کو قبول کر کے اُنہی کے مفادات کو آگے بڑھاتےہیں۔ ماضیٔ قریب میں پاکستانی حکمرانوں کی ہی مثال لے لیجئے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں ڈکٹیٹر مشرف نے چند ٹکوں کے عوض مسئلہ کشمیر بیچ دیا۔ ایک وزیراعظم نے پاک بھارت سرحد کو مٹی میں کھینچی گئی لکیر قرار دیا اور آلو گوشت کے نام پر دوقومی نظریہ پر گویا تیشہ چلا دیا۔ایک اور وزیراعظم جو ’کسی‘ کی انا اور بدلہ کی خواہش میں جیل کاٹ رہے ہیں، نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیا پاکستان سے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کروا دوں؟ اپنوں کا یہ حال ہے تو غیروں نے بھی میڈیا کے ذریعے ایسی فضا قائم کر دی ہے کہ مغرب مسلمانوں کو مار رہا ہے اور پھر بھی مظلوم ہے اور مسلمان مار کھا رہے ہیں اور خون میں نہا رہے ہیں، لیکن پھر بھی ظالم اور دہشت گرد ہیں۔ یہ دشمنوں کی حکمت عملی کا کمال ہے اور میڈیا کی جادوگری ہے کہ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک کے پاس اِس کا حل صرف ایک ہے کہ آپس کے تفرقہ کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہوں اور جہاں بھی مسلمان غیروں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اُس کا جامع حکمت عملی سے اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھ کر سیاسی، معاشی، معاشرتی اور عسکری ہر سطح پر مقابلہ کریں۔
حال ہی میں ٹرمپ نے پہلے ایران پر حملے کی دھمکی دی اور جب دال گلتی ہوئی دکھائی نہ دی تو اب مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ ٹرمپ درحقیقت صہیونیوں کی کٹھ پتلی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ٹرمپ نے پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک کو حصّہ لینے کی دعوت دی تھی، البتہ ایران نے مسلم ممالک سمیت کسی تیسرے ملک کی شمولیت سے معذرت کر لی ہے۔ اللہ خیر ہی کرے!
اِس پس منظر اور 5 فروری کی تاریخی اہمیت کو حکومتِ پنجاب نے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر سے یکجہتی کے دعوے کرنا اور پھر اِنہی مشرک ہندوؤں کا تہوار منانا جو کشمیری مسلمانوں کی نسل کُشی میں ملوث ہیں۔ جو اسلام و مسلم دشمن پالیسیوں میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے شاگرد بھی ہیں اور اُس کے مذموم عزائم میں معاون بھی۔ ایک ایسا مشرکانہ ہندوانہ تہوار جو ہندوؤں کی ثقافت کا لازمی جزو ہے، اُسے حکومتِ پنجاب کی جانب سے ’ملک کا خوشیوں سے بھرا ثقافتی تہوار‘ قرار دینا بے حسی و بے حمیتی کی انتہا ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں شعائر اسلام کے مقابل ہندوؤں کی مشرکانہ ثقافت کی سرکاری سطح پر دن دھاڑے ایسی ترویج و پیروی… کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے! بہرحال دو قومی نظریہ کو سوشل انجینئرنگ کے ایجنڈا کے ذریعے دفن کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ !
اِن حالات میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کی اخلاقی اور عسکری مدد کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہمارا حکومت وریاستِ پاکستان سے سوال ہے کہ کیا وہ اُس ’بورڈ آف پیس‘ کے فورم سے، جس کا پاکستان رکن بن چکا ہے اور جس کی شقوں میں دنیا بھر میں امن قائم کرنا شامل ہے، مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر سے بھارت کو نکال باہر کرنے کا مطالبہ بھی کریں گے؟
آخر میں ہم اِس بات کا اعادہ کرنا لازمی سمجھتے ہیں کہ بیرونی دشمن کو اُس وقت تک دندان شکن جواب نہیں دیا جا سکتا جب تک پاکستان سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے مستحکم نہ ہوجائے اور یہ استحکام نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر کے بغیرحاصل کرنا ممکن نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بن جائے اور اُس کے ثمرات دنیا کے سامنے آجائیں تو بھارت کے لیے ممکن ہی نہیں رہے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی تحریک کو دبا سکے۔ لہٰذا ہمارے لیے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم نظریۂ پاکستان کو عملی تعبیر دیں تاکہ اہلِ کشمیر کوپاکستان کی جانب ایک خصوصی کشش محسوس ہو اور اُن کی پاکستان کا حصّہ بننے کی تحریک اتنی زور آور ہو جائے کہ بھارت کے لیے اُسے روکنا ممکن نہ رہے۔ تب ہی ’’کشمیربنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ حقیقت کا روپ دھارے گا۔ ان شاء اللہ!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026