(الہدیٰ) دنیا میں مشرکین کا انجام - ادارہ

9 /
الہدیٰ
 
دنیا میں مشرکین کا انجام
 
 
 
آیت 42 {قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ ط} ’’(اے نبیﷺ! ان سے) 
             کہیے کہ تم زمین میں گھومو پھرو اور دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو (تم سے) پہلے تھے۔‘‘
{کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّشْرِکِیْنَ(42)}’’ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔‘‘
آیت 43 {فَاَ قِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ} ’’پس اپنے چہرے کو قائم رکھو دین قیم کی طرف‘‘
قبل ازیں آیت 30 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ 
{مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ}’’اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جسے اللہ کی طرف سے کوئی لوٹانے والا نہیں ہو گا‘‘
{یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ(43)}’’جس دن یہ لوگ علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔‘‘
اس دن تمام نسل انسانی ا پنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔
 
درس حدیث
 
عورت کا خوشبو لگا کر غیر محرم مردوں کے پاس سے گزرنا 
 
عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : ((أَیُّمَا امْرَأَۃٍاسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلٰی قَوْمٍ لِیَجِدُوْا رِیْحَھَا فَھِیَ زَانِیَۃٌ)) (رواہ احمد)
ا بُوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو پائیں تو وہ (عورت) بدکار (زانیہ ) ہے۔‘‘
تشریح: یہ حدیث مسلمان خواتین کے لیے بہت اہم پیغام ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ خواتین خوشبو لگا کر باہر نہ جائیں،اس لیے کہ یہ چیز نا محرم کواُن کی جانب تو جہ اور کشش کا باعث بنتی ہے۔ دراصل عورت کا اصل ٹھکانہ اس کا گھر ہے۔ گھر سے اُس کا نکلنا ضرورت کے تحت ہی ہے۔ عورت کو زیبائش کی اجازت ہے، مگر صرف شوہر کی خاطر۔جو عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے، تاکہ لوگ اس کی خوشبو پائیں، وہ شریف عورت  نہیں ہو سکتی، اس لیے اُسے بدکار قرار دیا گیا ہے۔