(گوشۂ تربیت) اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو! - مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

9 /

اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو!


مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت، تنظیم اسلامی

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ  اگلے سال یہ مبارک مہینہ ہماری قسمت میں ہے بھی  یا نہیں ۔لہٰذا ہمیں حالیہ رمضان کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی کوشش کرنی چاہے۔  
اس مہینہ کی اصل اور بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ روزوں کی فرضیت کے لیے اس ماہ کا انتخاب بھی  نزول قرآن کا مہینہ ہونے ہی کہ وجہ سے ہوا۔ تراویح کی اہمیت بھی قرآن ہی کی وجہ سے ہے، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے نوعِ انسانی کو ملنے والی بے شمار نعمتوں  میں سے سب  سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے۔ 
یہ مہینہ قرآن کریم کے مطالعہ، تدبر اور عمل کے لیے سب سے زیادہ بابرکت اور قیمتی زمانہ ہے۔ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ،بلکہ رب کائنات کا مکمل پیغام، ہدایت، روشنی، راستہ اور انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے ایک جامع اور زندہ دستور ہے۔ اس کی اصل برکت ،حقیقت اور تاثیر انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اسے سمجھ کر پڑھتے ہیں، اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہیں اور اپنی عملی زندگی کو اس کے سانچے میں ڈھالتے ہیں۔
رمضان المبارک کی عبادات ایک ایسا سلسلہ ریاضت ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے انسان اپنے نفس کی شرارتوں اور شیطانی ترغیبات سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے تقویٰ کی دولت حاصل ہوجاتی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اوامرو نواہی پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور نتیجتاً آئندہ کی زندگی سنور جاتی ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب رمضان المبارک کو اس کی حقیقی روح کے مطابق بسر کیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:جس نے رمضان  کے روزے  رکھے ، اس کی حدود کو پہچانا اور جن چیزوں  سے بچنا ضروری تھا، ان سے بچا تو اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘ (ابن حیان)
      رفقاء تنظیم اسلامی سے گزارش ہے کہ رمضان المبارک میں درج ذیل امور سے اجتناب کیجئے جو رمضان کی برکات کو ضائع کرنے والے ہیں۔ 
1۔ جھوٹ ، غیبت اور چغلی وغیرہ:نبی اکرمﷺ کا فرمان   ہے کہ’’جس نے روزہ میں جھوٹ بولنا  چھوڑا تو   اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو کوئی حاجت نہیں کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑدے۔‘‘(ترمذی)
2۔دوسروں سے جھگڑنا:رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہے، ہمیں کھانے پینے پر صبر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مزاج کو بھی صبر کا عادی بنانا ہے۔ حضور اکرمﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:’’ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ بیہودہ بات کرے اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی دوسرا اسے گالی دے یا اس سے لڑنے کی کوشش کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔‘‘
3۔ سحری و افطار میں اسراف:سحری اور افطار میں خوب ڈٹ کر کھانے سے پرہیز کریں۔ رمضان المبارک کم کھانے کا مہینہ ہے تاکہ انسان کا نفس کمزور ہو کر اس کا مطیع ہو جائے۔
4۔ لغو باتوں سے لطف اندوز ہونا:حضرت علی ؓ کا فرمانِ مبارک ہے کہ روزہ صرف اسی کا نام نہیں کہ انسان کھانے پینے سے رکا رہے بلکہ روزہ جھوٹ، فضول اور لغو (لایعنی )کاموں سے بھی بچنے کا نام ہے۔ افسوس ہے کہ ہم روزہ بہلانے یا گزارنے کے لیے بہت سے لغو کاموں  لوڈو، کیرم بورڈ یا تاش وغیرہ میں مشغول ہو جاتے ہیں، یہ ایک طرح سے روزے کی توہین ہے۔
بے پردگی اور بد نظری
قرآن مجید میں پردہ اور نظروں کو جھکا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر روزہ رکھ کر انسان بے پردگی اور بد نظری سے نہ بچے تو اس کا یہ عمل اسے اجر و ثواب سے محروم کر سکتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بد نظری کرنے والے پر اور اس عورت پر جو اپنے آپ کو بد نظری کے لیے پیش کرے، دونوں پر اللہ کی لعنت فرمائی ہے۔
اسی طرح رمضان المبارک کو بابرکت بنانے کے لیے درج ذیل امور پر زیادہ سے زیادہ عمل پیرا ہونے کی کوشش کیجیے:
(i)قرآنِ حکیم سے تعلق:
اس رمضان المبارک میں جب آپ قرآن کریم کی تلاوت کا آغاز کریں تو اپنے ذہن سے یہ خیال بالکل نکال دیں کہ اس مہینے میں ایک دو یا تین کون مجید ختم کرنا آپ کا ہدف ہے۔ اپنی پوری توجہ اس بات پر مرکوز رکھیں کہ آپ قرآن سمجھیں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور ان آیات کے پیغام کو دل میں اتاریں۔
جو وقت عموماً قرآن کو جلدی جلدی ختم کرنے میں صرف کیا جاتا ہے، وہی وقت دیا جتنا آپ کے لیے ممکن ہو سمجھنے، سوچنے اور غور کرنے پر لگا دیں۔ اس مقصد کے لیے رات کو قریبی دوزخ ترجمہ قرآن میں بھی ضرور شرکت کریں۔ اس راستے پر چلنے سے نہ صرف اجر و ثواب میں اضافہ ہوگا بلکہ ایمان بھی مضبوط ہوگا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ تعلق گہرا اور پائیدار بنے گا اور زندگی میں معنویت، روشنی اور حقیقی زینت پیداہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ  سے روایت ہے کہ  نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: ’’روزہ اور قرآن دونوں بندہ کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! میں نے دن میں اس کو کھانے اور پینے سے روکے رکھا ، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما اور قرآن کہے گا میں نے اس کو رات میں سونے سے روکے رکھا پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ پس ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ 
(ii)اس رمضان کو گزشتہ رمضانوں سے ممتاز کریں، مثلاً:
• تیسواں پارہ زبانی یاد کر لیں۔
• سورۃ یٰسین، سورۃ الرحمن، سورۃ الواقعہ، سورۃ الکہف یا سورۃ الملک زبانی یاد کر لیں۔
• منتخب نصاب نمبر (۱) زبانی یاد کر لیں۔
• رشتہ داروں، دوست احباب وغیرہ سے رنجشیں دور کر لیں، قطع رحمی ختم کریں، ان سے معافی تلافی کر لیں اور اپنا دل صاف کر لیں۔
(iii)اللہ کی راہ میں خرچ:انفاقِ مال تقویٰ و تزکیۂ نفس کا ذریعہ ہے۔ رمضان میں اس کا اجر کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
(iv) روزہ افطار کرانا:احادیث میں روزہ افطار کروانے والے کو روزے دار کے اجر کے برابر اجر سنایا گیا ہے، یہاں تک کہ یہ اجر وہ بھی پا سکتا ہے جو لسی یا پانی کے ایک گھونٹ پر کسی کو روزہ افطار کرا دے۔ لہٰذا قریبی رشتہ داروں اور احباب کو افطار پر بلاکر روزہ افطار ہونے سے پہلے فہم دین کی مختصر دعوت کا اہتمام کرلیں۔
(v) اعتکاف:رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف نبی اکرم ﷺ کی مستقل سنت ہے۔ یہاں تک کہ ایک سال کسی سبب آپﷺ اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال دو عشروں کا اعتکاف فرمایا۔ اعتکاف میں شبِ قدر کی فضیلت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
(vi) لیلۃ القدر کی تلاش:حضور اکرمﷺ کا حکم ہے کہ شبِ قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔ دیگر روایت میں آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کی تاکید ہے۔
(vii) تراویح اور تہجد: دن میں روزہ رکھ کر اپنے نفس کو کمزور اور رات کو قرآنِ کریم پڑھ کر اپنی روح کو طاقتور بناتا ہے۔ یہ عمل انسان کی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ رمضان میں نوافل کا اجر فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے، لہٰذا تراویح، تہجد اور دیگر نوافل کا ضرور اہتمام کیجیے۔
(viii)اخلاصِ نیت: ہر کام اللہ کی رضا اور آخرت کی نجات کے لیے سرانجام دینے کے لیے مسلسل اپنی نیت کو ٹٹولتے رہیں کہ کہیں اس میں دکھاوا یا ریاکاری تو شامل نہیں ہو گئی۔ خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ہماری تمام عبادات ضائع ہو جائیں گی۔
رفقاء گرامی! رمضان مغفرت، معافی اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ ہماری حالیہ رمضان کے بعد والی زندگی،  ہماری رمضان سے پہلے والی زندگی سے بہتر ہونی چاہیے۔ ہمیں محسوس ہو کہ رمضان کے بعد ہمارے اندر بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور ہم ارکانِ اسلام کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی اور حلال و حرام میں پہلے کی نسبت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ دعوت و تبلیغ، اقامت ِ دین کی جدوجہد اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہم نے پہلے سے زیادہ وقت نکالنا شروع کر دیا ہے۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے والدین، اولاد اور رشتہ داروں کے علاوہ اپنے دوست احباب، نظمِ زیرِیں اور نظمِ بالا کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں ہمت دے کہ ہم اس مبارک مہینہ میں روزہ اور قرآن کے حقوق صحیح طریقے سے ادا کر سکیں۔ اے اللہ! اس ماہ میں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے ہمارے آنگن بھردے ۔ آمین یا ذوالجلال والاکرام