اسلامی ملک اور حالیہ بم دھماکے: اصل مسئلہ کہاں ہے؟
ڈاکٹرضمیر اخترخان
اسلام آباد میں حالیہ بم دھماکوں نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات محض سکیورٹی نوعیت کے نہیں بلکہ نظریاتی، اخلاقی اور ریاستی سمت سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے کسی ایک ادارے، شہر یا فرد پر حملہ نہیں بلکہ ریاست کی اساس، اس کے نظریے اور عوام کے حوصلے پر براہِ راست وار ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ ہم مزید کتنی سختی کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس بنیاد پر سختی کریں؟اسلامی اسٹیٹ اور محض ہارڈ اسٹیٹ کے فرق کو یہی مقام واضح کرتا ہے۔ اسلامی ریاست میں دہشت گردی صرف قانون شکنی نہیں بلکہ فساد فی الارض ہے، جس کے بارے میں قرآن واضح اعلان کرتا ہے:
{اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا} (المائدہ:33) ’’یہی ہے سزا اُن لوگوں کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ اور اُس کے رسول سے اور زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔‘‘
حالیہ بم دھماکے اسی فساد کا تسلسل ہیں، جن کے پیچھے وہی عناصر سرگرم ہیں جو پاکستان کو نظریاتی طور پر کمزور، معاشی طور پر مفلوج اور داخلی طور پر تقسیم دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں سرگرم پاکستان مخالف گروہ، بھارتی خفیہ نیٹ ورکس، اور بعض علاقائی و بین الاقوامی مفادات —یہ سب اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔اسلامی اسٹیٹ کا امتیاز یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کو صرف بندوق سے نہیں بلکہ فکر، نظام اور عدل سے ختم کرتی ہے۔ محض ہارڈ اسٹیٹ وقتی خوف تو پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن نہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست:
o عدلِ اجتماعی کے ذریعے محرومیوں کا خاتمہ کرتی ہے
o واضح دشمن اور واضح دوست کی پہچان رکھتی ہے
o ریاستی رٹ کو اخلاقی جواز کے ساتھ نافذ کرتی ہے
o اور سب سے بڑھ کر، تشدد کو نظریاتی طور پر ناجائز ثابت کرتی ہے۔
حالیہ بم دھماکوں کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا، ریاست پر عدم اعتماد پیدا کرنا اور سکیورٹی اداروں کو دباؤ میں لانا ہے۔ لیکن اسلامی ریاست میں ریاست اور عوام کا رشتہ خوف پر نہیں بلکہ اعتماد اور امانت پر قائم ہوتا ہے۔ جب عوام یہ جان لیں کہ ریاست انصاف کے ساتھ کھڑی ہے تو دہشت گرد اپنی سب سے بڑی طاقت—خوف—کھو بیٹھتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کو فیصلہ کن طور پر یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ردِعمل کی ریاست بنیں گے یا نظریاتی ریاست؟
اسلامی اسٹیٹ کا تقاضا ہے کہ حالیہ بم دھماکوں کو محض “سکیورٹی بریک ڈاؤن” نہ کہا جائے بلکہ انہیں اعلانِ جنگ سمجھا جائے—ایسے دشمن کی جانب سے جو نہ پاکستان کے وجود کو مانتا ہے، نہ اس کے نظریے کو۔اسی لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ:
o دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایمان، قانون اور ریاست تینوں کی جنگ بنایا جائے
o بیرونی آقاؤں، نام نہاد ثالثوں اور دوغلی پالیسیوں سے مکمل لاتعلقی اختیار کی جائے
o اور ملی بیانیہ واضح کیا جائے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس میں فساد کی کوئی گنجائش نہیں
o اسلامی ریاست کی کم سے کم چاربنیادوں کو مستحکم کیا جائے جو کہ سورۃالحج کی درج ذیل آیت میں بیان ہوئی ہیں:
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(41)} ’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن ّعطا کر دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔‘‘
حالیہ بم دھماکے ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر ریاست نے اپنی سمت درست نہ کی تو دشمن حملے کرتا رہے گا۔ لیکن اگر ریاست اسلامی اصولوں پر مضبوطی سے کھڑی ہو گئی تونہ بم ہمارے حوصلے توڑ سکیں گےنہ سازشیں ہمیں تقسیم کر سکیں گی کیونکہ طاقت جب ایمان سے جڑ جائے تو ریاست نہیں، قلعہ بن جاتی ہے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا ایک تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں محض عسکری، معاشی یا سفارتی طاقت کسی ریاست کی بقا کی ضمانت نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہی ریاستیں دیرپا استحکام حاصل کرتی ہیں جو طاقت کو اخلاق، عدل اور اصولوں کے تابع رکھتی ہیں۔ اسلام ایک ایسا ہمہ گیر نظامِ حیات پیش کرتا ہے جو ریاست کو صرف طاقتور نہیں بلکہ عادل، باوقار اور جواب دہ بناتا ہے۔ یہی اسلامی اسٹیٹ کا جوہر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بدلتے عالمی نظام میں جس تدبر، توازن اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ محض اسٹرٹیجک ذہانت نہیں بلکہ اسلامی اصولِ حکمت (Wisdom)، مصلحت اور قومی مفاد کے امتزاج کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے ساتھ بیک وقت تعلقات کا قیام دراصل اسی قرآنی اصول کی عملی صورت ہے:
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا } (البقرہ:143) ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے۔‘‘
اسلامی اسٹیٹ کی بنیاد توازن، عدل اور ذمہ دارانہ قیادت پر ہوتی ہے، نہ کہ اندھی طاقت یا جبر پر۔
دنیا میں جب واحد سپر پاور اپنی عالمی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے تو درمیانی قوتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض عسکری قوت کے بجائے اخلاقی اقتدار (Moral Authority) قائم کریں۔ پاکستان نے اسی سمت قدم بڑھایا۔ داخلی و خارجی دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اس لیے کامیاب ہوئی کہ اس کے پیچھے ریاست کی اخلاقی برتری اور حق پر مبنی مؤقف موجود تھا۔ اسلامی ریاست میں طاقت کا استعمال آخری راستہ ہوتا ہے، مقصد نہیں۔
مئی 2025ء کے واقعات ہوں یا دشمن کی آبی جارحیت، افغانستان کے ذریعے عدم استحکام کی کوششیں ہوں یا بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی سرپرستی—یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کو محض سخت نہیں بلکہ اصولی ہونا تھا۔ اسلامی اسٹیٹ دشمن کو طاقت سے نہیں، بلکہ حق، عدل اور استقلال سے شکست دیتی ہے۔
اسلامی ریاست کا تصور ہمیں سکھاتا ہے کہ دوستی اور دشمنی کا معیار وقتی مفاد نہیں بلکہ اصول ہوتے ہیں۔ قرآن واضح رہنمائی دیتا ہے کہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہا جائے جو بظاہر خیرخواہی اور تعریف کے پردے میں نفاق، انتشار اور کمزوری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں جذبات کے بجائے بصیرت اور ایمان کے ساتھ فیصلے ناگزیر ہیں۔
سی پیک، گوادر اور خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کے خلاف ہونے والی سازشیں دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک خودمختار، نظریاتی اور باوقار اسلامی ریاست بعض طاقتوں کے مفادات کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ لیکن اسلامی ریاست کا اعتماد اس کے وسائل میں نہیں بلکہ اس کے مقصد میں ہوتا ہے۔
اسلامی اسٹیٹ کا ہدف محض دشمن کو زیر کرنا نہیں بلکہ اپنے عوام کو عدل، تحفظ اور وقار فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف اپنا دفاع جانتی ہے بلکہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔
آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ طاقت اگر روح سے خالی ہو تو وہ جبر بن جاتی ہے، اور اگر روحِ ایمان سے جڑی ہو تو وہ عدل بن جاتی ہے:
چھوڑ یورپ کے لیے رقص بدن کے خم و پیچروح کے رقص میں ہے ضربِ کلیمؑ اللہ!پاکستان کی اصل منزل ایک ایسی اسلامی ریاست ہے جو طاقت کو عبادت، سیاست کو امانت اور قیادت کو جواب دہی سمجھے۔ یہی راستہ پائیدار کامیابی اور حقیقی خودمختاری کی ضمانت ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026