(ماہِ صیام) رمضان کو کیسے قیمتی بنائیں؟ - فرید اللہ مروت

9 /

رمضان کو کیسے قیمتی بنائیں؟

فرید اللہ مروت

ہر چیز کی تیاری اس کے آنے سے پہلے ہوتی ہے۔ مثلاً مہمان کی آمد ہو تو اس کے آنے کے بعد نہیں، آنے سے پہلے تیاری ہوتی ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک بھی بہت ہی معزز مہمان ہے، اس کی قدردانی کے لیے پہلے سے مکمل تیاری اور منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔
دنیا میں مالی تجارتِ کو فروغ دینے کے لیے تاجروں نے کچھ ایام مخصوص کر رکھے ہوتے ہیں۔ جبکہ  رب تعالیٰ نے ایمانی تجارت کو فروغ دینے کے لیے کچھ ایام مختص کیے ہوئے ہیں۔ سب سے عظیم اور بابرکت ایام رمضان المبارک کے ہیں۔رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی حالت میں ماہِ رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونا نصیب فرما ئے۔ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک سے پہلے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے: ’’تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اس کے لیے تیاری کرو۔‘‘(کنزا لعمال)
ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:’’رمضان المبارک کی پہلی رات میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا، اور ایک منادی صدا لگاتا ہے:’’اے خیر کے طالب! متوجہ ہو جا اور اے شر کے طالب باز آجا۔‘‘ (ترمذی)
اس مختصر کالم میںکچھ اعمال کا ذکر مقصود ہے کہ ہم رمضان المبارک سے فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں، اس کی بابرکت گھڑیوں میں ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو کیسے سمیٹ سکتے ہیں؟ اس مبارک مہینے میں اپنے گناہوں کو معاف کروا کر جنت کے حق دار کیسے بن سکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ اعمال کا تذکرہ کرتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم حقیقی طور پر رمضان المبارک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:
(1)اخلاص
رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کو صرف وہی شخص سمیٹ سکتا ہے جو روزہ رکھنے، تراویح پڑھنے، قرآن کریم کی تلاوت کرنے، صدقہ و خیرات کرنے اور دیگر تمام فرضی و نفلی عبادات کرنے میں مقصود و مطلوب صرف اور صرف رضائے الٰہی کو رکھے۔ ہر حال میں نیت کی درستی اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو مدنظر رکھے۔ 
رسول مکرم ﷺ نے فرمایا:’’اعمال (کی قبولیت)  کا دارومدار نیتوں پر ہی ہے۔‘‘(بخاری)
(2)دلوں کی صفائی
رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دلوں کو پاک صاف کر لیں۔ دل کے اندر حسد، بغض، کینہ، نفرت، تعصب اور عداوت نہیں ہونی چاہیے۔ جب تک دل میں یہ غلیظ بیماریاں رہیں گی تب تک دل میں نیکی، تقویٰ اور خلوص کا نور نہیں سما سکے گا۔ ہر کام برکت سے خالی رہے گا۔ 
صحابی ٔرسول ﷺ حضرت سعد ؓ  30سال  کی عمر میں مسلمان ہوئے اور36 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات پر جبرائیل ؑ تشریف لائے اور اللہ کے نبی ﷺ کو یہ خبر سنائی کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہے،  اس کی روح کے استقبال کے لیے عرش جھوم اُٹھا ہے۔ ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں آسمانوں سے زمین پر اترے۔ ان تین عظیم الشان فضائل کے اسباب بھی حضرت سعد ؓ کےتین اعمال تھے۔ ایک صحابی ؓ نے جب حضرت سعد ؓسےپوچھا تھا تو انہوں نے تین اعمال بتلائے تھے:
(1)’’میں نے کسی بھی مسلمان کے متعلق دل میں کینہ  نہیں رکھا۔‘‘
(2)’’اور نہ ہی میرے دل میں(کسی کے بارے میں) کوئی گرہ اور کھوٹ ہے۔‘‘
(3)’’میں نے کسی بندے سے ایسی کسی بھی چیز پر حسد نہیں کیا جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہو۔‘‘(الترغیب و الترہیب)
(3)گناہوں سے توبہ
رمضان المبارک میں کرنے والے اہم ترین کاموں میں سے ایک ’’ترکِ منکرات‘‘ ہے، یعنی ہر قسم کے ظاہری و باطنی گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ رمضان المبارک سے فائدہ اُٹھانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے پکی اور سچی توبہ کریں۔ اگر ہم گناہوں میں لت پت رمضان المبارک میں داخل ہوں گے تو ہم سے رمضان کے عبادات ٹھیک سے نہیں ہو پائیں گے۔ رمضان سے پہلے اپنے سروں پر لادی ہوئی گناہوں کی گٹھڑی اُتارپھینکیں، یعنی توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ تعالیٰ سے پکی سچی توبہ کرو ممکن ہے کہ تمہارا رب تم سےتمہاری برائیوں کو دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔‘‘(التحریم:8)
فیصل بن عیاض ؒ فرمایا کرتے تھے: ’’گناہوں کو چھوڑے بغیر توبہ کرنا، جھوٹے لوگوں کی توبہ ہوتی ہے۔‘‘(احیاء علوم الدین:313/ 1)
ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ رمضان المبارک سے پہلے پہلے گناہوں کا بوجھ ہلکا کر کے رمضان میں داخل ہو تاکہ اپنے نفس کا مقابلہ ٹھیک سے کر سکے اور عبادتِ رب اچھے طریقے سے کر سکے۔
(4)فضولیات اور لغویات سے اجتناب
رمضان المبارک کی قدردانی کے لیے صرف گناہوں سے نہیں بلکہ فضول ِ اور لغو کاموں اور باتوں سے بچنا بھی ضروری ہے۔ یعنی وہ کام جس کا دینی و دنیاوی کوئی فائدہ نہ ہو لیکن ہم ایسے کاموں کی وجہ سے اپنے قیمتی وقت کو برباد کرتے ہیں جو خسارے اور نقصان کا باعث ہیں۔ 
رمضان میں فضول کاموں کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ وقت عبادات کے لیے نکالیں۔ مثلاً اخبار بینی، ڈائجسٹ، میگزین، ناول، افسانے پڑھنے میں غرق رہنا۔ شعر و شاعری، ٹی وی، انٹرنیٹ میں مصروف رہنا، موبائل پر کی جانے والی فضول چیٹنگ ، آئوٹنگ کے نام پر پکنک، تفریحات ، دوستوں کے ساتھ رات دیر تک گپ شپ یا گلیوں میں کرکٹ کھیلنا، ہوٹلوں میں کھانا پینا، ان کاموں سے رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بچنا چاہیےا ور یہی وقت زیادہ سے زیادہ نیک اعمال میں صرف کرنا چاہیے۔ 
(5)تنظیم ِاوقات
رمضان المبارک سے فائدہ لینے کے لیے اوقات کی پلانگ بہت ضروری ہے۔ سحری کے لیے کب اٹھنا ہے؟ اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کے لیے سحری کے وقت تہجد، تسبیحات ، دعائوں کا اہتمام کرنا،پھر یہ کہ اشراق، چاشت، اوابین کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔ فرض و نفل نمازوں کا اہتمام، تراویح کا اہتمام افطاری کا اہتمام، سونا، جاگنا، ان تمام کاموں کا خوب ذوق و شوق اور رغبت و سبقت کے ساتھ اہتمام کر کے ہم رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ کار آمد بنا سکتے ہیں اور قیمتی لمحات کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ 
اپنے اسلاف کی طرح وقت کی قدر کیجئے اور اسے غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قیمتی بنائیے۔ 
(6)زبان، کان اور آنکھ کا جائز استعمال
رمضان المبارک سےہم تب ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب پیٹ کے روزے کے ساتھ ساتھ اپنی زبان، کانوں اور آنکھوں کا بھی روزہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جس نے بے ہودہ باتوں اور بے ہودہ کاموں سے اجتناب نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو ان کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘(صحیح بخاری)
اپنی زبان کو جھوٹ سے، غیبت سے، فحش گفتگو سے بچا ئیں۔ اپنی آنکھوں کو بدنظری سے، اپنے کانوں کو ناجائز باتوں اور سازوموسیقی سے دور رکھیں۔ تب ہی روزہ فائدہ مند ہو سکتا ہے، ورنہ سارا دن بھوکے پیاسے رہنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔
(7)تلاوت قرآن مجید
رمضان المبارک نزول قرآن کریم کے سالانہ جشن کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ کا تعارف ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہی کرایا ہے۔ فرمایا:’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔‘‘(البقرۃ:185) اس لیے اس مہینہ کی قرآن کریم کے ساتھ گہری مناسبت پائی جاتی ہے۔ اسی مہینہ میں سب سے زیادہ قرآن پڑھا جاتا ہے۔ 
نبی کریم ﷺ بھی رمضان میں جبرائیل امین ؑ کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے۔(بخاری)
سلف صالحین کا بھی اس مہینے میں کثرت سے قرآن کریم پڑھنے کا معمول رہا ہے۔
٭ امام شافعی ؒرمضان میں60 مرتبہ قرآن ختم کیا کرتے تھے۔(سیر اعلام النبلاء: /10 30)
٭ امام مالک ؒ رمضان میں حدیث کی کلاس نہیں لگاتے تھے۔ فرماتے: یہ قرآن کا مہینہ ہے مجھے بس قرآن پڑھنے دو۔(سیر اعلام النبلاء: /4 51)
ہمیں بھی اس ماہِ مقدس میں زیادہ سے زیادہ اوقات قرآن کریم کی تلاوت کے لیے فارغ کرنے چاہیے اور جب بھی فارغ وقت میسر آئے تو کلام اللہ کو پڑھنے میں مشغول ہو جائیں۔ 
(8) زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات کی کثرت
رمضان المبارک کو فائدہ مند بنانے کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام کریں ۔ فرض زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات و خیرات کا بھی رمضان المبارک میں خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ سید نا ابن عباسh بیان کرتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ ﷺتمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک کے مہینے میں تو آپؐ سخاوت میں اوربھی بڑھ جاتے تھے۔‘‘(بخاری)
ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلائو اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔‘‘(مسند احمد)
صدقہ صرف جسمانی و قلبی بیماریوں کا ہی علاج نہیں ہے بلکہ معاشرتی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔
(9) رمضان المبارک میں بازاروں سے پرہیز
رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے اپنی تمام تر شاپنگ اور خریداری شعبان کے مہینے میں پوری کریں۔ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو شاپنگ مال اور مارکیٹ کی نذر کرنا، جس کی وجہ سے روزہ، نماز، تراویح متاثر ہوتی ہو اور مبارک اور عظیم راتیں بازاروں میں گزارنی پڑ جائیں، نقصان کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ رمضان جیسے عظیم مہینے کی سخت نا قدری ہے جس میں عوام و خواص مبتلا نظر آتے ہیں۔ لہٰذا اس کوتاہی سے بچنے کے لیے گھر کا راشن اور دیگر سودا سلف رمضان سے پہلے خرید لیں۔
(10)دنیوی مصروفیات کو محدود رکھیں
خود کو رمضان سے پہلے ہر اس کام سے فارغ کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے جو کرنا ضروری نہیں یا کم ازکم رمضان میں ضروری نہیں۔ مثلاً گھر کی تعمیر و مرمت وغیرہ کی مصروفیات کو نہ چھیڑا جائے۔ کاروباری مصروفیات کو حتی الوسع محدود اور مختصر کیاجائے۔ سال بھر میں دفتر اور ملازمت سے ملنے والی ایسی چھٹیاں جو آپ کا استحقاق ہے رمضان میں استعمال کرنے کی کوشش کریں، تاکہ خوب یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور رجوع الی اللہ کیا جا سکے۔ آخری عشرہ میں خود کو فارغ کر کے مکمل دس دن یا کم ازکم کچھ ہی دن اعتکاف کا ارادہ کر لیں۔ شب ِقدر جیسی عظیم اور بابرکت رات کو پانے کا مضبوط ارادہ اورکوشش کریں۔
(11)اہداف کا تعین
رمضان المبارک کےمہینے میں اپنے لیے کچھ اہداف اور ٹارگٹ مقرر کر لینے چاہئیں۔ مثلاً :
(1) تراویح اور دورئہ ترجمہ قرآن میں شرکت کرنا۔ 
(2) دوست احباب کو بھی نماز تراویح میں لے کر جانا۔
(3) پورا مہینہ تکبیر اولیٰ اور پہلی صف میں نمازِ با جماعت   کا اہتمام۔
(4) ایک سے زیادہ مرتبہ قرآن کو ختم کرنا۔
(5) فرائض کے ساتھ نفل نمازوں کی ادائیگی کا بھی اہتمام کرنا۔
(6) صدقہ و خیرات کی کثرت کرنا۔
(7) ہر قسم کے گناہ اور بری عادتوں کو چھوڑ نے کا ارادہ اور اُس کی کوشش کرنا۔
(8) دعائوں کا خوب اہتمام کرنا۔
(9) چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کام کاج کے دوران اپنی زبان کو اللہ کے ذکر اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے سے تر رکھنا۔ 
(10) روزہ رکھ کر فضول کاموں یا فارغ بیٹھ کر وقت کے ضیاع سے بچنا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں رمضان المبارک کی قدر کرنے،زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!