ایپسٹین فائلز نے مغرب کا اصل شیطانی چہرہ سب کے سامنے بے
نقاب کر دیا ہے اور یہ بھی دکھا دیا ہے کہ صہیونی اپنے مقاصد کو
حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں: رضاء الحق
ایپسٹین فائلز درحقیقت طاقت کی کہانی ہے جس کے ذریعے سیاست،
معیشت اور پھر معاشرت کو کنٹرول کیاگیا: ڈاکٹر محمد عارف صدیقی
جیفری ایپسٹین : مغرب کے شیطانی چہرے کا ایک مظہر
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد کلیم قادر
سوال:ایپسٹین فائلزکی کم و بیش30 لاکھ سے زائد فائلز پر مشتمل ڈیٹا اب تک منظر عام پر آ چکا ہے۔ یہ جو تصاویر، ڈاکومنٹس اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
رضاء الحق : ایپسٹین فائلز کا براہِ راست تعلق شیطان اور شیطان کی پوجا کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ بنیادی طور جیفری ایپسٹین پر اس کے کرتوت پہلی مرتبہ 1990ء کی دہائی میں سامنے آئے، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایپسٹین کی کچھ ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔ ایپسٹین کا پورا نیٹ ورک دو چیزوں کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ بنیادی طور پر ایپسٹین ایک فائنینسیر تھا۔ یعنی یہ لوگوں کو رقوم بھی دیتا تھااور سیاسی لابنگ بھی کرتا تھا۔ پھر یہ کہ جو نئی ٹیکنالوجی سامنے آتی اُس میں یہ اپنا حصّہ ضرور ڈالتا تھا حتیٰ کہ بِٹ کوائن کا جب آغاز ہوا تو اس کے بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک تھا۔ میرے خیال میں اِس بات پر بھی آئندہ ایک بہت بڑا دھماکہ ہونے والا ہے کیونکہ کرپٹو کرنسی کے فروغ میں اِس بدبخت کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ گھنائونا اور بہیمانہ کام اس کا یہ تھاکہ یہ نوعمر بچیاں سیکس کے لیے مہیا کرتا تھا۔ امریکہ میں بھی اور دیگر ممالک میں بھی۔ کچھ مسلم ممالک کے حکمرانوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے کوئی فیصلہ صادر کرنا ابھی ناممکن ہے۔ بہرحال ایپسٹین اور اس کا گروپ نو عمر بچیوں کو ورغلاتے اور اُن کی سمگلنگ کرتے تھے۔ پھر ان کی گرومنگ کرتے تھے۔ اور اُنہی بچیوں میں سے کچھ کو اُن لوگوں کے ہاتھ بیچ دیتے تھے جو اس طرح کی شیطانی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایپسٹین بنیادی طور پر بروکلن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا تھا اور اس کے بارے میں کہا یہ جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر یہ موساد کا یعنی اسرائیل کا ایک جاسوس تھا۔ ایپسٹین فائلز کی تعداد 60 لاکھ بتائی جاتی ہے جن میں سے 30 لاکھ فائلز تو سامنے آ چکی ہیں۔ اس میں تین ہزار کے قریب ویڈیوز ہیں، ٹریول لاگز، ہوٹل کی بکنگز ، لیگل اور کورٹ ڈاکومنٹس، تصاویر اور کُل ملا کر اِسی طرح کا 300 جی بی پر مبنی ڈیٹا ایف بی آئی اور امریکی محکمہ انصاف نے جاری کیا ہے۔ جس کے باعث دنیا کی کئی اہم شخصیات مصیبت میں پھنس چکی ہیں۔ برطانیہ کا وزیراعظم بھی اِس کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ اس کے قریبی ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ پھر یواے ای کی ایک شہزادی نے خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے، خاص طور پر غلاف کا وہ حصّہ جو خانہ کعبہ کے دروازے پر ہوتا ہے اور جہاں پر قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں، اگرچہ اُس کے ٹکڑے ساری دنیا کو بھیجے جاتے ہیں، لیکن اِس بدبخت کو اِس کے کرتوت ظاہر ہونے کے باوجود دو ٹکڑے تحفے میں دیئے گئے۔ یو اے ای کا اس وقت جو تعلق اسرائیل کے ساتھ بن چکا ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے شروع کریں، برطانیہ کے شاہی خاندان کو دیکھیں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی اہم شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے مالکان کی بات کریں، یہ سب کسی نہ کسی طرح اِس کی شیطانی و دجالی سرگرمیوں میں شراکت دار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تصاویر بھی ہیں، ان کی ویڈیوز بھی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ایسی ویڈیو بھی موجود ہے جس میں وہ ایپسٹین کے نیٹ ورک کی ایک نائیکہ کو چھوٹی بچیوں کو خریدنے کے لیے چیک دے رہا ہے۔ انہی کم عمر بچیوں کی گرومنگ کی جاتی تھی۔ اور وہ آگے چل کے مزید اہم شخصیات جس میں سیاستدان اور دیگر اہم عہدہ داران بھی ہیں، فلم اور موسیقی کی انڈسٹری کے بڑے نام بھی موجود ہیں، سب کو اپنے جال میں پھنساتا تھا۔ اگر آپ اس کا تجزیہ کریں تو بات یہ سامنے آتی ہے کہ یہ ایک ایسا باقاعدہ نیٹ ورک تھا جو دو چیزوں پر کھڑا ہوا تھا: پیسہ اور پیسے کے ساتھ انڈر ایج سیکس کے ذریعے ان اہم شخصیات کو بلیک میل کرنا۔ اُن کے ذریعے اپنے کام نکلوانا اور یہ پھر سرکل بڑھتا گیا۔ 2005ء میں اِس کے خلاف انکوائری ہوئی کہ اِس نے ایک خاتون کی انتہائی کم عمر بہنوں کی برہنہ تصاویر بنا رکھی ہیں۔ اُس پر سیکس ٹریفکنگ کا مقدمہ بنا اور عدالت میں مضحکہ خیر طور پر چلا جس کے نتیجے میں اُس نے 2008ء میں پلی بارگین کر لی۔ اس کے بعد سے یہ آزاد رہا، اس کے پیچھے بڑے طاقتور لوگ تھے۔ پھر 2019ء میں اس کے خلاف دوبارہ سیکس ٹریفکنگ اور انڈر ایج بچیوں کی فراہمی کا مقدمہ چلا اور اُسے گرفتار کر لیا گیا۔ 2019ء میں ہی اُس نے جیل میں خود کشی کر لی، جو ہمارے نزدیک اُسے خاموش کرنے کی ایک واردات تھی۔ اب جو فائلیں سامنے آئی ہیں تو مغرب کا اصل شیطانی چہرہ سب کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی : درحقیقت یہ طاقت کی کہانی ہے جس کے ذریعے سیاست، معیشت اور پھر معاشرت پر کنٹرول کیا گیا۔ جب آپ بین الاقوامی اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں تو پھر آپ کہاں کہاں کس کس طریقے سے اپنی مرضی کی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اگر ان کے مالیاتی ریکارڈ دیکھیں تو پھر آپ دنیا کے بہت بڑے بڑے لوگوں کو بلیک میل کر سکتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی ڈیپ سٹیٹ کا آلہ کار تھا۔
سوال: اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد اپنےمذموم مقاصد کے حصول کے لیے تین ڈبلیوز کا استعمال کرتی ہے: وومن، ویلتھ اور وائن۔کہا یہ جا رہا ہےکہ یہ موساد کے لیے کام کر رہا تھا۔ آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی :اس کا غالب امکان ہے کہ یہ موساد کے لیے کام کر رہا ہوگا۔ لیکن میں اس سے بھی آگے سمجھتا ہوں کہ ایک انٹرنیشنل ڈیپ سٹیٹ ہوتی ہے جو کسی بھی ملک کے مفادات سے بالاتر ہوتی ہے وہ بین الاقوامی طور پر مکمل کنٹرول کے لیے دنیا پر غلبے رکھتی ہے۔میرا یہ خیال ہے کہ یہ انٹرنیشنل ڈیپ سٹیٹ کے لیے کام کرتا تھا۔ اس میں عالمی ادارے اور مالیاتی تنظیموں کے مالکان، میڈیا اور فلم انڈسٹری کے بڑے نام آتے ہیں۔ ان کی نجی زندگی، ان کی سیاسی زندگی، ان کی مالیاتی زندگی، ان کی جنسی زندگی سمیت سب کو استعمال کر کے یہ بلیک میل کرتا تھا۔ اِن فائلز کو عام کرنے کے ذریعے یہ بھی تو ممکن ہے کہ چند سو لوگوں کی قربانی دے کے پوری دنیا میں باقی بکروں کو پیغام دے دیا گیا ہو کہ سر اٹھانے کی جرات نہ کرنا ورنہ اگلی باری تمہاری آئے گی۔ اس کی موت بھی پُراسرار کہانی ہے۔ وہ تمام کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے اس وقت کیسے بند ہو گئے؟ وہ گارڈز اسی وقت سونے کے لیے کیوں چلے گئے؟ ریکارڈ سارے کا سارا غائب کیوں ہوگیا؟ یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ اُس نے کس طرح کی خودکشی کی ہے۔ اب خواہ وہ ڈیپ سٹیٹ کے لیے کا م کرتا تھا یا موساد کا ایجنٹ تھا دونوں صورتوں میں جو نتائج ہوں گے اُن کے باعث شدید قسم کے قانونی اور اخلاقی بحران پیدا ہوں گے۔ لوگوں کا اپنے سرکردہ عمائدین سے اعتماد اٹھ جائے گا، قانون سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔ انٹرنیشنل ڈیپ سٹیٹ نے یقینی طور پر اِسے ایسی گارنٹی دی ہوئی تھی کہ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔تم نے ہمارے مفادات کے لیے کام کرنا ہے ۔
سوال: جس طرح کی ایپسٹین کے حوالے سے تفصیلات سامنے آرہی ہیں اس سے تو ایسے لگتا ہے کہ اس کی پوری زندگی کی کوئی ڈاکومنٹری بنا رہا تھا۔اس سارے سکینڈل میں جن لوگوں کے نام آرہے ہیں کیا ان کے اوپر کوئی کیس بھی چل رہا ہے اورکیاوہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے نظر آتے ہیں ؟
رضاء الحق :مجھے تو کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے ۔ کیونکہ وہ اتنے طاقتور لوگ ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ وہ معافی مانگیں گے اور شاید چند اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔ کچھ کے خلاف شاید کارروائی ہو بھی جائے لیکن وہ ایک فیصد قربانی کے بکرے ہوں گے۔ ایپسٹین کی زندگی اگر ڈاکومنٹ ہو رہی تھی تو کون کر رہا تھا؟ اس کا مطلب ہے کہ بلیک میلر کو بلیک میل کرنے والے بھی موجود تھے، یہی وہ صہیونیت کی ڈیپ سٹیٹ ہے۔ ڈیپ سٹیٹ کسی ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ گزشتہ 500 برس کے دوران دنیا کو چلانے والا ڈھانچہ ہے۔ ایک حدیث میں فتنہ دھیماء کا تذکرہ آتا ہے جو ایسے دھوئیں جیسا ہوگا کہ حق و باطل کی تمیز انتہائی مشکل ہو جائے گی۔ سب سے اعتماد اٹھ جائے اور پھر ایک شخص کھڑا ہو کر اعلان کرے گا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں (معاذ اللہ) جس پر لوگ اعتماد کریں گے۔ حقیقت میں وہ مسیح الدجال ہوگا۔
سوال:ایپسٹین فائلز میں شواہد کتنے ٹھوس اور مضبوط ہیں ۔ کیا ان کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے یا محض یہ الزامات کا مجموعہ ہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی :ہمارے پاس اپنی کوئی ریسرچز تو ہوتی نہیں، نہ ہمارے پاس وسائل ہوتے ہیں کہ وہاں تک پہنچ سکیں۔ ہمیں ایک دھاگے کا سرا پکڑایا جاتا ہے۔ آپ جب اس دھاگے کے سرے کو کھولتے کھولتے آخر تک پہنچتے ہیں تو سرا وہاں رکھا ہوتا ہے جہاں وہ آپ کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ اب یہاں تحقیقات ہو رہی ہیں کون تحقیقات کررہا ہے؟ وہ آپ کو وہ سرے پکڑا رہے ہیں جہاں تک آپ کو وہ پہنچانا چاہتے ہیں ۔
سوال:اس میں ہالی وڈ، بالی وڈ اور میوزک انڈسٹری کے لوگوں کے بھی نام آئے ہیں۔وہ ان لوگوں کو شامل کرکے کیا فائدے حاصل کرنا چاہتا تھا؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی : ہمیں طاقت کے جدید ماڈل کو سمجھنا ہوگا۔اب طاقت کے استعمال کا طریقہ کار بدل چکا ہے ۔ دنیا میں سیاست اور معیشت کے بعد سب سے بڑی سافٹ پاور فلم اور موسیقی ہے جس کے ذریعےنظریات اور بیانیہ بدلا جاتا ہے۔ہمارے پڑوس میں سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے نظریۂ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔اس طریقے سے وہ سافٹ پاو ر کے ذریعے نظریے کو بدلنے کا کام کرتے ہیں ۔اب اس میں سب سے پہلے اخلاقی حدود کی پامالی ہوتی ہے۔ جیسے بچیوں کو ڈانس سکھایا جاتا ہے ظاہر ہے وہ ذہن سازی ہوگی تو والدین بچوں کو آرٹ کے لیے بھیجیں گے۔ پھر نئی اخلاقی اقدار عام کر دی جاتی ہیں۔
ایک چیز جو چند سال پہلے ہمارے لیے سوچنا بھی محال تھی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے اور آج وہ چیز ہم اپنے تعلیمی اداروں میں، سڑکوں پر، گلیوں میں عام دیکھ رہے ہیں تو سوچیں کہ مغرب میں اس کا عالم کیا ہوگا۔ یہی میڈیا، یہی موسیقی، یہی فلم انڈسٹری فیشن کا اور رویوں کا تعین کرتی ہے کہ گھروں میں آپ کے رویے کیسے ہوں گے۔ جوائنٹ فیملی چلے گی کہ ہر کوئی علیحدہ رہے گا۔ میڈیا اس حد تک اثر انداز ہوتا ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک کے ایک ایکٹر(شاہ رخ خان) کے نام پر ایک عرب مسلم ملک (UAE) میں ٹاورز بن رہے ہیں۔ اُس کے بہت بڑے بڑے مجسمے بنائے جا رہے ہیں یعنی اسے دیوتا کی طرح ایک مسلم ملک میں پوجنے کی مہم چل رہی ہے۔
سوال:کیا غزہ پیس پلان اور غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے والے دیگر مسلم ممالک کے سربراہان بھی ایپسٹین کی بلیک میلنگ کا شکار ہوئے ہیں؟
رضاء الحق : ملاقاتیں کچھ کی ثابت ہیں۔ مثلاً سعودی ولی عہد کی ایک ملاقات ثابت ہے لیکن اس کے بعد کیا ہوا یہ کسی کے علم میں نہیں ہے۔ اگر کسی نے کسی سے ملاقات کی اور اس نے اس کو کوئی آفر بھی کی ہو، اس نے انکار کر دیا یہ بھی تو ممکن ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ نام آئے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کے اور بھی آنے کا اندیشہ ہے۔ دونوں اینگلز ممکن ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مجبور کیے گئے ہوں تاکہ وہ غزہ بورڈ آف پیس کے خلاف نہ ہو جائیں۔ ہمارے نزدیک غزہ بورڈ آف پیس باقیوں کے لیے تو فائدہ مند ہو گا لیکن اس میں فلسطین کے لوگوں، فلسطین کی سرزمین، مسجد اقصیٰ کی حرمت کے حوالے سے کچھ نہیں ہے۔ اس میں اسرائیل کے لیے سب کچھ ہے، اسرائیل کے معاونین ہیں اُن کے لیے سب کچھ ہے، ارد گرد کے جو ممالک ہیں ان کے لیے اس میں بہت کچھ موجود ہے۔ اس میں پیسہ بھی بہت ہے اور سرمایہ کار بھی بہت سارے آپ کو نظر آئیں گے۔
سوال: ایپسٹین فائلز کے ذریعے منظر عام پر آنے والے جو بھی کردار ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کبھی انصاف کے کٹہرے میں آئیں گے یا اس سارے سکینڈل کا حشر بھی اُن فائلز جیسا ہوگا جو وکی لیکس اور پانامہ لیکس کا ہوا تھا؟
رضاء الحق ایک جگہ تو خیر سب کی پکڑ ہوگی وہ آخرت میں ہے۔ دنیا کے حوالے سے اگر دیکھیں تو جس مقصد کے تحت ایپسٹین فائلز جاری کی گئیں اُن کو پورا کیا جائے گا لیکن حال وکی لیکز اور پانامہ لیکس وغیرہ جیسا ہی ہوگا۔ پرانے بتوں کی جگہ نئے بت تراشے جائیں گے اور دنیا کو بتایا جائے گا کہ اب اِن کی پوجا کرنی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض سربراہان کو بلیک میل کرنے کے لیے یہ حربہ اختیار کیا گیا ہو۔ اب بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت کوشش کی جا رہی ہے کہ طاقت اسرائیل کی طرف منتقل کر دی جائے۔ اس میں آپ کی معاشی طاقت، عسکری طاقت، سیاسی طاقت اور بین الاقوامی فیصلہ سازی کی طاقت سب شامل ہیں۔ اور اب وہ حدیث بھی یاد رکھیں جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دجال کے بارے میں تھا کہ اس کو ہر مومن پہچان لے گا کہ اس کے ماتھے پر ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوا ہے جسے ہر پڑھا لکھا یا ان پڑھ مومن پڑھ کر اُسے پہچان لے گا۔ ہم یہ نہ بھولیں کہ یہودی پروٹوکولز جو تقریباً سَوا صدی قبل منظر عام پر آئے تھے اور اُن کو سازشی تھیوری ثابت کرنے کے لیے مغرب اور اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں، اُن میں درج ہے کہ جب ہمارے ’’بادشاہ‘‘ کے آنے کا وقت قریب ہوگا تو صہیونیوں کا پہلا ہدف یہی سیکولر، لبرل، ملحد اور جدت پسند سائنسدان ہوں گے، کیوں کہ دنیا میں طاقت اور قبضہ اُن کو دیا گیا تھا۔ لہٰذا جب اُن سے جو حاصل کرنا تھا وہ کر لیا جائے گا تو پہلے اِنہی کو نشانہ بنایا جائے گا۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ایپسٹین فائلز میں کتنی بڑی تعداد میں ایسے نظریات کے حامل لوگ شامل ہیں۔ بہرحال عالمی صہیونی ڈیپ سٹیٹ ایک خاص مقصد کے تحت معاملہ چلا رہی ہے اور گریٹر اسرائیل کے قیام، مسجد اقصیٰ کے انہدام اور تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔ لہٰذا عالمِ اسلام اور اُس کے لیڈروں کو انتہائی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِس شیطانی اور دجالی فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین!