ایپسٹین فائلز سے ثابت ہوگیا کہ انسانی زندگیاں وحی کے
تابع نہ ہوں تو انسان حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتاہے ،
ایپسٹین فائلز میں ایسے لوگوں کے لیے بھی سبق ہے جو
وحی، نکاح ، پردہ اور خاندانی نظام کی مخالفت کرتے ہیں،
نکاح اور گھر کے ادارے کو کمزور کرنے والی قانون
سازیاں شیطان کے ایجنڈے کا حصہ ہیں،
باطل نظام کے اندر رہتے ہوئے اہل ایمان کی سب سے بڑی
ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نظام کو بدلنے کی کوشش کریں،
رمضان رحمتوں ، برکتوں اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے،
اسے انٹرٹینمنٹ میں ضائع نہ کیا جائے ۔
خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم و احباب کے سوالوں کے جوابات
میزبان :آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: ایک بہت بڑا ایشو جس نے اس وقت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ایپسٹین فائلز کے نام سے سامنے آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو شیطانی اور دجالی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے انہیں ایسی بدترین قسم کی فحاشی ، زنا اور ظلم میں ملوث کیا گیا کہ شیطان بھی سن کر شرما گیا ہوگا۔ بدقسمتی سے ان فائلز میں بعض مسلم رہنماؤں کے نام بھی آرہے ہیں جو کہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے باعث شرم ہے۔ یہ بتائیں کہ یہ کونسا مائنڈ سیٹ ہے اور کس قسم کا شیطانی نیٹ ورک ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی:اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر اُمت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہے اور میری اُمت کافتنہ مال ہے ۔ اس اُمت کے دو حصّے ہیں : ایک اُمت اجابت ہے۔ یہ اُمت کا وہ حصہ ہے جس نے اللہ کے رسول ﷺ کا کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گیا۔ دوسراحصّہ اُمت ِدعوت ہے ، یعنی جس تک اسلام کی دعوت پہنچنا باقی ہے ۔اس طرح اس وقت دنیا میں جتنے بھی لوگ ہیںوہ حضورﷺ کی اُمت میں شامل ہیںاور آپﷺ نے فرمایا کہ اس اُمت کا بڑا فتنہ مال ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میری اُمت کے مردوں کے لیے عورت کا فتنہ بھی بہت بڑا امتحان ہے ۔ اس وقت دنیا میںایپسٹین فائلز کی وجہ سے دنیا جس طرح حیران و پریشان ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ یہ کتنا بڑا فتنہ ہے ۔ ایپسٹین فائلز میں جن مسلم رہنماؤں کے نام آرہے ہیں ، ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ واقعی مجرم ہیں البتہ جو رپورٹس سامنے آرہی ہیں اُن کے مطابق جیفری ایپسٹین ایسے جرائم میں ملوث تھا کہ جن کا ذکر کرنا بھی مشکل ہے ۔ درحقیقت جب انسان کی زندگی وحی کی تعلیم کے تابع نہ رہے اور دل میں خوفِ خدا نہ ہو تو بڑی بڑی ڈگریوں اور بڑے بڑے مقام اور مرتبے والے لوگ بھی حیوانوں سے بدتر ہو جاتے ہیں ۔ ایپسٹین فائلز سے یہ بات عیاں ہوگئی ۔ ایک طرف اسلامی تہذیب ہے، جہاں نکاح اور حیاکی حفاظت کی بات ہوتی ہے، جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عطا کردہ شریعت کے مطابق عورت کی عزت ، عصمت اور حیا کی حفاظت کا پورا نظام عطا کیا گیا ۔ جہاں غیر محرم مردوں اور عورتوں کے لیے مخلوط ماحول میں رہنے کی ممانعت ہے۔ جہاں بالغ ہوتے ہی نکاح کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ نفسانی خواہشات انسان کو گناہ میں ملوث نہ کریں۔ لیکن بدقسمتی سے آج مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ کم عمر کی شادی بہت بڑا ظلم ہے ۔ بعض مادرپدرآزاد خیال لوگ تو نکاح کے خلاف بھی بات کرتے ہیں ۔اُن کے نزدیک جو عورت نکاح کے ذریعے اپنی حیا اور عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے گھر کو جنت نظر بنا دے وہ Backward اور دقیانوس ہے اور جو بے پردہ ہو کر ہزار لوگوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرے وہ ایڈوانس ہے۔اسی طبقہ میں میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے بھی لگتے ہیں ، وحی کی مخالفت بھی کی جاتی ہے ۔ ایپسٹین فائلز میں ایسے لوگوں کے لیے سبق ہے کہ اصل ظلم ، جہالت اور دقیانوسیت کس چیز میں ہےاور حیا ،عزت اور عورت کی حفاظت کس نظام میں ہے ۔دنیا نے دیکھ لیا کہ وحی کی تعلیم کے بغیر جتنی بھی ترقی ہے وہ گندگی کا ڈھیر بن چکی ہے ۔اقبال نے کہا تھا ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سےآپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا
اسی طرح ایپسٹین فائلز کی وجہ سے یہود کی عیاری و چالاکی بھی دنیا کے سامنے آچکی ہے ۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا اس سارے معاملے میں ملوث ہونا بھی سامنے آگیا ہے اوردنیا کو پتا چل گیا کہ کس طرح اس شیطانی کھیل کے ذریعے دنیا کے بڑے بڑے لوگوںکو بلیک میل کرکے صہیونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ حقیقت میں شیطانی اور دجالی ایجنڈے کی تکمیل کا معاملہ ہے ۔ شیطان اسی بات کی طرف دعوت دیتاہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا :
{یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ} (البقرۃ:169)
’’وہ (شیطان) تو بس تمہیں بدی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔‘‘
اس کے برعکس رحمٰن کی دعوت کیا ہے ؟ ہر جمعہ کے خطبہ میں ہم اس دعوت کو سنتے ہیں :{وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج} (النحل:90) ’’اور وہ روکتا ہے بے حیائی ‘ برائی اور سرکشی سے۔‘‘
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایپسٹین فائلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک تقریر میں مذہب کی طرف لوٹنے ، اور رجوع الی اللہ کی بات کی ہے۔ایپسٹین فائلز میں جو کچھ ٹرمپ کے متعلق کھل کر سامنے آیا ہے وہ بھی انتہائی شرمناک ہے۔ ممکن ہے مذہب کی طرف رجوع کا اعلان ایک نیا پینترا ہو یا پھر واقعتاً مغرب میں مذہب کی واپسی کی طرف ایک قدم ہو ۔ دلوں کے حال اللہ جانتا ہے۔اللہ ان کو توبہ کی توفیق دے۔ اللہ کی طرف رجو ع میں ہی بھلائی اور خیر کا واحد راستہ ہے ۔ زندگیاں وحی کی تعلیم کے تابع نہیں ہوں گی تو پھر ایسے مسائل جنم لیں گے ،بے پناہ دولت ، شہرت اور ٹیکنالوجی بھی معاشروں کو اس تباہی سے بچا نہیں پائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش میں ہی بنی آدم کو بتادیا تھا :
{فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(38)} (البقرۃ)
’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘
انسان کو واقعتاً انسان وحی کی تعلیم بناتی ہے۔ آج اُمت مسلمہ کے پاس قرآن جیسی عظیم نعمت ہے، رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں ، ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا تک قرآن وسنت کی تعلیمات کو پہنچائیں ۔آج مغرب کے سیانوں کو بھی اندازہ ہو گیاہے کہ وحی کی مخالفت پر پروان چڑھنے والے معاشرے کس قدر تباہی سے دوچار ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ صدر بش اسٹیٹ آف دی یونین ایڈریس میںیہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ خدا کے واسطے نکاح کرو ، گھروں کو آباد کرو ، باراک اوباما نے لائیو ٹیلی کاسٹ میں قوم سے اپیل کی کہ خدا کے واسطے اپنے گھروں کو مضبوط کرو ۔ مضبوط گھرانہ مضبوط سوسائٹی کی ضرورت ہے اور مضبوط سوسائٹی مضبوط امریکہ کی ضرورت ہے۔ محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کو یہاں تک کہنا پڑا کہہ اگر ہماری یہی حرکتیں (نکاح کی مخالفت ، مادر پدرآزادی کے نعرے ، گھرکے ادارے کو ختم کرنا وغیرہ ) جاری رہیں تو عنقریب ہماری قوم کی عظیم اکثریت ان بچوں پر مشتمل ہوگی جو والد کی شناخت سے محروم ہوں گے۔ آج ایپسٹین فائلز کے سامنے آنے کے بعد اگر ڈونلڈ ٹرمپ مذہب کی طرف لوٹنے کی بات کر رہا ہے تو اس سے ہماری آنکھیں بھی کھل جانی چاہئیں ۔
سوال: پاکستان میں حال ہی میں ایک قانون بنایا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر میں کوئی شادی ہوگی تووہ غیر قانونی قرار پائے گی ۔اس پر ہمارے دینی طبقہ نے ردعمل دیا کہ شریعت نے بالغ ہونے بعد نکاح کی گنجائش رکھی ہے اور اس گنجائش پر قدغن لگانا غیر شرعی طرزعمل ہوگا ۔ اس پر ہمارا لبرل اور سیکولر طبقہ کافی شور مچا رہا ہے ، این جی اوز ، اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا لیکن جب ایپسٹین فائلز میں کم عمر بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کی رپورٹس سامنے آئیں تو یہی سیکولر اور لبرل طبقہ خاموش کیوں ہوگیا ؟
امیر تنظیم اسلامی:ہمارا سیکولر اور لبرل طبقہ جس مغرب کی پیروی کر رہا ہے اُس کا اصل چہرہ اب کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے ۔دنیا آج گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نیویارک اور لندن کے معاملات الگ اور کراچی یا ڈھاکہ کے الگ ہیں ۔یہ سارے فتنے گلوبل ہیں ۔ ہمیں اللہ سے رجوع کرنا چاہیے ، توبہ استغفار کرنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی جس میں حیا اور عصمت کی اہمیت ہے ، پردے اور نکاح کی اہمیت ہے ۔ اس میں ہماری نسلوں کی حفاظت بھی ہے اور ہمارے لیے سکون قلب کا باعث بھی ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا :
{ لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا}(الروم:21) ’’تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔‘‘
اس کے برعکس شیطانی تہذیب کے راستے پر چلنے والے لوگ سکون ِ قلب سے بھی محروم ہیں ، اولاد کی محبت سے بھی محروم ہیں ، وہ اس قدر ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں کہ منشیات اور خودکشیوں کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ ہمیں اپنے ماں باپ کو دیکھنے اور ان سے دعائیں لینے کا موقع میسر ہے لیکن مغربی تہذیب اس نعمت سے بھی محروم ہو چکی ہے ۔ آج اگر امریکی صدر کو سمجھ آرہی ہے تو ہمارے دیسی لبرلز اور سیکولرز کو بھی آجانی چاہیے ۔
سوال:کچھ عرصہ قبل ہی ہمارے خاندانی نظام پر ایک اور حملہ بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق بیوی کو گھور کر دیکھنا بھی جرم ہے اور اس پر بیوی تھانے میں رپورٹ کر سکتی ہے۔ کیا اب گھر گھر میں کیمرے لگائے جائیں گے اوراگر کوئی شوہر اس جرم میں تھانے یا جیل جائے گا تو کیا واپس آکر وہ بیوی کو گھر میں رکھے گا ، اس وجہ سے طلاقوں کی شرح بڑھ نہیں جائے گی؟ اس قسم کے جاہلانہ اقدامات کا ہدف اور مقصد کیا ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی: صحیح مسلم کی روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :شیطان روزانہ سمندر پر اپنا دربار لگاتا ہے اور اس کی چیلے آکر بتاتے ہیں کہ ہم نے آج فلاں شخص کو گمراہ کیا ، فلاں کو نیکی سے روکا ، فلاں کو فلاں گناہ میں دھکیلا وغیرہ ۔شیطان اُن سب کی بات سنتا ہے لیکن سب سے زیادہ اپنے اس چیلے سے خوش ہوتاہے جو کہتا ہے کہ میں نے آج میاں بیوی میں جدائی ڈال دی ۔ یعنی شیطان کا سب سے بڑا ہدف میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا ، طلاقیں کروانا اور بستے ہوئے گھروں کو اُجاڑنا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ گھروں کو توڑنے، طلاق کی راہیں ہموار کرنے اور خاندانی نظام کو ملیامیٹ کرنے کے لیے جو لوگ قانون سازیاں کر رہے ہیں وہ کس کے ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح گندگی کا ڈھیر بن جائے جس طرح آج مغرب گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے ۔ کسی نے کہا کہ مغرب خلائی جنگ کے لیے تیار بیٹھا ہے لیکن زمین پر پاؤں نہیں ہیں ۔ جب نکاح کا مقدس بندھن نہیں ہوگا ، گھر اور خاندان کا نظام نہیں ہوگا تو زمین پر سے پاؤں اکھڑ جائیں گے ۔ اسی وجہ سے آج اوباما بھی کہہ رہا ہے اور کلنٹن بھی کہا رہا ہے کہ شادیاں کر و ، گھروں کو آباد کرو کیونکہ مضبوط گھر مضبوط سوسائٹی اور مضبوط سوسائٹی مضبوط امریکہ کی ضرورت ہے۔ آفس میں بوس اپنی سیکرٹری کو گھورے ، ڈانٹ دے تو ا س پر کوئی قانون نہیں ہے لیکن اگر شوہر بیوی کو گھورے تو اس پر فرد جرم عائد ہو جائے گی ۔ یہ دراصل گھر کےادارے کو توڑنے کا شیطانی ایجنڈا ہے جس کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم شوہروں کو ظلم کی اجازت دے رہے ہیں ۔ احادیث کے واضح الفاظ ہیں :
((اتقوااللہ فی نساء)) اپنی عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو ۔
بہرحال دنیا میں دو ہی دعوتیں ہیں ۔ ایک رحمٰن کی دعوت ہے اور ایک شیطان کی دعوت ہے ۔ رحمن کے ماننے والوں کو تو اس پر بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دے کر بیٹھ رہنے کا فائدہ نہیں ۔ ایسے قوانین کے خلاف مشترکہ آواز اُٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ کل اللہ کو جواب دینا ہے ۔ اللہ کے پوچھے گا کہ تم کس کی دعوت کو قبول کر کے آئے ہو :رحمان کی یا شیطان کی تو اس وقت کیا جواب ہوگا ۔ شیطان کی پیروی کرنے والے تو سب جہنم میں ہوں گے ۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
سوال: انڈیا سے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان غیر اسلامی اور طاغوتی نظام میں رہ رہا ہے تو اس کے لیے اس نظام کے اندر پھلنا پھولنا ، کاروبار کرنا جائز نہیں ہے ۔ وہ مولانا مودودیؒ کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ طاغوتی نظام کے تحت ملازمت حاصل کرنا بھی درست نہیں ہے ۔ تنظیم اسلامی کا اس حوالے سے کیا موقف ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی:محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے دورۂ ترجمۂ قرآن کے دوران سورۃ الاعراف کے دوسرے رکوع کے بیان میں بھی اور دیگر مقامات پر بھی ایک اصولی بات بیان فرمائی تھی کہ ایک ایسا ملک جہاں شریعت نافذ نہ ہو تو اس کا نظام سورۃ المائدہ کی آیات 44، 45 اور 47 کی روشنی میں کافرانہ ، ظالمانہ اور فاسقانہ ہے ۔ سورۃ لقمان کی آیت 13 کی روشنی میں ظلم کا لفظ شرک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے لہٰذا ایسا نظام مشرکانہ بھی ہو گا جہاں شریعت نافذ نہیں ہوگی۔ ایسے ماحول میں کہ جب اللہ کا دین غالب نہ ہو تو اہل ایمان پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نظام سے کم سے کم استفادہ کریں اور زیادہ سے زیادہ اپنی توانائیاں ، محنتیں اور صلاحیتیں اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے لگائیں ۔ کیونکہ اگر دین غالب نہیں ہوگا، ہم دین کے اجتماعی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکیں گے ۔ باطل نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی زندہ رہنے کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات کی حاجت ہوتی ہے ، لیکن اس نظام سے استفادہ کرتے ہوئے تعیشات میں پڑجانا ، دنیا اور دولت کے حصول میں زندگی کھپا دینا کسی صورت جائز نہیں کیونکہ ایسا کرنا دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث بن سکتاہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}(التحریم:6)’’اے اہل ِایمان! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے۔‘‘
تنظیم اسلامی کی قرارداد تاسیس کا پہلا جملہ یہ ہے کہ دین کا اصل مخاطب فرد ہے۔ دین کا نفاذ اپنی ذات سے شروع ہوگا ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرماتے تھے کہ اگر پانچ چھ فٹ کے وجود پر اسلام نافذ نہیں ہے تو کروڑوں کی آبادی والے ملک پر اسلام کو کیسے غالب کریں گے ؟سب سے پہلے اپنے انفرادی معاملات کو ٹھیک کرنا پڑے گا اس کے بعد دوسروں کو دعوت دینے کی باری آئے گی ۔ اصولی طور پر اس وقت جبکہ دین مغلوب ہے تو ہماری ذمہ داریوں سب سے پہلے اپنی ذات اور پھر اجتماعی سطح پر اللہ کے دین کے نفاذ کی جدوجہدکرنا فرض ہے۔یہی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ورنہ باطل نظام کی کشش ہمیں اپنی طرف کھینچے گی تو ہم کھنچتے چلے جائیں گے اور اس ترجیح کو بھول جائیں گے ۔ مولانا مودودی ؒ کی رائے میں باطل نظام کے تحت سرکاری نوکری کرنا جائز نہیں ۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو کوئی بھی اس نظام کے اثرات سے بچا ہوا نہیں ہے ، ہم جو ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں وہ بھی اسی نظام کو سپورٹ کرتاہے ۔اسی طرح حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ جو بندہ سود سے بچنے کی کوشش کرے گا وہ بھی سود کے غبار سے محفوظ نہیں رہ سکے گا ۔ اس لحاظ سے ہم میں سے کوئی بھی آج محفوظ نہیں ہے ۔ تاہم اپنے دائرہ کار کو دیکھتے ہوئے ہمیں زیادہ سے زیادہ حلال پر اکتفا کرنا ہے اور حرام سے بچنے کی کوشش کرنی ہے ۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر صاحبؒ قرآن کی اس آیت :{فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ط} (البقرۃ:173) ’’پھر جو کوئی مجبور ہو جائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ کی روشنی میں فرماتے تھے کہ اگر دین سے بغاوت کا ارادہ نہ ہواور حلال میسر نہ ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے گنجائش موجودہے ۔ جس باطل ، طاغوتی ، مشرکانہ اور کافرانہ نظام میں ہم سانس لے رہے ہیں ، اس میں ہمارے کپڑوں پر بھی سود لگ کر آرہا ہے ، ہر چیز میں سود کا غبار موجود ہے ۔ ہم سب ہی متاثر ہو رہے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبؒ فرماتے تھے کہ ان حالات میں اس کا کفارہ یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اس نظام کو بدلنے کی جدوجہد کریں ، اپنی جان اور مال اسی مقصد کے لیے لگائیں۔ اگر نظام بدل گیا تو الحمد للہ ، نہیں بدلا تو تب بھی روز قیامت ہم اللہ کے سامنے معذرت پیش کر سکیں گے کہ یا اللہ ہم مجبور تھے ، اس مجبور ی کی وجہ سے باطل نظام سے کم سے کم اور کراہیت کے ساتھ استفادہ کیا اور زیادہ سے زیادہ اپنی جان ، مال اور صلاحیت کو تیرے دین کے غلبے کے لیے لگایا ۔
سوال:کیا دیانت داراور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے والے افراد کو حکومت اور ریاستی اداروں میں نہیں ہونا چاہیے ؟ کیونکہ اگر وہ باطل نظام کی وجہ سے اپنے منصب چھوڑ دیں گے تو ان کی جگہ کوئی اللہ کا دشمن آجائے گا اور وہ ملک اور دین کا زیادہ نقصان کرے گا۔ کیا کہیں گے ؟
امیر تنظیم اسلامی:جہاں پر باطل نظام ہو وہاں زندہ رہنے کے لیے کام تو کرنا ہی پڑے گا ۔ دیانتدار اوراللہ کا خوف رکھنے والے افراد کا سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنا ویسے بھی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں موجود ایسے افراد اگر مخلوق خداکی بھلائی کے لیے دیانتداری سے کام کریں گے تو اللہ کے ہاں اجر پائیں گے ۔ بھارت کے تناظر میں اگر بات کی جائے تو پہلے بھی اس حوالے سے ہم پروگرام کر چکے ہیں کہ وہاں کے مسلمانوں کو قرآن کی دعوت کو عام کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے مکی دور میں قرآن کے ذریعے دعوت کا کام کیا ہے ۔ بھارت کے مسلمان بھی ایسے ہی حالات سے گزر رہے ہیں لہٰذا انہیں اس سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ قرآن سے جڑنے کی بدولت اللہ کرے گا کہ فرقہ واریت بھی کم ہو جائے گی کیونکہ قرآن اس کی تاثیر رکھتا ہے ۔ فرمایا :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص} ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
یہی قرآن تھا کہ جس نے اوس و خزرج کو متحدکر دیا تھا جو اس سے پہلے ہمیشہ آپس میں لڑتے آئے تھے ۔ ماشاء اللہ بھارت میں قرآن کی دعوت کی وجہ سے بہت سے غیر مسلم اسلام بھی قبول کر رہے ہیں ۔جب ایک بڑا مقصد مسلمانوں کے سامنے ہوگا تو مسلکی معاملات پیچھے چلے جائیں گے ۔ جیسا کہ تنظیم اسلامی کا منہج ہے کہ لوگوں کو قرآن کے ساتھ جوڑو اور اقامت دین کی جدوجہد جیسے بڑے مقصد کی طرف لوگوں کو بلاؤ ۔ یہ ویژن بھارت کے مسلمانوں کو بھی اپنانا چاہیے ۔ دنیا کا اصول ہے کہ جہاں ہم اقلیت میں ہوتے ہیں وہاں ہمارا متحد ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ یہ اتحاد مسلمانوں کو قرآن سے جڑنے سے ملے گا ، صاحب قرآنؐ کی سیرت سے ملے گا اور اقامت دین کی جدوجہد سے ملے گا جس کے لیے جماعتی زندگی اختیار کرنا ضروری ہوتاہے ۔ اللہ فرماتا ہے:{اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ(7)}(محمد) ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
سوال: کیا یہ ممکن نہیں کہ تنظیم اسلامی رجوع الی القرآن کورس شام کے اوقات میں بھی شروع کرے تاکہ مجھ جیسے یونیورسٹی سٹوڈنٹس جو مجبوراً وہاں پڑھ رہے ہیں، وہ بھی اس میں داخلہ لے سکیں؟(حارث، لاہور)
امیر تنظیم اسلامی:ایسے نوجوانوں کی ہم تعریف کرتے ہیں کہ کم ازکم انہیں یہ فکر ہے کہ ہم نے قرآن سیکھنا ہے لیکن یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پڑھنا تو پڑھے گا ہی ۔تعلیم حاصل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ رجوع الی القرآن کورسز محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے 1980ء میں شروع کیے تھے ۔ اب تنظیم اسلامی اور انجمن ہائے خدام القرآن کے تحت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ہو رہے ہیں ۔ ابتدا میں یہ کورس دو سال کا تھا ۔ پھر ایک سال میں مکمل ہونے لگا اور اب ماشاء اللہ ساڑھے نو یا 10 ماہ میں مکمل ہو جاتاہے۔اس لیے اس کا نصاب کافی ضخیم ہوتا ہے اور اس کے لیے ذہن کا تازہ ہونا ضروری ہے ۔اگر کوئی چھ گھنٹے کی پڑھائی کرکے یا آٹھ گھنٹے کی جاب کرکے آئے گا تو اس کے لیے شام کو یہ کورس کرنا کافی مشکل ہوگا ۔ اس لیے ان کورسز کا وقت ہم نے صبح 8یا 9 بجے سے لے کر 1 بجےدوپہر یا نماز ظہر تک رکھا ہے ۔ایسی صورتحال میں پہلی تجویز یہ ہے کہ رجوع القرآن کورس کرنے کے لیے 10 ماہ کی فراغت حاصل کی جائے ۔ بہت سے لوگ ایسا کرتے بھی ہیں ۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا تو پھر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ اس لیے ہم نے شام کے اوقات میں کچھ شارٹ کورسزبھی جاری رکھے ہیں جن میں رجوع الی القرآن کورس کا بڑا حصہ پڑھایا جاتاہے ۔ مثلاً اس میں عربی گرائمرقرآن فہمی کے لیے پڑھایا جاتاہے ، منتخب نصاب پڑھایا جاتاہے ، سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کروایا جاتاہے ۔ تجویداور ناظرہ قرآن کی مشق بھی کروائی جاتی ہے ۔ شام 4 بجے یہ کلاسز شروع ہوتی ہیں اور ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتی ہیں۔ کہیں ہفتے کی شام کو بھی ہو تی ہیں اور کہیں اتوار کی صبح کو بھی ہوتی ہیں ۔ صبح کو یونیورسٹی میں پڑھنے والے یا جاب کرنے والے احباب ان کورسز میں حصّہ لے سکتے ہیں ۔ایسے تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ ہماری تنظیم کی ویب سائٹ www.tanzeem.org پر تمام کورسز کی تفصیلات کو ملاحظہ فرمائیں ۔ اس کے علاوہ قرآن اکیڈمی کراچی کی ویب سائٹ (www.quranacademy.edu.pk)پر بھی یہ تفصیلات مل جائیں گی ۔ اس کے علاوہ ہمارے آن لائن کورسز میں بھی حصہ لیا جاسکتاہے ۔ کراچی کے سینٹر میں رجوع الی القرآن کورس صبح کے وقت آن لائن بھی ہوتاہے ۔ ماشاء اللہ کئی لوگ آن لائن کورسز میں بھی حصہ لے رہے ہیں ۔
سوال:رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ ماشاء اللہ تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام پورے پاکستان میں سینکڑوں مقامات پر نماز تراویح کے ساتھ دورۂ ترجمہ قرآن اور بعض مقامات پر خلاصہ مضامین قرآن کروایا جاتاہے تاکہ لوگ نمازِ تراویح میں جو قرآن سنیں اس کے متعلق انہیں معلوم بھی ہوجائے کہ قرآن اُن سے کیاکہہ رہا ہے ۔ اس طرح رمضان میں پورا قرآن ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے ۔ اب اس حوالے سے تنظیم اسلامی نے جو فردر ویلیو ایڈیشن کی ہے وہ کیا ہے ؟ نیز یہ بھی بتائیے کہ ہمارے معاشرے میں افطار کے بعد رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے یا راتوں میں مارکٹیوں میں رش ہوتا ہے ، کرکٹ میچز ہوتے ہیں ۔پھر اس مرتبہ ورلڈ کپ بھی رمضان میں پلان ہو رہا ہے ۔ ان سب چیزوں کا رمضان سے کیا تعلق ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی:اگرچہ ورلڈ کپ کو منعقد کرانے میں پاکستان کا اتنا رول نہیں ہوگا کیونکہ بہرحال ICCمیں ہندو حضرات زیادہ ہیں ۔ ہردوسرے برس رمضان میں کوئی نہ کوئی بڑا ایونٹ ہو رہا ہوتا ہے اور پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں اس میں شامل ہوتی ہیں ۔ اب تو بنگلہ دیش اور افغانستان کی ٹیمیں بھی شامل ہوتی ہیں ۔ درحقیقت یہ کفار کی پرانی روش رہی ہے ۔ فرمایا :
{وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ (26)}(حٰم السجدۃ) ’’اور کہا اُن لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو اور اس (کی تلاوت کے دوران) میں شور مچایا کرو‘تا کہ تم غالب رہو۔‘‘
مکہ مکرمہ میں جو کافر اور مشرک تھے ان کو اتنا یقین تھا کہ جس نے قرآن سن لیا ،اس کو سمجھ آگئی تو بدل جاتاہے ۔ لہٰذا لوگوں کو قرآن سننے سے روکنے کے لیے کفار نے ایک منصوبہ بنایا اور ناچ گانے کی محفلیں سجانے لگے ۔ شور پیدا کرنے کا مقصد یہی تھا کہ لوگ قرآن نہ سن سکیں ۔ اب یہی کچھ ہمارے بڑے شہروں میں بھی ہورہا ہے ، رمضان میں ساری رات کرکٹ میچ چل رہا ہے ، فلڈ لائٹس لگی ہوئی ہیںاور لوگ ان تماشوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ایک رواج بن گیا کہ ساری رات مارکٹیوں میں کھانے پینے والوں کا رش لگ گیا ۔ ٹی وی پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بھی لوگوں کو مصروف رکھا جارہا ہے ۔ وہ چینلز بھی جو پورا سال 24 گھنٹے میں کوئی ایک آدھا گھنٹہ بھی دین کا پروگرام نشر نہیں کرتے وہاں بھی رمضان میں دس گھنٹے کی ٹرانسمیشن چل رہی اور پیچھے سرمایہ دار کا پیسہ لگاہوا ہے ، اس نے اپنی پروڈکٹ بیچنی ہے ۔ حالانکہ اللہ کے نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓکے دور میں رمضان کی راتیں قیام اللیل میں بسر ہوتی تھیں ۔ ہمارے لوگوں کو چونکہ عربی زبان نہیں آتی اس لیے ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے نمازِ تراویح کے درمیان دورۂ ترجمہ قرآن اور خلاصۂ مضامین قرآن کا سلسلہ شروع کیا تاکہ لوگوں کو پتا تو چلے کہ قرآن میں کیا کہا جارہا ہے ۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے روز محشر روزہ روزہ دار کی سفارش کرے اور کہے گا یارب! اس نے دن بھر تیرے لیے روزہ رکھا ، تو اس کی بخشش قبول فرما ۔ قرآن کہے گا یارب ! اس نے تیری خاطر رات کو جاگ کر تلاوت کی لہٰذا تو اس کی بخشش کو قبول فرما ۔ رمضان رحمتوں ، برکتوں اور بخشش کا مہینہ ہے ، اسے کھانے پینے اور شورشرابےاور کھیل تماشے میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ دن کے روزے اور رات کے قیام کے ذریعے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ دورہ ترجمہ قرآن کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ رمضان میں پورے قرآن کی تلاوت ، ترجمہ اور تشریح مکمل ہو جائے گی ۔ اس دورہ کی بدولت بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آتا ہوا ہم نے دیکھا ہے ۔ تنظیم اسلامی کے زیراہتمام پاکستان بھر میں تقریباً 150 مقامات پر دورہ ترجمہ قرآن اور خلاصہ مضامین قرآن کے پروگرامز ہوں گے، جن کی لوکیشن اور دیگر معلومات تنظیم کی ویب سائٹ پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے رفقاء نے ایک موبائل ایپ بھی ڈویلپ کی ہے جس میں پاکستان بھر میں جہاں جہاں بھی دورہ ترجمہ قرآن یا خلاصہ مضامین قرآن ہو رہے ہیں ان کی لوکیشن اور دیگر تفصیلات آپ کو آسانی سے مل جائیں گی ۔ اکثر مقامات پر خواتین کے لیے بھی شرکت کا باپردہ انتظام ہے ۔اس کے علاوہ ایپ پرلائیو سیشن بھی دستیاب ہوگا ۔ ان شاء اللہ !