(اداریہ) ایپسٹین فائلز : مغرب کا شیطانی چہرہ! - رضا ء الحق

9 /

اداریہ


رضاء الحق


ایپسٹین فائلز : مغرب کا شیطانی چہرہ!


دنیا کی تاریخ میں بعض واقعات محض وقتی اسکینڈل نہیں ہوتے بلکہ وہ پوری تہذیب کے چہرے سے نقاب نوچ لیتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کی افشا شدہ فائلیں بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہیں۔ یہ دستاویزات چند افراد کی جنسی گراوٹ تک محدود نہیں بلکہ اس عالمی اشرافیہ کے اخلاقی، فکری اور تہذیبی زوال کی گواہی دیتی ہیں جو خود کو انسانی حقوق، آزادی اور جدیدیت کا علمبردار کہتی ہے، مگر عملی طور پر انسانیت کے بدترین استحصال میں ملوث پائی گئی۔ ایپسٹین کا نیٹ ورک دراصل طاقت، سرمایہ، سیاست اور خفیہ اداروں کے اس گٹھ جوڑ کی علامت تھا جس میں انسان، خصوصاً کمزور انسان، محض ایک شے بن کر رہ جاتا ہے۔ بچے، عورتیں اور معاشرے کے نچلے طبقات اس شیطانی تہذیب کے لیے صرف استعمال کی چیزیں تھے۔ شیطانی رسوم، جنسی جرائم، اخلاقی انحطاط اور قانون سے بالاتر طاقت یہ سب اس نظام کے وہ پہلو ہیں جنہیں برسوں ’’آزادی‘‘ کے پردے میں چھپایا جاتا رہا۔ البتہ اللہ رب العزت نے رمضان المبارک سے قبل ہی جہاں دنیا بھر کے’’ ایپسٹینوں‘‘ کے لیے ایک وارننگ جاری کی ہے، وہیں اُمت ِمسلمہ کے ہر خاص و عام کو صہیونیوں اور عالمی ڈیپ سٹیٹ کےشیطانی اور دجالی ایجنڈا سے بھی خبردار کر دیا ہے۔
جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ایسی لڑکیوں کی عالمی اشرافیہ کو فروخت کے سنگین الزامات تھے۔ وہ 2019 ءمیں امریکی جیل میں مردہ پایا گیا، تاہم اس کی موت کے حالات آج تک سوالیہ نشان ہیں۔ ایپسٹین فائلز میں مبینہ طور پر 60 لاکھ ڈاکومنٹس موجود ہیں، جن میں سے آدھے یعنی 30 لاکھ فائلز کو افشا کیا گیا ہے۔ اِن فائلوں میں عدالت کے نوٹس، گواہی کے ریکارڈ، طیاروں کے سفر کے لاگز، تصاویر، ویڈیوز اور ایپسٹین کے رابطے کی تفصیلات شامل ہیں، جو 300GB سے زائد ڈیٹا کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین فائلز کی دستاویزات اور ایف بی آئی کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک کے قریب تھا، اور مبینہ طور پر جاسوسی کی تربیت بھی حاصل کر چکا تھا۔ وہ اور اُس کا نیٹ ورک بدکاری کی بد تریں دعوت کے ذریعے دنیا بھر کی اشرافیہ کو اپنے جال میں جکڑتا اور پھر صہیونیوں اور عالمی ڈیپ سٹیٹ کے ایجنڈا پر عمل کرنے کے لیے بلیک میل کرتا۔فائلوں کو اس انداز میں عام کیا گیا ہے کہ اکثر حصّوں پر سیاہی پھیر دی گئی ہے (Heavily Redacted)۔ گویا ابھی کچھ مہروں کی قربانی دے کر باقی مہروں سے کام لینا باقی ہے۔ ایپسٹین فائلز کی ایک جہت کو ہم آغاز ہی میں بیان کر دیتے ہیں۔ وہ یہودی پروٹوکولز جن کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کم و بیش سَواصدی سے سازشی تھیوری ثابت کیا جاتا رہاہے، اس میں باقاعدہ درج ہے کہ جب ’’یہود کے بادشاہ‘‘ کے آنے کا وقت قریب ہوگا تو صہیونیوں کا سب سے پہلا ہدف سیکولر، لبرل، دہریے اور سائنس دان ہوں گے۔ کیا ایپسٹین فائلز میں اِن تصورات کے حامی افراد کی بھرمار ہونا محض اتفاق ہے؟ اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں!ہم اس تحریر میں ملکوں اور افراد کے ناموں پرکلام نہیں کریں گے کیونکہ روایتی وسوشل میڈیا کے ذریعے یہ تفصیلات زبان زدِ عام ہیں۔ اللہ نے چاہا تو اس تحریر میں متحارب بیانیوں اور اُن پر عمل کی جنگ اور مستقبل کے خدشات پرتبصرہ کریں گے۔ ان شاء اللہ!
ایپسٹین فائلز مغربی معاشرے میں طاقتور اور امیر افراد کے غیر اخلاقی اور غیر قانونی رویوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ سیاستدان، کاروباری شخصیات اور فنکار اس نیٹ ورک کا حصہ پائے گئے، جس سے واضح ہوا کہ غربت اور استحصال کا شکار افراد کو سیاسی اور معاشرتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ مغربی معاشرہ جو اخلاقیات، انسانی حقوق اور قانون کی پاسداری کے نعرے دیتا ہے، وہی اندرون خانہ کم عمر افراد کے استحصال میں ملوث پایا گیا۔ یہ مسئلہ خاص طور پر جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور طاقتور نیٹ ورک کے ذریعے معاشرتی کنٹرول کے ذریعے نمایاں ہوا ہے۔ 30 جنوری 2026ء کو جب ایپسٹین فائلز کا آخری حصّہ افشا کیا (یا کروایا) گیا تو ایڈورڈ سعید(1935ء تا2003ء) کی شہرۂ آفاق تصنیف مستشرقیت (Orientalism) کی یاد تازہ ہوگئی۔ اِس کتاب میں پروفیسر سعید نے اُس فکری سانچے کو مسمار کیا جس کے ذریعے مغرب نے اسلام اور مسلم معاشروں کی مسخ شدہ تصویر پیش کی۔ فلسطینی نژاد امریکی دانشور سعید نے جدید دنیا میں ثقافت، شناخت اور اقتدار کو سمجھنے کے انداز کو یکسر بدل دیا، اور یہ واضح کیا کہ علم خود کس طرح تسلط کے مقاصد کے لیے ہتھیار بنایا جا سکتا ہے اور جاتا ہے۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ’’ مشرق‘‘(جس میں مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور شمالی افریقہ شامل ہیں) کوئی معروضی حقیقت نہ تھی جسے محققین نے دریافت کیا ہو، بلکہ ایک تعمیر کردہ افسانہ تھا—ایک آئینہ جس میں یورپ نے اپنے خوف، اپنی خیالی تصورات اور اپنی برتری کے احساس کو منعکس کیا۔ مسلمانوں کو غیر معقول، شہوانی، پسماندہ اور مغربی کنٹرول کے محتاج کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ یورپ نے خود کو معقول، اخلاقی اور مہذب ظاہر کیا۔ سعید کی تنقید نہایت تباہ کن تھی: مغرب کا یہ دجالی بیانیہ محض معصوم علمی لغزشیں نہ تھیں بلکہ اقتدار اور طاقت کے اوزار تھے۔ ان کے ذریعے نوآبادیاتی تسلط، ثقافتی تکبر اور سیاسی مداخلت کو جواز فراہم کیا گیا۔ صدیوں سے جاری تہذیبوں کو تمثیلی خاکوں تک محدود کر کے مغرب نے اپنی اخلاقی تضادات اور تاریخی تشدد کو پوشیدہ رکھا۔
سعید کے مطابق مستشرقیت اسلام کو سمجھنے سے زیادہ مغربی بالادستی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ تھی۔وقت کا پہیہ آگے بڑھا، اور تاریخ نے ایک تلخ ستم ظریفی پیش کی۔جب مسلمانوں کو مسلسل اخلاقی طور پر مشتبہ اور ثقافتی طور پر رجعت پسند قرار دیا جاتا رہا، تب مغرب کی اپنی اشرافیہ،وہی طبقہ جو اخلاقی اختیار اور برتری کا دعویٰ کرتا تھا،اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ایپسٹین سے متعلق انکشافات نے احترام اور وقار کے چمکدار پردے کو چاک کر دیا۔ جو منظر سامنے آیا وہ محض ایک مجرم کا اسکینڈل نہ تھا، بلکہ ایک محفوظ نظام کی ساخت تھی جس میں دولت، اقتدار اور اثر و رسوخ باہم مل کر شکاریوں کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔ کم سن لڑکیوں کی اسمگلنگ کی گئی، انہیں ورغلایا گیا، ان کا استحصال کیا گیا اور انہیں خاموش کرایا گیا اوریہ سب کسی دور دراز’’غیر مہذب‘‘ خطے میں نہیں بلکہ مغربی اقتدار کے قلب میں ہوا۔ نجی طیارے، پُرتعیش حویلیاں، خفیہ جزیرے اور قانونی پردہ پوشیاں اس اخلاقی تعفن کا بنیادی ڈھانچہ تھے۔ دولت نے رسائی خریدی؛ اثر و رسوخ نے خاموشی خریدی؛ اقتدار نے استثناء خرید لیا۔ایپسٹین فائلز میں منظم درندگی اور ادارہ جاتی تحفظ مغرب کے اعلیٰ ترین حلقوں میں دکھائی دیتا ہے۔
سعید نے دکھایا تھا کہ مغرب نے اسلام کی مسخ شدہ تصویر گھڑ کر اپنی برتری کو قائم رکھا۔ ایپسٹین کے انکشافات اس سے بھی زیادہ پریشان کن حقیقت سامنے لاتے ہیں: دنیا کو فضیلت کا درس دینے والی مغربی اشرافیہ نے اپنے مہذب ظاہر کے نیچے استحصال کی پرورش کی۔ اسلامی تعلیمات حیا، جواب دہی اور کمزوروں خصوصاً عورتوں اور نابالغ بچوں، بچیوں کے تحفظ پر زور دیتی ہیں (نکاح کے پاکیزہ بندھن اور خاندانی نظام کی مضبوطی کے ذریعے بھی، اور ریاستی سطح پر کیے گئے اقدامات کے ذریعے بھی)۔ مگر مسلمانوں کو تہذیب کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا گیا۔ دوسری جانب عالمی مالیات، سیاست ، فنکاروں اور میڈیا کے معمار،جو دوسروں کو انسانی حقوق کا سبق دیتے رہے،انسانیت کو پامال کرنے والےان جرائم میں شریک پائے گئے ۔ایپسٹین کوئی مطرود فرد نہ تھا،وہ صدور، شہزادوں، ارب پتیوں اور مشاہیر کے حلقوں میں رچا بسا تھا۔ نجی طیارے،جنہیں بے شرمی سے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کہا جاتا تھا،انتہائی کم سن لڑکیوں کو پُرتعیش املاک اور ایک خفیہ جزیرے تک لے جاتے تھے جو راز داری کے لیے مخصوص تھا۔ متاثرین نے بعد ازاں گواہی دی کہ انہیں بااثر مردوں کے درمیان اشیائے تجارت کی طرح منتقل کیا جاتا رہا۔ برسوں تک کچھ نہ ہوا۔ شکایات غائب ہو گئیں۔ تحقیقات رُک گئیں۔ استغاثہ نے حیران کن نرمی دکھائی۔ انصاف کا وہ نظام جو بے اختیار افراد کے لیے بے رحم ثابت ہوتا ہے، غیر معمولی طور پر امیر اور طاقتور کے لیے نرم ہو گیا۔ یہ نااہلی نہ تھی؛ یہ شراکت داری تھی۔ حتیٰ کہ ایپسٹین کی وفاقی حراست میں خود کُشی نے اس شخص کو خاموش کر دیا جو نام افشا کر سکتا تھا۔ مگر دستاویزات باقی رہیں، جو مراعات کے حصار میں محفوظ اور طاقت کے نشے میں سرشار،عالمی سطح پر اشرافیہ کی استحصال پر مبنی ثقافت کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایک ایسی ثقافتیں جہاں ہر شے - جسم، خاموشی، انصاف- سب کی قیمت مقرر ہے۔ اور خریدار وہی لوگ تھے جو عالمی پالیسی تشکیل دیتے، میڈیا کے بیانیے پر کنٹرول رکھتے اور دنیا کو اخلاقیات کا درس دیتے رہے۔ یہی مغرب کے اخلاقی تھیٹر کا انہدام ہے۔ایپسٹین کی داستان اس بھیانک حقیقت کی بھی کی تصدیق کرتی ہےکہ برسوں تک مغرب نے دنیا کو دوسروں کی ’’غیراخلاقیت‘‘ کے قصے سنا کر مصروف رکھا،جبکہ اُن کا اپنا حکمران طبقہ بند دروازوں کے پیچھے استحصال کو کمال تک پہنچا رہا تھا۔ اب کہانی کا رخ اندر کی طرف ہو چکا ہے۔ اور جو منظر سامنے آیا ہے وہ اخلاقی قیادت نہیں بلکہ اخلاقی افلاس ہے۔
جب ایپسٹین فائلیں سامنے آئیں تو ایک حیران کن حقیقت بھی بے نقاب ہوئی ہے۔ ان دستاویزات میں اسلام کوبطور ایک مکمل نظامِ حیات کے سمجھنے اور اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو قائم و نافذ کرنے کی جدوجہد کرنے والی جماعتوں کا ذکر غیرمعمولی کثرت سے آیا، تقریباً چار سو مرتبہ۔ مگر یہ ذکر کسی جنسی اسکینڈل، کسی اخلاقی جرم یا کسی شیطانی عمل کے حوالے سے نہیں تھا۔ اِن کا ذکر سیاسی اِسلام (political Islam) کی قائل دینی جماعتوں اور تحاریک کے طور پر سامنے آیا جنہیں باطل نظام اپنے لیے خطرہ گردانتا ہے ۔ ایپسٹین کی افشا شدہ فائلوں میں ایسی دینی جماعتوں اور تحاریک سے خبردار کیا جا رہا ہے، اور اُن کے خلاف منصوبہ بندی، سازشوں اور نفسیاتی جنگ کا ذکر بھی موجود ہے۔ایپسٹین اسکینڈل نے یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ انسان کی اصل تعریف کیا ہے؟ کیا وہ محض خواہشات کا مجموعہ ہے یا اخلاقی ذمے داری کا حامل ایک باوقار وجود؟ مغربی تہذیب نے آزادی کے نام پر حیوانیت کو فروغ دیا۔وہ جانتے ہیں کہ اگر امت مسلمہ اپنی فکری خودمختاری حاصل کر لے، اگر انسان اپنی اصل پہچان پا لے، تو نوآبادیاتی غلامی، استحصالی معیشت اور تہذیبی یلغار کا خاتمہ شروع ہو جائے گا ۔یہ فائلیں بتاتی ہیں کہ اصل اخلاقی بحران کہاں ہے اور اصل خطرہ کس کو کہاں سے لاحق ہے۔ شیطنت اور دجالیت کےاِن نمائندوں ، جس کا ایک مظہر ایپسٹین اور اس کا نیٹ ورک تھا، درحقیقت اُن مومنینِ کامل سے خوف زدہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے عطا کردہ نظام کو قائم اور نافذ کرنے کی جدوجہد کرنے میں تن، من، دھن لگا رہے ہیں۔ اے کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حقیقی دشمنوں کا ادراک اور اُن کے خلاف منظم ہونے کی توفیق عطا فرما دے۔ آمین!بقول اقبال:
اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمیؐ