(الہدیٰ) نیک اور بد لوگوں کا انجام - ادارہ

9 /
الہدیٰ
 
نیک اور بد لوگوں کا انجام
 
 
آیت 44 {مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج} ’’جس نے کفر کیا تو ا س کے کفر کا وبا ل اُسی پر ہو گا۔‘‘
{وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ(44)}’’اور جن لوگوں نے نیک اعمال کیے تو وہ اپنی ہی جانوں کے لیے سامان کرتے ہیں۔‘‘
مَھَدَ یَمْھَدُکے معنی ہیں: (زمین) ہموار کرنا‘ (بستر) بچھانا ‘ ساز و سامان تیار کرنا یا کمائی کرنا۔ یعنی یہ لوگ اپنے لیے فلاح کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یا جنت میں آرام کرنے کے لیے اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ساز و سامان تیار کر رہے ہیں۔
آیت 45 {لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِہٖ ط} ’’تا کہ اللہ بدلہ دے اپنے فضل سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘
{اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَs}’’یقینا وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
آیت 46 {وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ} ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہوائوں کو بشارت دینے والی بنا کر‘‘
{وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ} ’’اورتا کہ وہ تمہیں مزہ چکھائے اپنی رحمت کا‘‘
تا کہ بارانِ رحمت برسا کر تمہیں ا س کے ثمرات سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرے۔
{وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(46)} ’’اور اس لیے بھی کہ اُسی کے حکم سے کشتیاں چلیں‘اور تا کہ تم (ان کشتیوں پر سوار ہو کر) اُس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کا شکرادا کرو۔‘‘
 
درس حدیث
رمضان المبارک کو قیمتی بنایئے
 
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ  اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ)) (متفق علیہ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے ایمان اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں قیام اللیل  (نماز تراویح) کا اہتمام کیا، اس کے سابقہ سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
تشریح: روزہ دار سحر تا افطار نہ صرف اپنی زبان و بیان، اپنے افکار و خیالات، اپنے معاملات و معمولات میں احکامِ الٰہی اور سنت رسولﷺ کی مہینہ بھر تربیت حاصل کرتا ہے، بلکہ شب کو بھی قیام اللیل (نمازِ تراویح) میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کو توجہ اور انہماک سے سنتا ہے، اس طرح اس کی زندگی میں انقلاب آتا ہے اور اگر وہ ٹھیک ٹھیک ان ہدایات کو اپناتا ہے تو یقینا ًاس کی زندگی میں تبدیلی آنی چاہیے اور یہی تبدیلی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔