غزہ پر جاری ظلم اور مغربی دنیا کی خاموش شراکت داری
ڈاکٹر ضمیراختر خان
دنیا بھر میں انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف کے بلند بانگ دعوے کرنے والی مغربی طاقتوں کا چہرہ غزہ کی سرزمین پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ حالیہ انکشافات نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ غزہ پر مسلط کی گئی صہیونی جنگ میں نہ صرف امریکہ براہِ راست ملوث ہے بلکہ ہزاروں مغربی ممالک کے شہری بھی اس جنگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان ہے اور مسلم دنیا کے لیڈروں کے لیے لمحہ فکریہ!
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج میں پچاس ہزار سے زائد ایسے اہلکار شامل ہیں جو دوہری شہریت رکھتے ہیں، جن میں بڑی تعداد امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ہے۔ ہزاروں امریکی، فرانسیسی، روسی، یوکرینی اور جرمن شہری اسرائیلی فوج کا حصہ بن کر غزہ کے نہتے اور محصور عوام کے خلاف کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممالک واقعی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں یا پھر ان کے دعوے صرف سیاسی مفادات تک محدود ہیں؟
اکتوبر 2023ء کے بعد سے غزہ میں ہونے والے حملوں میں ہزاروں فلسطینی مسلمان شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ نسل کشی(Genocide )اور ایک انسانی المیہ ہے۔ ایسے میں اگر مغربی ممالک کے شہری براہِ راست اس جنگ میں شامل ہوں تو یہ معاملہ صرف ایک ریاست کا نہیں رہتا بلکہ پوری مغربی دنیا کی اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کے ادارے اور طاقتور حکومتیں اس صورت حال پر خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کسی اور خطے خاص طور پر مسلم دنیا میں ایسے واقعات رونما ہوتے تو پابندیاں، تحقیقات اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوراً شروع ہو جاتا۔ مگر یہاں دہرا معیار صاف نظر آتا ہے۔ چند ممالک میں تحقیقات کی بات ضرور کی جا رہی ہے، لیکن اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انصاف کا ترازو کمزوروں کے لیے کچھ اور اور طاقتوروں کے لیے کچھ اور ہے۔
یہ وقت ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ غیر ملکی شہریوں کی اس جنگ میں شمولیت کی شفاف تحقیقات ہوں، ممکنہ جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کی جائے اور غزہ کے عوام کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ انسانی حقوق کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ مظلوم کی آواز سنی جائے، چاہے وہ کہیں بھی ہو اور اس کا تعلق کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو۔
غزہ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی انصاف کے دعوؤں کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔
مغربی سڑکوں کے نعرے ،احتجاج اور مغربی ایوانوں کی پالیسیاں، ایک کھلا تضادہے۔ غزہ کے مسئلے نے مغربی دنیا کے اندر اس نمایاں تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف لندن، پیرس، برلن، نیویارک اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر لاکھوں افراد فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں؛ دوسری طرف انہی ممالک کے ہزاروں شہری اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر براہِ راست جنگ کا حصہ بنتے ہیں، جبکہ ان کی حکومتیں سفارتی اور عسکری سطح پر اسرائیل کی حمایت جاری رکھتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ دو متضاد تصویریں ایک ہی وقت میں کیسے موجود ہیں؟
مزیدبراں یہ تضاد صرف ریاست اور عوام کے درمیان نہیں، بلکہ خود معاشروں کے اندر بھی موجود ہے۔ ایک ہی ملک میں ایسے افراد بھی ہیں جو فلسطینیوں کے حق میں سرگرم ہیں، اور ایسے بھی جو اسرائیلی فوج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی معاشرے یکساں سوچ کے حامل نہیں بلکہ نظریاتی، مذہبی، سیاسی اور نسلی حوالوں سے منقسم ہیں۔ چنانچہ سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ ایک مضبوط مگر مخصوص طبقے کی آواز ہوتے ہیں۔
تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ کیا عوامی احتجاج واقعی پالیسی پر اثرانداز ہو رہا ہے؟ اگر لاکھوں افراد مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں لیکن حکومتی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یا تو عوامی دباؤمحض ڈراما ہے، یا پھر طاقت کے مراکز عوامی رائے سے زیادہ مضبوط اور خودمختار ہیں اور عوامی رائے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یہ سوال مغربی جمہوریتوں کے عملی ڈھانچے پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ آیا خارجہ پالیسی واقعی عوامی خواہشات کی عکاس ہے یا نہیں۔
علاوہ ازیں، بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ مغربی معاشروں میں احتجاج کی آزادی ایک حد تک نظام کا حصہ بن چکی ہے — یعنی لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، نعرے لگا سکتے ہیں، مگر اس سے ریاستی پالیسی کی بنیادیں نہیں ہلتیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر احتجاج ایک اخلاقی اظہار تو ہے، مگر عملی تبدیلی کا ذریعہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’اظہارِ یکجہتی‘‘ اور ’’حقیقی سیاسی اثر‘‘ کے درمیان فاصلہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
اصل تضاد دراصل طاقت اور اخلاقیات کے درمیان ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی دعوے، دوسری طرف زمینی سیاست، فوجی اتحاد اور مفادات۔ غزہ کا معاملہ اس کشمکش کو نمایاں کر رہا ہے۔ مغربی سڑکوں کے نعرے اور مغربی ایوانوں کے فیصلے ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں دکھائی دیتے — اور یہی عدم ہم آہنگی آج کے عالمی نظام پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس تضاد کو بے نقاب کرنے کا مقصد جدید دنیاکو خبردار کرنا ہے کہ تمہارا نظام انسانوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتا۔ تمہارے نظام میں طاقت، سیاست اور اخلاقیات ایک ہی سمت میں نہیں چلتے۔ غزہ کا المیہ تمہیں دعوت فکر دیتا ہے کہ تم نہ صرف ریاستی پالیسیوں بلکہ جمہوری نظاموں کی عملی حدود پر بھی سنجیدگی سے غور کرو۔
مغرب کا یہ تضادمسلم دنیاکوبھی پکار رہاہے کہ تم آگے بڑھواور نوع انسانی کو اس عادلانہ اور منصفانہ نظام کی برکات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرو۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ تم اپنی دنیا میں پہلے اس نظام کو قائم کرکے اس کا عملی نمونہ پیش کرو۔ اس طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ہم نہ صرف عالم انسانی کے مجرم ہوں گے بلکہ بروزقیامت اللہ کے سامنے بھی مجرم قرار پائیں گے ۔ اعاذنااللہ من ذالک۔