روزے اور قرآن کا باہمی تعلق
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
رمضان المبارک کے عظیم اور بابرکت مہینے کی عظمت و افادیت سے آگاہ کرنے اور اس کی برکات سے صحیح طور پر مستفید ہونے کے لیے حضور ﷺ نے ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی h فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا، جس میں ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہ مہینہ بڑا بابرکت ہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک رات(شب قدر) ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں روزے رکھنا فرض ٹھہرایا ہے اور اس کی رات میں قیام(یعنی تراویح) کو نفل قرار دیا ہے۔ جو کوئی بھی اس مہینے میں نیکی کا کام کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب اوراس کی رضا حاصل کرنا چاہے گا، اسے اس نیکی کا اجر و ثواب اتنا ملے گا جیسے دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملے گا(یعنی مسنون اور نفل نیکی فرض کے برابر ہو جائے گی) اور جو کوئی اس مہینہ میں فرض ادا کرتا ہے تو اس کو سترفرائض کے برابر اجر وثواب ملے گا اور یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر وثواب جنت ہے اور یہ باہمی ہمدردی اور دم سازی کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں بندئہ مومن کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اس مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا، اس کے گناہوں کی مغفرت بھی ہو گی اور اس کی گردن کو دوزخ کی آگ سے چھٹکارا بھی حاصل ہوگا اور روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر اجر وثواب بھی ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کسی کی جائے۔ اس پر صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر ایک تو روزہ افطار کرانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ یالسی کی معمولی مقدار یا صرف پانی کے ایک گھونٹ ہی سے کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا، اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض ( یعنی حوض کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا کہ اس کو میدان حشر میں پیاس نہیں لگے گی ، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اس مہینے کا ابتدائی عشرہ اللہ کی رحمت کا ظہور ہے اور اس کا درمیانی عشرہ مغفرت خداوندی کا مظہر ہے اور آخری عشرہ گردنوں کو آتش دوزخ سے چھڑانے کی بشارت اور نوید سے معمور ہے اور جو کوئی اس مہینہ میں غلام و خادم اور زیر دستوں کی مشقت میں تخفیف اور کمی کر دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا اور دوزخ کی آگ سے آزادی عطا فرمائے گا۔‘‘
اس حد درجہ بلیغ و جامع خطبہ میں نبی اکرمﷺ نے رمضان المبارک میں کئے جانے والے نیک اعمال کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ آپؐ کی یہ منشاء اور خواہش تھی کہ امت مسلمہ اس عظمت والے مہینہ سے مستفیض ہونے کے لیےذ ہنی طور پر تیار ہو جائے، اس لیے کہ جب تک کسی چیز کی حقیقی قدرو قیمت کا شعور نہ ہو اس وقت تک انسان اس سے صحیح طور پر اور بھر پور طریقے سے استفادہ نہیں کر سکتا۔ صیام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کر دیا گیا ہے، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیا گیا تاکہ میں تم میں تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘ (البقرہ :183)آگے آیت185 میں فرمایا:
’’رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، جسے لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی بنا کر حق و باطل میں تمیز کرنے والے کھلے اور مضبوط دلائل کے ساتھ نازل کیا گیا۔‘‘
روزے کی عبادت کے لیے کوئی سا مہینہ بھی مقرر کیا جا سکتا تھا، مگر اس کےلیے بطور خاص رمضان المبارک ہی کا انتخاب اس لیے ہوا کہ یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں دن کے روزہ کے ساتھ رات کو قیام اللیل کی عبادت کو اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ رمضان المبارک میں قیام اللیل کی اہمیت اس حدیث مبارکہ سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھے تو ایسے شخص کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے گئے اور جس نے رمضان المبارک کی راتوں کو ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کیا، اس کے بھی جملہ سابقہ گناہ بخش دیئے گئے ۔‘‘ (بخاری و مسلم)
اس حدیث مبارکہ میں صیام و قیام کو ایک دوسرے کے متوازی و مساوی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسی مضمون کو ایک اور حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے:
’’روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے (یعنی اس بندے کی جو دن کو روزہ رکھے گا اور رات کو اللہ کے حضور کھڑے ہو کر قرآن پڑھے پائے گا)۔ روزہ عرض کرے گا: اے پروردگار! میں نے اس بندے کو کھانے پینےسے روکے رکھا،پس میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: اے پروردگار! میں نے اس بندے کو رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، پس اس کے حق میںمیری سفارش قبول فرما۔ چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندے کے حق میں قبول فرمائی جائے گی۔‘‘
درج بالا احادیث کا مدعا و منشار مضان المبارک کی راتوں کا زیادہ سے زیادہ حصہ قرآن مجید کے ساتھ بسر کرنا ہے، یعنی صیام و قیام کے متوازی حکم نبویﷺ کا تقاضا ہے کہ بندئہ مومن کا دن جس طرح روزے کی حالت میں گزرتا ہے، اسی طرح اس کی رات قرآن کے ساتھ بسر ہو، لہٰذا رمضان المبارک میں تراویح کی شکل میں قرآن مجید کی تلاوت وسماعت کا افضل ترین عمل رکھا گیا ہے اور اس عمل کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایمان واحتساب کے ساتھ دن کے روزے اور رات کے قیام پر نبی اکرمﷺ نے پچھلے تمام گناہوں پر مغفرت کی بشارت دی ہے۔
اس مہینے میں روزہ کی برکت سے تقویٰ اور خدا ترسی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان جذبات کے ساتھ نماز تراویح میں اپنے خالق کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور قرآن سنتا ہے تو گویا اس کے قلب پر قرآن مجید کا نزول ہو رہا ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کی یہ باران رحمت اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین انعام و احسان ہے اس لیے کہ بندئہ مومن قرآن مجید کی تلاوت کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتا ہے۔ قرآن مجید کی اس عظمت کو علامہ اقبال نے یوں بیان فرمایا:
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
این کتابے نیست چیزے دیگر است
مثل حق پنہاں و ہم پیدا ست تو
زندہ و پائندہ و گویا ست تو
چوں بجاں در رفت جان چوں دیگر شود
جاں چو دیگر شود جہاں دیگر شود
علامہ کہتے ہیں: ’’اس کتاب کے بارے میں جو بات میرے دل میں پوشیدہ ہے، اسے اعلامیہ ہی بیان کر دوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب نہیں بلکہ کچھ اور ہی شے ہے۔ یہ ذات حق و سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، لہٰذا اسی کے مانند پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی اور جیتی جاگتی اور بولتی بھی ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ یہ حکمت بھری کتاب جب کسی کے باطن میں سرایت کر جاتی ہے تو اس کے اندر ایک انقلاب پر پا ہو جاتا ہے اور جس کسی کے اندر ایک انقلاب بر پا ہو جاتا ہے اور جس کسی کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے تو پھر پوری دنیا اس کے اس انقلاب کی زد میں آجاتی ہے۔
قرآن مجید کی اس عظمت و جلالت شان کو خود قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا گیا:
’’ہم اگر اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کر دیتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت سے جھک جاتا اور پھٹ جاتا اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تا کہ لوگ غور و فکر کریں۔‘‘
قرآن مجید سے استفادہ کی لازمی شرط تقویٰ ہے، جبکہ روزے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ یوں روزے اور قرآن کے دو گونہ پروگرام کے ذریعے انسان کی روح نشو و نما ہے اور روح سے حیوانی جبلتوں کا بوجھ کم ہو جاتا ہے، کیونکہ روح کو اس کی اصل غذا کلام ربانی کی صورت میں مہیا ہو جاتی ہے اور ع ’’ اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن ‘‘کے مصداق صیام و قیام کی مسلسل مشق کے نتیجے میں بندئہ مومن کی روح کو نہ صرف جلا ملتی ہے بلکہ اس کے دل میں جذبہ تشکر بھی پروان چڑھتا ہے، جس سے اللہ کے ساتھ بندہ کے تعلق میں جوش اور ولولہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے، گڑ گڑانے اور اپنی خطاؤں سے توبہ کرنے کے جذبات موجزن ہو جاتے ہیں۔ گویا رمضان المبارک میں بندہ مومن پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے۔ اسلام کے علاوہ دیگر اہل مذاہب نے اللہ تک براہ راست رسائی کے لیے بے شمار واسطے اور وسیلے گھڑ کر نا قابل فہم مشر کا نہ نظام وضع کر رکھے ہیں۔ بقول اقبال:
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو
لیکن اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لیے کسی پوپ، کسی پروہت، کسی پنڈت یا کسی پیر کی بطور واسطہ ضرورت نہیں ہے۔ انسانی شرف اور آزادی کے لیے اس سے بڑا منشور اور چارٹر کوئی نہیں ہو سکتا کہ خالق و مخلوق کے درمیان کوئی دوسرا انسان حائل نہ ہو، البتہ بعض اوقات انسانوں کا اپنا طرز عمل اور ان کی حرام خوری اللہ اور بندے کے مابین حجاب بھی بن جاتی ہے، چنانچہ رزق حلال کا حصول بھی تقویٰ کی شرط لازم ہے، جس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام رسولوں کو بھی رزق حلال کی تلقین کی ہے۔
مختصر یہ کہ صیام و قیام رمضان سے تعلق مع اللہ کے حصول کا مقصد بخوبی حاصل ہوتا ہے، تاہم رمضان میں روزے کے ساتھ رات کے قیام کا کامل فائدہ بھی ممکن ہے جب مقتدی نماز تراویح میں ہونے والی تلاوت قرآن کے مطالب کو سمجھ بھی رہا ہو۔ اس کا ایک طریقہ تو وہ ہے جو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے اختیار فرمایا۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی خانقاہ میں تراویح کی نماز میں کئی ہزار افراد شریک ہوتے تھے۔ وہاں ہر چار رکعت نماز تراویح کے بعد نصف سے پون گھنٹہ کا وقفہ ہوتا جس کے دوران بعض لوگ اذکار و اوراد میں مصروف ہو جاتے اور کچھ لوگ وعظ ونصیحت سننے سنانے میں مصروف کار ہوتے اور بعض لوگ اگلی آیات کی تلاوت کرتے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو انجمن خدام القرآن کے زیر اہتمام لاہور، گوجرانوالہ، کراچی، پشاور، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملک کے دوسرے شہروں میں نماز تراویح کے ساتھ ساتھ ترجمہ و تفسیر قرآن کا پروگرام ’’دورہ ترجمہ قرآن‘‘ کے نام سے گزشتہ کئی سالوں سے منعقد کیا جا رہا ہے اور جس کی بدولت عربی زبان سے عدم واقفیت کے باوجود پروگرام کے شرکاء کو کچھ نہ کچھ قرآن مجید کی تعلیمات سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم رمضان میں قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں۔